دُنیا کا نظارہ کرنا
”چین کی عمررسیدہ ہونے والی آبادی“
”چین کی عمررسیدہ ہونے والی آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے،“ جریدہ چائنا ٹوڈے بیان کرتا ہے۔ ”۱۹۹۴ کے اختتام تک چین میں ۶۰ برس کی عمر سے زیادہ کے ۹۷.۱۱۶ ملین بوڑھے شہری تھے جوکہ ۱۹۹۰ کی نسبت ۱۶.۱۴ فیصد اضافہ تھا۔“ ۶۰ برس سے زیادہ عمر والے لوگ اب مُلک کی تقریباً ۱۰ فیصد آبادی کو تشکیل دیتے ہیں اور عمررسیدہ آبادی میں ایسی شرح کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے جو کُل آبادی کا تقریباً تین گنا ہے۔ اُنکی دیکھبھال کیسے ہو رہی ہے؟ اگرچہ کام کی مزدوری، پینشن، سوشل انشورنس اور ریلیف بہتیروں کی ضروریات پوری کرتے ہیں، چین کے ۵۷ فیصد عمررسیدہ شہریوں کی دیکھبھال اُنکے بچے یا رشتےدار کرتے ہیں۔ چائنا ٹوڈے بیان کرتا ہے، ”چونکہ چین میں خاندانی تعلقات نسبتاً مستحکم ہیں اور چین میں عمررسیدہ کا احترام کرنے اور اُنکی دیکھبھال کرنے کی شاندار روایت قائم ہے، لہٰذا زیادہتر عمررسیدہ شہری اپنے رشتےداروں کیساتھ رہتے ہیں اور اُن کی طرف سے اچھی دیکھبھال سے استفادہ کرتے ہیں، چین کے صرف ۷ فیصد عمررسیدہ لوگ تنہا رہتے ہیں۔“
چائلڈ لیبر—ایک بڑھتا ہوا مسئلہ
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ۱۰ سے ۱۴ سال کی عمر کے دُنیا کے تقریباً ۱۳ فیصد بچوں—تقریباً ۷۳ ملین بچوں سے—جبراً کام کروایا جاتا ہے۔ رپورٹ نے اضافہ کِیا کہ اگر دس سال سے کم عمر اور گھر میں سارا وقت کامکاج کرنے والی لڑکیوں کے اعدادوشمار دستیاب ہوتے تو دُنیا میں چائلڈ لیبر فورس کی تعداد غالباً کروڑوں تک پہنچ گئی ہوتی۔ اگرچہ جنیوا میں قائم تنظیم ۸۰ برس سے چائلڈ لیبر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو بھی مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے، بالخصوص افریقہ اور لاطینی امریکہ میں۔ جبکہ غلامانہ مزدوری اور کام کرنے کی پُرخطر حالتیں ایسے لاکھوں بچوں کا مقدر ہیں، عصمتفروشی کا خاص مسئلے کے طور پر حوالہ دیا گیا تھا۔ رپورٹ بیان کرتی ہے کہ بعض ممالک میں ”بالغ لوگ [ایچآئیوی] انفیکشن سے بچاؤ کے ذریعے کے طور پر بچوں کو جنسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بابت غور کر رہے ہیں۔“ پیرس کے دی انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹرائبیون نے کہا کہ تنظیم نے ”سرکاری اہلکاروں کو موردِالزام ٹھہرایا . . . جنہوں نے مسئلے کو نظرانداز کِیا تھا۔“
بچوں کی ضروریات پوری کرنا
یونیسیف (اقوامِمتحدہ کا بچوں کی امداد کا ادارہ) کی طرف سے ایک رپورٹ، دی سٹیٹ آف دی ورلڈز چلڈرن ۱۹۹۵ بیان کرتی ہے کہ یہ سوچنا نامعقول بات ہے کہ دُنیا اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر سکتی۔ اپنے نقطے کو سمجھانے کیلئے، یونیسیف مندرجہذیل اعدادوشمار پیش کرتا ہے: عالمی پیمانے پر مناسب خوراک اور بنیادی صحت کی سہولیات پوری کرنے کی اضافی لاگت اندازاً ۱۳ بلین ڈالر سالانہ ہے؛ ابتدائی تعلیم کیلئے ۶ بلین ڈالر؛ صاف پانی اور سینیٹیشن کیلئے ۹ بلین ڈالر؛ خاندانی منصوبہبندی کیلئے ۶ بلین ڈالر—مجموعی طور پر ۳۴ بلین ڈالر سالانہ۔ وہ کہتے ہیں اسکا مقابلہ پہلے ہی سے ہر سال خرچ کی جانے والی مندرجہذیل کُل رقم سے کریں: گاف، ۴۰ بلین ڈالر؛ بیئر اور شراب، ۲۴۵ بلین ڈالر؛ سگریٹ، ۴۰۰ بلین ڈالر؛ ملٹری، ۸۰۰ بلین ڈالر۔ وہ کہتے ہیں اگر مناسب اوّلیتیں قائم کر لی جائیں تو دُنیا کے تمام بچوں کی یقینی طور پر مناسب دیکھبھال ہو سکتی ہے۔
”افیم کی نئی جنگ“
دی ٹائمز آف انڈیا نے یو.ایس. میں تمباکو کی کمپنیوں کی اپنی مصنوعات کو ایشیا میں منتقل کرنے کیلئے اُنکی تمامتر کوششوں کو اسطرح بیان کِیا۔ اگرچہ صرف انڈیا ہی میں ہر سال کمازکم ایک ملین لوگ تمباکو سے متعلق بیماریوں سے مرتے ہیں توبھی انڈیا کی حکومت نے ابھی تک تمباکو کے خلاف کوئی قانون وضع نہیں کِیا۔ ٹائمز رپورٹ کے مطابق، یہ تمباکو کی کمپنیوں کی، قومی اور بینالاقوامی دونوں طرح سے، طاقتور لابی اور ”یو.ایس. فیڈرل قوانین کی بدولت ہے جو ایسے ممالک کے خلاف تجارت کی منظوریوں کی دھمکی دیتے ہیں جو یو.ایس. تمباکو کی مصنوعات کی فروخت کی اجازت نہیں دیتے۔“ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ انڈیا کی دیہی آبادی کا ۹۹ فیصد تمباکو کے استعمال کے کسی بھی نقصان سے بےبہرہ ہے۔ میڈیا ایکسپوژر عموماً سگریٹنوش کو پُراعتماد، دلکش اور محفوظ دکھاتا ہے۔ کرکٹ جیسی مقبولِعام کھیلوں کے بڑے بڑے مقابلے، تمباکو کمپنیوں کے تعاون سے پیش کئے جاتے ہیں۔ سگریٹیں حکومت کیلئے بھی خاطرخواہ آمدنی کا ذریعہ ہیں جس نے سگریٹ کی چار کمپنیوں میں روپیہ لگایا ہے۔
دوزخ کی آگ کے اعتقاد سے انکار کر دیا گیا
چرچ آف انگلینڈ کی ایک رپورٹ نے اس روایتی نظریے کو مسترد کر دیا ہے کہ دوزخ آگ اور ابدی عذاب کی جگہ ہے۔ چرچ کے عقیدے کے کمیشن کی رپورٹ کے مطابق، ”مسیحیوں نے ہراساں کرنے والے نظریات کا دعویٰ کِیا ہے جنہوں نے خدا کو ایک سادیانہ عفریت بنا دیا ہے اور بہتیروں کو تکلیفدہ نفسیاتی زخم لگائے ہیں۔“ اس نے اضافہ کِیا: ”اس تبدیلی کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ان میں سے چند ایک وجوہات مسیحی ایمان کے اندر اور باہر سے خوف کے ایک مذہب کے خلاف اخلاقی احتجاج اور اس بات کا بڑھتا ہوا احساس ہے کہ ایک ایسے خدا کا تصور جس نے لاکھوں لوگوں کو اذیت کے حوالہ کر دیا ہے مسیح کے ذریعے خدا کی محبت کے انکشاف سے بالکل مختلف ہے۔“ تاہم، وہ کہتے ہیں کہ ہر شخص کو روزِعدالت کا سامنا ہے اور یہ کہ وہ جو آزمائش میں پورے نہیں اُترتے اُنہیں مکمل بربادی یا نیستی کی حالت میں ڈال دیا جائیگا۔ نیو یارک کا ہیرلڈ ٹرائبیون بیان کرتا ہے: ”رپورٹ نے یہ واضح کر دیا کہ ہر مذہب کے تمام لوگوں کیلئے خودبخود بچ جانے کی کوئی صورت نہیں ہے۔“
بنمانس ہیروئین
ایک تین سالہ لڑکا ایک احاطے میں گِر گیا جہاں سات گوریلے، شکاگو کے نواحی علاقے بروکفیلڈ کے چڑیاگھر میں نمائش کے لئے رکھے گئے تھے اور اسے ایک مادہ گوریلے نے بچا لیا۔ لڑکا جو اپنی ماں سے الگ ہو گیا تھا، ۴ فٹ اُونچے جنگلے پر چڑھ گیا اور تقریباً ۲۰ فٹ کی بلندی سے نمائش کے کنکریٹ کے فرش پر گِر پڑا جس سے اُس کے سر میں چوٹ آئی۔ آٹھ سالہ گوریلا—بنٹی جُوأ—جسکا مطلب ہے ”دھوپ کی بیٹی“—چہلقدمی کرتی ہوئی آئی اور آہستہ سے زخمی بچے کو اُٹھا لیا۔ خود اپنے بچے کو پیٹھ پر اُٹھائے ہوئے، بنٹی نے لڑکے کے ڈھیلے جسم کو اپنے بازؤں میں لیا اور اُسے نمائش کے اُس دروازہ پر لے گئی جو چڑیاگھر کے محافظوں کے استعمال میں آتا تھا اور بڑے احتیاط کیساتھ اُسے زمین پر ایسی جگہ لیٹا دیا جہاں محافظ اُسے دیکھ سکتے تھے۔ بنٹی جسے اُس کی اپنی ماں نے الگ کر دیا تھا، ”اُسے اُسکے محافظوں نے ماں کی طرح نگہداشت کرنا سکھایا تھا، جو اُس کے اپنے بچے ہونے سے پہلے ”اُسے بچوں کی تربیت اور پرورش کرنا سکھانے کیلئے بچوں کی گڑیاں دیا کرتے تھے،“ نیو یارک کا ڈیلی نیوز بیان کرتا ہے۔ اُس وقت سے لیکر وہ ہزاروں ملاقاتیوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اُسے پھلوں کے نذرانے پیش کئے گئے ہیں۔ لڑکا جسے زخم اور خراشیں آئیں تھیں اب بالکل ٹھیک ہو گیا ہے۔
اپنا انتخاب کر لیں
”کیا آپ کے سال کا آغاز ناخوشگوار ہوا ہے؟“ نیو سائنٹسٹ میگزین کے ایک مضمون نے سوال کِیا۔ ”گھبرانے کی کوئی بات نہیں، انتخاب کرنے کیلئے دُنیا میں ابھی کمازکم ۱۴ نئے سال شروع ہونا باقی ہیں۔“ دراصل، وہ مُلک جنہوں نے گریگورین کیلنڈر کا انتخاب کِیا ہے وہ یکم جنوری کو سال کا پہلا دن شمار کرتے ہیں۔ یہ جولیس سیزر تھا جس نے، ۴۶ ق.س.ع. میں یہ فیصلہ کِیا کہ کیلنڈر کا سال یکم جنوری سے شروع ہوگا اور جب پوپ گریگری نے ۱۵۸۲ میں کیلنڈر پر نظرثانی کی تو اسے یوں ہی رہنے دیا۔ جب مختلف تہذیبوں نے اپنے اپنے کیلنڈر مرتب کئے تو کمازکم ۲۶ مختلف نئے سال کے دن منظرِعام پر آئے۔ جو آج تک باقی ہیں اُن میں سے چینی نظام سب سے قدیمترین ہے۔ اُن کیلئے نئے سال کا آغاز اس سال فروری ۷ کو ہوتا ہے۔ یہودی سال اکتوبر ۲ کو شروع ہوگا۔ مسلم کیلنڈر جو بالکل قمری ہے، اُس کے نئے سال کی تاریخ—مئی ۸ ہوگی۔
سگریٹنوشی کو بچوں میں اچانک موت سے منسلک کِیا گیا
بچوں اور حاملہ عورتوں کو تمباکو کے کسی بھی قسم کے دھوئیں سے دُور رہنا چاہئے، برطانوی محقق کہتے ہیں۔ برسٹول میں بیمار بچوں کیلئے رائل ہسپتال کے ایک دو سالہ تجزیے نے بچوں میں اچانک موت کی علامات (ایسآئیڈیایس) کے ہر مریض کا معائنہ کِیا جو انگلینڈ کے تین علاقوں میں کھٹولے میں موت کے طور پر مشہور ہے۔ ۱۹۵ مرنے والے اور ۷۸۰ زندہ بچ جانے والے بچوں کے والدین سے گفتگو کے دوران وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ۶۲ فیصد مرنے والے بچوں کی مائیں تمباکونوشی کرتی تھیں جبکہ اسکے مقابلے میں زندہ بچنے والے بچوں کی ماؤں کا صرف ۲۵ فیصد تمباکونوشی کرتا تھا۔ ”حالیہ تحقیق اس کی وضاحت کرتی ہے کہ تمباکونوشی کرنے والے والد بھی ایک مسئلہ ہیں،“ بچوں میں اموات کے تجزیے کی فاؤنڈیشن کی جوائس ایپسٹن کہتی ہیں۔ ”اگر ہم بچے کے گردونواح سے تمام طرح کی تمباکونوشی ختم کر سکتے تو ہمارا خیال ہے کہ بچوں کی اموات [ایسآئیڈیایس کے مریضوں] میں ۶۱فیصد کمی واقع ہوگی۔“
خون پر تحقیق راز آشکارا کرتی ہے
تقریباً ۶۰ سال سے ہیموگلوبین کا بغور مشاہدہ کِیا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ حیاتیات میں یہ شاید سب سے زیادہ مطالعہ کی جانے والی پروٹین ہے۔ کافی عرصہ سے یہ آکسیجن کو پھیپھڑوں سے نسیج تک لیجانے اور کاربن ڈائیآکسائیڈ اور نائٹرک آکسائیڈ کو واپس لانے والی چیز کے طور پر مشہور ہے۔ تاہم، فزیشنز اور سائنٹسٹ حالیہ نتائج سے حیران رہ گئے جو نائٹرک آکسائیڈ کے مختلف طرح سے ترتیب دئے گئے بانڈ کو جو سُپر نائٹرک آکسائیڈ کہلاتا ہے—بدن کے ہر حصے کو پہنچانے کے ایک اضافی کام کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سُپر نائٹرک آکسائیڈ درحقیقت یادداشت اور علم حاصل کرنے، جنسی اِستادگی اور فشارِخون سمیت، صحت کے سلسلے میں اور خلیوں اور نسیج کو زندہ رکھنے کے سلسلے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہیموگلوبین، نائٹرک آکسائیڈ کی مقدار کو اُس کی مطابقت میں لاتے ہوئے جتنیکہ بدن میں خون کی نالیاں برداشت کر سکتی ہیں خون کی نالیوں کے پھیلنے اور سکڑنے کا باعث بن سکتا ہے۔ دی نیو یارک ٹائمز بیان کرتا ہے کہ ”اس بات کا امکان ہے کہ یہ دریافت فشارِخون کے علاج اور مصنوعی خون پیدا کرنے کے سلسلے میں خاطرخواہ نتائج کا باعث ہوگی۔“ اس وقت، خون کے بیشتر متبادل فشارِخون کو بڑھانے کا میلان رکھتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شاید یہ اُن میں نائٹرک آکسائیڈ کی کمی کی وجہ سے ہے۔