موسمِخزاں—سال کا ایک شاندار وقت
موسمِخزاں سال کا ایک خاص وقت ہوتا ہے۔ یہ وہ موسم ہے جب معتدل ممالک میں نیلا آسمان، گرم دن اور ٹھنڈی راتیں درختوں والے کوہساروں کو آہستہآہستہ زرد، نارنجی اور سرخ رنگوں سے سجا دیتی ہیں۔ اس موسم میں صنوبر اور دیودار کے سدابہار درخت اپنے دوسرے ساتھیوں سے منفرد نظارہ پیش کرتے ہیں جن کے قرمزی اور زرد رنگ کے پتے اب جھڑنے لگتے ہیں۔
موسمِخزاں کو جاپان اور کوریا جیسے مشرقی ممالک میں بہت پسند کِیا جاتا ہے۔ جاپان کے لوگ اکثر ”موسمِخزاں کے رنگوں کی تلاش“ میں یعنی فطرت کے حسین نظاروں سے محظوظ ہونے کے لئے اپنے تفریحی سفر پر نکل پڑتے ہیں۔
سال کے اِس موسم میں کوریا کے بیشتر نیشنل پارک کا حسن عروج پر نظر آتا ہے۔ لہٰذا اخبارات عوام کو موسمِخزاں کے دلکش رنگوں سے لطفاندوز ہونے کے بہترین وقت کی بابت باخبر رکھتے ہیں۔ کوریا کا مشہورترین نیشنل پارک سوراکسن ایک پسندیدہ تفریحگاہ ہے۔ صنوبر کے بیشمار درختوں سے آراستہ اسکی گرینیٹ کی بلند چٹانیں مشرقی حسن کی عکاسی کرتی ہیں۔ موسمِخزاں میں بیچ اور میپل درختوں کا سرخ طوق سوراکسن کے گرینیٹ ستونوں کی زینت بنتے ہیں۔ نیز صبحسویرے جاگنے والا شخص جب ان چٹانوں کی چوٹیوں کو کُہر کے سمندر سے اُبھرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ یہ نظارہ کبھی نہیں بھولتا۔
کوریا کا ۷۰ سالہ چاقوچوبند پارکلیکیوئن وضاحت کرتا ہے: ”مَیں پہاڑوں میں چہلقدمی کرنے سے ہمیشہ محظوظ ہوتا ہوں لیکن بالخصوص موسمِخزاں میں اسکا مزہ ہی کچھ اَور ہوتا ہے۔ خزاں کے موسم میں یوں لگتا ہے کہ جیسے خدا نے کوہساروں کو کئی رنگوں سے ملبّس کر دیا ہے—ایسے رنگ جو ہر روز بدلتے ہیں اور خزاں کے شفاف آسمانوں تلے درخشاں ہو جاتے ہیں۔“ اُسکی بیوی کونگینگ کو خزاں کے پتوں کو سنہری تِتلیوں کی مانند فضا میں اُڑتے ہوئے دیکھنا بہت اچھا لگتا ہے۔
پتوں کا رنگ کیوں بدل جاتا ہے؟
ہر متجسس شخص رنگوں کی اس تبدیلی کی وضاحت چاہیگا۔ کونسی چیز ایک پتے کے زرد یا سرخ رنگ کا تعیّن کرتی ہے؟
خزاں کے رنگ اُس عمل کا حصہ ہیں جسکے ذریعے درخت موسمِسرما کی تیاری کرتے ہیں۔ خزاں کے چھوٹے دن پتوں کو فراہم کئے جانے والے پانی اور غذائیت کو روکنے کیلئے درخت کے اندرونی نظام کو آگاہ کرتے ہیں۔ اسکے نتیجے میں ہر پتا ڈنٹھل کے نیچے ایک تہ بناتا ہے جو اُسے درخت کے دوسرے حصوں سے جُدا کرتی ہے۔ یہ تہ کارکنما مادے سے بنی ہوتی ہے جو پتے اور درخت کے باقی حصے کے درمیان ہر قسم کے عمل کو منقطع کر دیتی ہے جسکی وجہ سے پتا آخرکار درخت سے گِر جاتا ہے۔
اس عمل کے دوران، پتوں میں موجود رنگین مادۂگل کارٹینائڈ انہیں زرد یا نارنجی رنگ دیتا ہے۔ یہ مادہ عموماً پورے موسمِگرما کے دوران پتوں میں موجود ہوتا ہے مگر سبز کلوروفل کی زیادتی کی وجہ سے یہ نمایاں نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، سرخ رنگ بنیادی طور پر رنگین مادۂگل انتھوسائینن سے حاصل ہوتا ہے جو پتے صرف موسمِخزاں میں پیدا کرتے ہیں۔ خزاں کے دوران کلوروفل میں کمی آتی ہے جس سے زرد اور سرخ رنگ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ جب کلوروفل بالکل ختم ہو جاتا ہے تو پاپولر کا پتا زرد ہو جاتا ہے لیکن میپل کا پتا چمکدار سرخ رنگ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
ایک شاندار موسمِخزاں کی تلاش
قدرتی مناظر میں دلچسپی رکھنے والے لوگوں کا تجربہ ہے کہ موسمِخزاں کے نظارے ہر سال اور ہر جگہ مختلف ہوتے ہیں۔ اسکا بنیادی انحصار اس علاقے میں پائے جانے والے پتجھڑ درختوں کی قسم پر ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر میپل کے درختوں کی مختلف اقسام کئی دلکش لال رنگ پیدا کرتی ہیں۔ ان درختوں کی کئی اقسام مشرقی ممالک میں قدرتی طور پر اُگنے کے علاوہ اکثر باغات میں بھی اُگائی جاتی ہیں۔
ایک اَور عنصر آبوہوا ہے—پتے جس مقدار میں انتھوسائینن پیدا کرتے ہیں اسکا انحصار بڑی حد تک موسم پر ہوتا ہے۔ گرم دن اور ٹھنڈی راتیں پتوں کو زیادہ مقدار میں انتھوسائینن پیدا کرنے کے قابل بناتی ہیں۔ مشرقِبعید میں موسمِخزاں اکثر ایسے حالات فراہم کرتا ہے۔ جاپان اور کوریا دونوں ہی کوہستانی ملک ہیں۔ انکے بہتیرے کوہسار مختلف اقسام کے پتجھڑ درختوں سے پُر ہیں جو مشاہدین کو خزاں کے رنگین نظارے فراہم کرتے ہیں۔
بحالی کا نفیس عمل
درختوں کے پتجھڑ کا سارا عمل خوبصورت اور مفید ہوتا ہے۔ درخت پتے گِرانے سے موسمِسرما کے دوران پانی اور توانائی ذخیرہ کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ غیرضروری زہریلے مادے بھی خارج کرتے ہیں جو گرمیوں کے موسم میں پتوں میں جمع ہو جاتے ہیں۔
اُن لاتعداد پتوں کا کیا ہوتا ہے جو زمین پر گِرتے ہیں؟ حشرات، پھپھوندی اور مٹی میں رہنے والے دیگر جانداروں کی بدولت یہ تمام نامیاتی مادہ بہت جلد زرخیز زمین کے اہم سطحی حصے، نباتی کھاد میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پس جھڑنے والے پتے ایک شاندار نظارہ پیش کرنے کے بعد موسمِبہار کی نئی پیداوار کیلئے کھاد بھی فراہم کرتے ہیں! کیا آپ اس سے زیادہ دلکش اور نفیس بحالی کے عمل کا تصور کر سکتے ہیں؟ ہم ایسے شاہکاروں سے محظوظ ہوتے وقت محسوس کر سکتے ہیں کہ کچھ کہے بغیر ’سب درخت تالی بجا کر‘ اپنے خالق کی تمجید کرتے ہیں۔—یسعیاہ ۵۵:۱۲؛ زبور ۱۴۸:۷-۹۔