کہانی نمبر ۲۳
فرعون کے خواب
دو سال گزر گئے لیکن ساقیوں کے سردار نے فرعون کو یوسف کے بارے میں نہیں بتایا۔ یوسف ابھی بھی قیدخانے میں تھے۔ پھر ایک رات فرعون نے دو خواب دیکھے۔ کیا آپ تصویر میں فرعون کو دیکھ سکتے ہیں؟ جب فرعون جاگ گئے تو وہ جاننا چاہتے تھے کہ اُن کے خوابوں کا کیا مطلب ہے۔ اِس لئے اُنہوں نے کچھ دانشمند آدمیوں کو بلایا اور اُن کو اپنے خواب بتائے۔ لیکن اِن آدمیوں کو فرعون کے خوابوں کا مطلب نہیں پتہ تھا۔
اب ساقیوں کے سردار کو یوسف یاد آئے۔ اُنہوں نے فرعون سے کہا کہ ”جب مَیں قیدخانے میں تھا تو وہاں ایک آدمی تھا جو خوابوں کا مطلب بتا سکتا تھا۔“ فرعون نے حکم دیا کہ ”اُس آدمی کو فوراً میرے پاس لے کر آؤ۔“
جب یوسف فرعون کے پاس آئے تو فرعون نے اُن سے کہا کہ ”مَیں نے خواب میں سات موٹی تازی گائیں دیکھیں۔ پھر مَیں نے سات دُبلی پتلی اور کمزور سی گائیں دیکھیں۔ یہ دُبلی پتلی گائیں، موٹی تازی گایوں کو کھا گئیں۔
پھر مَیں نے ایک اَور خواب دیکھا۔ مَیں نے اناج کی سات موٹی بالیں دیکھیں جو دانوں سے بھری تھیں۔ پھر مَیں نے سات پتلی اور مُرجھائی ہوئی بالیں دیکھیں۔ یہ پتلی بالیں، موٹی بالوں کو کھا گئیں۔“
یوسف نے فرعون کو بتایا کہ ”آپ کے دونوں خوابوں کا ایک ہی مطلب ہے۔ سات موٹی گائیں اور سات موٹی بالیں، سات اچھے سال ہیں۔ اِن اچھے سالوں میں ملک میں بہت اناج اُگے گا۔ اور سات پتلی گائیں اور سات پتلی بالیں، سات بُرے سال ہیں۔ اِن بُرے سالوں میں ملک میں بہت کم اناج اُگے گا۔“
پھر یوسف نے فرعون سے کہا کہ ”ایک دانشمند آدمی کو یہ ذمہداری دیں کہ وہ سات اچھے سالوں میں بہت سارا اناج جمع کرے۔ پھر جب سات بُرے سال آئیں گے تو آپ کے پاس اناج ہوگا اور لوگ بھوکے نہیں مریں گے۔“
فرعون کو یوسف کی بات اچھی لگی۔ اُنہوں نے یوسف کو یہ ذمہداری دے دی کہ وہ اناج جمع کریں۔ یوں یوسف مصر میں فرعون کے بعد سب سے اہم آدمی بن گئے۔
آٹھ سال گزرے اور وہ وقت آ گیا جب ملک میں بہت کم اناج اُگنے لگا۔ ایک دن کچھ آدمی بہت دُور سے یوسف کے پاس اناج خریدنے کے لئے آئے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کون تھے؟ وہ یوسف کے دس بڑے بھائی تھے۔ اُن کے ابو نے اُن کو مصر بھیجا تھا کیونکہ ملک کنعان میں بھی اناج ختم ہو رہا تھا۔ یوسف نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا لیکن یوسف کے بھائیوں نے اُن کو نہیں پہچانا۔ کیا آپ کو پتہ ہے کہ کیوں؟ اِس لئے کہ اب یوسف بڑے ہو گئے تھے اور اُنہوں نے مصریوں جیسے کپڑے پہنے تھے۔
یوسف کو وہ خواب یاد آئے جو اُنہوں نے بچپن میں دیکھے تھے۔ کیا آپ کو وہ خواب یاد ہیں؟ یوسف نے دیکھا تھا کہ اُن کے بھائی زمین پر سر ٹیک کر اُن کو سلام کر رہے ہیں۔ اب یوسف سمجھ گئے کہ خدا ہی اُن کو مصر لایا تھا کیونکہ خدا چاہتا تھا کہ یوسف ایک خاص کام کریں۔ جب یوسف اپنے بھائیوں سے ملے تو اُنہوں نے کیا کِیا؟ آئیں، دیکھتے ہیں۔