نوجوانوں سے متعلق یواین کے اقدام کس حد تک کامیاب ہیں؟
تقریباً ۱۵ سال پہلے یواین نے ۱۹۸۵ کے سال کو نوجوانوں کا بینالاقوامی سال قرار دیا تھا۔ علاوہازیں، کوئی چار سال پہلے، یواین نے سن ۲۰۰۰ اور اسکے بعد ورلڈ پروگرام آف ایکشن فار یوتھ ترتیب دیا تھا۔ یہ اُمید کی گئی تھی کہ یہ اقدام مسائل کو کم کرنے اور دُنیا کے ایک بلین سے زائد نوجوانوں کیلئے زیادہ مواقع فراہم کرنے میں معاون ثابت ہونگے۔ کیا ان پروگراموں سے کوئی فرق پڑا ہے؟
بِلاشُبہ بعض علاقوں میں ان سے فرق پڑا ہے۔ اقوامِمتحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت شائع ہونے والا میگزین، چوائسز، چند مثالیں پیش کرتا ہے: تھائیلینڈ میں ۱۹۸۲ میں سکول نہ جانے والی عمر کے بچوں کی نصف سے زیادہ تعداد ناکافی خوراک کا شکار تھی۔ تاہم، دس سال سے بھی کم عرصہ میں، ناکافی خوراک کا شدید اور خفیف مسئلہ تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ عمان میں، ۱۹۷۰ میں صرف تین سکول تھے اور صرف ۹۰۰ لڑکے ان میں حاضر ہوتے تھے۔ لیکن ۱۹۹۴ میں، اُس ملک میں تقریباً ۵،۰۰،۰۰۰ بچے سکول جانے لگے جن میں سے ۴۹ فیصد لڑکیاں تھیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کامیابی کی سرگزشتیں ہیں۔
تاہم، یواین کتاب یونائیٹڈ نیشنز ایکشن فار یوتھ بیان کرتی ہے کہ بالخصوص ترقیپذیر ممالک میں، تعلیم، روزگار اور غربت سے پیدا ہونے والے مسائل کے سلسلے کے باعث ترقی ماند پڑ گئی ہے اور یہ محض چند ایک حلقے ہیں جن میں بہتری لانا عالمی پروگرام کا مقصد ہے۔
مثال کے طور پر بیشتر ترقیپذیر ممالک، سن ۲۰۰۰ تک تمام بچوں کیلئے بنیادی تعلیم فراہم کرنے کے نصبالعین کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔ ان ممالک میں والدین اکثر اپنے بچوں کو محض اسلئے سکول نہیں بھیج سکتے کیونکہ یا تو سکول دستیاب ہی نہیں ہیں یا پھر اُن کی پہنچ سے باہر ہیں۔ نتیجتاً، یونائیٹڈ نیشنز ایکشن فار یوتھ بیان کرتی ہے، ”اَنپڑھ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہیگا۔“ ناخواندگی بیروزگاری کا باعث بنتی ہے اور بیروزگاری ”عزتِنفس کی کمی، معاشرے میں غیراہم حیثیت،“ نوجوانوں کی صلاحیتوں کے ضیاع اور انتہائی غربت جیسی بیشمار معاشرتی بُرائیوں پر منتج ہوتی ہے۔ اگرچہ غربت جوان اور بوڑھے دونوں کو یکساں متاثر کرتی ہے توبھی نوجوان بالخصوص اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ یواین کی یہی کتاب نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ تمام کاوشوں کے باوجود، ”ابھی تک بھوک اور ناقص غذا انسانیت کو درپیش انتہائی سنگین اور پیچیدہ خطرات کا حصہ ہیں۔“
خلوصدلی سے ترتیب دئے گئے پروگرام اور محنتی ماہرین کی بدولت کچھ بہتری آنے کے باوجود معاشرے کی بُرائیوں کے اسباب کو ختم کرنا مشکل ہے۔ اسے انجام دینے کیلئے اَور کچھ بھی درکار ہے۔ جیسےکہ کتاب مینسنرکٹن نوڈزک ویرلڈ بی سٹر (ہیومن رائٹس اینڈ دا نےسیسٹی آف ورلڈ گورنس) کے بیان کے مطابق دُنیا کے مسائل صرف اُسی صورت میں حل ہو سکتے ہیں ’اگر کوئی ایسی حکومت آ جائے جو قابلِنفاذ قوانین وضع کرنے کے قابل ہو۔‘ لہٰذا یہ کوئی انہونی بات نہیں کہ جوان اور بوڑھے ہر عمر کے مسیحی خدا کی آنے والی بادشاہت پر آس لگائے ہوئے ہیں جو ایک ایسی عالمی حکومت ہے جس کیلئے یسوع نے اپنے پیروکاروں کو دُعا کرنے کا حکم دیا تھا۔ (دانیایل ۲:۴۴؛ متی ۶:۹، ۱۰) وہ حکومت واقعی بہتری لائیگی!
[صفحہ 31 پر تصویر]
تعلیم تمام بچوں کا بنیادی حق اور ضرورت ہے