یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو11ء جولائی ص.‏ 12-‏13
  • تاریخ پر موسم کا اثر

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • تاریخ پر موسم کا اثر
  • جاگو!‏—‏2011ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • طوفان نے بیڑا غرق کر دیا
  • بارش زحمت بن گئی
  • موسمیاتی پیشینگوئی کا علم‌وفن
    جاگو!‏—‏2001ء
جاگو!‏—‏2011ء
جاگو11ء جولائی ص.‏ 12-‏13

تاریخ پر موسم کا اثر

تاریخ کے اوراق میں ہمیں کچھ ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں موسم کی وجہ سے تاریخ کا رُخ بالکل بدل گیا۔ آئیں، دو ایسے واقعات پر غور کریں۔‏

طوفان نے بیڑا غرق کر دیا

سن ۱۵۸۸ میں ہسپانیہ (‏یعنی سپین)‏ کے بادشاہ فلپ نے ایک جنگی بیڑا انگلستان کی طرف روانہ کِیا۔ اِس جنگی بیڑے کو ہسپانوی ارماڈا کہا جاتا ہے۔ بادشاہ فلپ نے اِن بحری جہازوں کو انگلستان کو فتح کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ لیکن موسم کی وجہ سے اُن کے اِس منصوبے پر پانی پھر گیا۔ آئیں، دیکھیں کہ یہ کیسے ہوا۔‏

انگلستان اور فرانس کے ساحلوں کے درمیان ایک تنگ سمندری راستہ ہے۔ اِس مقام پر ہسپانوی بیڑا اور انگلستانی بیڑا دونوں آمنے‌سامنے ہوئے۔ حالانکہ انگلستان کے بحری جہازوں کی بناوٹ ایسی تھی کہ اِن کو آسانی سے موڑا جا سکتا تھا لیکن انگلستانی فوج اِس صلاحیت کا فائدے نہیں اُٹھا سکی اور اِس لئے ہسپانوی فوج کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی۔ پھر ہسپانوی بیڑے نے کالئی کی بندرگاہ کے قریب لنگر ڈالے کیونکہ اُنہیں وہاں سے اَور فوجیوں کو لینا تھا۔‏

رات کی تاریکی میں انگلستانی فوج نے اپنے کچھ جہازوں کو آگ لگائی اور اِنہیں ہسپانوی جہازوں کی طرف دھکیل دیا۔ یہ جہاز ہوا اور پانی کے رُخ پر بہتے ہوئے ہسپانوی جہازوں کی طرف بڑھنے لگے۔ جب ہسپانوی فوجیوں نے یہ دیکھا تو اُنہوں نے بدحواسی میں اپنے جہازوں کے لنگر کاٹ دئے تاکہ اُن کے جہاز آگ کی لپیٹ میں نہ آ جائیں۔ لیکن جہازوں کے لنگر کاٹ دینے کی وجہ سے بعد میں اُنہیں بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔‏

اِس مڈبھیڑ کے بعد دونوں فوجوں کے جہاز ہوا کے رُخ پر بہتے ہوئے شمالی سمندر میں جا پہنچے۔ اِس وقت تک انگلستانی فوج کا بارود ختم ہو گیا تھا۔ اِس لئے وہ انگلستانی ساحل کی طرف واپس مڑ گئی۔ اب ہسپانوی فوج واپس ہسپانیہ نہیں جا سکتی تھی۔ اِس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ انگلستانی فوج ہسپانیہ جانے والے راستے میں تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ ہوا کا رُخ اُن کے خلاف تھا۔ اِس لئے ہسپانوی فوجیوں کے پاس اِس کے سوا اَور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ شمال میں سکاٹ‌لینڈ کی طرف جائیں اور پھر وہاں سے جنوب کی طرف مڑ کر آئرلینڈ سے ہوتے ہوئے ہسپانیہ واپس پہنچیں۔‏

لیکن ہسپانوی فوج کے پاس کھانے پینے کی شدید کمی ہو گئی تھی، اُن کے جہازوں کو کافی نقصان پہنچ چُکا تھا اور اُن کے بہت سے فوجی زخمی ہو گئے تھے۔ سب فوجیوں کو بہت کم راشن مل رہا تھا جس کی وجہ سے وہ کمزور اور بیمار ہوتے جا رہے تھے۔‏

جب ہسپانوی فوجی سکاٹ‌لینڈ سے جنوب کی طرف مڑے تو اُنہیں ایک شدید سمندری طوفان کا سامنا ہوا جس کی وجہ سے اُن کے جہاز لہروں کے زور پر آئرلینڈ کے ساحل کی طرف بہنے لگے۔ عام طور پر ایسی صورتحال سے بچنے کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ جہازوں کے لنگر گِرا دئے جائیں اور موسم کے بہتر ہونے کا انتظار کِیا جائے۔ لیکن ہسپانوی ایسا نہ کر سکے کیونکہ وہ کالئی میں اپنے بہت سے جہازوں کے لنگر کاٹ چکے تھے۔ اِس لئے اُن کے ۲۶ جہاز آئرلینڈ کے ساحل کے قریب غرق ہو گئے اور اُن کے ۵ سے ۶ ہزار فوجی مر گئے۔‏

جب تک وہ ہسپانیہ واپس پہنچے، اُن کے تقریباً ۲۰ ہزار فوجی اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے تھے۔ اِتنے زیادہ جانی نقصان اور جہازوں کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ موسم ہی تھا۔ ہالینڈ کے لوگ جن کا انگلستان سے الحاق تھا، اُن کا یہی خیال تھا۔ اُنہوں نے ہسپانیہ کی شکست کے حوالے سے ایک یادگاری تمغہ جاری کِیا۔ چونکہ وہ اِس عقیدے کو مانتے تھے کہ قدرتی آفات خدا کی طرف سے آتی ہیں اِس لئے اُنہوں نے اِس تمغے پر یہ الفاظ لکھے:‏ ”‏یہوواہ نے ہوا چلائی اور وہ تتربتر ہو گئے۔“‏

بارش زحمت بن گئی

سن ۱۸۱۵ میں بھی موسم نے ایک جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ یہ جنگ واٹرلو میں لڑی گئی۔ واٹرلو کا علاقہ ملک بیلجیئم کے شہر برسلز سے تقریباً ۲۱ کلومیٹر (‏۱۳ میل)‏ کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ تاریخ میں بتایا گیا ہے کہ واٹرلو کی جنگ میں صرف چند گھنٹوں کے دوران ۷۰ ہزار سے زیادہ آدمی زخمی ہوئے یا مارے گئے۔ برطانوی فوج کے کمانڈر، ڈیوک آف ولنگٹن نے میدانِ‌جنگ کا انتخاب کِیا اور اُونچی جگہ پر پڑاؤ ڈالا۔ برطانوی فوج کی لڑائی فرانسیسی فوج سے تھی جس کے کمانڈر کا نام نپولین تھا۔ برطانوی فوج کے مقابلے میں فرانسیسی فوج بہت بڑی تھی۔ لیکن رات کو پروشیا (‏جو جرمنی کی ایک ریاست تھی)‏ کی فوج برطانوی فوج کی مدد کے لئے پہنچنے والی تھی۔ اِس لئے نپولین کی کوشش تھی کہ وہ رات پڑنے سے پہلے دُشمن فوج کو شکست دے دیں۔ مگر ایک مرتبہ پھر موسم کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔‏

جنگ سے ایک رات پہلے موسلادھار بارش ہوئی۔ فوجیوں نے یہ رات بڑی مصیبت میں کاٹی۔ حالانکہ کئی فوجیوں نے اپنے لئے خیمے کھڑے کر لئے تھے پھر بھی وہ سر سے پاؤں تک بھیگے ہوئے تھے۔ ایک فوجی نے کہا کہ اُن کے بستر اِتنے گیلے تھے کہ اُنہیں لگ رہا تھا کہ وہ کسی جھیل کی تہہ میں ہیں۔ بارش کے پانی کی وجہ سے میدان دَلدل کی طرح بن گیا تھا۔ نپولین کا منصوبہ تھا کہ وہ ولنگٹن کی فوج پر پو پھوٹتے ہی حملہ کریں گے۔ لیکن اُنہیں حملہ کرنے کے لئے سورج نکلنے کے کئی گھنٹے بعد تک انتظار کرنا پڑا۔‏

اِس کی وجہ یہ تھی کہ بارش کے باعث زمین کیچڑ سے بھری ہوئی تھی۔ جنگ اُسی وقت شروع ہو سکتی تھی جب زمین کسی حد تک خشک ہو جاتی۔ فرانسیسی فوج کا ایک بڑا ہتھیار اُن کی توپیں تھیں لیکن کیچڑ کی وجہ سے توپوں کے حملے زیادہ کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔ کیچڑ میں اِن بھاری مشینوں کو ہلانا مشکل تھا اور زمین نرم ہونے کی وجہ سے توپوں کے گولے زمین سے ٹکرا کر زیادہ اُچھل نہیں رہے تھے۔ اگر زمین خشک ہوتی تو گولے زمین سے ٹکرا کر زیادہ اُچھلتے اور دُشمن کو زیادہ نقصان پہنچاتے۔ یوں نپولین کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے نپولین اور اُن کی فوج کو شکست کا مُنہ دیکھنا پڑا اور نپولین کو قیدی بنا لیا گیا۔‏

اِن دونوں واقعات نے تاریخ پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اگر ہسپانیہ اور فرانس کو موسم کی وجہ سے شکست نہ ہوتی تو آج تاریخ کچھ اَور ہی ہوتی۔ ہسپانیہ اور فرانس کی شکست کی وجہ سے برطانیہ ایک عالمی طاقت کے طور پر اُبھرا۔‏

‏[‏صفحہ ۱۲ پر تصویر]‏

واٹرلو کی جنگ

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

Bettmann/CORBIS ©

‏[‏صفحہ ۱۳ پر تصویر]‏

ہسپانوی بیڑا

‏[‏تصویر کا حوالہ]‏

19th era/Alamy ©

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں