ہمارے قارئین کی طرف سے
مذہبی آزادی مَیں کئی عشروں سے جاگو! کا قاری ہوں اور مَیں ”آپکی مذہبی آزادی—کیا یہ خطرے میں ہے؟“ (جنوری–مارچ ۱۹۹۹) کے مضامین کیلئے اپنی قدردانی کے اظہار میں خط لکھ رہا ہوں۔ مجھے معلوم تھا کہ قرونِمظلمہ کے دوران یورپ میں مذہبی رواداری کی کمی پائی جاتی تھی اور کیتھولک چرچ نے لوگوں کو ضمیر اور مذہب کی آزادی کو عمل میں لانے سے باز رکھنے کیلئے اربابِاختیار کو بڑی کامیابی سے استعمال کِیا تھا۔ آجکل جو کچھ فرانس میں واقع ہو رہا ہے اُسے دیکھ کر مَیں خود سے پوچھتا ہوں کہ ’یہ مُلک جن مذہبی آزادیوں کی پہلے ضمانت دے چکا ہے اب اُن سے رُوگردانی کرکے اپنے لئے بدنامی کیوں کما رہا ہے؟‘ براہِمہربانی اپنے لاکھوں قارئین کو اس صورتحال کے نتیجے سے ضرور آگاہ کریں۔ مجھے یقین ہے کہ فرانس رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دیگر ممالک کیلئے ایک اچھا نمونہ قائم کریگا۔
سی. سی.، پورٹو ریکو
سات بیٹوں کی پرورش کرنا جنوری–مارچ ۱۹۹۹ کے شمارے میں پیشکردہ برٹ اور مارگریٹ ڈکمین کے تجربے کیلئے شکریہ۔ اس نے واقعی اپنے تین بچوں کی پرورش ایسے طریقے سے کرنے میں ہماری مدد کی ہے جو اُن کیلئے اچھی روحانی میراث پر منتج ہوگا۔ ہمارے بچوں نے بھی اس مضمون کو پسند کِیا۔ ہم اُنہیں ایک دوسرے کے سامنے ڈگ کا ذکر کرتے ہوئے سنتے ہیں جسے اُسکے حصے کا کیک نہیں ملا تھا! ایسا حوصلہافزا مضمون شائع کرنے کیلئے آپکا شکریہ۔
ایس. جے.، انڈیا
رُوحالُقدس مَیں عمدہ مضمون ”بائبل کا نقطۂنظر: خدا کی رُوحاُلقدس کیا ہے؟“ (جنوری–مارچ ۱۹۹۹) کیلئے آپکا شکریہ ادا کرنا چاہونگا۔ کئی سالوں سے یہوواہ کا گواہ ہونے کے باوجود مَیں ہمیشہ یہوواہ کی بابت مزید علم حاصل کرنے کا خواہاں رہتا ہوں۔ اس مضمون نے عنوان میں اُٹھائے گئے سوال کا نہایت ہی آسانفہم جواب دیا۔ جتنا زیادہ مَیں یہوواہ اور اُسکے کاموں کو سمجھتا ہوں، اُتنا ہی زیادہ مَیں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔
وائے. بی.، روس
سونا مَیں نے آپکا مضمون ”سونا—اسکا بھید“ (ستمبر ۲۲، ۱۹۹۸) پڑھا۔ آپ نے بیان کِیا تھا کہ ۱۹۴۵ میں، جرمنی کی مشروط اطاعت کے بعد، اتحادی فوجیوں نے جرمنی میں قیصروڈا نمک کی کانوں میں سونے کی بھاری مقدار دریافت کی تھی۔ درحقیقت، اتحادی فوجیوں نے جنگ کے اختتام سے صرف تین ہفتے پہلے ان کانوں پر قبضہ کِیا تھا۔
جے. ایس.، جرمنی
اس وضاحت کیلئے شکریہ۔ واقعی قیصروڈا کانوں پر قبضہ مئی ۸، ۱۹۴۵ کو جرمن کی مشروط اطاعت سے ایک ماہ قبل، اپریل ۴، ۱۹۴۵ کو ہی ہوا تھا۔—ایڈیٹر
دُوردراز علاقوں سے کورٹشپ مضمون ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . مَیں دُوردراز علاقوں سے کورٹشپ کیسے جاری رکھ سکتا ہوں؟“ (جنوری ۲۲، ۱۹۹۹) میرے معاملے میں بہت دیر سے شائع ہوا ہے۔ مَیں ریاستہائے متحدہ سے تعلق رکھتی ہوں لیکن مَیں نے لاطینی امریکہ کے ایک نوجوان شخص سے خطوکتابت شروع کر دی۔ مجھے اپنی ساری زندگی کبھی اتنا مشکل تجربہ نہیں ہوا۔ دراصل آپ خواہ کتنی ہی دیانتداری سے کام لیں پھربھی خطوکتابت کے ذریعے کسی کو جاننا ممکن نہیں ہے۔ ایک دوسرے سے بہت زیادہ دُور ہونے کی وجہ سے دونوں اشخاص خیالوں میں کھوئے رہتے ہیں۔ ہمارے سلسلے میں، ہماری ثقافتیں بالکل مختلف تھیں۔ انجامکار جب ہمارا رشتہ ختم ہو گیا تو مجھے جینے کی کوئی تمنا نہیں تھی۔ اپنے پُرمحبت، مدد کرنے والے خاندان کی بدولت مَیں نے کامیابی کیساتھ اس کٹھن مرحلے کو طے کر لیا ہے۔
ایس. ایچ.، ریاستہائے متحدہ
مَیں ایک لڑکی سے خطوکتابت کرتا رہا ہوں جس سے میری ملاقات یہوواہ کے گواہوں کی ایک انٹرنیشنل کنونشن پر ہوئی تھی۔ جب مختلف ثقافت اور زبان کا مسئلہ ہو تو کسی دوسرے شخص کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ لہٰذا مَیں نے اُسکی زبان سیکھنا شروع کر دی ہے۔ ٹیپ ریکارڈر استعمال کرنے کا مشورہ نہایت عمدہ تھا۔ آپکا بہت بہت شکریہ۔
اے. ایس.، جرمنی
ریاستہائے متحدہ میں ایک انٹرنیشنل کنونشن پر میری ملاقات ایک مشرقی بہن سے ہوئی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اُسکے ساتھ کیسے خطوکتابت کروں۔ مَیں نے اس سلسلے میں دُعا کی اور چند روز بعد مجھے یہ شاندار مضمون موصول ہوا۔ مَیں نے اسے بار بار پڑھا ہے۔ اس سے مجھے میرے تمام سوالوں کے جواب مل گئے ہیں۔
جی. آر.، اٹلی