تباہکاری کا خاتمہ
برطانیہ میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
”گزشتہ ۲۵ سال کی انسانی کارگزاریوں کی وجہ سے طبعی دُنیا کا تیسرا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔“
ورلڈ وائڈ فنڈ فار نیچر یوں بیان کرتا ہے۔ عالمی ماحولیات کے ایک نئے شماریاتی تجزے، لیونگ پلینٹ انڈیکس کی رُونمائی کے موقع پر اِن اعدادوشمار کا انکشاف کِیا گیا تھا۔
قدرتی وسائل کا تحفظ کرنے والوں نے کرۂارض کے جنگلات میں ۱۰ فیصد کمی واقع ہونے کی اطلاع دی ہے۔ لندن کا دی انڈیپنڈنٹ اخبار بیان کرتا ہے کہ یہ عدد منطقۂحارہ کے برساتی اور خشک دونوں طرح کے جنگلات میں واقع ہونے والے بڑے نقصان کو چھپا لیتا ہے جس میں جنگلاتی انواع کا نقصان بھی شامل ہے جو کہ ۱۰ فیصد سے غالباً کہیں زیادہ ہے۔ بحری ماحولیات کو ۳۰ فیصد نقصان پہنچا ہے جوکہ بحرِاوقیانوس میں نیلپرہ ٹونا ماہی اور ایشیائی پانیوں میں سنگپُشت آبی کچھوے جیسی اقسام کی کمی سے نمایاں ہے۔ اس سے بدترین صورتحال تازہ پانی کے ماحولیاتی نظام کے اشاریے میں ۵۰ فیصد کمی ہے جسکا الزام بالخصوص زرعی اور صنعتی آلودگی اور پانی کے بہت زیادہ مصرف پر لگایا جاتا ہے۔
کیو، لندن، انگلینڈ میں رائل بوٹینیکل گارڈنز کا ڈائریکٹر، سر گلیان پرانس بیان کرتا ہے کہ ”قدرتی ماحولیاتی نظام کا تحفظ محض امیروں کا ہی فرض نہیں ہے بلکہ یہ کُرۂارض پر ہم سب کی بقا کیلئے نہایت ضروری قدرتی چکروں کو قائم رکھنے کیلئے لازمی ہے۔“ اس کرۂارض کا ہر باشندہ اس کام میں شامل ہے۔ لہٰذا ایک مستقل عالمی حل کیسے تلاش کِیا جا سکتا ہے؟
دلچسپی کی بات ہے کہ بائبل کی آخری کتاب، مکاشفہ، زمین کو تباہ کرنے والے لوگوں کا ذکر کرتی ہے۔ یہ اُس وقت کی بابت پیشینگوئی کرتی ہے جب ایسے لوگوں کو تباہ کر دیا جائیگا۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۸) کیا اس سے بچنے والے لوگ بھی ہونگے؟ جیہاں، ایسا ”[یہوواہ] خدا، قادرِمطلق“ کی طرف سے ہوگا جس کے پاس نہ صرف اس زمین کے ماحولیاتی مسائل کا واحد حل ہے بلکہ اُسے عمل میں لانے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ (مکاشفہ ۱۱:۱۷) مکاشفہ ۲۱:۳ ایسے وقت کا ذکر کرتی ہے جب خدا ”[آدمیوں] کے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اُس کے لوگ ہونگے۔“
آپ کیسے ’اُس کے لوگوں‘ میں شریک ہوکر زمین کے موجودہ ماحولیاتی انحطاط کا خاتمہ دیکھنے کا امکان حاصل کر سکتے ہیں؟ براہِمہربانی صفحہ ۵ پر درج کسی موزوں پتے پر لکھ کر مقامی یہوواہ کے گواہوں سے رابطہ کریں۔ یا اگلی مرتبہ جب وہ آپ کے گھر آئیں تو اُن کے ساتھ باتچیت کریں۔ وہ خوشی سے آپکی یہ سیکھنے میں مدد کرینگے کہ مستقبل قریب میں خدائی کارروائی کیلئے تیار رہنے کی خاطر آپ اب کیا کر سکتے ہیں۔