ناقابلِتصور اذیت کے آلات
کیا ”بیڑی،“ ”اذیت،“ اور ”پھانسی“ جیسے الفاظ آپ کے رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں؟ یورپ میں (۱۳ویں اور ۱۹ویں صدیوں کے درمیان) مذہبی عدالت اور جادوگرنیوں سے متعلق مقدمات کا نشانہ بننے والے کئی ہزار ستمرسیدہ لوگوں کیلئے یہ ایک دردناک حقیقت تھے۔ یہاں پر دکھائے گئے آلات اُسی زمانے کے ہیں جو جرمنی میں، رائن کے مقام پر رُوڈِشم میوزیم کی ملکیت ہیں۔ ان سے ہمیں ستمرسیدہ لوگوں کی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے۔
بیچارے مجرم کو جب نوکیلے کانٹوں سے بھری ہوئی عدالتی کرسی پر تفتیش کیلئے برہنہ بٹھایا جاتا تھا تو وہ ناقابلِبیان درد سے گزرتا تھا۔ مجرم کے بازوؤں، ٹانگوں یا جوڑوں کو شکنجوں کیساتھ علیٰحدہ یا خراب کر دیا جاتا تھا۔ بلی کا پنجہ اُسکی کھال اُدھیڑنے کیلئے استعمال کِیا جاتا تھا؛ جس سے جسم کا کوئی بھی حصہ محفوظ نہیں رہتا تھا۔ کانٹےدار کالر سے مجرم کی گردن، کندھے اور جبڑا گلنے لگتے تھے جو جلد ہی خون کے زہریلےپن اور موت پر منتج ہوتا تھا۔
رومن کیتھولک چرچ کی طرف سے سزا دینے کیلئے مُتعیّنہ اشخاص، غداروں سے—زیادہتر عام لوگ جنہیں مجرم قرار دیا جاتا تھا اور جن سے اذیت کے ذریعے زبردستی ”اقبالِجرم“ کرایا جاتا تھا—نپٹنے کیلئے انہیں اور انہی جیسے دیگر آلات استعمال کِیا کرتے تھے۔ بِلاشُبہ، پاپائی تفتیش کے دوران جس میں ولندیزی شامل تھے اذیت دینے والے آلات پر پاک پانی تک چھڑکا جاتا تھا۔
مسیحی دُنیا کے کاندھوں پر، مذہبی عدالت کی کارروائیوں کے جرم کا بھاری بوجھ ہے۔ مؤرخ والٹر نگھ وضاحت کرتا ہے: ”مسیحی دُنیا کو اُس وقت تک کوئی برکت حاصل نہیں ہوگی جبتک وہ مذہبی عدالت سے سرزد ہونے والے گناہوں کا برملا اور پُختہ یقین کے ساتھ اعتراف کرتے ہوئے مذہب کے نام سے ہر طرح کے تشدد کو خلوصدلی سے اور غیرمشروط طور پر ترک نہیں کر دیتی۔“
[صفحہ 31 پر تصویر]
عدالتی کرسی
شکنجہ
بلی کا پنجہ
کانٹےدار کالر