یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏10/‏00 ص.‏ 3
  • پروپیگنڈا خطرناک ہو سکتا ہے

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • پروپیگنڈا خطرناک ہو سکتا ہے
  • جاگو!‏—‏2000ء
  • ملتا جلتا مواد
  • ایک خطرناک ہتھکنڈے سے اپنی سوچ کو محفوظ رکھیں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—2017ء
  • معلومات کا عیارانہ استعمال
    جاگو!‏—‏2000ء
  • اِس شمارے میں
    جاگو!‏—‏2000ء
  • پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں!‏
    جاگو!‏—‏2000ء
مزید
جاگو!‏—‏2000ء
جاگو 8/‏10/‏00 ص.‏ 3

پروپیگنڈا خطرناک ہو سکتا ہے

‏”‏جھوٹ سچ کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔“‏‏—‏مارک ٹوان سے منسوب۔‏

اُستانی نے اپنے سات سالہ طالبعلم کو لعنت آمیز لہجے میں ”‏منحوس یہودی“‏ کہنے کے بعد اپنی پوری جماعت سے کہا کہ وہ قطار باندھکر باری باری اُسکے مُنہ پر تھوکیں۔‏

اُستانی کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم تھی کہ وہ طالبعلم—‏اُس کا بھتیجا—‏اور اُس کے والدین نسلی یا مذہبی لحاظ سے یہودی نہیں تھے۔ وہ تو یہوواہ کے گواہ تھے۔ یہودیوں کے خلاف پھیلائے گئے تعصب سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُستانی اُس بچے کے خلاف نفرت پھیلا رہی تھی۔ کئی سال سے اُستانی اور اُس کی جماعت کو اُن کے پادری نے یہ سکھایا تھا کہ یہوواہ کے گواہ قابلِ‌نفرت لوگ ہیں۔ اُس بچے کے والدین کو کیمونسٹ اور سی‌آئی‌اے (‏سنٹرل انٹیلی‌جنس ایجنسی)‏ کے ایجنٹ قرار دیا جا چکا تھا۔ پس لڑکے کے ہم‌جماعت ”‏منحوس یہودی“‏ کے مُنہ پر تھوکنے کے لئے قطار میں لگ گئے۔‏

وہ لڑکا اپنی آپ‌بیتی سنانے کیلئے بچ گیا۔ مگر آج سے تقریباً ۶۰ برس قبل جرمنی اور اُسکے قرب‌وجوار میں رہنے والے چھ ملین یہودی اپنی جانیں نہ بچا سکے۔ کینہ‌پرور پروپیگنڈا نازی گیس چیمبرز اور اجتماعی کیمپوں میں یہودیوں کی زندگیوں کے چراغ گل کرنے کے لئے ایک آلۂ‌کار تھا۔ سامی‌النسل یہودیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی گہری اور شدید مخالفت کے باعث بہتیرے یہودیوں کو نہ صرف دشمن خیال کیا جاتا تھا بلکہ اُن کا خاتمہ ضروری اور جائز خیال کِیا جاتا تھا۔ اس صورت میں پروپیگنڈا بڑی خونریزی کا موجب بنا۔‏

جی‌ہاں، نفرت‌انگیز سواستکا جیسی علامات یا گھٹیا لطیفے سنانے سے کھلے‌عام پروپیگنڈا کِیا جا سکتا ہے۔ آمر، سیاستدان، مذہبی راہنما، ناشرین، تاجر، صحافی، ریڈیو اور ٹی‌وی کا عملہ، رائے‌عامہ اور لوگوں کی فکروعمل پر اثرانداز ہونے کے خواہاں دیگر لوگ باقاعدگی کیساتھ ان تحریص‌کُن تکنیکوں کو استعمال کرتے ہیں۔‏

بِلاشُبہ، پروپیگنڈا کرنے والے پیغامات کو مثبت معاشرتی مقاصد کی انجام‌دہی کے لئے بھی استعمال کِیا جا سکتا ہے، جیسے‌کہ نشے کی حالت میں ڈرائیونگ نہ کرنے کی مہمات کے سلسلے میں کِیا جاتا ہے۔ مگر پروپیگنڈے کو مذہبی یا نسلیاتی اقلیتوں کے خلاف نفرت کو فروغ دینے یا لوگوں کو سگریٹ خریدنے کی ترغیب دینے کیلئے بھی استعمال کِیا جا سکتا ہے۔ ”‏ہر روز ہمارے سامنے یکے‌بعددیگرے ترغیب‌انگیز معلومات پیش کی جاتی ہیں،“‏ محققین انتھونی پرٹکانس اور ایلیٹ ایرون‌سن بیان کرتے ہیں۔ ”‏یہ اپیلیں ’‏ایک ہاتھ دو ایک ہاتھ لو،‘‏ کے اصول کے تحت بحث‌وتکرار کے ذریعے اثرانداز ہونے کی بجائے ہمارے انسانی جذبات سے فائدہ اُٹھاتی ہیں۔ اچھا ہے یا بُرا، ہمارا دور پروپیگنڈے کا دور ہے۔“‏

تاہم صدیوں کے دوران پروپیگنڈے کو انسانی فکروعمل پر اثرانداز ہونے کے لئے کیسے استعمال کِیا گیا ہے؟ آپ خود کو خطرناک پروپیگنڈے سے کیسے بچا سکتے ہیں؟ کیا کوئی قابلِ‌بھروسا معلومات کا ذریعہ ہے؟ اِن سوالات کی طرح کے دیگر سوالات پر اگلے مضمون میں بحث کی جائی گی۔‏

‏[‏صفحہ ۳ پر تصویر]‏

ہالوکاسٹ کے دوران یہودیوں کو اذیت کا نشانہ بنانے کیلئے پروپیگنڈے کا استعمال کِیا گیا تھا

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں