ہمارے قارئین کی طرف سے
جانوروں پر ظلم میرے خط لکھنے کا مقصد آپکو یہ بتانا ہے کہ آپ نے اپنے اس مضمون ”بائبل کا نقطۂنظر: جانوروں پر ظلم—کیا یہ غلط ہے؟“ (نومبر ۸، ۱۹۹۸) پر نہایت عمدہ کام کِیا ہے۔ میرے خیال میں آپ کا اس بات کو اُجاگر کرنا واقعی قابلِتعریف ہے کہ خدا جانوروں پر ظلم کی اجازت نہیں دیتا اور مسیحی ہونے کا دعویٰ کرنے والوں کو بالخصوص اس سے منع کرتا ہے۔
جے. ایل. سی.، ریاستہائےمتحدہ
بِنماںباپ کے نوجوان مَیں اس مضمون کیلئے آپکی بہت شکرگزار ہوں ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . . مَیں اپنے والدین کے بغیر کیوں رہوں؟“ (نومبر ۲۲، ۱۹۹۸) اس وقت میری عمر ۳۹ سال ہے۔ تاہم جب مَیں ۱۱ سال کی تھی تو میری ماں کی وفات کے بعد میرا باپ گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اب تک مَیں لوگوں کو یہ نہیں سمجھا پائی کہ مَیں نے اور میرے بھائیوں نے کتنی بدحالی میں زندگی گزاری ہے۔ تاہم اب مَیں محسوس کرتی ہوں کہ دوسرے ہمیں سمجھنے لگے ہیں۔ شکریہ۔
کے. وائے.، جاپان
جب مَیں نو ماہ ہی کی تھی تو میرا باپ مر گیا اور ابھی مَیں ۱۲ سال کی بھی نہیں ہوئی تھی کہ میری ماں وفات پاگئی۔ آپ کا مضمون نہایت تسلیبخش تھا جس نے یتیموں کے حقیقی احساسات کو واضح کِیا۔ یہ جاننا کتنی خوشی کی بات ہے کہ یہوواہ ہمارے مُتوَفّی عزیزوں کو دوبارہ زندہ کریگا!
ایم. ایس. ایس.، برازیل
میری عمر ۴۰ برس ہے اور مَیں اس مضمون کو ایک مرتبہ پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھ چکا ہوں۔ چونکہ مَیں دو برس کی عمر میں ہی یتیم ہو گیا تھا اسلئے مَیں مضمون کے شروع سے آخر تک روتا رہا۔ اب تک مَیں امی اور ابو کی تصویر دیکھ کر رو پڑتا ہوں۔ ایسے مضامین تحریر کرنے کیلئے آپکا بہت شکریہ!
جے. سی. وی.، فرانس
میرے والدین زندہ ہیں مگر مَیں دماغی اختلال (ایسی ذہنی حالت جس میں شدید جوشوجذبے کے بعد انتہائی افسردگی چھا جاتی ہے) میں مبتلا ہوں اور مشکل اوقات پر قابو پانے کی بابت گفتگو کرنے والے ہر مضمون میں دلچسپی رکھتی ہوں۔ مَیں آپ کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ مجھے ”نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .“ کے عنوان کے تحت شائع ہونے والے حقیقی تجربات اور بائبل مشورت بہت پسند ہے۔
ایس. ایچ.، کینیڈا
چوبکاری مَیں کئی عشروں سے اس جریدے کو پڑھ رہا ہوں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ نفسِمضمون، طرزِتحریر اور موضوعات کے انتخاب کے سلسلے میں مسلسل بہتر ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم، مَیں ”قدیم جمالِچوب کی تلاش کرنا“ مضمون (نومبر ۸، ۱۹۹۸) کے حوالے سے ضرور کچھ کہنا چاہونگا۔ براہِمہربانی ایسے قارئین کو جو یہ کام کرنے کی کوشش کرینگے آگاہ کر دیں کہ بسولا نہایت خطرناک اوزار ہے۔ ۱۹۲۰ کے دہے میں جب مَیں بچہ تھا تو اُس وقت بھی یہ زیرِاستعمال تھا اور اسے عام طور پر پابسولا کہا جاتا تھا۔ جیساکہ آپکی تصویر میں دکھایا گیا ہے، لکڑی دونوں پاؤں کے درمیان ہے اور اوزار ایک تیز بلیڈ ہے۔ تاہم، اسے پاؤں کا دشمن کہا جاتا تھا کیونکہ اسے استعمال کرنے والے اکثر اپنے پاؤں زخمی کر لیتے تھے۔ میرے خیال میں کسی غیرتربیتیافتہ شخص کیلئے اسے استعمال کرنا نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈبلیو. جی.، ریاستہائےمتحدہ
ہم اس احتیاطی یاددہانی کی قدر کرتے ہیں۔—ایڈیٹر۔
باتدبیر ملکہ کیتھرین پار کی بابت آپکے جاذبِتوجہ مضمون (”ایک باتدبیر ملکہ جس نے سازشی بشپ کو مات کر دیا،“ نومبر ۸، ۱۹۹۸) نے ملکہ آستر کی بابت بائبل کی سرگزشت کی یاد تازہ کر دی۔ ان خواتین نے کیا ہی حکمت کا مظاہرہ کِیا! یہوواہ کی گواہ نہ ہونے کے باوجود مَیں نے جاگو! کے ہر شمارے کو پڑھا ہے۔ مَیں اکثر سوچتی ہوں کہ میری طرح دیگر لوگ آپکے لٹریچر کی قدر کیوں نہیں کرتے۔
ایم. ڈی. ایس. ایف.، برازیل
مجھے ہنری ہشتم اور اُس کی بیوی کیتھرین پار کی بابت تاریخی سرگزشت بہت دلچسپ لگی۔ میری طرف سے دادوتحسین قبول ہو۔ اس مضمون کو خوب تحقیق کیساتھ جامع اور واضح انداز میں پیش کِیا گیا تھا۔
سی. جی.، اٹلی
مضمون کے طرزِبیان سے ہمیں ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم ملکہ کیتھرین کیساتھ ہر لمحے سے گزر رہے ہیں۔ ایسے مضامین شائع کرنے کیلئے آپکا شکریہ تاکہ ہم جیسے لوگ جو دُنیا کے ایک کونے میں آباد ہیں دُوراُفتادہ ثقافتوں کی بابت جان سکیں۔
ایل. جی. اور ایل. جی.، وینزویلا