دُنیا کا نظارہ کرنا
عالمی صحت کی مشکل
عالمی ادارۂصحت کا ڈاکٹر ڈیوڈ ہیمان کہتا ہے: ”ہم اکیسویں صدی میں داخل ہونے والے ہیں تو بھی ہم ابھی تک ایسے متعدی امراض کا سامنا کرتے ہیں جو تمام دُنیا میں ۳۳ فیصد اموات کا سبب بنیں گے۔“ بہت سے عناصر اس مسئلے کو جنم دیتے ہیں۔ دی جرنل آف امریکن میڈیکل ایسوسیایشن بیان کرتا ہے کہ آبادی میں اضافے، حفاظتی ٹیکوں کے ناکام پروگرام، بہت زیادہ ہجوم، ماحولیاتی تبدیلیاں اور عوامی صحت کے عالمگیر نظام کی تنزلی سب نے اپنا کردار ادا کِیا ہے۔ دیگر عوامل میں جبری ہجرت، مہاجر اور عالمی مسافرت میں اضافہ شامل ہے—یہ سب متعدی امراض کے پھیلنے کا سبب بنتے ہیں۔ ”درحقیقت اسکی کوئی موزوں وجہ نظر نہیں آتی،“ ڈاکٹر ہیمان کہتا ہے، ”کیونکہ ان بیماریوں سے مقابلہ کرنے یا انہیں ختم کرنے کیلئے آلات موجود ہیں۔“
مورمنز اور سیاست
دی چرچ آف جیزز کرائسٹ آف لیٹر ڈے سینٹس (ایلڈیایس) نے ریاستہائے متحدہ میں اپنے ممبران کی سیاست میں مزید سرگرم ہونے کیلئے حوصلہافزائی کی ہے، کرسچین سینچری میگزین رپورٹ دیتا ہے۔ حال ہی میں ایلڈیایس کی اعلیٰ کونسل کی صدارتِعظمیٰ نے ایک خط شائع کِیا جس میں ممبران کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ ”رضامندی سے سکول بورڈ، شہری اور ملکی قانونساز مجالس اور وفود، ریاستی قانونساز مجالس اور دیگر اعلی مرتبوں پر انتخاب یا تقرری کی بنا پر خدمت انجام دیں اور اسکے علاوہ اپنی پسند کی سیاسی جماعت میں بھی شمولیت اختیار کریں۔“ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ چرچ کسی خاص اُمیدوار یا سیاسی جماعت کی تائید نہیں کرتا۔ میگزین بتاتا ہے کہ فرقے کے ابتدائی سالوں میں ”مورمنز نے سیاست میں شمولیت سے گریز کِیا اور اپنی ذاتی تھیوکریسی قائم کرنے کی کوشش کی جسے اب اُتاہ کہا جاتا ہے۔“
ذہنی دباؤ کار حادثات میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
جرمنی میں، پروفیشنل ایسوسیایشن فار ہیلتھ سروس اور سوشل ویلفیئر کی تحقیق کے مطابق ایک شخص کا کام کی بابت رجحان اُسکے گاڑی چلانے کے رویے کو بہت متاثر کرتا ہے۔ سڈیوشے زیتنگ بیان کرتا ہے کہ کام کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار لوگ ہی زیادہتر سڑک پر حادثات کا موجب بنتے ہیں۔ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ ”آجر یا ساتھی کارکنوں کیلئے دبے ہوئے احساسات ڈرائیونگ کرتے ہوئے توجہ کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔“ تحقیق کے دوران، ۷۵ فیصد لوگوں نے جو کام سے آتے یا جاتے ہوئے سڑک پر ہونے والے حادثات کا باعث بن چکے تھے ”توجہ کی کمی، عجلت، وقت پر پہنچنے کے دباؤ یا دیگر اقسام کے دباؤں“ کو اسکی وجہ قرار دیا۔ اگرچہ منفی دباؤ کے تحت آدمیوں کے ساتھ حادثہ پیش آنے کے امکانات زیادہ ہیں، تاہم تحقیق نے واضح کِیا کہ چھوٹے بچوں کی ماؤں کو بھی یہ خطرہ لاحق ہے۔ اخبار بیان کرتا ہے: ”وہ بہت زیادہ دباؤ کے تحت ہوتی ہیں کیونکہ اُنہیں وقت پر اپنے بچوں کو سکول سے واپس لینا یا دوپہر کا کھانا پکانا ہوتا ہے۔“
بچوں میں ڈراؤنے خواب عام ہیں
تقریباً تمام بچے بھیانک خوابوں سے دق ہوتے ہیں۔ مینہیم، جرمنی میں سینٹرل انسٹیٹیوٹ فار مینٹل ہیلتھ کی تحقیق کے مطابق ۱۰ میں سے ۹ بچے خواب کی وجہ سے جاگنے کو یاد رکھتے ہیں۔ ڈراؤنے خوابوں میں وہ اکثر یہ دیکھتے ہیں کہ کوئی اُنکا تعاقب کر رہا ہے، وہ اونچی جگہ سے گر رہے ہیں یا قدرتی آفات یا جنگ کا شکار ہو گئے ہیں۔ بیشتر معاملات میں یہ خواب حقیقی دنیا اور تخیلاتی دنیا کے ملےجلے عناصر پر مبنی ہوتے ہیں۔ لڑکے عموماً خوابوں کو بھول جاتے ہیں۔ اسکے برعکس لڑکیاں اپنے خوابوں کی بابت گفتگو کرتی یا اُنہیں لکھتی ہیں۔ برلنر زیتنگ بیان کرتا ہے کہ ماہرین کا مشورہ یہ ہے کہ ڈراؤنے خوابوں کے باعث کسی بھی پریشانی سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے بچوں کو خواب کے بارے میں گفتگو کرنی چاہئے، اُس کی تصویر بنانی چاہئے یا اُس کے کسی منظر کو ڈرامے کی صورت میں پیش کرنا چاہئے۔ اگر ان تجاویز پر عمل کِیا جاتا ہے تو خوابوں کی شدت چند ہی ہفتوں میں کم ہو جائیگی اور پھر وہ بھیانک معلوم نہیں ہونگے۔
نشہآور ادویات کے عادی ڈاکٹر
برطانیہ میں طبّی ماہرین کے مطابق ”۱۵ میں سے ایک ڈاکٹر الکحل یا نشہآور ادویات کا عادی ہوتا ہے،“ کینیڈا کا دی میڈیکل پوسٹ رپورٹ دیتا ہے۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے برطانیہ میں ممتاز طبّی تنظیمیں نشہآور ادویات کے اتفاقی ٹیسٹ کو متعارف کرانا چاہتی ہیں تاکہ الکحل یا نشہآور ادویات استعمال کرنے والے ڈاکٹروں کی شناخت کی جا سکے۔ ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں مردوزن پر مشتمل ۹،۰۰۰ سے زیادہ ڈاکٹر الکحل یا دیگر ادویات کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ بعض ڈاکٹر ”مدد کے خواہاں نہیں ہوتے کیونکہ وہ نہیں جانتے کہ اُنکے لئے کونسی خدمات دستیاب ہیں،“ میگزین بیان کرتا ہے۔
کھانے کو دوبارہ گرم کرنے سے عفونتی زہر ختم نہیں ہوتا
ٹوفٹس یونیورسٹی ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن لیٹر بیان کرتا ہے، گوشت کو پکانے کے بعد دو گھنٹے تک اگر فریج میں نہیں رکھا جاتا تو اسے کھانا نہیں چاہئے۔ تاہم کیا اسے دوبارہ پکانا نقصاندہ بیکٹیریا کو تلف نہیں کر دیتا؟ ”باہر چھوڑ دئے جانے والے کھانے کو گرم کرنا شاید اُس بیکٹیریا کو تو ختم کر دے جو اس کی سطح پر ہوتا ہے، تاہم یہ بیکٹیریا کی چند اقسام کے باعث پیدا ہونے والے عفونتی زہریلے مادوں کو ختم نہیں کرتا جو بیماری کا سبب بنتے ہیں،“ نیوٹریشن لیٹر بیان کرتا ہے۔ ایک عام بیکٹیریا سٹافلوکوکس پیٹ درد، ہیضہ، قے، سردی، بخار اور سردرد کا باعث ہو سکتا ہے۔ ”حتیٰکہ کھانے کو انتہائی درجۂحرارت تک گرم کرنا بھی اُس عفونتی زہر کو ختم نہیں کر سکتا۔“
برازیل میں کارنیوال (جشنِمسرت)
”کارنیوال نے شاید رائیو ڈی جنیرو کو تو مشہور کر دیا ہو مگر زیادہتر برازیلی اس میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے،“ نینڈونیٹ رپورٹ دیتا ہے۔ پوری دنیا میں بیشتر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جشن ہی برازیلی لوگوں کی زندگی ہے۔ تاہم برازیلز انسٹیٹیوٹ فار سوشل ریسرچ تصویر کا ایک دوسرا رخ پیش کرتا ہے۔ اسکا تجزیہ یہ ہے کہ ۶۳ فیصد برازیلی ان رنگرلیوں میں حصہ نہیں لیتے، ۴۴ فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ”ذرا بھی دلچسپی نہیں رکھتے،“ اور ۱۹ فیصد نے کہا کہ وہ ”کارنیوال سے نفرت کرتے ہیں۔“ اخبار جرنل ڈو برازیل نے رپورٹ دی کہ اس سال مرکزی نیشنل ٹیوی نیٹورک نے سمبا رقص کے مقابلوں کو نشر تک نہیں کِیا تھا۔ پھر بھی ہزاروں سیاح اس جشن کو دیکھنے کیلئے برازیل آتے ہیں۔ چونکہ برازیل میں ایڈز کی شرح سب سے زیادہ ہے اسلئے وزارتِصحت نے کارنیوال کے دوران ملین کی تعداد میں کنڈومز تقسیم کئے۔
”لکی لاٹری ٹری“
بنکاک، تھائیلینڈ کے نزدیک ایک گاؤں میں رہنے والے غصہور لوگوں نے پیشہور جواریوں کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دی ہے جن پر اُنہیں اُن کے ”لکی لاٹری ٹری“ جلانے کا شُبہ ہے، ساؤتھ چائینہ مارننگ پوسٹ رپورٹ دیتا ہے۔ ”خوشقسمتی کے درخت“ کو لاٹریاں جیتنے کے لئے مشورت دینے کی وجہ سے ملکگیر شہرت حاصل ہو چکی تھی لہٰذا جب دیہاتیوں کو پتہ چلا کہ ایک آتشزن نے درخت کو جلا دیا ہے تو وہ جھنجھلا گئے۔ ”مَیں واقعی بہت غصے میں ہوں،“ ڈونجمیلی نے کہا۔ ”مَیں نے خود اس درخت کی وجہ سے کافی پیسے جیتے ہیں اور دوسروں کو لاٹری کی بابت درخت کی ہدایت پڑھنے کا طریقہ سکھانے سے بھی کافی پیسے بنائے ہیں۔“ تاہم کہا جاتا ہے کہ حملے کے بعد سے درخت کی روح متاثر ہوئی ہے اور دیہاتیوں کا دعویٰ ہے کہ اب روح لاٹری کے بارے میں کوئی مشورہ نہیں دیتی۔ رپورٹ نے بیان کِیا کہ درخت کی روح کو لاٹری کی بابت دوبارہ مشورہ دینے پر راضی کرنے کے لئے دیہاتی بدھسٹ راہب کو لانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔
ٹیوی زیادہ، پڑھائی کم
یونان میں آڈیو ویژوئل انسٹیٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق ملک میں ۵.۳ ملین گھرانوں کیلئے ۸.۳ ملین ٹیوی سیٹ ہیں؛ ۳ میں سے ۱ گھر میں ویڈیوکیسٹ ریکارڈر بھی ہے۔ اتھینے کا ایک اخبار ٹو ویما رپورٹ دیتا ہے کہ یونانی ۱۹۹۶ میں اوسطاً چار گھنٹے ٹیوی دیکھتے تھے جبکہ ۱۹۹۰ میں ٹیوی دیکھنے کا وقت نسبتاً اڑھائی گھنٹے کم تھا۔ حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ پڑھائی کے اوقات میں کافی کمی واقع ہوئی ہے۔ سروے نے آشکار کِیا کہ ۱۹۸۹ میں ۲.۴۲ فیصد عام یونانی اخبار پڑھتے تھے جبکہ ۱۹۹۵ میں یہ عدد کم ہو کر ۳.۲۸ ہو گیا۔ اسی طرح اس اثنا میں رسالے پڑھنے میں بھی ۱۰ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
فاقہزدہ عمررسیدہ
”عمررسیدہ لوگ اکثر کم کھاتے ہیں لہٰذا اُن کے بیمار ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں،“ فرینکفرٹ، جرمنی کا ناشوایش نوئی پریسی رپورٹ دیتا ہے۔ یہ نتیجہ دس یورپی ممالک میں ۷۰ سال سے زیادہ عمر کے ۲،۵۰۰ آدمیوں اور عورتوں کا سروے کرنے کے بعد اخذ کِیا گیا۔ بہتیرے لوگ سوچتے ہیں کہ عمررسیدہ لوگوں کو کم خوراک کی ضرورت ہے مگر بہت کم کیلوریز بیماری سے مزاحمت کرنیکی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہیں۔ مزیدبرآں عمررسیدہ لوگوں کا کھانا بھی اتنا غذائیت بخش نہیں ہوتا کیونکہ وہ وقت سے بہت پہلے کافی زیادہ کھانا پکا لیتے ہیں اور کافی دیر تک محفوظ رکھتے ہیں۔ نیز، بہتیرے بہت کم تازہ پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں بالخصوص جب اُنکا موسم نہ ہو۔ تحقیق سے نتیجہ اخذ کِیا گیا کہ ڈاکڑوں کو عمررسیدہ مریضوں کو ”اچھا اور باقاعدگی سے کھانا“ کھانے کی بابت یاددہانی کرانی چاہئے۔ یہ بھی تجویز کِیا گیا ہے کہ عمررسیدہ لوگوں کو ورزش کی تربیت دی جانی چاہئے کیونکہ جسمانی تھکاوٹ بھوک کو بڑھاتی ہے۔
بائبل ۲،۱۹۷ زبانوں میں دستیاب
”گزشتہ سال بائبل کے حصوں کا ۳۰ اضافی زبانوں میں ترجمہ کِیا گیا جس سے اُن زبانوں کی کل تعداد ۲،۱۹۷ تک پہنچ گئی جن میں بائبل دستیاب ہے،“ جنیوا، سوئٹزرلینڈ کا ایاین آئی بلیٹن رپورٹ دیتا ہے۔ پوری بائبل ایسپرانٹو جیسی تخلیقکردہ زبانوں سمیت اب ۳۶۳ زبانوں میں دستیاب ہے۔ یونائیٹڈ بائبل سوسائٹیز اُن زبانوں (یوبیایس) کا بھی حساب رکھتی ہے جن میں بائبل کی کوئی ایک کتاب بھی شائع کی گئی ہے۔ یوبیایس کے جنرل سیکریٹری فرگس میکڈونلڈ کا کہنا ہے کہ ہمارا نصبالعین ”خدا کے کلام کو لوگوں کی مادری زبان میں دستیاب کرنا“ ہے۔