موسمیاتی پیشینگوئی کا علموفن
برطانیہ میں جـاگـو! کا رائٹر
ایک عورت نے اکتوبر ۱۵، ۱۹۸۷ کو برطانیہ کے ٹیوی سٹیشن کو فون پر بتایا کہ اُس نے سنا ہے کہ سمندری طوفان آنے والا ہے۔ موسمیاتی پیشینگوئی کرنے والے نے بڑے وثوق سے اپنے ناظرین کو بتایا: ”پریشان نہ ہوں۔ کوئی طوفان نہیں آنے والا۔“ تاہم، اُسی رات جنوبی برطانیہ میں زوردار طوفان آیا جو ۱۵ ملین درختوں کی تباہی، ۱۹ اشخاص کی ہلاکت اور ۴.۱ بلین ڈالر کے نقصان کا باعث بنا۔
ہر صبح لاکھوں لوگ اپنے ریڈیو اور ٹیلیویژن کے ذریعے موسم کا حال جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا آسمان پر چھائی ہوئی کالی گھٹائیں بارش کا پیشخیمہ ہیں؟ کیا مطلع سارا دن صاف رہے گا؟ کیا درجۂحرارت کے بڑھنے سے برف پگھل جائیگی؟ پیشینگوئی سن کر لوگ اپنے لباس کے علاوہ اپنے ساتھ چھتری رکھنے یا نہ رکھنے کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔
تاہم، وقتاًفوقتاً موسمیاتی پیشینگوئیاں بالکل غلط ثابت ہوتی ہیں۔ حالیہ برسوں میں پیشینگوئیوں کے حیرانکُن حد تک درست ثابت ہونے کے باوجود پیشازوقت موسم کا حال بیان کرنا علموفن کا حسین امتزاج ہے جو غلطی سے مبرا نہیں ہے۔ تاہم، موسمیاتی پیشینگوئی کرنے میں کیا کچھ شامل ہے اور اس پر کس حد تک اعتماد کِیا جا سکتا ہے؟ آئیے پہلے یہ دریافت کریں کہ موسمیاتی پیشینگوئی کے عمل نے کیسے فروغ پایا۔
موسم کی پیمائش
بائبل وقتوں میں لوگ آسمان کی مختلف صورتوں کو دیکھ کر موسم کی پیشینگوئی کرتے تھے۔ (متی ۱۶:۲، ۳) اس کے برعکس، آجکل ماہرینِموسمیات کے پاس مختلف قسم کے حساسوپیچیدہ آلات ہیں جن میں سب سے اہم آلہ ہوا کے دباؤ اور رفتار، درجۂحرارت اور نمی کی پیمائش کرتا ہے۔
اطالوی ماہرِطبیعیات ایوانجیلستا ٹاریچیلی نے ۱۶۴۳ میں بیرومیٹر (بارپیما)—ہوائی دباؤ کی پیمائش کا سادہ سا آلہ—ایجاد کِیا۔ اس ایجاد سے جلد ہی پتہ چل گیا کہ موسم میں تبدیلی سے ہوا کا دباؤ بھی بڑھتا اور گھٹتا ہے اور دباؤ میں کمی طوفان کی علامت ہوتی ہے۔ سن ۱۶۶۴ میں ہوا میں نمی کی پیمائش کیلئے ہائیگرومیٹر (رطوبتپیما) ایجاد کِیا گیا۔ اس کے بعد سن ۱۷۱۴ میں جرمن کے ماہرِطبیعیات ڈینئل فارنہائیٹ نے پارے کا تھرمامیٹر (تپشپیما) ایجاد کِیا۔ اب درجۂحرارت کی بالکل درست پیمائش ممکن تھی۔
کوئی ۱۷۶۵ کے لگبھگ، فرانسیسی سائنسدان اینٹونی لاؤرنٹ لاووزئیر نے ہر روز ہوا کے دباؤ، نمی اور ہوا کی رفتار اور سمت کا تعیّن کرنے کی تجویز پیش کی۔ اُس نے بیان کِیا کہ ”ان تمام معلومات کی مدد سے معقول حد تک درستی کیساتھ ایک یا دو دن پہلے موسم کی پیشینگوئی کرنا ہمیشہ ممکن ہوتا ہے۔“ تاہم، یہ اتنا آسان نہیں تھا۔
موسم کا تعیّن
سن ۱۸۵۴ میں ایک فرانسیسی بحری جنگی جہاز اور ۳۸ تجارتی جہاز ایک تُند طوفان کی لپیٹ میں آکر کریمیا کی بندرگاہ بیلکلاوا پر غرق ہو گئے۔ فرانسیسی حکام نے پیرس اوبزرویٹری کے ڈائریکٹر، اُربن ژاں ژوژیف لیورائر کو اس حادثے کی تحقیقات کا کام سونپا۔ موسمیاتی ریکارڈ کی جانچ کرنے سے اُسے معلوم ہوا کہ اس تباہی سے دو دن پہلے ہی یہ طوفان یورپ کے شمالمغرب سے لیکر جنوبمشرق کے علاقے کو تہسنہس کر چکا تھا۔ اگر طوفان کی حرکات کا تعیّن کرنے کا کوئی نظام عمل میں آ گیا ہوتا تو جہازوں کو پیشگی آگاہی دی جا سکتی تھی۔ لہٰذا، تب سے فرانس میں طوفان سے آگاہ کرنے کی قومی خدمات کا آغاز کِیا گیا اور یوں جدید علمِموسمیات کی ابتدا ہوئی۔
تاہم، سائنسدانوں کو دیگر مقامات سے موسمی معلومات حاصل کرنے کیلئے فوری رابطے کے نظام کی ضرورت تھی۔ لہٰذا، کچھ ہی عرصہ پہلے سموئیل مورس کی ایجادکردہ الیکٹرک ٹیلیگراف (تاربرقی) اس کام کیلئے نہایت مؤثر ثابت ہوئی۔ اس کی مدد سے پیرس اوبزرویٹری کے لئے ۱۸۶۳ میں جدید طرز کے پہلے موسمی نقشے شائع کرنا ممکن ہوا۔ سن ۱۸۷۲ تک برطانیہ کا محکمۂموسمیات بھی ایسے نقشے تیار کرنے لگا۔
ماہرِموسمیات کو جتنی زیادہ معلومات موصول ہوتی رہیں اُسی قدر وہ موسم کی پیچیدگی سے واقف ہوتے چلے گئے۔ پس، نئے ترسیمی آلات بنائے گئے تاکہ موسمی نقشے اضافی معلومات مہیا کر سکیں۔ مثال کے طور پر، یکساں ہوائی دباؤ والے مقامات کو جوڑنے کیلئے کھینچی گئی لکیروں کو ہمفشار خطوط کہتے ہیں۔ ہمتپش خطوط یکساں درجۂحرارت والے مقامات کو جوڑتے ہیں۔ موسمی نقشہجات میں ہوا کی سمت اور قوت کی نشاندہی کیلئے استعمال ہونے والی علامات کے علاوہ سرد اور گرم ہواؤں کے ملاپ کو ظاہر کرنے والے خطوط بھی استعمال ہوتے ہیں۔
اس کے لئے نہایت حساسوپیچیدہ آلات ایجاد ہو چکے ہیں۔ آجکل پوری دُنیا کے سینکڑوں موسمیاتی سٹیشن ریڈیائی موسمپیما والے غبارے فضا میں چھوڑتے ہیں جو موسم کی پیمائش کرکے معلومات واپس بھیجتے ہیں۔ ریڈار بھی استعمال کِیا جاتا ہے۔ ماہرِموسمیات ریڈیائی لہروں کو بادلوں کی جانب پھینکتے ہیں جو اس میں موجود پانی کے قطروں اور برف سے منعکس ہو کر واپس آتی ہیں اور یوں طوفانوں کی حرکاتوسمت کا تعیّن کرنا ممکن ہوتا ہے۔
درست موسمیاتی پیشینگوئی کے حوالے سے ۱۹۶۰ میں ایک بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی جب دُنیا کا سب سے پہلا موسمی سیارہ، ٹائرس I ایک ٹیوی کیمرے کیساتھ خلا میں چھوڑا گیا۔ اب موسمی سیارے زمین کے چاروں طرف گردش کر رہے ہیں جبکہ غیرمتحرک [ساکن] سیارے زمین کے اُوپر فضا میں ایک مخصوص حالت میں کھڑے رہتے ہیں اور اپنے حلقے میں آنے والے قطعۂارض کو مسلسل مانیٹر کرتے رہتے ہیں۔ یہ دونوں قسم کے سیارے اُوپر سے موسم کی تصاویر کھینچتے ہیں۔
موسم کی پیشینگوئی کرنا
یہ جاننا تو قدرے آسان ہے کہ اس وقت موسم کیسا ہے مگر اگلے ایک گھنٹے، ایک دن یا ایک ہفتے میں موسم کیسا ہوگا، اس کی بابت پیشینگوئی کرنا نہایت مشکل ہے۔ پہلی عالمی جنگ کے کچھ ہی دیر بعد، برطانوی ماہرِموسمیات لوئیس رچرڈسن نے خیال پیش کِیا کہ موسم طبیعیاتی قوانین کے تابع ہے اسلئے وہ ریاضیات کی مدد سے موسم کی پیشینگوئی کر سکتا ہے۔ تاہم فارمولے اتنے پیچیدہ اور اعدادوشمار کا سلسلہ اس قدر وسیع اور وقتطلب تھا کہ پیشینگوئی کرنے والوں کے حسابات کی تکمیل سے پہلے ہی موسم گزر جاتا تھا۔ علاوہازیں، رچرڈسن نے ہر چھ گھنٹے بعد موسمی ریکارڈ لینے کا طریقہ استعمال کِیا۔ فرانسیسی ماہرِموسمیات رانے شابو نے بیان کِیا کہ ”معقول حد تک درست پیشینگوئی کیلئے زیادہ سے زیادہ ہر تیس منٹ کے بعد پیمائش کی جانی چاہئے۔“
تاہم، کمپیوٹر کی ایجاد سے بڑےبڑے اعدادوشمار کا تیزی سے حساب کرنا ممکن ہو گیا۔ ماہرِموسمیات نے ایک پیچیدہ عددی خاکہ—موسم کا تعیّن کرنے والے تمام دریافتشُدہ طبیعیاتی قوانین کا احاطہ کرنے والی ریاضیاتی مساوات کا سلسلہ—تیار کرنے کے لئے رچرڈسن کے حسابات کو استعمال کِیا۔
ان مساوات کو استعمال کرنے کی غرض سے ماہرینِموسمیات نے زمین کی سطح کو گرڈ میں تقسیم کر دیا ہے۔ اس وقت برطانوی محکمۂموسمیات جو عالمی نقشہ استعمال کر رہا ہے اُس پر گرڈ پوائنٹس کا درمیانی فاصلہ تقریباً ۸۰ کلومیٹر کے فاصلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ہر چوکور ٹکڑے کے اُوپری موسم کو بکس کہتے ہیں اور ہوائےکروی، ہوائی دباؤ، درجۂحرارت اور نمی کے اعدادوشمار کو ۲۰ مختلف ارتفاعی درجوں میں ریکارڈ کِیا جاتا ہے۔ کمپیوٹر پوری دُنیا کے ۳،۵۰۰ سے زائد موسمی سٹیشنوں سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرکے پیشینگوئی کرتا ہے کہ آئندہ ۱۵ منٹ میں عالمی موسم کیسا ہوگا۔ اسکے بعد پھر فوری طور پر اگلے ۱۵ منٹ کیلئے پیشینگوئی کی جاتی ہے۔ کئی مرتبہ اسی عمل کو دہرانے سے، کمپیوٹر صرف ۱۵ منٹ میں آئندہ چھ دنوں کیلئے عالمی موسم کی پیشینگوئی کر سکتا ہے۔
مقامی پیشینگوئی کے سلسلے میں زیادہ تفصیلات اور درستی کیلئے برطانوی محکمۂموسمیات شمالی اوقیانوس اور یورپی حلقوں کا احاطہ کرنے والا محدود علاقائی نقشہ استعمال کرتا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والے گرڈ پوائنٹس کا درمیانی فاصلہ ۵۰ کلومیٹر کے فاصلے کی نمائندگی کرتا ہے۔ ایک نقشہ صرف برطانوی جزائر اور نواحی سمندر کا احاطہ کرتا ہے۔ اس پر ۲،۶۲،۳۸۴ گرڈ پوائنٹس ہیں جنکا درمیانی فاصلہ ۱۵ کلومیٹر کی نمائندگی کرتا ہے اور اسکے ۳۱ عمودی درجے ہیں!
پیشینگوئی کرنے والے کا کردار
تاہم، موسم کی پیشینگوئی کا دارومدار صرف علم پر ہی نہیں ہوتا۔ دی ورلڈ بُک انسائیکلوپیڈیا کے بیان کے مطابق، ”کمپیوٹر جن فارمولوں کو استعمال کرتے ہیں وہ محض موسم کی مختلف حالتوں کی بابت سطحی معلومات فراہم کرتے ہیں۔“ مزیدبرآں، ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک وسیع علاقے کی بابت درست پیشینگوئی میں بھی موسم پر علاقائی اثرات کا لحاظ نہ رکھا جائے۔ لہٰذا، اس میں کسی حد تک مہارت کا عملدخل بھی ضروری ہے۔ اس کے لئے موسمیاتی پیشینگوئی کرنے والے کا کردار اہم ہے۔ وہ اس بات کا تعیّن کرنے کے لئے تجربہ اور بصیرت استعمال کرتا ہے کہ حاصل ہونے والی معلومات کی اہمیت کیا ہے۔ اس سے وہ زیادہ درست پیشینگوئی کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، جب بحرِشمالی کی ٹھنڈی ہوائیں یورپی خطے میں داخل ہوتی ہیں تو اکثر ہلکے سے بادل چھا جاتے ہیں۔ یہ بادل برّاعظم یورپ میں بارش کی علامت ہو سکتے ہیں یا پھر سورج کی تپش کی وجہ سے درجۂحرارت میں ایک ڈگری کی چند دہائیوں کے فرق سے بھی بخارات بن کر اُڑ سکتے ہیں۔ پیشینگوئی کرنے والے کی معلومات اور ایسی صورتحال سے متعلق اُسکا سابقہ تجربہ اُسے مستند صلاح دینے کے قابل بناتا ہے۔ علموفن کا یہ امتزاج درست پیشینگوئیاں کرنے کیلئے لازمی ہے۔
کسقدر قابلِاعتماد؟
اس وقت برطانوی محکمۂموسمیات ۲۴ گھنٹے کی پیشینگوئیوں کے ۸۶ فیصد درست ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ یورپین سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹس سے حاصل ہونے والے پانچروزہ ریکارڈ ۸۰ فیصد درست ہوتے ہیں لہٰذا، ۱۹۷۰ کے دہے کے اوائل میں دوروزہ پیشینگوئی کی نسبت یہ زیادہ قابلِاعتماد ہیں۔ یہ ریکارڈ مؤثر تو ہو سکتے ہیں مگر حتمی نہیں۔ تاہم، ایسی پیشینگوئیاں اتنی زیادہ قابلِاعتماد کیوں نہیں ہوتیں؟
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ موسمی نظام نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ سو فیصد درست پیشینگوئی کرنے کے لئے درکار تمام پیمائشیں لینا ناممکن ہوتا ہے۔ وسیع سمندر میں موسم کا حال معلوم کرنے والا کوئی سٹیشن نہیں ہے جہاں سے معلومات بذریعہ سیٹلائٹ زمینی سٹیشنوں کو بھیجی جا سکیں۔ گرڈ کے پوائنٹس اور موسم پر تحقیق کرنے والے سٹیشنوں کے مقامات میں مناسبت بھی شاذونادر ہی ہوتی ہے۔ علاوہازیں، سائنسدان ہمارے موسم کو تشکیل دینے والے تمام قدرتی عوامل کو بھی ابھی تک پوری طرح سمجھ نہیں پائے۔
تاہم، موسم کی پیشینگوئی کرنے کے سلسلے میں مسلسل بہتری پیدا کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر، کچھ عرصہ پہلے تک موسمیاتی پیشینگوئی کا انحصار زیادہتر فضائی مشاہدے پر ہوتا تھا۔ لیکن زمین کا ۷۱ فیصد حصہ چونکہ سمندر پر مشتمل ہے اسلئے محققین اب سمندر سے توانائی کے محفوظ ہو کر ہوا میں منتقل ہونے کے طریقے پر غور کر رہے ہیں۔ سطح سمندر پر تیرنے والے آلات کے نظام کی مدد سے، گلوبل اوشن اوبزروِنگ سسٹم ایک خطے میں پانی کے درجۂحرارت میں ہلکی سی زیادتی کی بابت بھی معلومات فراہم کرتا ہے جو دُوردراز کے علاقوں کے موسم میں ڈرامائی تبدیلیوں پر منتج ہوتا ہے۔a
قدیم زمانے کے ایوب سے یہ سوال پوچھا گیا تھا: ”کیا کوئی بادلوں کے پھیلاؤ اور [خدا] کے شامیانہ کی گرجوں کو سمجھ سکتا ہے؟“ (ایوب ۳۶:۲۹) آج بھی انسان ہمارے موسم کی تشکیل کی بابت بہت کم علم رکھتا ہے۔ تاہم، جدید موسمیاتی پیشینگوئیوں میں اتنی صداقت ضرور ہوتی ہے کہ انہیں سنجیدہ خیال کِیا جانا چاہئے۔ باالفاظِدیگر، آئندہ جب آپ بارش کی پیشینگوئی سنتے ہیں تو غالباً آپ اپنے پاس چھتری ضرور رکھنا چاہینگے!
[فٹنوٹ]
a بحرالکاہل کے درجۂحرارت میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے موسمی مظاہر کو ایل نینو اور لا نینو کہتے ہیں۔ براہِمہربانی مارچ ۲۲، ۲۰۰۰ کے اویک! میں مضمون ”ایل نینو کیا ہے؟“ کو دیکھیں۔
[صفحہ ۱۳ پر تصویریں]
لیورائر
ٹاریچیلی
لاووزئیر اپنی لیبارٹری میں
شیشے کا ابتدائی تھرمامیٹر
[تصویروں کے حوالہجات]
Pictures of Leverrier, Lavoisier, and Torricelli: Brown Brothers
Thermometer: © G. Tomsich, Science Source/Photo Researchers
[صفحہ ۱۵ پر تصویریں]
موسمیاتی پیشینگوئی کرنے والے سیٹلائٹ، موسمی غبارے اور کمپیوٹر جیسے آلات استعمال کرتے ہیں
[تصویروں کے حوالہجات]
;Pages 2 and 15: Satellite: NOAA/Department of Commerce
hurricane: NASA photo
Commander John Bortniak, NOAA Corps