دُنیا کا نظارہ کرنا
دس چوٹی کے وبائی قاتل
پوری دنیا میں، ہر سال لاکھوں لوگ وبائی امراض سے مرتے ہیں۔ نیچرل ہسٹری رسالے کے مطابق، درجذیل وبائی بیماریاں ۱۹۹۷ میں انتہائی مُہلک ثابت ہوئی تھیں۔ انتہائی نازک تنفّسی امراض جیسےکہ نمونیا ۷.۳ ملین لوگوں کو ہلاک کرنے کے باعث سرِفہرست تھا۔ تپِدق ۹.۲ ملین لوگوں کی اموات کا سبب بنتے ہوئے، دوسرے نمبر پر تھا۔ ہیضہ اور دیگر اسہالی بیماریاں ۵.۲ ملین اموات کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھیں۔ ایڈز نے ۳.۲ ملین کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ ملیریے سے ۵.۱ ملین اور ۷.۲ ملین کے درمیان لوگ ہلاک ہوئے۔ خسرے کو ۹،۶۰،۰۰۰ اموات کے لئے ذمہدار ٹھہرایا گیا۔ ہیپاٹائٹس بی ۶،۰۵،۰۰۰ اموات کا سبب بنا۔ کالی کھانسی نے ۴،۱۰،۰۰۰ کی جانیں لے لیں۔ تشنج سے ۲،۷۵،۰۰۰ مارے گئے۔ اور زرد بخار سے ۱،۴۰،۰۰۰ مارے گئے۔ انسان کی بہترین کوششوں کے باوجود، ساری دُنیا میں ماضی کے متعدی امراض ابھی تک انسانی صحت کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
وینزویلا میں الکحل کا ناجائز استعمال
کاراکاس کے اخبار ایل یونیورسل کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے باشندے فیکس کے حساب سے لاطینی امریکہ کے کسی بھی دوسرے ملک کی نسبت زیادہ الکحل استعمال کرتے ہیں۔ یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ وینزویلا میں ہر شخص سال میں ۶۰ سے ۷۰ لیٹر کے درمیان شراب پی جاتا ہے۔ وزارتِصحت کے اندازے کے مطابق کاراکاس کے شہری علاقوں میں ہونے والے تمام قتل اور خودکُشیوں کے ۵۰ فیصد کا تعلق الکحل سے ہوتا ہے۔ تاہم، سنٹرل یونیورسٹی آف وینزویلا، سینٹر فار پیس اینڈ دی جوڈیشل پولیس کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس علاقے میں واقع ہونے والی ۱۰ پُرتشدد اموات میں سے ۹ کی وجہ الکحل ہوتی ہے۔ الکحل کے ناجائز استعمال کے خلاف جہاد کرنے میں مدد کے لئے ایسے ادارے قائم کئے گئے ہیں جو طالبعلموں کو شراب پینے کے لئے ہمسروں کے دباؤ کی مزاحمت کرنے اور قابلِاعتماد متبادل سرگرمیاں تلاش کرنے کا طریقہ سکھانے کے علاوہ، والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطے کی بھی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔
روگی سمندر
سائنس نیوز کی رپورٹ کے مطابق تمام دُنیا میں سمندری حیات کا بیشتر حصہ رسولیوں، زخموں، وبائی امراض اور دیگر امکانی خطرات کا شکار ہو رہا ہے۔ بحری حیاتیات کا ماہر جیمز سروَنو بیان کرتا ہے کہ گزشتہ ۲۰ سالوں میں کورَل (ایک سمندری جانور) کو ہلاک کرنے والی ۱۵ نئی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ خطرے میں مبتلا سمندری حیات کی دیگر اقسام میں سمندری گھاس، گھونگے، سمندری کچھوے اور جلگائے ہیں۔ بحری جغرافیہدان سلویا ایرل بیان کرتی ہے: ”حیاتی کُرے—وہ مقام جہاں زندگی جنم لیتی ہے—کا ۹۵ فیصد سمندر پر مشتمل ہے۔ اگر سمندر مشکل میں ہے تو ہم بھی ہیں۔ اور سمندر واقعی مشکلات سے دوچار ہے۔“
ہلکیپھلکی پڑھائی
ہر کوئی جس کی الماری کتابوں سے بھری ہو وہ پڑھنے کا شوقین نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر، دکاندار کرس میتھیوس تسلیم کرتا ہے: ”مجھے شوق ہے کہ میرے اِردگِرد کتابیں ہی کتابیں ہوں مگر میں انہیں کبھیکبھار ہی پڑھوں۔“ میتھیوس اس مسئلے کا اب ایک آسان حل پیش کرتا ہے۔ اخبار ویزیر-کوریر کی رپورٹ کے مطابق اس نے اپنے دوست کیساتھ ملکر جرمنی میں جعلی کتابوں کی پہلی دکان کھولی ہے۔ یہاں فن، فیلسوفی اور سائنس کے شعبہجات سے تعلق رکھنے والی کوئی ۲،۸۰۰ ”جعلی عنوانات والی کتابیں“ برائے فروخت تھیں۔ یہ جعلی کتابیں مختلف ڈیزائنوں میں سادہ گتے سے لیکر اعلیٰ قسم کی ساگوان سے بنے ہوئے دلکش چربوں پر مشتمل ہیں۔ عموماً نہایت مہنگی فنونِلطیفہ کی کتابوں کی خوبصورت نقلوں کی قیمت صرف ۱۰ تا ۱۵ ڈالر ہوتی ہے۔ میتھیوس کہتا ہے: ”کتاب کی قیمت میں مواد سے نہیں بلکہ سائز کے حساب سے فرق پڑتا ہے۔“
صحتمند ویڈیو گیمز
”ویڈیو گیمز“ کا ذکر سنتے ہی بہتیرے لوگ پُرتشدد گیموں کی بابت سوچنے لگتے ہیں۔ تاہم، محققین نے یہ دریافت کِیا ہے کہ ”موزوں گیمز بچوں کو ذیابیطس اور دَمے کی صورت میں اپنی حالت کو قابو میں رکھنے کی تربیت دے سکتی ہیں،“ ٹیکنالوجی ریویو رپورٹ دیتا ہے۔ سٹینفورڈ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر نے ذیابیطس میں مبتلا ۸ اور ۱۶ سال کی عمر کے ۶۰ بچوں پر تحقیق کی۔ نصف بچے ایک عام ویڈیو گیم کھیلتے تھے۔ دوسرے بچوں نے پیکی اینڈ مارلن کی گیم کھیلی، جس میں دو متحرک ہاتھی ہوتے ہیں جو کھلاڑیوں کی درست خوراک کا انتخاب کرنے، خون میں شکر کی مقدار چیک کرنے اور انسولین درست طور پر استعمال کرنے میں مدد کرتے ہیں۔ چھ ماہ کے بعد، جنہوں نے ہاتھی والی گیم کھیلی تھی انہیں عام گیم کھیلنے والے بچوں کی نسبت ”فوری نگہداشت کے لئے ڈاکٹر کے پاس یا ایمرجنسی روم میں لے جانے کے سلسلے میں ۷۷ فیصد کمی کا تجربہ ہوا،“ ٹیکنالوجی ریویو بیان کرتا ہے۔ دَمے سے نپٹنے اور تمباکونوشی سے پرہیز کرنے کے معاملے میں بھی بچوں کی مدد کرنے کے لئے ایسی ہی ویڈیو گیمز تیار کی گئی ہیں۔
غضبناک ایڈز
صحرائےاعظم کے جنوب میں آباد افریقی ممالک کے اندر، گزشتہ دہے کے دوران پیدائش کے وقت متوقع عمر تقریباً چھ سال تک کم ہو گئی ہے اور مزید کم ہونے کا امکان ہے۔ یہ تبدیلی کیوں؟ اسلئےکہ اس علاقے میں ”ایڈز کی عالمگیر وبا پھیل رہی ہے،“ دی یونیسکو کورئیر رپورٹ دیتا ہے۔ اس وقت، اس علاقے کی آبادی کا ۱۰ فیصد سے زیادہ حصہ ایڈز کا باعث بننے والے وائرس، ایچآئیوی سے متاثرہ ہے۔ بوٹسوانا، ملاوی، موزمبیق، نمیبیا، جنوبی افریقہ، زمبیا اور زمبابوے کے ممالک تو اس سے بُری طرح متاثر ہیں۔ مزیدبرآں، اقوامِمتحدہ کے بیان کے مطابق ”ایڈز کی وجہ سے افریقہ میں ہر روز ۵،۵۰۰ جنازے اُٹھتے ہیں،“ دی نیو یارک ٹائمز رپورٹ دیتا ہے۔
کیتھولک عقائد کی ناکام تعلیم
حال ہی میں کلیسیا کی تعمیروترقی کیلئے تحریرکردہ ایک خط میں سائینا کے آرچبشپ گاتانو بونیشلی نے بیان کِیا کہ کیتھولک عقائد کی تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ۲۰ سال کی عمر کے اشخاص ”تثلیث اور کنواری مریم کے درمیان فرق کو نہیں سمجھتے۔“ کیتھولک عقائد سے ایسی لاعلمی اس حالت کی خوب عکاسی کرتی ہے جسے ایک اعلیٰ عہدہدار اسقف، کارڈینل راتسینگر نے ”کیتھولک عقائد کی موجودہ تعلیم کی ناکامی“ کا نام دیا، میلان، اٹلی کا کورئیر ڈیلا سرا رپورٹ دیتا ہے۔ آرچبشپ بونیشلی بشارتی کام کی طرف لوٹنے کا مشورہ دیتا ہے۔ ”بشارتی کام ہی، تیسرے ہزار سال میں چرچ کو ازسرِنو ممکنہ قوت عطا کر سکتا ہے۔“
اخلاقیات کی واپسی؟
چین میں ایک حالیہ سروے نے آشکارا کِیا کہ ”اگرچہ چینی بالغ ازدواجی بندھن کے علاوہ جنسی تعلقات میں زیادہ روادار بن گئے ہیں پھربھی بیشتر نوجوان ایسے طرزِعمل کے خلاف ہیں،“ چائنہ ٹوڈے رسالہ رپورٹ دیتا ہے۔ ایسے نتائج ۸،۰۰۰ لوگوں کے درمیان رائےشماری پر مبنی ہیں۔ ”پانچ تہائی نوجوان اس بات پر متفق تھے کہ جو لوگ شادیشُدہ لوگوں کیساتھ آشنائی پیدا کرکے اُنکے ازدواجی بندھن کو برباد کرتے ہیں اُنہیں مالی طور پر یا دیگر ذرائع سے سزا ملنی چاہئے،“ سروے نے ظاہر کِیا، ”جبکہ ۳۷ اور ۴۵ سال کی عمر کے درمیان والے لوگوں میں سے ۷۰ فیصد کا یہ خیال تھا کہ ایسے کاموں کی کوئی سزا نہیں ملنی چاہئے۔“
چرچ میں بےڈھنگا لباس پہننا
ایک ایسوسیایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق ریاستہائےمتحدہ میں لوگوں کی خاصی تعداد چرچ میں بےڈھنگا لباس پہن کر جاتی ہے۔ بعض پادری چرچ کی عبادات میں حاضر ہونے والوں کو نکریں، جینز یا کوئی دوسرا بےڈھنگا لباس پہنے دیکھ کر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ چرچ کے اہلکار تذبذب میں ہیں—وہ نئے ممبران کو نکالنا یا ایسے باقاعدہ ممبران کو الگ کرنا نہیں چاہتے جو موزوں لباس پہننا ضروری نہیں سمجھتے۔ ایک سروے کے مطابق، روایتی طرزِعبادت کے حامی ۵.۲۱ فیصد لوگوں کی نسبت ”تقریباً ۳۰ فیصد امریکی غیررسمی اور زمانۂجدید کے تقاضوں سے ہمآہنگ چرچ عبادات پسند کرتے ہیں۔“
نوعمری میں حمل قابلِقبول
”غیرشادیشُدہ ماؤں کی تعداد میں اضافے کا ایک اہم عنصر معاشرے کی طرف سے قبولیت [ہے]،“ میکسیکو سٹی کا دی نیوز بیان کرتا ہے۔ ”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرہ شادی کے بغیر نوعمری میں حمل کے بدنما داغ کو مٹانے کیلئے سرتوڑ کوشش کر رہا ہے۔ اپنے اس مقصد کے حصول کیلئے عین ممکن ہے کہ یہ اسکی پُشتپناہی بھی کرنا شروع کر دے۔“ کیا اس اضافے کو روکا جا سکتا ہے؟ مضمون بیان کرتا ہے: ”اگر اشتہارات دینے والی ایجنسیاں ایک تمباکونوش کی اچھی ساکھ کو بُری ساکھ میں بدل دینے کے قابل ہوئی ہیں، اگر امریکی زیادہ چکنائی کی بجائے زود ہضم غذا کھا سکتے ہیں تو نوجوانوں کا نظریہ بھی بدلہ جا سکتا ہے جس سے وہ ہائی سکول میں ہی بچے پیدا کرنے کو حماقت اور مطلوبہ مقصد کے حصول میں رکاوٹ سمجھنے لگیں گے۔“
مہربانی کا چارٹ بنانا
”بچے بنیادی طور پر کمازکم ۴ سال کی عمر تک خودغرض ہوتے ہیں، اس کے بعد ان میں ہمدردی کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے،“ دی ٹورنٹو سٹار میں حوالہشُدہ رپورٹ بیان کرتی ہے۔ دوسروں کیلئے فکرمندی پیدا کرنے میں بچوں کی مدد کرنے کیلئے مہربانہ کاموں کی گھریلو تربیت تجویز کی جاتی ہے۔ خاندان کے ارکان ایسے دو اچھے کام جو وہ ہر روز اپنی خوشی سے کرتے ہیں چارٹ پر درج کر سکتے ہیں۔ والدین بھی اپنے بچے کے کسی مہربانہ کام کو دیکھ کر اُسے چارٹ میں شامل کر سکتے ہیں۔ کئی ایک سکول غنڈہگردی کی روکتھام کی کوشش میں ایسے چارٹ استعمال کرتے ہیں۔ طالبعلموں کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ ان مہربانہ کاموں کو چارٹ پر درج کریں جو وہ دیگر بچوں کو کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ”یہ بچوں کی رحم کو پہچاننے میں مدد کرتا ہے جو رحم محسوس کرنے اور اسے عمل میں لانے کا طریقہ سیکھنے کا ایک اہم پہلو ہے۔“