یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو—‏2004ء 8/‏4 ص.‏ 4-‏7
  • بچوں کی ضروریات اور خواہشات

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بچوں کی ضروریات اور خواہشات
  • جاگو!‏—‏2004ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • باہمی رابطے کی بابت فکرمندی
  • ‏”‏میرے ساتھ بات کریں!‏“‏
  • ‏”‏میری طرف دیکھیں!‏“‏
  • ‏’‏کیا مَیں بچے کو بگا‌ڑ تو نہیں دونگا؟‘‏
  • بچے کی نگہداشت کون کرتا ہے؟‏
  • بچے کی پیدائش کا آپ کی زندگی پر اثر
    اپنی گھریلو زندگی کو خوش‌گوار بنائیں
  • بچوں کی ضروریات پوری کرنا
    جاگو!‏—‏2004ء
  • پیدائش سے سکول تک
    جاگو!‏—‏2011ء
جاگو!‏—‏2004ء
جاگو—‏2004ء 8/‏4 ص.‏ 4-‏7

بچوں کی ضروریات اور خواہشات

نوزائیدہ بچے کو پیدائش کے وقت سے لیکر پُرشفقت دیکھ‌بھال، نرم‌وگداز طریقے سے چُھونے اور اپنے ساتھ لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ پیدائش کے بعد پہلے ۱۲ گھنٹے نہایت اہم ہوتے ہیں۔ اُنکے مطابق ماں اور بچے کو پیدائش کے فوراً بعد ”‏سونے یا کھانے کی بجائے نرمی سے بچے کو تھپتھپانے، ایک دوسرے کے قریب رہنے، ایک دوسرے کو دیکھنے اور ایک دوسرے کی سننے“‏ کی ضرورت ہوتی ہے۔‏a

جبلّی طور پر، والدین اپنے بچوں کو تھپتھپاتے، لاڈپیار کرتے اور گلے لگاتے ہیں۔ بچہ جواباً والدین کے گلے سے لپٹتا اور اُنکی توجہ کیلئے جوابی‌عمل دکھاتا ہے۔ یہ بندھن اسقدر طاقتور ہوتا ہے کہ والدین بغیر تھکے متواتر شیرخوار کی دیکھ‌بھال کیلئے قربانیاں دیتے رہتے ہیں۔‏

اسکی دوسری جانب والدین کے مشفقانہ بندھن کے بغیر ایک شیرخوار بھی درحقیقت کمزور ہوکر مر سکتا ہے۔ لہٰذا، بعض ڈاکٹروں کے مطابق یہ بہت ضروری ہے کہ بچے کو پیدائش کے فوراً بعد اُسکی ماں کی گود میں دیا جائے۔ اُنکا خیال ہے کہ شروع میں ہی والدین اور شیرخوار کے درمیان کم‌ازکم ۳۰ تا ۶۰ منٹ کا رابطہ ہونا چاہئے۔‏

والدین اور شیرخوار کے درمیان ابتدائی رابطہ پر زور دینے کے باوجود، بعض ہسپتالوں میں ابتدائی رابطہ مشکل ہو سکتا ہے مگر یہ ناممکن نہیں ہے۔ اکثراوقات، نوزائیدہ بچے کو وبائی امراض لگنے کے خطرے کے پیشِ‌نظر ماں سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ تاہم، بعض شہادتیں ظاہر کرتی ہیں کہ جب نوزائیدہ بچوں کو ماں کے ساتھ رہنے دیا جاتا ہے تو مُہلک وبائی امراض کی شرح میں خاطرخواہ کمی واقع ہوتی ہے۔ پس زیادہ سے زیادہ ہسپتال ماں اور نوزائیدہ بچے کے درمیان جلدازجلد رابطہ کرانے پر متفق ہیں۔‏

باہمی رابطے کی بابت فکرمندی

بعض مائیں جب اپنے بچے کو پہلی مرتبہ دیکھتی ہیں تو وہ اُسکے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ پس وہ سوچتی ہیں، ’‏کیا باہمی رابطے کے سلسلے میں مجھے مشکل کا سامنا ہوگا؟‘‏ سچ ہے کہ تمام ماؤں کو پہلی نظر میں ہی اپنے بچے سے پیار نہیں ہوتا۔ تاہم، اس سلسلے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔‏

جب بچے کیلئے ماں کے پیار میں تاخیر ہوتی ہے تو اسے بعدازاں پوری طرح فروغ دیا جا سکتا ہے۔ ”‏ایک تجربہ‌کار ماں کے مطابق، ”‏کسی بھی طرح کے پیدائشی حالات آپکے بچے کیساتھ آپکے رشتے کو ختم نہیں کر سکتے۔“‏ تاہم، اگر آپ اُمید سے ہیں اور آپ فکرمند ہیں تو زچگی کے ماہرین سے قبل‌ازوقت بات کرنا دانشمندی ہوگا۔ اپنی خواہش کا واضح اظہار کریں کہ آپ کب اور کیسے اپنے نوزائیدہ بچے کیساتھ رابطہ کرنا چاہتی ہیں۔‏

‏”‏میرے ساتھ بات کریں!‏“‏

ایسا وقت بھی آتا ہے جب شیرخوار خاص طور پر زیادہ حساس ہوتے ہیں۔ یہ دَور کچھ عرصے بعد ختم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، نوخیز دماغ آسانی کیساتھ ایک سے زیادہ زبانوں میں مہارت حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن پانچ سال کی عمر میں زبان سیکھنے کا یہ موافق دَور ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔‏

جب بچہ ۱۲ تا ۱۴ سال کی عمر کو پہنچتا ہے تو زبان سیکھنا ایک ناگزیر چیلنج بن سکتا ہے۔ بچوں کے نیورولوجسٹ پیٹر ہوٹن‌لوکر کے مطابق، یہ اُس وقت ہوتا ہے جب ”‏دماغ کے اندر زبان کے حلقوں میں مقدارِبرق اور عصبی رابطوں کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔“‏ واضح طور پر، زبان سیکھنے کی صلاحیت حاصل کرنے کے سلسلے میں زندگی کے ابتدائی چند سال بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں!‏

بچے بولنے کی صلاحیت کیسے حاصل کرتے ہیں جو اُنکی پوری زندگی میں اِدراکی ترقی کیلئے بہت اہم ہوتی ہے؟ بنیادی طور پر وہ یہ صلاحیت والدین کیساتھ باہمی بات‌چیت کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ بچے انسانی محرک کیلئے خاص طور پر جوابی‌عمل دکھاتے ہیں۔ میساچوسیٹس انسٹی‌ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا بیری ایرنز بیان کرتا ہے کہ ”‏بچہ .‏ .‏ .‏ اپنی ماں کی آواز کی نقل کرتا ہے۔“‏ دلچسپی کی بات ہے کہ بچے تمام آوازوں کی نقل نہیں کرتے۔ ایرنز کے مطابق، ”‏بچہ ماں کی آواز کیساتھ ساتھ جھولے کی آواز کو اپنی یادداشت کا حصہ نہیں بناتا۔“‏

مختلف تہذیب اور پس‌منظر سے تعلق رکھنے والے والدین اپنے بچوں سے ایک جیسے باترتیب اندازِگفتگو استعمال کرتے ہیں جسے بعض ”‏ماں‌باپ اور بچے کے مابین گفتگو“‏ کا نام دیتے ہیں۔ جب والدین محبت‌آمیز طریقے سے بات کرتے ہیں تو بچے کے دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ایک رائے کے مطابق اِس طریقے سے بچے کیساتھ بات‌چیت لفظوں اور چیزوں کے درمیان تعلق کو سمجھانے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔ بچہ کچھ کہے بغیر بھی والدین سے کہہ رہا ہوتا ہے:‏ ”‏میرے ساتھ باتیں کریں!‏“‏

‏”‏میری طرف دیکھیں!‏“‏

بچوں کے سلسلے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ابتدائی سالوں میں بچہ دیکھ‌بھال کرنے والے شخص یعنی عام طور پر ماں کیساتھ جذباتی وابستگی پیدا کر لیتا ہے۔ جب بچہ اِس جذباتی تعلق کی بِنا پر خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے تو اُن بچوں کی نسبت سماجی میل‌جول میں بہتر ثابت ہوتا ہے جنہیں والدین کی طرف سے ایسا تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔ ایک خیال کے مطابق بچے کے تین سال کی عمر کو پہنچنے تک بچے اور ماں کے مابین ایسا تعلق قائم ہو جانا چاہئے۔‏

اگر بچے کو اِس نازک دَور میں نظرانداز کر دیا جائے جب اُسکا ذہن بیرونی اثرات سے بہت زیادہ اثرپذیر ہوتا ہے تو کیا واقع ہو سکتا ہے؟ مرتھا فیرل ایرکسن جس نے ۲۰ سال تک ۲۶۷ ماؤں اور انکے بچوں کے مابین تعلقات پر غور کِیا وہ یہ رائے پیش کرتی ہے:‏ ”‏اگر بچوں کو نظرانداز کر دیا جائے تو اُنکا جوش‌وجذبہ آہستہ آہستہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور یوں بچے کی دوسروں کیساتھ تعلقات پیدا کرنے یا دُنیا میں چیزوں کی تحقیق‌وتفتیش کرنے کی خواہش مٹ جاتی ہے۔“‏

بچوں کو نظرانداز کرنے کے سنگین نتائج کے سلسلے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکساس چلڈرن ہوسپٹل کا ڈاکٹر بروس پیری بیان کرتا ہے:‏ ”‏اگر آپ مجھ سے کہیں کہ ایک ۶ ماہ کے بچے کو لیکر اُسکی تمام ہڈیاں توڑ دینے یا جذباتی طور پر اُسے دو ماہ کیلئے نظرانداز کر دینے میں سے ایک کا انتخاب کروں تو میری رائے میں بچے کی ہڈیاں توڑ دینا بہتر ہے۔“‏ کیوں؟ پیری کے خیال میں ”‏ہڈیاں جڑ سکتی ہیں لیکن اگر بچہ دو ماہ تک ازحد ضروری دماغی ہیجان سے محروم رہتا ہے تو آپکو ہمیشہ کیلئے ایک منتشر دماغ کا سامنا کرنا پڑیگا۔“‏ سب اِس بات سے اتفاق نہیں کرینگے کہ ایسا نقصان ناقابلِ‌تلافی ہے۔ تاہم سائنسی تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ بچے کے ذہن کیلئے جذباتی طور پر خوشگوار ماحول بہت ضروری ہے۔‏

المختصر کتاب اِنفینٹس [‏بچے‏]‏ بیان کرتی ہے کہ ”‏[‏بچے]‏ خود محبت کرنے اور دوسروں سے محبت پانے کے قابل ہیں۔“‏ جب ایک بچہ روتا ہے تو وہ اکثر اپنے والدین سے اِس بات کی درخواست کر رہا ہوتا ہے:‏ ”‏میری طرف دیکھیں!‏“‏ والدین کی طرف سے مہربانہ جوابی‌عمل بہت ضروری ہے۔ ایسے باہمی عمل سے بچہ یہ سیکھ لیتا ہے کہ وہ دوسروں کو اپنی ضروریات سے آگاہ کر سکتا ہے۔ اسطرح وہ دوسروں کیساتھ سماجی تعلقات قائم کرنا سیکھ جاتا ہے۔‏

‏’‏کیا مَیں بچے کو بگا‌ڑ تو نہیں دونگا؟‘‏

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ ’‏اگر مَیں بچے کی ہر چیخ پر بیتاب ہو جاتا ہوں تو کیا مَیں اُسے بگا‌ڑ تو نہیں دونگا؟‘‏ شاید ایسا ہو۔ تاہم اِس سوال کی بابت مختلف نظریات پیش کئے جاتے ہیں۔ چونکہ ہر بچہ منفرد ہے لہٰذا والدین کو عام طور پر اِس بات کا تعیّن کرنا پڑتا ہے کہ کونسا طریقۂ‌کار زیادہ مؤثر ہے۔ تاہم حالیہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ جب نوزائیدہ بچہ بھوکا، بے‌آرام یا پریشان ہوتا ہے تو اُسکا ذہنی دباؤ کا نظام ایسی صورتحال میں ہارمونز کا اخراج کرتا ہے۔ وہ اپنی پریشانی کا اظہار رونے سے کرتا ہے۔ ایک رائے کے مطابق جب ماں یا باپ کی طرف سے جوابی‌عمل دکھایا اور بچے کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں تو بالغ افراد بچے کے دماغی خلیوں کے نظام کو ترقی دیتے ہیں جو اُسکی مدد کرتا ہے کہ وہ راحت‌وآرام حاصل کرنا سیکھ سکے۔ اِسکے علاوہ ڈاکٹر میگن گنر کے مطابق ہمدردانہ توجہ حاصل کرنے والا بچہ دباؤ کا مقابلہ کرنے والے کارٹیسول ہارمون کم مقدار میں پیدا کرتا ہے۔ علاوہ‌ازیں اگر وہ پریشان ہو بھی جاتا ہے تو دباؤ کے سلسلے میں ردِعمل کو جلدی بند کر دیتا ہے۔‏

ایرکسن بیان کرتا ہے کہ ”‏درحقیقت، جن بچوں کی ضروریات کو بالخصوص پہلے ۶-‏۸ مہینوں میں فوراً اور باربار پورا کِیا گیا ہو، وہ اُن بچوں کی نسبت کم روتے ہیں جنکو روتا چھوڑ دیا گیا ہو۔“‏ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ مختلف طریقوں سے جوابی‌عمل دکھائیں۔ اگر آپ ہر مرتبہ ایک ہی طریقے سے جوابی‌عمل دکھاتے ہیں، جیسے‌کہ اُسے دودھ پلانا یا اُٹھا لینا، تو وہ واقعی بگڑ سکتا ہے۔ بعض‌اوقات اُسکے رونے کی آواز پر اپنی آواز سے جواب دینا بھی کافی ہوتا ہے۔ یا بچے کے آس‌پاس چلنا پھرنا اور اُسکے پاس جاکر شفقت سے بات کرنا بھی مؤثر ہو سکتا ہے۔ اِسکے برعکس، اپنے ہاتھ سے اُسکی پیٹھ یا پیٹ کو سہلانے سے بھی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔‏

ایک مشرقی کہاوت ہے:‏ ”‏رونا بچے کا کام ہے۔“‏ بچے کی طرف سے رابطے کا بنیادی ذریعہ رو کر اِس بات کا اظہار کرنا ہے کہ اُسے کیا چاہئے۔ آپ جب بھی کسی چیز کی درخواست کرتے ہیں اگر اُسے نظرانداز کر دیا جائے تو آپ کیسا محسوس کرینگے؟ پس آپکا بچہ جو پوری طرح سے آپ پر انحصار کرتا ہے جب وہ آپکی توجہ چاہتا ہے اور اُسے نظرانداز کر دیا جاتا ہے تو وہ کیسا محسوس کریگا؟ پھربھی بچے کے رونے پر کسے جواب دینا چاہئے؟‏

بچے کی نگہداشت کون کرتا ہے؟‏

ریاستہائے‌متحدہ میں ایک حالیہ رائے‌شماری سے معلوم ہوا ہے کہ ۵۴ فیصد بچے اپنی پیدائش سے لیکر ۸-‏۹ سال کی عمر تک اپنے والدین کی بجائے دوسرے اشخاص سے مختلف طریقوں سے باقاعدہ نگہداشت پاتے ہیں۔ بہت سے خاندانوں میں ضروریاتِ‌زندگی کو پورا کرنے کیلئے ماں باپ دونوں کو ملازمت کرنی پڑتی ہے۔ لیکن بہت سی مائیں اگر ممکن ہو تو زچگی کیلئے چھٹی لیتی ہیں تاکہ اپنے نوزائیدہ بچے کی چند ہفتے یا مہینے دیکھ‌بھال کر سکیں۔ تاہم اِسکے بعد کون نگہداشت کریگا؟‏

بِلاشُبہ ایسے فیصلوں پر اثرانداز ہونے والے کوئی غیرمتبدل قوانین‌وضوابط نہیں ہیں۔ تاہم اِس بات کو ذہن میں رکھنا چاہئے کہ بچہ اپنی زندگی کے اِس نازک دَور میں پھربھی غیرمحفوظ ہوتا ہے۔ ماں باپ دونوں کو اِس معاملے پر سنجیدگی کیساتھ غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ فیصلہ کرتے وقت کہ کیا کِیا جانا چاہئے اُنہیں مختلف انتخاب پر غور کرنا چاہئے۔‏

بچوں کے امراض کے ایک امریکی ادارے کا ماہر ڈاکٹر جوزف زانگا بیان کرتا ہے:‏ ”‏یہ بات بڑی حد تک واضح ہو رہی ہے کہ بچے کیلئے بہترین نگہداشت کے انتظامات بھی ماں اور باپ کی طرف سے بچوں کیلئے صرف کئے جانے والے وقت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔“‏ بعض ماہرین نے تشویش کا اظہار کِیا ہے کہ بچوں کی نگہداشت کے اداروں میں پرورش پانے والے بچے دیکھ‌بھال کرنے والے شخص سے اتنا اثرپذیر نہیں ہوتے جتناکہ اُنہیں ہونا چاہئے۔‏

بعض ملازم‌پیشہ ماؤں نے اپنے بچے کی اہم ضروریات سے آگاہ ہوتے ہوئے بچے کی جذباتی نشوونما کیلئے اُسے دوسروں کے رحم‌وکرم پر چھوڑنے کی بجائے گھر پر رہنے کو ترجیح دی ہے۔ ایک خاتون نے بیان کِیا:‏ ”‏مجھے اپنے بچے کی دیکھ‌بھال کرنے سے جو اطمینان حاصل ہوا ہے مَیں اُسکی بابت دیانتداری کیساتھ یہ کہوں گی کہ کوئی ملازمت مجھے ایسا اطمینان نہیں دے سکتی۔“‏ بِلاشُبہ، معاشی دباؤ تمام ماؤں کو ایسے انتخاب کی اجازت نہیں دیتے۔ بہت سے والدین کے پاس بچوں کی نگہداشت کے اداروں کی سہولت کو استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا، لہٰذا جب وہ اپنے بچوں کیساتھ ہوتے ہیں تو اپنے بچے کو توجہ دینے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔ اِسی طرح بہت سے ملازمت‌پیشہ تنہا والدین کے پاس اِس سلسلے میں زیادہ انتخاب نہیں ہوتے لہٰذا وہ اپنے بچوں کی پرورش کرنے کیلئے خاص کوششیں کرتے ہیں جسکے عمدہ نتائج نکلتے ہیں۔‏

والدین کے طور پر اپنی ذمہ‌داریاں پوری کرنا ایک خوش‌کُن اور ہیجان‌خیز کام ہو سکتا ہے۔ پھربھی یہ مشکل اور مشقت‌طلب کام ہے۔ آپ کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a ان سلسلہ‌وار مضامین میں، جاگو!‏ بچوں کی نگہداشت کے ماہرین کے نظریات پیش کرتا ہے کیونکہ اس قسم کی تحقیق والدین کیلئے مفید اور معلوماتی ہو سکتی ہے۔ تاہم، بائبل معیاروں کے برعکس جنہیں جاگو!‏ بِلامشروط سربلند رکھتا ہے، یہ بات تسلیم کرنی پڑیگی کہ وقت کیساتھ ساتھ ایسے نظریات تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور ان پر نظرثانی کی ضرورت پڑتی ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۶ پر بکس/‏تصویر]‏

خاموش بچے

بعض جاپانی ڈاکٹر رائے‌زنی کرتے ہیں کہ ایسے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے جو نہ روتے اور نہ مسکراتے ہیں۔ بچوں کے امراض کا ماہر ڈاکٹر ساتوشی یاناگی‌ساوا ایسے بچوں کو خاموش بچے کہتا ہے۔ بچے اپنے جذبات کا اظہار کرنا کیوں چھوڑ دیتے ہیں؟ بعض ڈاکٹروں کے خیال میں اسکی وجہ بچوں اور والدین کے مابین رابطے کی کمی ہے۔ اِس حالت کو جبری بے‌بسی کا نام دیا جاتا ہے۔ ایک نظریے کے مطابق جب رابطے کی ضروریات کو مستقل نظرانداز کِیا یا غلط مطلب دیا جاتا ہے تو بچے انجام‌کار رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔‏

ٹیکساس چلڈرن ہوسپٹل کے نفسیات کے شعبے کا چیف ڈاکٹر بروس پیری رائے‌زنی کرتا ہے کہ اگر ایک بچے کیلئے صحیح وقت پر موزوں محرک فراہم نہیں کِیا جاتا تو اُسکے دماغ کا وہ حصہ جو اُسے دوسروں کے جذبات اور مشکلات کو سمجھنے کے قابل بناتا ہے شاید نشوونما نہیں پاتا۔ اگر بچے کے جذبات کو ازحد نظرانداز کر دیا جاتا ہے تو اُسکی دوسروں کے احساسات اور جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت کو ناقابلِ‌تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ڈاکٹر پیری کا خیال ہے کہ بعض معاملات میں عادی بنا دینے والی ادویات کا غلط استعمال اور نوبلوغت میں تشدد کو اوائل‌عمری کے ایسے تجربات کیساتھ وابستہ کِیا جا سکتا ہے۔‏

‏[‏صفحہ ۷ پر تصویر]‏

جب بچہ اور ماں یا باپ ایک دوسرے کیساتھ رابطہ کرتے ہیں تو اُنکے مابین ایک مضبوط بندھن پیدا ہو جاتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں