بائبل کا نقطۂنظر
کیا خواب خدائی پیغامات ہوتے ہیں؟
سلائی مشین کے موجد، ایلیاس ہاؤ کی بابت کہا جاتا ہے کہ اُس نے خواب میں اس کا ڈیزائن دیکھا تھا۔ موسیقار موزارٹ نے کہا کہ اُس کی موسیقی کے بیشتر مرکزی خیال خوابوں میں اُس پر واضح ہوئے تھے۔ کیمیادان فریڈرک اوگسٹ ککول وان سٹراڈونٹس نے بھی بنزینی سالمے کی ہیت خواب میں ہی دریافت کرنے کا دعویٰ کِیا تھا۔ یہ کوئی انوکھی باتیں نہیں ہیں۔ تمام انسانی تاریخ میں بہتیری تہذیبوں میں خوابوں کو کسی مافوقالفطرت ہستی سے منسوب کِیا گیا ہے۔ بعض لوگ یقین رکھتے ہیں کہ حقیقی دُنیا کی طرح خوابوں کی دُنیا کا بھی وجود ہے۔
بائبل کی کئی سرگزشتوں میں خوابوں کو معلومات بہم پہنچانے کا اہم ذریعہ—الہٰی رابطے کا ایک طریقہ—ظاہر کِیا گیا ہے۔ (قضاۃ ۷:۱۳، ۱۴؛ ۱-سلاطین ۳:۵) مثال کے طور پر، خدا خواب میں ابرہام، یعقوب اور یوسف سے ہمکلام ہوا تھا۔ (پیدایش ۲۸:۱۰-۱۹؛ ۳۱:۱۰-۱۳؛ ۳۷:۵-۱۱) بابلی بادشاہ نبوکدنضر نے بھی خدا کی طرف سے نبوّتی خواب دیکھے تھے۔ (دانیایل ۲:۱، ۲۸-۴۵) پس کیا یہ سمجھنا معقول ہے کہ آجکل بھی بعض خواب خدائی پیغام ہوتے ہیں؟
خدا کی طرف سے خواب
بائبل وقتوں میں، خدا کی طرف سے دکھائی دینے والے خوابوں کا ہمیشہ کوئی مقصد اور سبب ہوتا تھا۔ یہ بات سچ ہے کہ بعضاوقات خواب دیکھنے والا فوراً اُسکا مفہوم سمجھ نہیں پاتا تھا۔ لہٰذا، بعض معاملات میں ”راز کی باتیں آشکارا“ کرنے والے کو خود وضاحت کرنی پڑی تاکہ خواب کے مفہوم کی بابت کسی قسم کا شکوشُبہ پیدا نہ ہو۔ (دانیایل ۲:۲۸، ۲۹؛ عاموس ۳:۷) خدا کی طرف سے دکھائی دینے والے خواب عام خوابوں کی طرح مبہم اور غیرمنطقی نہیں تھے۔
بعضاوقات، خدا نے اپنے مقصد کی تکمیل میں مددگار ثابت ہونے والے اشخاص کے تحفظ کے لئے خوابوں کو استعمال کِیا۔ ایسے خواب دیکھنے والے درحقیقت خدا کے خادم نہیں تھے۔ مثال کے طور پر، خون کے پیاسے ہیرودیس نے ننھے یسوع کو دیکھنے کیلئے آنے والے مجوسیوں سے واپس اپنے پاس آنے کی درخواست کی تھی مگر وہ اُسکے پاس واپس نہیں گئے تھے۔ کیوں؟ اسلئے کہ اُنہیں خواب میں خبردار کر دیا گیا تھا۔ (متی ۲:۷-۱۲) اس سے یسوع کے رضاعی باپ، یوسف کو کافی وقت مل گیا کہ وہ بھی خواب کے ذریعے حاصل ہونے والی ہدایت کے مطابق اپنے خاندان کو لیکر مصر چلا جائے۔ یوں یسوع کی جان بچ گئی۔—متی ۲:۱۳-۱۵۔
اس سے صدیوں پہلے، مصری فرعون نے بھی خواب میں سات موٹی اور اچھیاچھی بالیں اور سات موٹیتازی گائیں اور پھر سات پتلی اور مرجھائی ہوئی بالیں اور سات دُبلیپتلی گائیں دیکھی تھیں۔ یوسف نے الہٰی مدد سے ان خوابوں کی درست تعبیر کی: مصر میں سات برس اناج کی افراط کے بعد سات برس قحط رہے گا۔ مستقبل کا علم ہو جانے سے مصریوں کو اس کے لئے تیاری اور خوراک ذخیرہ کرنے کا موقع مل گیا۔ یہ ابرہام کی آلاولاد کی بقا کے علاوہ مصر میں اُنکی آمد پر بھی منتج ہوا۔—پیدایش ۴۱ باب؛ ۴۵:۵-۸۔
بابل کے بادشاہ نبوکدنضر نے بھی ایک خواب دیکھا تھا۔ اس میں پیشازوقت آئندہ عالمی طاقتوں کا عروجوزوال بتا دیا گیا تھا جسکا خدا کے لوگوں پر براہِراست اثر ہوگا۔ (دانیایل ۲:۳۱-۴۳) بعدازاں، ایک اَور خواب میں اُس پر واضح کِیا گیا کہ وہ ہوشوحواس کھو بیٹھے گا مگر پھر ٹھیک بھی ہو جائیگا۔ اس نبوّتی خواب کی بڑی تکمیل مسیحائی بادشاہت کے قیام پر مشتمل تھی جس کے ذریعے خدا اپنی مرضی پوری کریگا۔—دانیایل ۴:۱۰-۳۷۔
ہمارے زمانے کی بابت کیا ہے؟
واقعی، خدا نے بعض لوگوں سے خوابوں کے ذریعے رابطہ کِیا تھا۔ لیکن بائبل بیان کرتی ہے کہ ایسا شاذونادر ہی ہوتا تھا۔ خواب کبھی بھی الہٰی رابطے کا بنیادی ذریعہ نہیں تھے۔ خدا کے ایسے بہتیرے خادم تھے جنہیں خدا کی طرف سے خواب میں کبھی کوئی پیغام نہیں ملا تھا۔ خدا کا انسان کیساتھ رابطہ کرنے کیلئے خوابوں کو استعمال کرنا بالکل بحرِقلزم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی مانند ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اُس نے ایسا ایک ہی بار کِیا تھا لیکن وہ عام طور پر اپنے لوگوں کیلئے ایسا نہیں کرتا تھا۔—خروج ۱۴:۲۱۔
پولس رسول نے تسلیم کِیا کہ اُسکے زمانے میں خدا کی روح نہایت غیرمعمولی طریقوں سے اُسکے خادموں پر کام کر رہی تھی۔ پولس نے کہا: ”ایک کو روح کے وسیلہ سے حکمت کا کلام عنایت ہوتا ہے اور دوسرے کو اُسی روح کی مرضی کے موافق علمیت کا کلام۔ کسی کو اُسی روح سے ایمان اور کسی کو اُسی ایک روح سے شفا دینے کی توفیق۔ کسی کو معجزوں کی قدرت۔ کسی کو نبوّت۔ کسی کو روحوں کا امتیاز۔ کسی کو طرح طرح کی زبانیں۔ کسی کو زبانوں کا ترجمہ کرنا۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۲:۸-۱۰) اگرچہ یہاں الہٰی اصل سے خوابوں کا تو بالخصوص ذکر نہیں کِیا گیا مگر یوایل ۲:۲۸ کی تکمیل میں کئی مسیحی روح کی نعمت کے طور پر ایسے خواب دیکھنے کے قابل تھے۔—اعمال ۱۶:۹، ۱۰۔
تاہم، رسول نے ان خاص نعمتوں کی بابت کہا: ”محبت کو زوال نہیں۔ نبوّتیں ہوں تو موقوف ہو جائیں گی۔ زبانیں ہوں تو جاتی رہیں گی۔ علم ہو تو مٹ جائے گا۔“ (۱-کرنتھیوں ۱۳:۸) بدیہی طور پر، جن نعمتوں نے ”موقوف“ ہونا تھا اُن میں الہٰی رابطے کے مختلف ذرائع بھی شامل تھے۔ رسولوں کی موت کے بعد، خدا نے اپنے خادموں کو ایسی نعمتیں عطا کرنا بند کر دی تھیں۔
ماہرین آج بھی خواب دیکھنے کے عمل کے علاوہ اس امر کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا اس کا حقیقی زندگی سے کوئی واسطہ ہے یا نہیں۔ بائبل ایسے معاملات پر کوئی روشنی نہیں ڈالتی۔ تاہم، بائبل خوابوں میں الہٰی رابطے کے خواہاں لوگوں کو خبردار ضرور کرتی ہے۔ زکریاہ ۱۰:۲ میں بیان کِیا گیا ہے: ”غیببینوں نے بطالت دیکھی اور جھوٹے خواب بیان کئے ہیں۔“ خدا شگون نکالنے سے بھی منع کرتا ہے۔ (استثنا ۱۸:۱۰-۱۲) ان آگاہیوں کی روشنی میں، آجکل مسیحی خواب میں الہٰی راہنمائی حاصل کرنے کی توقع نہیں کرتے۔ اُن کے نزدیک خوابوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔