معلومات کا عیارانہ استعمال
”دانشمندی اور مستعدی کے ساتھ پروپیگنڈے کے استعمال سے لوگوں کے سامنے جنت کو دوزخ اور انتہائی کسمپرسی کی زندگی کو خوشحالی کی زندگی ثابت کِیا جا سکتا ہے۔—ایڈلف ہٹلر، منکامف۔
مواصلاتی نظام کی ترقی کے ساتھ ساتھ—پرنٹنگ سے لیکر ٹیلیفون، ریڈیو، ٹیلیویژن اور انٹرنیٹ تک—تحریصکُن پیغامات میں بھی ڈرامائی تیزی واقع ہوئی ہے۔ مواصلات کا یہ انقلاب بہت معلوماتی ثابت ہوا ہے کیونکہ لوگوں پر اجنبی اشخاص کی طرف سے اَنگنت پیغامات کی بھرمار ہے۔ بیشتر لوگ اِن پیغامات کو بِلاحیلوحجت اور تحقیقوتفتیش کئے بغیر ہی قبول کر لیتے ہیں۔
پروپیگنڈا کرنے والے عیار لوگ ایسے آسان راستوں کو بہت پسند کرتے ہیں—بالخصوص ایسے راستے جو دانشمندانہ نظریات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ پروپیگنڈا، جذبات کو بھڑکانے، عدمِتحفظ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے، لسانی بےیقینی کا ڈھنڈورا پیٹنے اور منطقی اُصولوں پر مصالحت کرنے سے اسکی حوصلہافزائی کرتا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایسی تدبیریں اکثر بڑی مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
پروپیگنڈے کی تاریخ
فیزمانہ لفظ ”پروپیگنڈا“ منفی مفہوم رکھتا ہے اور بددیانت طورطریقوں کی دلالت کرتا ہے مگر ابتدا میں اس اصطلاح کا ہرگز بھی یہ مطلب نہیں تھا۔ ”پروپیگنڈا“ بظاہر رومن کیتھولک کارڈینل کے ایک گروہ کا لاطینی نام تھا، کانگریگیشن ڈی پروپیگنڈا فائڈ (ایمان کے فروغ کیلئے کلیسیا)۔ اِس کمیٹی—جسکا مختصر نام پروپیگنڈا رکھا گیا—کو پوپ گریگری کے تحت ۱۶۲۲ میں مشنریوں کی نگرانی کے لئے تشکیل دیا گیا تھا۔ آہستہآہستہ، ”پروپیگنڈا“ کا مطلب کسی بھی اعتقاد کی تشہیر کرنے کی کوشش سمجھا جانے لگا۔
تاہم، پروپیگنڈے کا تصور ۱۷ویں صدی کی پیداوار نہیں۔ قدیم وقتوں ہی سے انسان نے اپنے نظریات کے فروغ یا شانوشوکت کو بڑھانے کیلئے ہر طریقہ استعمال کِیا ہے۔ مثال کے طور پر، دستکاری نے پروپیگنڈے کے مقاصد کو مصری بادشاہوں کے زمانے سے پورا کِیا ہے۔ اِن بادشاہوں نے اپنی طاقتودوامیت کو نمایاں کرنے کیلئے اہرام بنائے۔ اسی طرح، رومی فنِتعمیر نے ایک خاص سیاسی مقصد—وطن کی سربلندی—سرانجام دیا۔ دوسری جنگِعظیم میں لفظ ”پروپیگنڈا“ نے ایک منفی مفہوم اختیار کر لیا جب حکومتوں نے ذرائعابلاغ کے ذریعے نشر کی جانے والی جنگی معلومات کو متاثر کرنے میں بھرپور حصہ لیا۔ دوسری جنگِعظیم کے دوران، ایڈلف ہٹلر اور یوزف گوئےبلز پروپیگنڈا کے ماہر ثابت ہوئے۔
دوسری جنگِعظیم کے بعد، پروپیگنڈے کو قومی پالیسی کے فروغ کیلئے ایک مؤثر آلۂکار کے طور پر خوب استعمال کِیا گیا۔ تاہم، مغربی اور مشرقی دونوں اتحادیوں نے غیرجانبدار لوگوں کی اکثریت کو اپنی طرف کھینچنے کیلئے ہمہگیر مہمجوئی سے کام لیا۔ پروپیگنڈا کے مقاصد کو پورا کرنے کیلئے قومی زندگی اور پالیسی کے ہر پہلو کا فائدہ اُٹھایا گیا۔ حالیہ برسوں میں، الیکشن کی مہم کیساتھ ساتھ تمباکو کمپنیوں کے اشتہارات بھی پروپیگنڈا کے طریقۂکار میں جدید تبدیلی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پروپیگنڈے کے ماہر اور دوسرے لیڈر سگریٹنوشی کو پُرکشش اور صحتمندانہ انداز سے پیش کرتے ہیں جو درحقیقت عوامی صحت کیلئے خطرہ ہے۔
جھوٹ، جھوٹ!
پروپیگنڈا کرنے والے کا کامیابترین ہتھیار کھلمکھلا دروغگوئی ہے۔ مثال کے طور پر، اِس جھوٹ پر غور کریں جو ۱۵۴۳ میں یورپ میں یہودیوں کی بابت مارٹن لوتھر نے لکھا: ”اُنہوں نے پانی کے چشموں میں زہر ملایا ہے، خونریزی کی ہے، بچوں کو اغوا کِیا ہے . . . وہ کینہپرور، کٹھور، انتقامپسند، چالاک افعی، قاتل اور شیطان کے بچے ہیں جو ڈنک مارتے اور نقصان پہنچاتے ہیں۔“ نامنہاد مسیحیوں کے لئے اُس کی نصیحت؟ ”اِن کے عبادتخانوں اور سکولوں کو آگ لگا دو . . . ان کے گھروں کو بھی تباہ کر دینا چاہئے۔“
اُس دَور کا مطالعہ کرنے والے حکومتی اور معاشرتی علوم کے ایک پروفیسر نے بیان کِیا: ”سامیالنسل یہودیوں سے دشمنی بنیادی طور پر اُن کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں رکھتی، لہٰذا سامی نسل سے دشمنی کا علم درحقیقت یہودیوں کی فطرت پر کوئی روشنی نہیں ڈالتا۔“ وہ مزید بیان کرتا ہے: ”یہودیوں کو تمام نقصاندہ کاموں کا ذمہدار ٹھہرایا جاتا تھا، اِس طرح سے کسی بھی فطری یا سماجی بُرائی کے لئے یہودیوں کو مبیّنہ طور پر قصوروار سمجھا جاتا تھا۔“
تشہیر
پروپیگنڈے کا ایک اَور کامیاب حربہ تشہیر ہے۔ تشہیر زیرِغور آنے والے حقیقی مسائل کی بابت اِہم حقائق کو مبہم کر دیتی ہے اور اِسے اکثر لوگوں کے گروہوں کو ذلیل کرنے کیلئے استعمال کِیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، یہ کہاوت بعض یورپی ممالک میں عام ہے کہ ”خانہ بدوش [یا پناہگزین] چور ہیں۔“ لیکن کیا یہ درست ہے؟
کالمنگار ریکارڈوس سوموریٹس کہتا ہے کہ ایک ملک میں ایسی قیاسآرائیاں غیرملکی لوگوں کے خلاف ایک قسم کی ”نفرت اور پُرتشدد نسلی امتیاز“ کو ہوا دیتی ہیں۔ تاہم، ایک بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ ایک ملک میں جب جرائم کی بات آتی ہے تو مقامی یا غیرملکی دونوں برابر کے مجرم پائے گئے ہیں۔ مثال کے طور پر، سوموریٹس نے غور کِیا کہ سروے کی رپورٹیں ظاہر کرتی ہیں کہ یونان میں ”۱۰۰ میں سے ۹۶ جرائم کے ذمہدار [یونانی] ہوتے ہیں۔“ وہ بیان کرتا ہے کہ ”جرائم کی وجوہات ’نسلی‘ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی ہیں۔“ وہ جانبداری سے جرم کی نشرواشاعت کے ذریعے ”نفرت اور نسلپرستی کو بتدریج فروغ دینے میں“ ابلاغِعامہ کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔
تہمت لگانا
بعض لوگ حقائق پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے کردار یا محرکات پر سوال اُٹھا کر ایسے اشخاص کو ذلیل کرتے ہیں جو اُن سے متفق نہیں ہوتے۔ تہمت لگانے سے کسی شخص، گروپ یا خیال پر ایسا منفی لیبل لگ جاتا ہے جو دائمی ہو سکتا ہے۔ تہمت لگانے والا چاہتا ہے کہ یہ لیبل قائم رہے۔ اگر لوگ ذاتی طور پر شہادت کی جانچ کئے بغیر اُس منفی لیبل کی بنیاد پر کسی شخص یا خیال کو رد کر دیتے ہیں تو اِسکا مطلب ہے کہ تہمت لگانے والے کا منصوبہ کامیاب ہوا ہے۔
مثال کے طور پر، حالیہ سالوں میں فرقہواریت کی ہیجانخیز رُوح یورپ کے بہتیرے ممالک اور دیگر کئی علاقوں میں پھیل چکی ہے۔ اِس رُجحان نے جذبات کو اُبھارا ہے، دشمن کی تصویرکشی کی ہے اور مذہبی اقلیتوں کے خلاف موجودہ تعصب کو اور زیادہ بھڑکایا ہے۔ اکثر لفظ ”فرقہ“ تکیہکلام بن جاتا ہے۔ جرمن پروفیسر مارٹ کریلو نے ۱۹۹۳ میں تحریر کِیا کہ ”’فرقہ‘ ’الحاد‘ کا دوسرا نام ہے اور جرمنی میں قدیم وقتوں کی طرح آج بھی الحاد [کا انجام موت ہے]—اگر آگ سے نہیں . . . تو پھر کردارکشی، علیٰحدگی اور معاشی بربادی سے خطاکار کو نیستونابود کِیا جاتا ہے۔“
دی انسٹیٹیوٹ فار پروپیگنڈا انالیسز بیان کرتا ہے کہ ”تہمتآمیز باتوں نے دُنیاوی تاریخ کے علاوہ ہماری ذاتی زندگیوں میں بھی ایک اہم کردار ادا کِیا ہے۔ اُنہوں نے نیکنامی کو تباہ کِیا ہے، . . . [لوگوں کو] زندان میں پہنچایا ہے اور انسانوں کو جنگ میں شریک ہوکر اپنے ساتھیوں کو مارنے کی حد تک اشتعال دلایا ہے۔“
جذبات سے کھیلنا
اگرچہ احساسات حقائق کو ثابت کرنے یا کسی چیز کی بابت دلیل پیش کرنے میں کوئی معنی نہیں رکھتے تاہم ایک شخص پر اثرانداز ہونے میں اِن کا کردار بڑا اہم ہوتا ہے۔ تشہیر کے ماہرین جذبات کو اُبھارنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہوئے احساسات کو جگانے کے فن سے پیانو پر ہر دُھن بجانے کے ایک ماہر موسیقار کی طرح اپنے فن سے واقف ہوتے ہیں۔
مثال کے طور پر، خوف انصاف کا خون کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، حسد کی طرح خوف سے بھی فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ کینیڈا کے فروری ۱۵، ۱۹۹۹ کے اخبار دی گلوب اینڈ میل نے ماسکو سے یہ خبر دی: ”پچھلے ہفتے جب تین لڑکیوں نے خودکشی کی تو رُوسی ذرائعابلاغ نے فوراً الزام لگایا کہ یہ یہوواہ کے انتہاپرست گواہوں میں سے تھیں۔“ لفظ ”انتہاپرست“ پر غور کریں۔ یقیناً لوگ ایک انتہاپرست مذہبی تنظیم سے خوفزدہ ہونگے جو مبیّنہ طور پر نوجوانوں کو خودکشی کی ترغیب دیتی ہے۔ کیا اِن بیچاری لڑکیوں کا واقعی یہوواہ کے گواہوں سے کوئی تعلق تھا؟
دی گلوب مزید بیان کرتا ہے: ”بعدازاں پولیس نے تسلیم کِیا کہ اِن لڑکیوں کا [یہوواہ کے گواہوں] سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم اس دوران ماسکو ٹیلیوژن کے ایک چینل نے گواہوں پر نئے سرے سے حملہ کرتے ہوئے سامعین کو بتایا کہ یہوواہ کے گواہ نازی جرمنی میں ایڈلف ہٹلر کیساتھ ملے ہوئے تھے—اس تاریخی شہادت کے باوجود کہ اُنکے ہزاروں ممبران نازی کیمپوں میں موت کے گھاٹ اُتار دئے گئے تھے۔ لہٰذا، بہکے ہوئے اور ممکنہ طور پر خوفزدہ عوام کے ذہنوں میں اب یہوواہ کے گواہ ایک ایسا فرقہ بن گئے جو خودکشی اور نازیوں سے تعاون کرنے والے تھے!
نفرت پروپیگنڈا کرنے والوں کا ایک کارآمد حربہ ہے۔ ذومعنی اظہارات اِسے اُبھارنے میں خاص طور پر مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ کسی خاص نسل، فرقے یا مذہبی گروہ کیلئے نفرت کو فروغ دینے والے ناخوشگوار اظہارات کی کمی نہیں۔
کچھ پروپیگنڈا کرنے والے تکبّر سے بھی فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ اکثر ہم تکبّر کو نشانہ بنانے والے ایسے کلیدی اظہارات کو پہچان سکتے ہیں: ”کوئی بھی ذہین شخص جانتا ہے کہ . . .“ یا ”ایک تعلیمیافتہ شخص فوراً سمجھ جائیگا کہ . . .“ تکبّر کا اُلٹا اثر یہ ہوتا ہے کہ ہم بیوقوف نظر آنے سے ڈرتے ہیں۔ لوگوں پر اثرانداز ہونے کے ماہر اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔
نعرے اور علامات
نعرے ایسے غیرواضح بیانات ہوتے ہیں جو کسی مؤقف یا مقاصد کا اظہار کرنے کیلئے خاص طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ غیرواضح ہونے کی وجہ سے اِنہیں آسانی سے قبول کِیا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر، قومی بحران یا لڑائی کے دوران عوامی لیڈر ایسے نعرے استعمال کر سکتے ہیں جیساکہ ”یہ ملک میرا ہے، خواہ صحیح ہے یا غلط،“ ”آبائی وطن، مذہب، خاندان“ یا ”آزادی یا موت۔“ تاہم، کیا بیشتر لوگ ایسے بحران یا لڑائی کی پُشت پر حقیقی محرکات کا بغور جائزہ لیتے ہیں؟ یا کیا وہ ہر بات کو قبول کر لیتے ہیں؟
دوسری جنگِعظیم کی بابت لکھتے ہوئے ونسٹن چرچل نے بیان کِیا: ”ایک معمولی سا اشارہ اِن پُرامن کسانوں اور مزدوروں کے ہجوم کو ایک دوسرے کو چیرپھاڑ کرنے والے بھیڑیوں میں تبدیل کر سکتا ہے۔“ اُس نے مزید بیان کِیا کہ جب لوگوں کو کچھ کرنے کیلئے کہا جائے تو اکثریت نے بِنا سوچےسمجھے ردِعمل دکھایا۔
پروپیگنڈا کرنے والے کے پاس اپنے پیغام کو پہچانے کے لئے بہت سی مختلف علامات اور نشانات بھی ہوتے ہیں—۲۱ توپوں کی سلامی، فوجی سلوٹ اور جھنڈا۔ والدین کے لئے محبت سے بھی فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ لہٰذا، دوسروں پر اثرانداز ہونے والے ایک ہوشیار شخص کے لئے آبائی وطن، مادرِوطن یا مادر کلیسیا جیسی علامات قیمتی ہتھیاروں کا کام انجام دیتی ہیں۔
پروپیگنڈے کا فن سوچ کو مفلوج اور صحیح سمجھ اور بصیرت میں رکاوٹ پیدا کر کے لوگوں کو مجموعی طور پر کام کرنے کی تربیت دیتا ہے۔ آپ خود کو کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟
[صفحہ ۸ پر عبارت]
پروپیگنڈا کا فن سوچ پر اثرانداز ہوکر صحیح سمجھ میں رکاوٹ بن سکتا ہے
[صفحہ ۵ پر تصویریں]
جنگ اور تمباکونوشی کو فروغ دینے والے پروپیگنڈے نے لاکھوں زندگیاں چھین لی ہیں