کالپورٹرز—چلتیپھرتی بُکشاپس
فرانس سے جاگو! کا رائٹر
کچھ سال پہلے زاندرے گلیشیر کے دامن اور فرانس کے جنوبمشرق میں ڈوئیزالپ سکائی سٹیشن کے اوپر ایک چھوٹے سے ”عجائبخانے“ کا افتتاح ہوا تھا۔ نمائش میں برف کے مجسّموں میں ایک متروک کوہستانی پیشے کی قدرافزائی میں ایک کالپورٹر کا مجسّمہ بھی شامل تھا۔
کالپورٹرز صدیوں سے اپنی گردن (فرانسیسی: کول) کے گرد باندھی ہوئی اشیا کو اُٹھائے (فرانسیسی: پورٹے) بازاروں اور گھرباگھر جاکر انہیں فروخت کرنے کی کوشش کِیا کرتے تھے۔ آجکل کے بہتیرے لوگ ان سے ناواقف ہیں۔ تاہم ان سے واقف لوگ انہیں چھوٹیموٹی چیزیں فروخت کرنے والے معمولی سیلزمین خیال کر سکتے ہیں۔ درحقیقت کالپورٹرز نے ایک ایسا ورثہ چھوڑا ہے جو آج بھی ہزاروں لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتا ہے۔
کالپورٹرز کے کام کا بغور جائزہ
بدحالی اور بےچارگی کا شکار ہونے کی بجائے بہتیرے کالپورٹرز یورپ میں وسیع پیمانے پر جدیدترین مصنوعات تقسیم کرنے والے نہایت منظم تاجر تھے۔ تاہم تمام کالپورٹرز صرف مادی حاصلات کیلئے محنت نہیں کرتے تھے۔ بعض نے اپنے اعتقادات کو پھیلانے کیلئے ایسا کِیا تھا۔ ان میں سے بعض کو اس کام کیلئے اپنی جان تک دینی پڑی۔
بظاہر کالپورٹرز کا کام قرونِوسطیٰ کے آخر میں شروع ہوا۔ ابتدائی کالپورٹرز الپسی اور پرئنیز کے پہاڑوں اور سکاٹلینڈ کے بلند مرتفع علاقوں کے رہنے والے لوگ تھے۔ ان میں سے بیشتر کسان تھے جو فصل کی کٹائی کے بعد سفری سیلزمین بن جاتے تھے۔
ایک فرانسیسی شخص جہاں گراویے ایک ایسا ہی سفری تاجر تھا۔ وہ اور اُسکا خاندان ۱۶ ویں صدی میں لا گریوو کے کوہستانی علاقہ میں رہتا تھا۔ زمین کے بنجر ہونے کے باعث اُس نے نمک، لکڑی، چمڑے اور پشم جیسی پہاڑی علاقوں کی مصنوعات کیلئے وادیوں میں آباد بستیوں کی مانگ کیلئے جوابیعمل ظاہر کِیا۔ گراویے جیسے کالپورٹرز ان مصنوعات کو دیہی علاقے میں لاکر سلائی کے سامان، کنگھیوں، عینکوں، کتابوں، ادویات، تمباکو اور تراشی ہوئی چیزوں کے عوض انکی تجارت کِیا کرتے تھے۔ بعدازاں یہ چیزیں شہر کے لوگوں یا کسی دکان سے دُور رہنے والے کسانوں کو فروخت کی جاتی تھیں۔ بعض کالپورٹرز ایسے راستے اختیار کرتے تھے کہ انہیں ایک ہی دن میں ۲۰ کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا تھا! انکی غیرموجودگی میں رشتہدار اُنکے کھیتوں اور خاندانوں کی دیکھبھال کِیا کرتے تھے۔
تاہم گراویے اِن چھوٹیموٹی چیزوں کی خریدوفروخت کے علاوہ اَور بھی کچھ کِیا کرتا تھا۔ ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ چھاپےخانے میں کام کرنے والے ایک شخص بنوا ریگو کا قرضدار تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی دوسرے کالپورٹرز کی طرح گراویے بھی کُتبفروشی کا کاروبار کِیا کرتا تھا۔ اُسکے زمانہ میں یورپ میں تحریکِاحیائےادبوفنون کا دَور تھا اور کُتبفروشی کو ترقی حاصل تھی۔ یورپ میں ۱،۵۰۰ اور ۱،۶۰۰ کے درمیان ۱۴۰ ملین سے ۲۰۰ ملین تک کتابیں شائع کی گئی تھیں۔ ان کا ایک چوتھائی حصہ صرف فرانس میں شائع کِیا گیا تھا۔ ایلپس کے دامن میں واقع ملک کا معاشی دارالحکومت لیون یورپ میں چھپائی کا مشہور مرکز اور فرانس میں کتابوں کا اوّلین پبلشر تھا۔ پس گراویے کے پاس تجارت کیلئے کتابوں کی بڑی رسد ہوتی تھی۔ تاہم محض نفع کی خاطر کام کرنے والے گراویے جیسے کُتبفروشوں کے برعکس، مذہبی مقاصد کیلئے کتابوں کی تقسیم کرنے والے ایک اَور قسم کے کالپورٹر نے بھی شہرت حاصل کر لی تھی۔
’ایمان کے سمگلرز‘
پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے ساتھ، لوگ مذہبی کتابوں، بروشروں اور اشتہاروں کو بیحد شوق سے پڑھنے لگے۔ بائبل سب سے پہلے لاطینی اور بعدازاں عام زبانوں میں شائع کی گئی۔ جرمنی میں لاکھوں کاپیاں شائع ہوئیں اور کالپورٹرز نے دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں میں ان کاپیوں کی فوری تقسیم میں حصہ لیا۔ تاہم تمام لوگ ایسی تقسیم سے خوش نہ تھے۔
فرینچ پارلیمنٹ نے ۱۵۲۵ میں فرانسیسی زبان میں بائبل کے ترجمے پر پابندی عائد کر دی اور اگلے ہی سال مقامی زبان میں بائبل رکھنے کو قانونی خلافورزی قرار دے دیا گیا۔ اس کے باوجود ہزاروں کی تعداد میں بائبل کی اشاعت ہوئی اور پُرعزم کالپورٹرز کی کاوشوں سے یہ بائبل غیرقانونی طور پر پورے فرانس میں پھیل گئی۔ ایسا ہی ایک نوجوان شخص پائر شاپو تھا۔ اُسے ۱۵۴۶ میں گرفتار کرکے موت کی سزا دی گئی۔
آخرکار ۱۵۵۱ میں کیتھولک فرانس نے نہایت سخت طریقِکار اختیار کرتے ہوئے کالپورٹرز کے کُتبفروشی کے کام پر پابندی عائد کی اسلئےکہ وہ پروٹسٹنٹ علاقہ ”جنیوا کے راستے“ اپنے ساتھ ”خفیتہً“ کتابیں بھی لایا کرتے تھے۔ تاہم اِس کارروائی سے بائبل کی درآمد رک نہ سکی۔ ہر ممکن طریقے سے فرانس میں بائبلیں لائی جانے لگیں۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے اکثر اسے شراب کے پیپے کے مصنوعی پیندوں کے نیچے، اخروٹ کے ڈبوں یا کشتیوں کے اندرونی حصوں میں چھپایا جاتا تھا۔ ایک بہادر شخص ڈینی لاویر کو بائبلوں کی ایک بڑی تعداد منتقل کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُسے بھی موت کی سزا دی گئی تھی۔ کالپورٹرز سے نفرت کرنے والے ایک ہمعصر کیتھولک شخص نے بیان کِیا کہ اِن کی وجہ سے ”فرانس میں کچھ ہی عرصہ بعد فرانسیسی زبان میں نئے عہدنامے کی بیشمار کاپیاں دستیاب تھیں۔“
ایک مصنف نے انہیں ’ایمان کے سمگلرز‘ کا نام دیا اور پوری ۱۶ ویں صدی کے دوران انہیں مستقل طور پر جان کا خطرہ لاحق رہا۔ کئی کالپورٹرز کو گرفتار کر لیا گیا، قیدخانہ یا چپوؤں والے جہازوں میں بھیج دیا گیا، جلاوطن یا شہید کر دیا گیا۔ بعض کالپورٹرز کو اُنکی کتابوں کیساتھ زندہ جلا دیا گیا۔ اگرچہ تاریخ ان میں سے صرف چند لوگوں کا ذکر کرتی ہے تاہم ایسے بیشمار بہادر اشخاص کی بدولت کئی پروٹسٹنٹ گھرانوں تک بائبل کی کاپیاں پہنچ گئیں۔
چلتیپھرتی لائبریریاں
کیتھولک چرچ نے ۱۷ ویں صدی میں بھی عام لوگوں کے بائبل حاصل کرنے پر پابندی جاری رکھی۔ اسکی جگہ ایمانداروں کو روزانہ کی عبادت اور اولیا کی زندگیوں پر مبنی غیرمعیاری متبادل کتابیں دی جاتی تھیں!a اسکے برعکس کیتھولک مذہب کے نقطۂنظر سے ”بدعتی“ نظریات رکھنے والے کیتھولک، جینسنسٹس پاک صحائف کی پڑھائی کی تائید کِیا کرتے تھے۔ لہٰذا کالپورٹرز نے جینسنسٹس میں یونانی صحائف (”نیا عہدنامہ“) کی اُن کاپیوں کی تقسیم میں حصہ لیا جس کا ترجمہ لے مسٹرے ڈے ساسی نے اُس وقت مکمل کِیا تھا۔
اُسی دوران کالپورٹرز کے تھیلوں میں ایک نئی اور سستی اشاعت دکھائی دینے لگی۔ اِن کتابوں نے ۱۹ ویں صدی میں اپنے معدوم ہونے تک فرانس کے بہتیرے لوگوں کو پڑھنا سکھایا اور انہیں تعلیم دینے کے علاوہ محظوظ بھی رکھا۔ انکی جِلد کی رنگت کے باعث فرانسیسی لوگ انہیں ببلیوتیک بلوئے یا نیلی لائبریری کہا کرتے تھے۔ انگلینڈ میں انہیں کتابچے اور سپین میں پلائگس ڈے کورڈل کہا جاتا تھا۔ یہ قرونِوسطیٰ کے سُورماؤں کی داستانوں، روایتی اعتقادات اور اولیا کی زندگیوں پر مبنی کہانیوں پر مشتمل ہوا کرتی تھیں۔ یہ بات قابلِتصور ہے کہ پرینیز سے موسمِگرما میں یا دوفینے ایلپس سے موسمِسرما میں آنے والے کالپورٹرز کا بڑی خوشی سے انتظار کِیا جاتا تھا۔
دلچسپی کی بات ہے کہ کالپورٹرز تعلیمیافتہ اور غیرتعلیمیافتہ لوگوں کی ضروریات پوری کِیا کرتے تھے۔ اٹھارویں صدی میں فرانس کے جنوبمغربی علاقے گائین کے کسانوں پر کئے جانے والے ایک مطالعے نے بیان کِیا: ”موسمِسرما کی لمبی شاموں میں [کسان] گھر میں جمع خاندان کے افراد کے لئے سینٹ کی سوانححیات یا بائبل کا ایک باب آدھے گھنٹے تک پڑھتے ہیں۔ . . . کوئی اَور کتاب دستیاب نہ ہونے کی صورت میں دیہی علاقوں میں ہر سال آنے والی کالپورٹرز کی نیلی لائبریری یا ایسی ہی کوئی اَور فضول سی کتاب پڑھی جاتی ہے۔“ تاہم سب سے مقبول کتاب بائبل تھی اور اُسکی کاپیاں غریب کسانوں کے پاس بھی ہوا کرتی تھیں۔
منظم نظام
فرینچ اور اٹیلین ایلپس، پرینیز اور فرانس کے شمالمغرب میں نارمنڈی میں کالپورٹرز کے کام کے منظم نظام شروع کئے گئے۔ صرف جنوبی یورپ ہی میں کتابوں کے کاروبار کا ایک چوتھائی حصہ دوفینے ایلپس کے کالپورٹرز کے ہاتھوں میں تھا۔ جنیوا کے ایک ہمعصر کُتبفروش نے بیان کِیا، ”سپین اور پُرتگال کے علاوہ اٹلی کے کئی شہروں میں بھی اسی شہر، دوفینے ایلپس کے فرانسیسی لوگ کتابوں کا کاروبار کِیا کرتے تھے۔“
اس حقیقت کے علاوہ کہ ”کالپورٹرز ”سرگرم، محنتی اور نہایت سمجھدار ہوا کرتے تھے،“ اپنے خاندان، گاؤں اور مذہب کیساتھ اُنکی گہری وابستگی ہی انکی کامیابی کا اصل راز تھا۔ ان میں سے بہتیرے پروٹسٹنٹ تھے جن کا ان لوگوں سے رابطہ تھا جو اذیت کے دوران قید میں تھے۔ لہٰذا رشتہداروں، ہموطنوں اور ساتھی ایمانداروں پر مشتمل منظم نظام پورے یورپ میں پھیلے ہوئے تھے۔ مثال کے طور پر، گراویے کے خاندان کا کُتبفروشی کا نظام یورپ، سپین اور اٹلی میں پھیلا ہوا تھا۔ دیگر نظام فارس اور امریکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔
کالپورٹر کے کام کی بحالی
اُنیسویں صدی کے صنعتی انقلاب نے کالپورٹرز کے صدیوں پُرانے خاندانی کاروبار کو نیستونابود کر دیا۔ تاہم بائبل سوسائٹیز کے قیام نے پہلے سے کہیں زیادہ وسیع پیمانے پر بائبل کی تقسیم کو ممکن بنایا۔ تاہم کیتھولک چرچ کو ابھی بھی بائبل کی تقسیم پر اعتراض تھا۔ بائبل کالپورٹرز کو ۱۸۰۰ کے آخر تک پریشانی اور اذیت کا سامنا رہا۔ اسکے باوجود وہ ۱۸۰۴ سے ۱۹۰۹ تک صرف فرانس میں بائبل کی مکمل یا اُسکے کچھ حصوں کی چھ ملین کاپیاں تقسیم کر چکے تھے۔
تاہم، بائبل کی بابت شعور پیدا کرنے کا کام ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ سن ۱۸۸۱ میں رسالے زائینز واچ ٹاور اینڈ ہیرلڈ آف کرائسٹ پریزنس (مطبوعہ ریاستہائےمتحدہ) نے منادوں کے طور پر خدمت کرنے کیلئے مسیحیوں کو دعوت دی۔ اُنکا مقصد کیا تھا؟ ”وہ سچائی پھیلانے کیلئے لوگوں کو پڑھنے کیلئے متحرک کرنا چاہتے تھے۔“ سن ۱۸۸۵ تک تقریباً ۳۰۰ منادوں نے یہ دعوت قبول کرتے ہوئے خدمتگزاری میں حصہ لیا۔ بعض نے اس مقصد کے تحت بربادس، برما (اب میانمار)، السلوڈور، فنلینڈ، گواٹیمالا اور ہنڈرس جیسے دُورافتادہ علاقوں کا سفر کِیا۔ ایسے مناد دوسری جنگِعظیم کے شروع ہونے تک چین، کوسٹا ریکا، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، نیوزیلینڈ، ناروے، پولینڈ، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ میں بائبل علم پھیلا چکے تھے۔
دلچسپی کی بات ہے کہ اُن ابتدائی سالوں میں بائبل طالبعلموں (اب یہوواہ کے گواہ) کے درمیان موجود کُلوقتی مناد کالپورٹرز کہلاتے تھے۔ بعدازاں اس نام کو اِس لئے بدل دیا گیا کیونکہ یہ اُنکے کام کے بنیادی مقصد—بائبل تعلیم—کی درست نمائندگی نہیں کرتا تھا۔ (متی ۲۸:۱۹، ۲۰) علاوہازیں یہ اصطلاح اس حقیقت کو اُجاگر نہیں کرتی تھی کہ اُنکی کارگزاریاں بِلامعاوضہ ہیں۔ لہٰذا آجکل یہوواہ کے گواہوں کے کُلوقتی خادم پائنیرز کہلاتے ہیں۔
گزشتہ سال ۸،۰۰،۰۰۰ سے زیادہ پائنیرز نے بائبلیں اور بائبل پر مبنی اشاعت بِلامعاوضہ تقسیم کی ہیں۔ وہ پیسوں کی بجائے ”دل کی صفائی سے اور خدا کی طرف سے خدا کو حاضر جان کر مسیح میں“ ایسا کرتے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۲:۱۷) لہٰذا آجکل کے پائنیرز محض چلتےپھرتے بُکسٹورز ثابت نہیں ہوتے۔ تاہم وہ گرمجوشی اور مضبوط اعتقاد کے سلسلے میں ابتدائی کالپورٹرز میں سے بہتیروں کے نمونے کی قدر کرتے ہیں۔
[فٹنوٹ]
a عبادتی کتابیں ایسی دُعاؤں پر مشتمل تھیں جو مریم کی تعظیم میں مخصوص وقتوں پر دہرائی جاتی تھیں۔
[صفحہ ۲۴، ۲۵ پر تصویریں]
کالپورٹرز جدید مصنوعات لوگوں کے گھروں تک پہنچاتے تھے
کالپورٹرز کا خوشی سے انتظار کِیا جاتا تھا
[تصویر کا حوالہ]
Cliché Bibliothèque nationale de France, Paris ©
[صفحہ ۲۶ پر تصویریں]
لے مسٹرے ڈے ساسی کا ”نیا عہدنامہ“ اور نیلی لائبریری کی ایک کتاب
[تصویروں کے حوالہجات]
Far right: © Cliché Bibliothèque nationale de France, Paris
Right: © B.M.V.R de Troyes/Bbl.390/Photo P. Jacquinot
[صفحہ ۲۶، ۲۷ پر تصویر]
مناد بائبل لٹریچر تقسیم کِیا کرتے تھے
[صفحہ ۲۶ پر تصویر]
آجکل کُلوقتی خادم مُفت بائبل تعلیم دیتے ہیں