اِنسان کائنات میں موجود چیزوں سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟
”حیوانوں سے پوچھ اور وہ تجھے سکھائیں گے اور ہوا کے پرندوں سے دریافت کر اور وہ تجھے بتائیں گے۔ یا زمین سے بات کر اور وہ تجھے سکھائے گی اور سمندر کی مچھلیاں تجھ سے بیان کریں گی۔“—ایوب 12:7، 8۔
حالیہ سالوں میں سائنسدانوں اور انجینئروں نے پودوں اور جانوروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ وہ اِن جانداروں پر تحقیق کرتے ہیں اور اِن کی خصوصیات کی نقل کر کے نئی نئی چیزیں بنانے اور پہلے سے موجود چیزوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب آپ اِس مضمون میں دی گئی مثالوں پر غور کرتے ہیں تو خود سے پوچھیں: ”اِن چیزوں کو کس نے بنایا ہے اور اِن کے لیے کس کی تعریف کی جانی چاہیے؟“
کوہان والی وھیل مچھلی کے بازوؤں کی خاصیت
ہوائی جہاز بنانے والے انجینئر کوہان والی وھیل مچھلی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ کوہان والی بالغ وھیل کا وزن سامان سے بھرے ہوئے ٹرک جتنا ہوتا ہے یعنی تقریباً 30 ٹن۔ اِس کا جسم کافی سخت ہوتا ہے اور اِس کے بڑے بڑے بازو ہوتے ہیں جو دِکھنے میں پَروں کی طرح لگتے ہیں۔ یہ 12 میٹر (40 فٹ) لمبی ہوتی ہے اور پانی کے اندر بڑی پھرتی سے اِدھر اُدھر جاتی ہے۔ مثال کے طور پر جب یہ وھیل شکار کرتی ہے تو یہ اُن مچھلیوں کے نیچے دائرے کی شکل میں تیرتی ہے جن کا یہ شکار کرنا چاہتی ہے۔ اِس دوران یہ بہت سے بلبلے بناتی ہے جو ایک جال کا کام کرتے ہیں۔ بلبلوں کے اِس دائرےنما جال کا قطر 5.1 میٹر (5 فٹ) ہوتا ہے۔ بلبلوں کے اِس جال میں پھنس کر وھیل کا شکار پانی کی سطح پر آ جاتا ہے اور وہ اِسے آسانی سے ہڑپ لیتی ہے۔
تحقیقدان خاص طور پر اِس بات سے حیران تھے کہ اِتنا بڑا جاندار اِتنے چھوٹے دائروں میں کیسے تیر سکتا ہے۔ اُنہوں نے دریافت کِیا کہ اِس کا راز اِس وھیل کے بازوؤں کی بناوٹ میں چھپا ہے۔ اِس کے بازوؤں کے کنارے ہوائی جہاز کے پَروں کی طرح ہموار نہیں بلکہ دندانےدار ہوتے ہیں اور اِن پر اُبھاروں کی ایک قطار ہوتی ہے۔
اِن اُبھاروں کی وجہ سے کوہان والی وھیل کے لیے اُوپر کی طرف تیرنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ ایک رسالے میں بتایا گیا کہ اِن اُبھاروں کی وجہ سے پانی اِس وھیل کے بازوؤں پر اِس طرح بہتا ہے کہ اِس کے لیے پانی کی سطح کی طرف تیرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اگر اِس وھیل کے بازوؤں کے کنارے ہموار ہوتے تو اِس کے لیے اُوپر کی طرف تیرنا ناممکن ہوتا کیونکہ جب پانی اِس کے بازوؤں سے ٹکراتا تو اِس میں بھنور بنتے اور پانی کا زور بہت زیادہ ہو جاتا۔
یہ دریافت کس لحاظ سے فائدہمند ثابت ہو سکتی ہے؟ اگر ہوائی جہازوں کے پَر کوہان والی وھیل مچھلی کے بازوؤں کی طرح بنائے جائیں تو یہ سادہ اور محفوظ ہوں گے اور اِنہیں زیادہ مرمت اور دیکھبھال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جان لانگ نامی ماہر کا ماننا ہے کہ بہت جلد ”شاید ہر ہوائی جہاز کے پَروں پر کوہان والی وھیل مچھلی کے بازوؤں کی طرح اُبھار ہوں گے۔“
بحری بگلے کے پَروں کی خاصیت
سچ ہے کہ ہوائی جہازوں کے پَر پرندوں کے پَروں کی طرز پر بنائے گئے ہیں۔ لیکن حال ہی میں انجینئروں نے پرندوں کے پَروں کی بناوٹ کی نقل کر کے ہوائی جہازوں کے پَروں کو اَور بہتر بنایا ہے۔ ”نیو سائنٹسٹ“ نامی رسالے میں بتایا گیا ہے کہ ”یونیورسٹی آف فلوریڈا کے تحقیقدانوں نے ... ایک ایسا ریموٹ کنڑول ڈرون بنایا ہے جس میں بحری بگلے کی طرح ہوا میں ایک جگہ کھڑے رہنے، غوطہ لگانے اور تیزی سے اُوپر آنے کی صلاحیت ہے۔“
بحری بگلوں کی اُڑان اِس لیے اِتنی زبردست ہوتی ہیں کیونکہ وہ اپنے پَروں کو کُہنی اور کندھے کے جوڑ سے موڑ سکتے ہیں۔ اُس رسالے میں بتایا گیا کہ بحری بگلے کے لچکدار پَروں کی نقل کر کے ”24 اِنچ کے اِس ڈرون میں ایک چھوٹی سی موٹر لگائی گئی ہے جو اِس میں لگی دھات کی اُن سلاخوں کو کنٹرول کرتی ہے جن کے ذریعے پَر حرکت کرتے ہیں۔“ انجینئروں کے تیارکردہ اِن پَروں کی بدولت یہ ڈرون ہوا میں ایک جگہ کھڑا رہ سکتا ہے اور اُونچی اُونچی عمارتوں کے بیچ غوطہ لگا سکتا ہے۔ امریکی فضائیہ اِس طرح کا ڈرون حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ اِسے بڑے شہروں میں حیاتیاتی یا کیمیائی ہتھیار تلاش کرنے کے لیے اِستعمال کِیا جا سکے۔
چھپکلی کے پاؤں کی خاصیت
ہم خشکی کے جانوروں سے بھی بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔ ذرا چھپکلی پر غور کریں جو دیواروں پر چڑھنے اور چھتوں پر اُلٹا چپکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جس زمانے میں بائبل لکھی گئی، اُس وقت بھی چھپکلی اپنی اِس صلاحیت کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ (امثال 30:28) چھپکلی کی اِس صلاحیت کا راز کیا ہے؟
چھپکلی شیشے جیسی ہموار سطحوں پر بھی چپک سکتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اُس کے پاؤں سے گوند نکلتی ہے بلکہ یہ کہ اِن پر چھوٹے چھوٹے بالنما ریشے ہوتے ہیں۔ اِن ریشوں کے ذرّے اور اُس سطح کے ذرّے ایک دوسرے سے چپک جاتے ہیں جس پر چھپکلی موجود ہوتی ہے اور یہ ایک ہلکی سی قوت کی وجہ سے ہوتا ہے جسے وان ڈر والز قوت کہا جاتا ہے۔ عام طور پر کششِثقل اِس قوت سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے اِسی لیے اِنسان محض اپنے ہاتھ دیوار پر رکھ کر اِس پر نہیں چڑھ سکتے۔ لیکن چھپکلی اپنے پاؤں پر موجود ریشوں کی وجہ سے آسانی سے ایسا کر سکتی ہے۔ ایک ریشے کی قوت بہت کم ہوتی ہے لیکن جب کروڑوں ریشے مل کر کام کرتے ہیں تو اِن کی قوت اِتنی زیادہ ہوتی ہے کہ یہ چھپکلی کے وزن کو سنبھال سکتے ہیں۔
چھپکلی کی اِس صلاحیت کی نقل کیسے کی جا سکتی ہے؟ اِس کی بنیاد پر ایسی چیزیں تیار کی جا سکتی ہیں جنہیں ویلکروa کی بجائے اِستعمال کِیا جا سکے۔ ایک رسالے کے مطابق ایک تحقیقدان نے کہا کہ چھپکلی کی اِس صلاحیت کی نقل کر کے بنائی جانے والی پٹیاں خاص طور پر ”طب کے میدان میں اُس وقت کام آ سکتی ہیں جب زخموں کو بند کرنے کے لیے کسی اَور چیز کو اِستعمال نہیں کِیا جا سکتا۔“
اصل تعریف کا حقدار کون ہے؟
امریکی خلائی اِدارے ناسا نے ایک ایسا روبوٹ بنایا ہے جس کی کئی ٹانگیں ہیں اور جو بچھو کی طرح چلتا ہے۔ فنلینڈ میں انجینئروں نے ایک ایسا ٹریکٹر بنایا ہے جس کی چھ ٹانگیں ہیں اور جو ایک بڑے کیڑے کی طرح رُکاوٹیں عبور کر سکتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں نے ایسا کپڑا تیار کِیا ہے جس پر چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لگے ہوتے ہیں جو صنوبر کے پھل کی طرح بند ہو سکتے اور کُھل سکتے ہیں تاکہ نمی کو جذب اور خارج کر سکیں۔ ایک کمپنی نے بکسفش کو دیکھ کر ایسی گاڑی بنائی ہے جو ہوا کے دباؤ کے باوجود اپنی رفتار برقرار رکھ سکتی ہے۔ اِس کے علاوہ کچھ تحقیقدان اِس بات پر تحقیق کر رہے ہیں کہ ایبالون نامی سیپی اِتنی مضبوط کیوں ہوتی ہے کیونکہ وہ فوجیوں کے لیے ایسا لباس تیار کرنا چاہتے ہیں جو ہلکا ہو اور جس سے فوجی نقصان سے محفوظ رہیں۔
کائنات میں موجود چیزوں کو دیکھ کر تحقیقدانوں نے ایک الیکٹرانک فہرست بنائی ہے جس میں فرق فرق جانداروں اور اُن کی خصوصیات کے بارے میں معلومات ڈالی گئی ہیں۔ ایک رسالے کے مطابق سائنسدان اِس فہرست کے ذریعے ”اُن مسئلوں کا حل نکال سکتے ہیں جو اُنہیں کسی چیز کے ڈیزائن کے حوالے سے درپیش ہوتے ہیں۔“ اِس فہرست میں درج معلومات کو ”حیاتیاتی حقِملکیت“ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر حقِملکیت اُس شخص یا کمپنی کے پاس ہوتا ہے جو کسی نئی مشین یا منصوبے کو قانونی طور پر رجسٹر کراتا ہے۔ اُس الیکٹرانک فہرست کے بارے میں اُس رسالے میں یہ بھی بتایا گیا کہ جانداروں اور اُن کی خصوصیات کے بارے میں معلومات کو ”حیاتیاتی حقِملکیت“ کہنے سے تحقیقدان اِس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اِن کا حقِملکیت کسی اَور کے پاس ہے۔
مگر کائنات میں موجود حیرتانگیز چیزیں کیسے وجود میں آئیں؟ بہت سے تحقیقدانوں کا خیال ہے کہ کائنات میں موجود چیزیں لاکھوں سال کے اِرتقا کے بعد وجود میں آئیں۔ لیکن کئی تحقیقدانوں کی رائے اِس سے فرق ہے۔ سائنسدان مائیکل بیہی نے 2005ء میں اخبار ”دی نیو یارک ٹائمز“ میں کہا کہ اگر ایک پرندہ بطخ کی طرح دِکھتا ہے، چلتا ہے اور بولتا ہے تو یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ بطخ ہے۔ اِس سے اُنہوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ کائنات میں موجود چیزوں کی بناوٹ کو دیکھ کر یہ بات بالکل واضح ہے کہ اِنہیں کوئی نہ کوئی بنانے والا ہے۔
اگر کوئی انجینئر ہوائی جہاز کے زیادہ محفوظ اور بہتر پَر بناتا ہے تو اِس کا سہرا اُسے ملنا چاہیے۔ اِسی طرح اگر ایک شخص زیادہ بہتر پٹیاں ایجاد کرتا ہے یا زیادہ آرامدہ کپڑا بناتا ہے یا زیادہ بہتر گاڑی بناتا ہے تو اِس کا سہرا اُس کے سر باندھا جانا چاہیے۔ دراصل اگر کوئی شخص کسی کی بنائی ہوئی چیز کی نقل کرتا ہے لیکن اِس کا سہرا اُسے نہیں دیتا تو یہ چوری ہوتی ہے۔
آپ کے خیال میں کیا وہ حیرتانگیز چیزیں اِرتقا کے نتیجے میں وجود میں آئی ہیں جنہیں دیکھ کر سائنسدان نئی نئی چیزیں بناتے ہیں یا موجودہ چیزوں میں بہتری لاتے ہیں؟ ذرا سوچیں کہ اگر کسی چیز کی نقل تیار کرنے کے لیے ذہانت کی ضرورت ہے تو اصل چیز تیار کرنے کے لیے تو اِس سے کہیں زیادہ ذہانت کی ضرورت ہوگی! آپ کے خیال میں زیادہ تعریف کا حقدار کون ہے، اصل چیز بنانے والا یا اِس کی نقل بنانے والا؟
ہم کیا نتیجہ نکال سکتے ہیں؟
کائنات میں موجود چیزوں کی بناوٹ کو دیکھ کر بہت سے لوگ زبورنویس کی اِس بات سے اِتفاق کرتے ہیں: ”اَے [یہوواہ]! تیری صنعتیں کیسی بےشمار ہیں! تُو نے یہ سب کچھ حکمت سے بنایا۔ زمین تیری مخلوقات سے معمور ہے۔“ (زبور 104:24) پاک کلام کو لکھنے والے ایک اَور شخص پولُس نے بھی ایسی ہی بات کہی۔ اُنہوں نے لکھا: ”جب سے دُنیا بنائی گئی ہے تب سے اَندیکھے خدا کی صفات اُس کی بنائی ہوئی چیزوں سے صاف صاف دِکھائی دیتی ہیں یعنی اُس کی خدائی اور ابدی طاقت۔“—رومیوں 1:19، 20۔
خدا کو ماننے اور بائبل کا احترام کرنے والے بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ خدا نے کائنات میں موجود حیرتانگیز چیزوں کو شاید اِرتقا کے ذریعے بنایا۔ لیکن بائبل میں اِس سلسلے میں کیا بتایا گیا ہے؟
[فٹنوٹ]
a ویلکرو ایسی پٹیوں کو کہتے ہیں جو آپس میں چپک جاتی ہیں۔ ایک پٹی پر چھوٹے چھوٹے ہک سے ہوتے ہیں اور دوسری پر رواں سا۔ ویلکرو کو ایک کانٹےدار پودے کے بیجوں کی نقل کر کے بنایا گیا تھا۔
[صفحہ نمبر 5 پر عبارت]
کائنات میں موجود حیرتانگیز چیزیں کیسے وجود میں آئیں؟
[صفحہ نمبر 6 پر عبارت]
کائنات میں موجود چیزوں کا حقِملکیت کس کے پاس ہے؟
[صفحہ نمبر 7 پر بکس/تصویر]
اگر کسی چیز کی نقل تیار کرنے کے لیے ذہانت کی ضرورت ہے تو اصل چیز تیار کرنے کے لیے تو اِس سے کہیں زیادہ ذہانت کی ضرورت ہوگی!
یہ ہوائی جہاز بحری بگلے کے پَروں کو دیکھ کر بنایا گیا ہے۔
چھپکلی کے پاؤں گندے نہیں ہوتے، یہ اپنے پاؤں کے نشان نہیں چھوڑتی اور یہ ٹیفلون نامی کیمیائی مادے والی سطحوں کے علاوہ ہر جگہ چپک سکتی ہے۔ یہ آسانی سے کسی جگہ چپک سکتی یا وہاں سے ہٹ سکتی ہے۔ سائنسدان چھپکلی کے پاؤں کو دیکھ کر مختلف چیزیں بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بکسفش کو دیکھ کر بنائی جانے والی گاڑی جو ہوا کے دباؤ کے باوجود اپنی رفتار برقرار رکھ سکتی ہے
[تصویر کا حوالہ]
:gecko foot ;University of Florida/box fish and car: Mercedes-Benz USA Airplane: Kristen Bartlett ;Breck P. Kent
[صفحہ نمبر 8 پر بکس/تصویر]
جانوروں کی راستہ تلاش کرنے کی فطری صلاحیت
◼ بہت سے جانور فطری طور پر ”بہت دانا ہیں۔“ (امثال 30:24، 25) وہ راستہ بھولے بغیر اپنی منزل تک پہنچ جاتے ہیں۔ اِس سلسلے میں دو مثالوں پر غور کریں۔
چیونٹیوں کی راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت: جو چیونٹیاں خوراک کی تلاش میں جاتی ہیں، وہ واپسی کے لیے اپنے بِل کا راستہ کیسے تلاش کرتی ہیں؟ برطانیہ کے تحقیق دانوں نے دریافت کِیا ہے کہ چیونٹیاں اپنے گھر کا راستہ تلاش کرنے کے لیے ایک بو خارج کرتی ہیں اور چیونٹیوں کی بعض قسمیں اُس راستے پر کچھ نشان بھی بناتی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ”نیو سائنٹسٹ“ نامی رسالے میں بتایا گیا کہ جب فرعون چیونٹی ”اپنے بِل سے نکلتی ہے تو وہ راستے میں 50 سے 60 ڈگری کے زاویے پر دوراہے بناتی جاتی ہے۔“ یہ بات اِتنی دلچسپ کیوں ہے؟ جب چیونٹی اپنے بِل کی طرف لوٹتے ہوئے کسی دوراہے پر پہنچتی ہے تو وہ فطری طور پر ایسا راستہ چُنتی ہے جو اُسے آسانی سے اُس کے بِل تک پہنچا دیتا ہے۔اُس رسالے میں مزید بتایا گیا: ”چیونٹیاں دوراہوں کے جو زاویے بناتی ہیں، اُن کی مدد سے وہ آسانی سے اپنے بِل تک آ جا سکتی ہیں، خاص طور پر اُس وقت جب دونوں اطراف سے چیونٹیاں آ جا رہی ہوں۔ اِس طرح وہ غلط سمت میں نہیں جاتیں اور اُن کی توانائی بھی ضائع نہیں ہوتی۔“
◼ پرندوں کی راستہ تلاش کرنے کی صلاحیت: ہجرت کرنے والے بہت سے پرندے ہر طرح کے موسم میں کافی لمبا فاصلہ طے کر لیتے ہیں اور راستہ بھی نہیں بھولتے۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ تحقیق دانوں نے دریافت کِیا ہے کہ پرندے زمین کے مقناطیسی میدان کو اِستعمال کرتے ہیں۔ ”سائنس“ نامی ایک رسالے میں بتایا گیا کہ زمین کا مقناطیسی میدان ہر جگہ فرق فرق ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ جس سمت کو وہ شمال بتائے، وہ شمال ہی ہو۔ تو پھر ہجرت کرنے والے پرندے راستہ کیوں نہیں بھولتے؟ ایسا لگتا ہے جیسے اُن کے دماغ میں سمت بتانے والا آلہ موجود ہو۔ اپنے اندر موجود اِس قدرتی آلے اور غروبِآفتاب کے وقت سورج کی جگہ کو دیکھ کر پرندے راستہ معلوم کرتے ہیں۔ ”سائنس“ نامی رسالے میں مزید بتایا گیا کہ سال کے دوران مختلف وجوہات کی بِنا پر غروبِآفتاب کے وقت سورج کی جگہ بدلتی رہتی ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اِس کے باوجود پرندے جانتے ہیں کہ سال کا کون سا وقت چل رہا ہے۔ اِن سب باتوں کی بِنا پر پرندے آسانی سے راستہ تلاش کر لیتے ہیں۔
چیونٹیوں میں یہ صلاحیت کس نے ڈالی ہے کہ وہ اپنے بِل کا راستہ تلاش کر سکیں؟ اور پرندوں میں یہ صلاحیت کس نے ڈالی ہے کہ وہ راستہ بھولے بغیر ہجرت کر سکیں؟ کیا اُن میں یہ صلاحیت خودبخود پیدا ہوئی ہے یا پھر کیا یہ خالق کی کاریگری ہے؟
[صفحہ نمبر 9 پر تصویر]
اِرتقا کیا ہے؟
اِرتقا کی ایک تعریف یہ ہے: ”ایک خاص سمت میں تبدیلی کا عمل۔“ لیکن اِس اِصطلاح کو فرق فرق طرح اِستعمال کِیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اِسے یہ بیان کرنے کے لیے اِستعمال کِیا جاتا ہے کہ بےجان چیزوں میں بڑی بڑی تبدیلیاں ہوئیں جس سے کائنات بنی۔ اِس کے علاوہ اِس اِصطلاح کو یہ واضح کرنے کے لیے بھی اِستعمال کِیا جاتا ہے کہ جاندار چیزوں میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ہوئیں جس سے پودے اور جانور اپنے ماحول کے مطابق ڈھلتے گئے۔ یہ اِصطلاح سب سے زیادہ اِس نظریے کو بیان کرنے کے لیے اِستعمال کی جاتی ہے کہ زندگی بےجان مادوں سے وجود میں آئی، افزائشی خلیے بنتے گئے اور آہستہ آہستہ پیچیدہ جاندار وجود میں آتے گئے جن میں اِنسان سب سے زیادہ ذہین ہیں۔ اِس مضمون میں جب اِصطلاح اِرتقا اِستعمال کی گئی ہے تو اُس سے مُراد یہاں بتایا گیا تیسرا نظریہ ہے۔
[تصویر کا حوالہ]
2004 E.J.H. Robinson ©