رومانیہ میں روحانی بھوک
براسو، رومانیہ سے ایک پریس رپورٹ نے بیان کِیا کہ رومانیہ کے ۲۳ ملین لوگوں میں سے تقریباً ۹۰ فیصد آرتھوڈکس چرچ کے رُکن ہیں جسے کمیونسٹ حکومت کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاہم، کیچُنےکُتا سٹی، کولوریڈو، یو.ایس.اے. کے ڈیلی ریکارڈ نے لکھا کہ چرچ اب بہتیرے لوگوں کی توقعات پر پورا نہیں اُترتا۔ اسکی شہسُرخی کچھ یوں تھی: ”رومانیہ کے لوگ آرتھوڈکس چرچ میں معاشرتی موزونیت کی کمی پاتے ہیں۔“
گزشتہ اکتوبر اخبار نے خبر دی کہ ”مصنف اور فلاسفر، الیگزینڈرو پالیلوگُو نے چرچ حکام پر عدمِاعتماد کا اظہار کِیا اور کہا کہ مذہب کی امتیازی طرز اور اصلیت سب خلطملط ہو گئے ہیں۔ مثلاً، لوگ اپنے اُوپر صلیب کا نشان بناتے ہیں اور مقررہ دنوں پر روزے رکھتے ہیں۔ لیکن اسقاطِحمل، جسے چرچ گناہ خیال کرتا ہے، مقبولِعام ہے۔“
ڈیلی ریکارڈ نے ایک خاندان پر گواہوں کے بائبل تعلیم کے پروگرام کے اثر کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کِیا کہ بہتیرے لوگ یہوواہ کے گواہ بن گئے ہیں: ”فلورہتھیںلفظاٹینا پیٹریسور بیان کرتی ہے کہ اُسکا شوہر بہت زیادہ شراب پیتا تھا اور اُسے بُری طرح پیٹتا تھا۔ لیکن جب سے وہ دونوں یہوواہ کے گواہ بنے ہیں اُنکی خاندانی زندگی اَمن کا گہوارہ بن گئی ہے۔“
خبر کے مطابق، ۳۸سالہ سلائی مشین چلانے والی فلورہتھیںلفظاٹینا نے ”آرتھوڈکس چرچ کو اسکی روحانی تعلیمات کی کمی اور اسکے مقامی پادریوں کی مادہپرستی کی وجہ سے چھوڑ دیا۔“ اخبار نے وضاحت کی: ”جب اُس کا سُسر فوت ہو گیا تو پیٹریسور نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ اپنے بچوں کو کھانا کھلائے خاندان کو تجہیزوتکفین کی عمدہ تقریب کیلئے پادری کو پیسے اور کھانا دینا ہوگا۔ اُس نے کہا ’میرے خیال میں یہ درست نہیں تھا۔‘“
گواہوں کی بابت غلط معلومات پھیلانے کی چرچ مہم کے سلسلے میں ڈیلی ریکارڈ نے بیان کِیا: ”رومانیہ میں آرتھوڈکس چرچ نے جو ازسرِنو زور پکڑ چکا ہے، اس موسمِگرما میں یہوواہ کے گواہوں کے بڑے اجتماع کو دارالحکومت بخارسٹ سے براسو اور کلوج کے ٹرانسلوہتھیںلفظاکُتوکُتا شہروں میں منتقل کرنے کی ترکیبیں نکالنے میں حکومت کی مدد کی۔“
فروری ۲۲، ۱۹۹۷ کے اویک! نے چرچ کی اُس مہم کا ذکر کِیا تھا جو جولائی ۱۹۹۶ میں بخارسٹ کیلئے ترتیب دی گئی بینالاقوامی کنونشن کو منسوخ کرانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے چلائی گئی تھی۔ آپ اس رسالے میں پڑھ سکتے ہیں کہ کیسے کلوج ناپوکا اور براسو میں ان متبادل کنونشنوں کا فوراً بندوبست کِیا گیا اور کیسے کُل ۳۴،۸۶۶ لوگ اُن پر حاضر ہوئے۔ اس نے جو عالمی دھوم مچائی وہ واقعی حیرانکُن تھی۔ ایک گواہ نمائندے نے کہا کہ ”رومانین آرتھوڈکس چرچ کے خیال میں جو چیز ہمارے راستے کی رُکاوٹ تھی، درحقیقت وہی خوشخبری کے فروغ کا باعث ثابت ہوئی۔“
[صفحہ 31 پر تصویر]
براسو کنونشن پر گیت گاتے ہوئے مندوبین