یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو 8/‏7/‏99 ص.‏ 21-‏23
  • امی اتنی بیمار کیوں ہیں؟‏

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • امی اتنی بیمار کیوں ہیں؟‏
  • جاگو!‏—‏1999ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • میرا باپ یا ماں بیمار کیوں ہے؟‏
  • تکلیف‌دہ احساسات
  • آپ کیا کر سکتے ہیں
  • اپنا روحانی توازن برقرار رکھنا
  • والدین میں سے ایک پر مشتمل خاندان کامیاب ہو سکتے ہیں!‏
    خاندانی خوشی کا راز
جاگو!‏—‏1999ء
جاگو 8/‏7/‏99 ص.‏ 21-‏23

نوجوان لوگ پوچھتے ہیں .‏ .‏ .‏

امی اتنی بیمار کیوں ہیں؟‏

ایل کا باپ کینسر سے وفات پا گیا۔‏a بائبل سے اُمیدِقیامت کی بابت تعلیم پاکر ایل کسی حد تک اس دکھ سے نپٹنے کے قابل ہو گیا۔ تاہم جب اُسے پتہ چلا کہ اُس کی ماں کو بھی کینسر ہے تو وہی خوفناک احساس پھر سے جنم لینے لگا۔ اب ماں کو بھی کھو دینے کے خیال سے ایل خوفزدہ ہو گیا۔ وہ دق ہوکر خود سے پوچھتا، ’‏میری ہی ماں بیمار کیوں ہے؟‘‏

ڈاکٹر لیونارڈ فیلڈر کے مطابق، ”‏ساٹھ ملین سے زائد امریکی اپنے کسی عزیز کی بیماری یا معذوری سے دوچار ہیں۔“‏ فیلڈر مزید بیان کرتا ہے:‏ ”‏ہر روز چار امریکی ملازمین میں سے تقریباً ایک کو بیمار ماں یا باپ“‏ یا کسی دوسرے عزیز کی ”‏ضروریات پوری کرنے کی اضافی ذمہ‌داری اُٹھانی پڑتی ہے۔“‏ اگر آپ ایسی صورتحال میں ہیں تو پھر آپ تنہا نہیں ہیں۔ تاہم، کسی عزیز کو بیماری میں مبتلا دیکھ کر خوف اور دُکھ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ آپ ممکنہ طور پر اس پر کیسے قابو پا سکتے ہیں؟‏

میرا باپ یا ماں بیمار کیوں ہے؟‏

امثال ۱۵:‏۱۳ کہتی ہے:‏ ”‏دل کی غمگینی سے انسان شکستہ‌خاطر ہوتا ہے۔“‏ جب آپ کا باپ یا ماں بیمار ہو تو حد سے زیادہ جذباتی ہو جانا فطری اَمر ہے۔ مثال کے طور پر، آپ اپنے باپ یا ماں کی نازک حالت کے باعث خود کو قصوروار محسوس کر سکتے ہیں۔ شاید آپ اور آپ کے والدین کا آپس میں گزارا نہیں ہو رہا تھا۔ ممکن ہے کہ آپ کا آپس میں چند ایک مرتبہ جھگڑا ہوا ہو۔ اب آپ کا باپ یا ماں بیمار ہے تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ یہ سب آپ کی غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔ تاہم خاندانی ناچاقی تناؤ کا سبب تو ہو سکتی ہے مگر یہ شاذونادر ہی سنگین بیماری کا سبب بنتی ہے۔ کشیدگی اور چھوٹی‌موٹی نااتفاقیاں تو پُرمحبت مسیحی گھرانوں میں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا، آپ کو خطاوار محسوس کرنے کی ضرورت نہیں گویا کہ آپ ہی اپنے باپ یا ماں کی خراب صحت کے ذمہ‌دار ہیں۔‏

بنیادی طور پر، آپ کے باپ یا ماں کی بیماری کی وجہ ہمارے پہلے والدین، آدم اور حوا کا گناہ ہی ہے۔ (‏رومیوں ۵:‏۱۲‏)‏ اُس پہلے گناہ کی وجہ سے ”‏ساری مخلوقات مل کر اب تک کراہتی ہے۔“‏—‏رومیوں ۸:‏۲۲‏۔‏

تکلیف‌دہ احساسات

پس، آپ پریشان اور فکرمند ہو سکتے ہیں۔ ٹیری کی ماں آکلہ (‏جلدی بیماری)‏ میں مبتلا ہے جسکے اثرات نہایت تباہ‌کُن ہوتے ہیں۔ ٹیری تسلیم کرتی ہے:‏ ”‏جب بھی مَیں گھر سے باہر جاتی ہوں تو مَیں اس خیال سے پریشان ہو جاتی ہوں کہ آیا امی ٹھیک ہونگی۔ میرا کسی بھی کام میں دل نہیں لگتا۔ تاہم، مَیں یہ نہیں چاہتی کہ اُسے میری پریشانی کا علم ہو اسلئے مَیں اپنے احساسات کو اپنے تک ہی محدود رکھتی ہوں۔“‏

امثال ۱۲:‏۲۵ بیان کرتی ہے:‏ ”‏آدمی کا دل فکرمندی سے دب جاتا ہے۔“‏ ایسی صورتحال میں نوجوانوں کے لئے افسردگی ایک عام بات ہے۔ ٹیری بیان کرتی ہے جب مَیں دیکھتی کہ میری ماں معمولی کام بھی نہیں کر سکتی تو مجھے بہت دُکھ ہوتا تھا۔ اس مشکل میں اضافہ کرنے والا ایک عنصر یہ ہے کہ نوجوانوں—‏بالخصوص لڑکیوں—‏کو اکثر اضافی ذمہ‌داریاں سنبھالنے پر مجبور کِیا جاتا ہے۔ پروفیسر بروس کمپاس کے مطابق، ”‏لڑکیوں پر گھر کی صفائی‌ستھرائی اور چھوٹے بہن بھائیوں کی دیکھ‌بھال جیسی خاندانی ذمہ‌داریوں کا بوجھ آن پڑتا ہے جنہیں پورا کرنے کی اُن میں صلاحیت نہیں ہوتی اور جو اُنکی عام معاشرتی نشوونما میں حائل ہو جاتی ہیں۔“‏ بعض نوعمر اپنی ہی ذات میں مگن ہو جاتے ہیں اور غمگین اور افسردہ موسیقی سنتے ہیں۔—‏امثال ۱۸:‏۱‏۔‏

والدین کے فوت ہو جانے کا خوف بھی عام ہے۔ ٹیری اکلوتی اولاد ہے اور اُسکی ماں تنہا عورت ہے۔ جب بھی اُسکی ماں ہسپتال جاتی ہے تو ٹیری اس خوف سے رونے لگتی ہے کہ اب وہ کبھی بھی گھر واپس نہیں آئیگی۔ ٹیری بیان کرتی ہے:‏ ”‏صرف ہم دونوں ہی تو تھے۔ مَیں اپنی بہترین دوست کھونا نہیں چاہتی تھی۔“‏ مارتھا نامی ایک نوعمر لڑکی نے بھی یہی بات تسلیم کی:‏ ”‏مَیں اٹھارہ برس کی ہوں مگر ابھی تک مجھے اپنے والدین کو کھو دینے سے ڈر لگتا ہے۔ یہ تنہائی کا نہایت تباہ‌کُن احساس ہوگا۔“‏ ماں‌باپ کی بیماری کے باعث پیدا ہونے والے بعض عام اثرات نیند میں اضطرابی، ڈراؤنے خواب اور کھانے کی عادات میں بے‌قاعدگی ہے۔‏

آپ کیا کر سکتے ہیں

ابھی حالات خواہ کتنے ہی مشکل دکھائی دیں آپ اُن پر قابو پا سکتے ہیں!‏ اپنے خدشات اور تفکرات کی بابت اپنے والدین کیساتھ گفتگو کریں۔ تاہم آپ کے باپ یا ماں کی حالت کتنی نازک ہے؟ اُسکی صحتیابی کا امکان کیا ہے؟ اگر آپ کا باپ یا ماں صحتیاب نہیں ہوتے تو آپ کی دیکھ‌بھال کیلئے کیا انتظامات کئے گئے ہیں؟ کیا اس بات کا امکان ہے کہ آپ کو بعدازاں زندگی میں ایسی ہی حالت کا سامنا کرنا پڑیگا؟ اگرچہ والدین کیلئے اکثر ان معاملات پر گفتگو کرنا مشکل ہوتا ہے لیکن اگر آپ تحمل اور احترام سے اُنکی مدد حاصل کرنا چاہینگے تو وہ مدد اور حمایت کرنے کی حتی‌المقدور کوشش کرینگے۔‏

آپ اُنہیں اپنے مثبت احساسات سے بھی آگاہ کریں۔ ایل یاد کرتا ہے کہ جب اُسے پتہ چلا کہ اُسکی ماں کینسر کے باعث بسترِمرگ پر تھی تو وہ ایسا کرنے سے قاصر رہا۔ وہ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اُسے یہ نہ بتا پایا کہ مَیں اُسے کتنا پیار کرتا ہوں۔ مَیں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے یہ سننا چاہتی تھی لیکن ایک نوعمر کے طور پر مجھے اُسکے سامنے ایسے احساسات کا اظہار کرنا عجیب معلوم ہوتا تھا۔ اسکے کچھ ہی دیر بعد وہ مر گئی اور اب مجھے خطا کا احساس ہوتا ہے کیونکہ جب میرے پاس موقع تھا تو مَیں اُس سے فائدہ نہیں اُٹھا پایا۔ مجھے اسکا بہت افسوس ہے کیونکہ وہ میری زندگی میں سب سے اہم شخصیت تھی۔“‏ اپنے والدین پر اس بات کا اظہار ضرور کریں کہ آپ اُن سے بے‌حد محبت کرتے ہیں۔‏

اگر ممکن ہو تو اپنے باپ یا ماں کی بیماری کی بابت علم حاصل کریں۔ (‏امثال ۱۸:‏۱۵‏)‏ اس سلسلے میں شاید آپ کا فیملی ڈاکٹر آپ کی مدد کر سکتا ہے۔ صورتحال سے اچھی طرح واقف ہونا زیادہ ہمدرد، صابر اور فہیم ثابت ہونے میں آپکی مدد کریگا۔ نیز یہ آپکو داغ، بالچر یا تھکن جیسی جسمانی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کیلئے تیار کریگا جن سے آپ کا باپ یا ماں گزر رہے ہیں۔‏

کیا آپکا باپ یا ماں ہسپتال میں ہے؟ توپھر اپنی ملاقاتوں کو خوش‌کُن اور حوصلہ‌افزا بنائیں۔ اپنی گفتگو کو اُمیدافزا رکھیں۔ اپنے سکول کے کام اور مسیحی کارگزاریوں کی بابت اُنہیں بتائیں۔ (‏مقابلہ کریں امثال ۲۵:‏۲۵‏۔)‏ اگر آپ ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں رشتہ‌داروں سے مریض کیلئے کھانا اور دیگر خدمات فراہم کرنے کی توقع کی جاتی ہے تو بِلاشکایت اپنے حصے کا کام کریں۔ صاف‌ستھری وضع‌قطع نہ صرف آپ کے باپ یا ماں کو خوش کریگی بلکہ یہ ہسپتال کے کارکنوں اور ڈاکٹروں پر بھی اچھا اثر ڈالیگی۔ یہ آپ کے باپ یا ماں کی دیکھ‌بھال میں بہتری پیدا کر سکتا ہے۔‏b

کیا آپ کے باپ یا ماں کا علاج گھر پر ہی ہو رہا ہے؟ توپھر، اُسکی دیکھ‌بھال میں بھرپور معاونت کیجئے۔ گھریلو کام‌کاج میں معقول حد تک حصہ ادا کرنے کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کریں۔ ’‏بغیر ملامت کئے فیاضی‘‏ سے خود کو وقف کر دینے سے یہوواہ کی نقل کرنے کی کوشش کریں۔ (‏یعقوب ۱:‏۵‏)‏ غیرشکایتی، رجائیت‌پسندانہ، مثبت جذبہ ظاہر کرنے کیلئے اپنی پوری کوشش کریں۔‏

بِلاشُبہ، آپ کو سکول کا کام بھی کرنا ہے۔ آپ کی تعلیم بھی ضروری ہے لہٰذا اس کیلئے بھی وقت مختص کرنے کی کوشش کریں۔ اگر ممکن ہو تو آرام اور تفریح کیلئے بھی وقت نکالیں۔ (‏واعظ ۴:‏۶‏)‏ یہ آپ کو تازہ‌دم کریگا اور اپنے باپ یا ماں کو بہتر طور پر سہارا دینے میں آپ کی مدد کریگا۔ آخر میں یہ کہ خود کو الگ‌تھلگ کرنے سے گریز کریں۔ ساتھی مسیحیوں کی حمایت سے فائدہ اُٹھائیں۔ (‏گلتیوں ۶:‏۲‏)‏ ٹیری بیان کرتی ہے:‏ ”‏کلیسیا میرا خاندان بن گئی۔ بزرگ ہمیشہ مجھ سے بات کرنے اور میری حوصلہ‌افزائی کرنے کیلئے تیار رہتے تھے۔ مَیں اسے کبھی نہیں بھولونگی۔“‏

اپنا روحانی توازن برقرار رکھنا

سب سے اہم بات اپنا روحانی توازن برقرار رکھنا ہے۔ خود کو بائبل مطالعے، اجلاسوں پر حاضری اور دوسروں کو منادی کرنے جیسی روحانی کارگزاریوں میں مشغول رکھیں۔ (‏۱-‏کرنتھیوں ۱۵:‏۵۸‏)‏ گرمی کے مہینوں میں، ٹیری امدادی پائنیر کے طور پر بشارتی کام میں اپنی شرکت کو بڑھاتی ہے۔ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏امی ہمیشہ کنگڈم ہال میں اجلاسوں کے لئے تیاری کرنے اور حاضر ہونے کے لئے میری حوصلہ‌افزائی کِیا کرتی تھیں۔ یہ ہم دونوں کے لئے مفید ثابت ہوا۔ چونکہ وہ چاہتے ہوئے بھی تمام اجلاسوں پر حاضر نہیں ہو سکتی تھی اس لئے مَیں بڑے دھیان سے سنا کرتی تھی تاکہ مَیں بعد میں اُسے اس کی بابت بتا سکوں۔ جب وہ اجلاس پر نہیں جاتی تھی تو وہ روحانی خوراک کی فراہمی کے لئے مجھ پر انحصار کرتی تھی۔“‏

دی نیو یارک ٹائمز کا ایک مضمون ایک سماجی کارکن کا ذکر کرتے ہوئے ان سب باتوں کی تلخیص کرتا ہے جو ”‏اس بات سے حیران تھی کہ والدین کی بیماری کے صدمے کے باوجود بھی بچے کتنا زیادہ پھل‌پھول سکتے ہیں۔“‏ وہ بیان کرتی ہے:‏ ”‏وہ ایسی مہارتوں کو فروغ دے لیتے ہیں جن سے وہ واقف بھی نہیں تھے .‏ .‏ .‏ اگر وہ اس صدمے کا سامنا کر سکتے ہیں تو وہ دیگر بہتیری حالتوں کا سامنا بھی کر سکتے ہیں۔“‏

آپ بھی ایسے مشکل وقت سے نکل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ٹیری کی ماں اب کسی حد تک اپنی دیکھ‌بھال کرنے کے لائق ہو گئی ہے۔ شاید ایک وقت آئے گا جب آپ کا باپ یا ماں بھی صحتیاب ہو جائیں گے۔ تاہم اسی اثنا میں، یہ مت بھولیں کہ آپ کو اپنے آسمانی دوست، یہوواہ کی حمایت حاصل ہے۔ وہ ”‏دُعا کا سننے والا“‏ ہے اور مدد کے لئے آپ کی پکار کو بھی سنیگا۔ (‏زبور ۶۵:‏۲‏)‏ وہ آپ کو—‏اور آپ کے خداترس باپ یا ماں کو—‏”‏حد سے زیادہ قدرت“‏ دیگا تاکہ آپ غالب آ سکیں۔—‏۲-‏کرنتھیوں ۴:‏۷؛‏ زبور ۴۱:‏۳‏۔‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a بعض نام بدل دئے گئے ہیں۔‏

b مارچ ۸، ۱۹۹۱ کے اویک!‏ کے شمارے میں مضمون ”‏مریض سے ملاقات—‏مدد کیسے کریں“‏ کے اندر متعدد عملی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔‏

‏[‏صفحہ 22 پر عبارت]‏

‏”‏جب بھی مَیں گھر سے باہر جاتی ہوں تو مَیں اس خیال سے پریشان ہو جاتی ہوں کہ آیا امی ٹھیک ہونگی“‏

‏[‏صفحہ 23 پر تصویریں]‏

اپنے باپ یا ماں کی بیماری کی بابت حقائق سے واقف ہونا آپکو مددگار ثابت ہونے کیلئے بہتر طور پر لیس کر سکتا ہے

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں