حقیقت میری توقعات سے بڑھ گئی
ولیم وان سائیل کی زبانی
یہ ۱۹۴۲ کی بات ہے جب ہمارا ملک دوسری عالمی جنگ میں گھرا ہؤا تھا۔ نیدرلینڈز، گرونیگن میں نازیوں سے چھپنے والے پانچ آدمیوں میں سے ایک مَیں بھی تھا۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھے ہوئے، ہم اپنے بچاؤ کے امکانات کی بابت گفتگو کرنے لگے۔
یہ بات واضح تھی کہ ہمارے بچنے کی اُمید بہت کم ہے۔ ایسا ہی ہؤا، ہمارے گروپ کے تین ساتھی پُرتشدد موت مرے۔ درحقیقت، صرف مَیں ہی اکیلا بڑھاپے تک پہنچا ہوں۔ یہ وہ ایک حقیقت ہے جو میری توقعات سے بڑھکر ہے۔
مذکورہبالا واقعہ کے وقت، میری عمر صرف ۱۹ سال تھی اور مَیں بائبل اور مذہب کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ درحقیقت، میرے والد تمام مذاہب کے خلاف تھے۔ میری والدہ مذہب کی تلاش میں ارواحپرستی میں ملوث ہو گئیں۔ میرے پاس تو کوئی اُمید نہیں تھی۔ مَیں سمجھتا تھا کہ اگر مَیں بموں کے حملے میں یا کسی اور طرح سے مارا بھی جاؤں تو خدا کے پاس مجھے یاد رکھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ مَیں نے تو اس کے بارے میں جاننے کی بھی کبھی کوشش نہیں کی تھی۔
تحقیق بااجر ثابت ہوئی
چار نوجوانوں کے ساتھ گفتگو کے تھوڑی دیر بعد مجھے نازیوں نے گرفتار کر لیا اور جرمنی میں ایمرک کے نزدیک بیگار کیمپ میں لے گئے۔ ہمارے کام میں اتحادی فوجوں کی بمباری کے بعد کوڑکباڑ کی صفائی اور ٹوٹیپھوٹی چیزوں کی مرمت کرنا شامل تھا۔ ۱۹۴۳ کا سال تقریباً ختم ہو رہا تھا جب مَیں وہاں سے فرار ہو گیا اور جنگ کے عروج پر ہونے کے باوجود مَیں کسی نہ کسی طرح واپس نیدرلینڈز پہنچ گیا۔
کسی طرح سوالات اور بائبل آیات پر مبنی ایک کتابچہ میرے ہاتھ لگ گیا۔ یہ یہوواہ کے گواہوں کی شائعکردہ کتاب سالویشن کے مطالعے کے ساتھ استعمال ہوتا تھا۔ جب مَیں نے سوالات اور صحائف کو پڑھا تو بائبل پیشینگوئی کی تکمیل میں میری دلچسپی نہایت بڑھ گئی۔
جو کچھ میں پڑھ رہا تھا اس کی بابت مَیں نے اپنی منگیتر قرہ سے بات کی لیکن شروع شروع میں اس نے کوئی خاص دلچسپی نہ دکھائی۔ اس کے برعکس، میری والدہ کتابچے میں کھو گئیں۔ وہ خوشی کے مارے پکار اُٹھیں، ”یہی وہ سچائی ہے جسے مَیں اپنی ساری زندگی ڈھونڈتی رہی ہوں!“ مَیں نے بھی اپنے دوستوں سے باتچیت کی اور بعض مزید جاننا چاہتے تھے۔ درحقیقت ان میں سے ایک تو گواہ بن گیا اور ۱۹۹۶ میں اس کی موت تک ہمارا خطوکتابت اور ملاقاتوں کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ باقاعدہ طور پر رابطہ رہا۔
اسی دوران، قرہ نے بائبل مطالعہ شروع کر دیا اور فروری ۱۹۴۵ میں ہم دونوں نے بپتسمہ لے لیا۔ اس کے چند مہینوں بعد جنگ بند ہوگئی۔ شادی کے بعد ہم پائنیر بننا چاہتے تھے جیسے کہ یہوواہ کے کُلوقتی خادم کہلاتے ہیں۔ لیکن ہمیں بیماری اور مالی مشکلات جیسی رکاوٹوں کا سامنا ہوا۔ نیز، ہمیں زیادہ پیسے کمانے کے مواقع بھی ملے۔ کیا ہم پہلے کسی حد تک مالی استحکام کیلئے کام کریں گے اور پھر پائنیر خدمت شروع کریں گے یا ہم فوری طور پر پائنیر خدمت شروع کر دینگے؟
نیدرلینڈز میں ہماری خدمتگزاری
ہم نے پائنیر خدمت کرنے کا فیصلہ کِیا اور یکم ستمبر ۱۹۴۵ سے اسکا آغاز کر دیا۔ اُسی روز مَیں رات کو دیر سے گھر لوٹ رہا تھا کہ مجھے پیاس لگی اور مَیں کچھ پینے کیلئے ایک ریستوران میں گیا۔ مَیں نے ویٹر کو ایک نوٹ دیا جسے مَیں نے سوچا کہ ایک گلڈن ہے اور اسے کہا: ”بقایا اپنے پاس رکھو۔“ جب مَیں گھر واپس آیا تو مجھے پتہ چلا کہ مَیں نے اُسے ۱۰۰ گلڈن کا نوٹ دے دیا ہے! پائنیر خدمت شروع کرنے کیلئے ہمارے پاس صرف ایک گلڈن باقی رہ گیا!
جب ۱۹۴۶ میں مَیں نے بائبل پر مبنی عوامی تقاریر پیش کرنا شروع کیں تو میرے پاس صرف ایک ہی لیدر جیکٹ تھی۔ ایک بھائی جس کا قد تقریباً میرے برابر تھا اس کے پاس ایک کوٹ تھا۔ جب وہ چیئرمین ہوتا تو وہ میری تقریر متعارف کرانے کے بعد فوراً اسٹیج کی پچھلی جانب آکر مجھے اپنا کوٹ دے دیتا۔ تب مَیں اپنی تقریر دیتا۔ ہم تقریر کے اختتام پر پھر ایسا ہی کرتے!
مارچ ۱۹۴۹ میں، مجھے اور قرہ کو سرکٹ کا کام کرنے کی دعوت ملی جس میں ہمیں یہوواہ کے گواہوں کی مختلف کلیسیاؤں کا دَورہ کرنے سے اُنہیں روحانی طور پر مضبوط کرنا تھا۔ بھائی فرٹس ہارٹسٹانگ نے سرکٹ کے کام کیلئے مجھے تربیت دی جو جنگ سے پہلے اور اس کے دوران وفادار خادم رہ چکے تھے۔ اس نے مجھے بہت اچھی مشورت دی: ”وِم یہوواہ کی تنظیم کی طرف سے حاصل ہونے والی ہدایات اگر پہلےپہل تمہیں صحیح نہ بھی معلوم ہوں توبھی اُن پر عمل کرو۔ اس سے تمہیں کبھی بھی پشیمان نہیں ہونا پڑیگا۔“ اُس نے واقعی صحیح کہا تھا۔
۱۹۵۱ میں، اس وقت واچٹاور بائبل اینڈ ٹریکٹ سوسائٹی کے صدر ناتھن ایچ. نار نے نیدرلینڈز کا دورہ کِیا۔ اس وقت مَیں نے اور قرہ نے ریاستہائے متحدہ میں مشنری تربیت حاصل کرنے کیلئے درخواست دی۔ اس کے تھوڑی دیر بعد، ہمیں واچٹاور بائبل سکول آف گلئیڈ کی ۲۱ویں کلاس میں حاضر ہونے کی دعوت ملی۔ جب ہم نے ۱۹۴۵ میں پائنیر خدمت شروع کی تو اس وقت نیدرلینڈز میں ۲،۰۰۰ گواہ تھے لیکن ۱۹۵۳ تک، ۷،۰۰۰ سے زائد گواہ تھے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہماری توقعات سے کہیں بڑھ کر تھی!
اپنے نئے گھر میں خدمتگزاری
ہمیں ڈچ نیو گنی تفویض کِیا گیا جو اِس وقت انڈونیشیا کا ایک صوبہ ہے، تاہم جب ہمیں داخل ہونے کی اجازت نہ ملی تو ہمیں جنوبی امریکہ کے ایک گرممرطوب ملک سُرینام بھیج دیا گیا۔ ہم یہاں دسمبر ۱۹۵۵ میں پہنچے۔ اس وقت سُرینام میں تقریباً ایک سو گواہ تھے لیکن وہ انتہائی مددگار ثابت ہوئے۔ ہمیں بہت جلد یہ محسوس ہونے لگا کہ جیسے یہ ہمارا اپنا ہی گھر ہے۔
سچ ہے کہ ہمیں خود کو بہت سے مختلف حالات کے مطابق ڈھالنا تھا اور بعضاوقات ایسا کرنا قدرے مشکل بھی تھا۔ مثال کے طور پر، قرہ ہر قسم کے کیڑےمکوڑوں سے ڈرتی تھی۔ نیدرلینڈز میں، جب وہ اپنے بیڈروم میں ایک چھوٹی سی مکڑی کو بھی دیکھ لیتی تو جب تک مَیں اُسے بھگا نہ دیتا وہ نہ سوتی۔ لیکن سُرینام میں دس گُنا بڑی مکڑیاں تھیں اور بعض زہریلی بھی تھیں! ہمارے مشنری ہوم میں لالبیگ، چوہے، چیونٹیاں، مچھر اور ٹڈیاں بھی تھیں۔ حتیٰکہ کبھی کبھی سانپ بھی آ جاتے تھے۔ قرہ ایسے جانداروں کی ایسی عادی ہو گئی ہے کہ ان سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرنا اب اس کی زندگی کا معمول بن گیا ہے۔
تقریباً ۴۳ سالوں کے بعد، اب ہم اس ملک کو بیشتر مقامی لوگوں سے زیادہ بہتر طور پر جانتے ہیں۔ ہم اسکے دریاؤں، برساتی جنگلوں اور ساحلی دلدلی جگہوں سے بھی محظوظ ہونے لگے ہیں۔ ہم یہاں کثرت سے پائے جانے والے خوبصورت جانوروں سے بھی واقف ہو گئے ہیں جن میں خارپُشت، سلاتھ، تیندوا، اور رنگبرنگے سانپوں کی اقسام بھی شامل ہیں۔ لیکن بالخصوص ہم یہاں پائے جانے والے مختلف نسلوں کے لوگوں کو سمجھنے لگے ہیں۔ بعض کے آباؤاجداد کا تعلق افریقہ اور انڈیا، انڈونیشیا اور چین اور دیگر ممالک سے تھا۔ نیز بعض یہاں کے اصلی باشندوں ایمرنڈینز کی اولاد ہیں۔
اپنی مسیحی خدمتگزاری میں جب ہم اُنکے گھروں میں جاتے ہیں تو ہم ایسے تمام پسمنظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملتے ہیں۔ کنگڈم ہالوں میں بھی کئی نسلوں کے مسیحی بہن بھائی ملتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ۱۹۵۳ میں محض ایک خستہہال کنگڈمہال تھا لیکن اب اس حد تک ترقی ہو چکی ہے کہ یہاں ۳۰ دلکش کنگڈم ہال، ایک خوبصورت اسمبلی ہال اور ایک نہایت عمدہ برانچ دفتر ہے جسکی ۱۹۹۵ میں مخصوصیت کی گئی تھی۔
مَیں نے جو سبق سیکھے
سُرینام کے اندرونی علاقوں میں افریقی غلاموں کی اولاد، بش نیگروز کی کئی کلیسیائیں ہیں جو نوآباد بستیوں سے بھاگ کر دریاؤں کے کنارے جا بسے تھے۔ مجھے اکثر اُنکے کارناموں پر حیرت ہوتی ہے—مثال کے طور پر وہ کیسے دریا کو آمدورفت کیلئے استعمال کرتے ہیں اور برساتی جنگلات میں بودوباش کرتے ہیں۔ وہ درختوں کو گِرا کر کشتیاں بناتے اور پھر اُنہیں بڑی مہارت سے آبشاروں اور تیز بہاؤ والے دھاروں سے نکال لے جاتے ہیں۔ وہ جانوروں اور مچھلی کا شکار کرنے سے خوراک حاصل کرتے اور جدید سہولیات کے بغیر پکانے کے علاوہ ایسے متعدد کام کرتے ہیں جو ہمارے لئے نہایت مشکل ہونگے۔
اِن تمام برسوں کے دوران ہم سُرینام میں آباد دیگر لوگوں کے رسمورواج، طرزِفکر اور اُنکے طرزِزندگی کو بھی سمجھ گئے ہیں۔ ۱۹۵۰ کے دہے میں ایک ایمرنڈین دیہات کا دورہ مجھے ابھی تک یاد ہے۔ آدھی رات کے وقت، مَیں برساتی جنگل میں ایک الگتھلگ کیمپ میں پہنچا، جہاں سے مَیں اور میرا انڈین گائیڈ کشتی کا سفر شروع کرنے والے تھے۔ اس نے آگ جلائی، کھانا پکایا اور ہیمک (ایک قسم کا کھٹولا جو کینوس یا جالی کا ہوتا ہے اور دونوں کناروں سے رسی یا ہک پر لٹکا ہوتا ہے) باندھے۔ وہ اکثر میرے لئے یہ سارے کام کرتا تھا کیونکہ اُسے معلوم تھا کہ مجھے یہ سب نہیں آتا۔
آدھی رات کے وقت جب مَیں اپنے ہیمک سے گر پڑا تو اُسے ذرا بھی ہنسی نہ آئی۔ اس کی بجائے اس نے میرے کپڑے جھاڑے اور ہیمک کو دوبارہ باندھ دیا۔ جب ہم سفر کے دوران ایک تنگ دریا سے گزر رہے تھے تو رات کے اندھیرے میں مجھے میرے ہاتھ بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے مگر میرا گائیڈ بہت سے آڑےترچھے راستوں اور رکاوٹوں سے کشتی نکال لے گیا۔ جب مَیں نے اُس سے پوچھا کہ اس نے یہ کیسے کِیا تو اس نے کہا: ”آپ غلط راستہ دیکھ رہے تھے۔ اُوپر نگاہ کریں اور درختوں کی سب سے اُونچی شاخوں اور آسمان کے درمیان فرق کو دیکھیں۔ اس سے آپکو دریا میں خم کا پتہ چلے گا۔ نیچے دیکھیں اور ہلکی ہلکی لہروں پر غور کریں۔ اس سے آپکو یہ دیکھنے میں مدد ملیگی کہ آیا آگے راستے میں چٹانیں یا رکاوٹیں تو نہیں آ رہیں۔ اور سنو۔ آوازوں سے بھی پتہ چل جاتا ہے کہ آگے کیا آ رہا ہے۔“
چھوٹی ڈونگی کشتی میں سفر کرنا، دھاروں کے آرپار جانا اور آبشاروں سے گزرنا خطرناک اور تھکا دینے والا ہو سکتا ہے۔ لیکن سفر کے اختتام پر جب ہم پُرتپاک مہماننوازی کیساتھ ہمارا استقبال کرنے کیلئے منتظر بہن بھائیوں سے ملتے ہیں تو بہت تازہدم محسوس کرتے ہیں۔ مہمانوں کو ہمیشہ کھانا کھلایا جاتا ہے خواہ سُوپ کا ایک پیالہ ہی کیوں نہ ہو۔ مشنری زندگی اکثراوقات صبرآزما اور کٹھن رہی ہے مگر مایوسکُن کبھی بھی نہیں۔
کس چیز نے آگے بڑھتے رہنے کیلئے ہماری مدد کی
ہمیں غیرمعمولی صحت کی برکت حاصل نہیں ہوئی۔ علاوہازیں ہمیں خاندانی ارکان سے بھی زیادہ حوصلہافزائی حاصل نہیں ہوئی کیونکہ میری والدہ ہی واحد گواہ رشتےدار ہے۔ تاہم، عزیز دوستوں کی طرف سے مدد اور حوصلہافزائی نے ہمیشہ ہماری ضروریات کو پورا کِیا اور ہمیں ہماری تفویض میں قائم رکھا۔ میری والدہ بالخصوص حوصلہافزائی کا باعث ثابت ہوئیں۔
جب ہماری تفویض کو صرف چھ سال گزرے تو والدہ بہت بیمار ہو گئیں۔ دوستوں نے چاہا کہ ہم اُسے آخری مرتبہ دیکھنے کیلئے واپس آ جائیں لیکن والدہ نے لکھا: ”براہِمہربانی، اپنی تفویض پر قائم رہو۔ مجھے ویسے ہی یاد رکھو جیسے مَیں بیمار پڑنے سے پہلے تھی۔ مجھے اُمید ہے کہ مَیں تمہیں قیامت میں ملوں گی۔“ وہ مضبوط ایمان والی خاتون تھی۔
ہم ۱۹۶۶ میں چھٹیوں پر نیدرلینڈز واپس جانے کے قابل ہوئے۔ پُرانے دوستوں کو ملنے سے ہم بہت خوش ہوئے لیکن ہمیں محسوس ہوا کہ سُرینام اب ہمارا گھر ہے۔ یوں ہم تنظیم کی اس مشورت میں پنہاں حکمت کو سمجھ سکتے ہیں کہ کیوں مشنریوں کو اپنی تفویض میں کمازکم تین سال گزارنے سے پہلے اپنے آبائی وطن چھٹیوں کیلئے نہیں جانا چاہئے۔
مزاح کی حس نے بھی ہمیں اپنی تفویض سے محظوظ ہونے میں مدد دی ہے جسکا مطلب ہے کہ مختلف باتوں حتیٰکہ اپنےآپ پر بھی ہنسنا۔ یہوواہ نے فطرتی تخلیق میں بھی مزاح رکھا ہے۔ جب آپ بنمانس اور اودبلاؤ اور خاص طور پر جانوروں کے چھوٹے بچوں کی مضحکہخیز حرکات دیکھتے ہیں آپ کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ نیز، یہ بات بھی اہم ہے کہ ہر چیز کے مثبت پہلو کو دیکھیں اور اپنی ذات کو زیادہ اہم خیال نہ کریں—ہم نے ان تمام برسوں میں یہی سبق سیکھا ہے۔
خدمتگزاری میں ہمارے بااجر کام نے اپنی تفویض میں مصروف رہنے کیلئے خاص طور پر ہماری مدد کی ہے۔ قرہ نے پاراماریبو میں نو آدمیوں کیساتھ عمررسیدہ لوگوں کیلئے ایک گھر میں بائبل مطالعہ شروع کیا۔ ان سب کی عمریں ۸۰ سے زیادہ تھیں۔ ہر کوئی ایک بالاٹیبلیڈر (ربڑ کے درختوں کو کاٹنے والا) یا سونے کی کانکنی کرنے والا تھا۔ سب نے جو کچھ سیکھا اُسے عزیز رکھا، بپتسمہ لیا اور اپنی موت تک وفاداری سے منادی کے کام میں حصہ لیا۔
نیو چرچ آف سویڈنبرگ کے ریورز نامی ایک عمررسیدہ مُناد نے مطالعے پر ہونے والی کچھ باتیں سنیں اور طنزیہ رائےزنی کی۔ لیکن ہر ہفتے وہ تھوڑا تھوڑا قریب آنے لگا اور اس کا تمسخر بھی کم ہونا شروع ہو گیا۔ وہ ۹۲ سال کا تھا اور اُسکی بصارت اور سماعت بھی کمزور تھی لیکن وہ آیات کا حوالہ ایسے دیتا تھا جیسےکہ اُنہیں پڑھ رہا ہو۔ انجامکار اس نے ہمارے ساتھ خدمتگزاری میں حصہ لینا شروع کر دیا اور سننے کی خواہش رکھنے والے ہر شخص کو مُنادی کرنے لگا۔ اپنی موت سے ذرا پہلے اُس نے ہمیں آنے کا پیغام بھیجا۔ جب ہم پہنچے تو وہ پہلے ہی وفات پا چُکا تھا مگر اس کے تکیے کے نیچے ہمیں اُسکی اُس مہینے کی منادی کی رپورٹ ملی۔
کُلوقتی مُنادی کے کام میں ۲۵ سال کے بعد ۱۹۷۰ میں مجھے سُرینام برانچ کا اوورسیئر مقرر کِیا گیا۔ مَیں نے دفتر میں کام کرنا مشکل پایا اور قرہ پر رشک کِیا جو ابھی تک ہر روز میدانی خدمتگزاری میں جا رہی تھی۔ اس وقت قرہ بھی برانچ میں کام کرتی ہے اور اب جب ہم بوڑھے ہو رہے ہیں تو ہم دونوں کا کام بامقصد ہے۔
واقعی، جب مَیں پیچھے ۱۹۴۵ میں پوری دُنیا میں تقریباً ۱۶۰،۰۰۰ سرگرم بادشاہتی مُنادوں کا مقابلہ آجکل ۶،۰۰۰،۰۰۰ سے کرتا ہوں تو مَیں دیکھتا ہوں کہ حقیقت میری توقعات سے کہیں آگے بڑھ گئی ہے۔ اِسکے علاوہ جب ہم ۱۹۵۵ میں یہاں آئے تھے تو اس وقت سے سُرینام میں خدمتگزاری میں حصہ لینے والوں کی تعداد ۱۹ گُنا بڑھ گئی ہے—تقریباً ۱۰۰ سے اب ۱،۹۰۰ تک!
مجھے یقین ہے کہ ہم مستقبل میں یہوواہ کے مقاصد کی تکمیل میں مزید شاندار ترقیوں کو ضرور دیکھیں گے بشرطیکہ ہم اپنے خدا کے وفادار رہیں۔ اور واقعی ہمارا عزمِمُصمم یہی ہے۔
[صفحہ 13 پر تصویر]
۱۹۵۵ میں، جب ہم سُرینام آئے
[صفحہ 13 پر تصویر]
اپنی خدمتگزاری میں ڈونگیوں کو استعمال کرتے ہوئے
[صفحہ 15 پر تصویر]
اپنی بیوی کیساتھ