”سب کو ضیافت پر نہیں بلایا گیا“
دی ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ ۱۹۹۸، یواین ڈیویلپمنٹ پروگرام یا یواینڈیپی کی ایک سالانہ رپورٹ نے اشیائےتصرف میں واقع ہونے والے بینظیر عالمگیر اضافے پر توجہ مبذول کرائی۔ اس نے اس بات کا انکشاف کِیا کہ عالمی پیمانے پر اب ہم ۱۹۵۰ کی نسبت چھ گُنا اور ۱۹۷۵ کی نسبت دو گُنا زیادہ معاشی اشیاء استعمال کرتے ہیں۔ تصرف میں اضافے کے باوجود، یواینڈیپی ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جیمز گسٹاوو سپتھ بیان کرتا ہے: ”سب کو ضیافت پر نہیں بلایا گیا۔“
مثال کے طور پر: دُنیا کے ۲۰ فیصد امیر دُنیا کے ۲۰ فیصد غریبوں کی نسبت سات گُنا زیادہ مچھلی کھاتے ہیں۔ یہی ۲۰ فیصد امیر دُنیا کے ۲۰ فیصد غریبوں کی نسبت ۱۱ گُنا زیادہ گوشت کھاتے ہیں، ۱۷ گُنا زیادہ توانائی استعمال کرتے ہیں، ۴۹ گُنا زیادہ ٹیلیفون لائنیں رکھتے ہیں، ۷۷ گُنا زیادہ کاغذ استعمال کرتے ہیں اور ۱۴۹ گُنا زیادہ کاریں رکھتے ہیں۔
یواین ریڈیو نے ان انکشافات کی بابت بیان کِیا کہ زمین کے قدرتی وسائل کی کمی کو روکنے کیلئے صنعتی دُنیا کو اپنے طریقہہائےتصرف کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ اس کیساتھ ہی ساتھ، امیر ممالک کو اپنی دولت کا بیشتر حصہ دُنیا کے غریبوں کو دینا چاہئے تاکہ وہ بھی زمینی وسائل سے بھرپور فائدہ اُٹھا سکیں۔ کتنی زیادہ دولت بانٹنے کی ضرورت ہوگی؟
مسٹر سپتھ کے اندازے کے مطابق اگر صنعتی ممالک ترقیاتی اعانت کی موجودہ مقدار کو دُگنا—۵۰ بلین ڈالر سے ۱۰۰ بلین ڈالر سالانہ—کر دیں تو پوری دُنیا کے غریب خوراک، صحت، تعلیم اور رہائش سے محظوظ ہو سکیں گے۔ اب ۵۰ بلین ڈالر بہت بھاری رقم معلوم ہو سکتی ہے۔ تاہم، مسٹر سپتھ یاددہانی کراتے ہیں: ”اتنی رقم تو یورپ سگریٹ پر سالانہ خرچ کر دیتا ہے اور آجکل یوایس اسکا نصف الکحلی مشروبات پر خرچ کرتا ہے۔“
واقعی، اس سیارے کے وسائل کو مساوی طور پر استعمال کرنا تکلیفدہ غربت کا خاتمہ کرنے کے لئے نہایت مفید ثابت ہوگا۔ اس کے لئے کس چیز کی ضرورت ہے؟ یواین کے ایک اہلکار نے رائےزنی کی: ”ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اس سب کے لئے دلوں، دماغوں اور نیتوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔“ بہتیرے لوگ اس بات سے متفق ہیں اور اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں کہ آجکل کی پالیسی بنانے والی تنظیمیں نہایت نیکنیت ہونے کے باوجود بھی ایسی تبدیلیاں پیدا نہیں کر سکتیں، یہ تو لالچ جیسے خصائل کو ہی ختم نہیں کر سکتیں۔
تاہم، انسانی خاندان اور ہمارے سیارے کے مستقبل کی بابت فکرمند لوگوں کے لئے اُمید موجود ہے۔ یہ بڑی حوصلہافزائی کی بات ہے کہ زمین کے خالق نے انسانی مسائل کا مؤثر حل نکالنے کا وعدہ کِیا ہے۔ زبورنویس نے پیشینگوئی کی: ”زمین نے اپنی پیداوار دیدی۔ خدا یعنی ہمارا خدا ہمکو برکت دے گا۔ زمین میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر اناج کی افراط ہوگی۔“ (زبور ۶۷:۶؛ ۷۲:۱۶) جیہاں، پھر زمین کے تمام باشندوں کو ”ضیافت پر بلایا“ جائیگا!