ہمارے قارئین کی طرف سے
گود لینا سلسلہوار مضمون ”گود لینا—خوشیاں اور چیلنج“ (مئی ۸، ۱۹۹۶) کیلئے آپکا شکریہ۔ مَیں ایک لےپالک بچی ہوں اور مَیں اس موضوع پر مجھے گود لینے والے اپنے والدین سے گفتگو کرنا نہیں جانتی تھی۔ اسلئے جاگو! کا یہ شمارہ حاصل کرنا ایک ہیجانخیز بات تھی۔ کسی بھی مضمون نے میرے دل کو اس حد تک متاثر نہیں کِیا جتناکہ ان مضامین نے کِیا ہے۔
ایف. آر. ایم.، برازیل
مجھے گود لیا گیا اور حال ہی میں مَیں نے مجھے جنم دینے والے اپنے والدین کی بابت کچھ نہ کچھ کرنے کا فیصلہ کِیا۔ اگرچہ مَیں اپنے والدین کی بابت ضروری معلومات حاصل کرنے کے قابل ہوئی تھی، مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ مجھے لےپالک بننے کیلئے دینے سے پہلے میری ماں نے مجھے تین مہینے اپنے پاس رکھا تھا۔ اس بات سے مجھے بہت دُکھ ہوا! مَیں نے خود سے سوال کِیا، ’وہ کیونکر یہ کر سکتی تھی؟‘ بکس ”کیا میرا بیٹا مجھے تلاش کریگا؟“ نے مجھے ایک ماں کا پسمنظر دکھا دیا۔ اس چھوٹے سے مضمون نے قابو پانے میں میری کسقدر مدد کی!
سی. ایس.، ریاستہائے متحدہ
مضامین میرے لئے تلخوشیریں تھے۔ ۲۳ سال پہلے مَیں نے اپنا بیٹا دے دیا تھا۔ مَیں نے اسلئے ایسا کِیا کیونکہ مَیں جانتی تھی کہ مَیں اُسکی دیکھبھال نہیں کر سکتی تھی۔ ہر روز مَیں سوچتی، ’وہ کیسا ہوگا؟ اُسکی زندگی کیسی ہوگی؟ کیا مَیں کبھی دوبارہ اُسے دیکھ سکوں گی؟‘ بعضاوقات احساسِجُرم ناقابلِبرداشت ہوتا ہے۔ لیکن مَیں یہوواہ کی محبت اور رحم کیلئے اُسکی واقعی شکرگزار ہوں۔
ایس. ایف.، ریاستہائے متحدہ
اگرچہ ہمارا اپنا بیٹا بھی ہے، مَیں اور میرا شوہر ایک چھوٹی لڑکی کو گود لینے کی بابت سوچ رہے تھے۔ مضمون نے اسکے فائدے اور نقصان کی بابت جاننے میں میری مدد کی اور ہمیں اپنا فیصلہ کرنے میں مدد دیگا۔
جے. جی.، ریاستہائے متحدہ
مَیں نے یہ تاثر لیا کہ شاید آپ مشکلات سے دوچار بچوں کو گود لینے کی بابت نصیحت کر رہے تھے۔ لیکن ایسے بچوں کا کیا ہوگا اگر اُنہیں نظرانداز کر دیا جاتا ہے؟ آجکل ہمیں اپنے لےپالک بیٹے کیساتھ کچھ مشکلات درپیش ہیں۔ لیکن ایسے بچے اگر اُنہیں کبھی بھی خاندان کا تحفظ اور محبت حاصل نہیں ہوتی تو وہ معاشرے کیلئے کن مشکلات کا باعث ہونگے؟
ڈی. ایم.، جرمنی
ہمارے دل ایسے بچوں کیلئے تڑپتے ہیں جو شفیق والدین کی نگہداشت سے محروم کر دئے گئے ہیں۔ مضامین ”مشکلات سے دوچار“ بچوں کو گود لینے کی حوصلہشکنی کرنے کیلئے نہیں بلکہ جوڑوں کی حقیقتپسندانہ طور پر ایسا کرنے کیلئے ”لاگت کا حساب“ لگانے کی حوصلہافزائی کرنے کیلئے لکھے گئے تھے۔ (مقابلہ کریں لوقا ۱۴:۲۸۔) متوقع گود لینے والے والدین کو اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ آیا وہ ایسے بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے واقعی جذباتی، روحانی یا مالی ذرائع رکھتے ہیں۔ اُنہیں اس بات کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لینا چاہئے جو گود لینا اس وقت گھر میں موجود دوسرے بچوں پر ڈال سکتا ہے۔—ایڈیٹر۔
ہمارے تین بچوں کے علاوہ جنہیں ہم نے جنم دیا ہے ہمارے پانچ لےپالک بچے بھی ہیں۔ جس انتہائی خوشی اور رنج کی بابت آپ نے لکھا ہے ہم نے اُس کا تجربہ کِیا ہے۔ ہمارے بیٹے کے علاوہ ہمارے تمام بچے یہوواہ کے پرستار ہیں۔ ۱۶ برس کی عمر میں گود لئے جانے کے بعد اُس نے ہماری تین بیٹیوں کیساتھ جنسی چھیڑچھاڑ کی۔ گود دینے والی ایجنسی ہمیں اس کے پسمنظر کی بابت معلومات فراہم کرنے میں ناکام رہی تھی۔ اسلئے گود لینے کی بابت سوچتے وقت ایک شخص کو پسمنظر کی بابت زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنی چاہئیں—بالخصوص جب ایک شخص بڑے بچے کو گود لینے پر غور کر رہا ہے۔ آپ کے مضامین کا طرزِتحریر نہایت عمدہ تھا اور مسئلے کے دونوں پہلوؤں کو واضح طور پر پیش کِیا گیا تھا۔
پی. بی.، ریاستہائے متحدہ
یہ جان کر مجھے انتہائی افسوس ہوا کہ گود لینے والے والدین کو ایسے منفی تجربات بھی پیش آئے ہیں۔ مَیں نے اور میرے شوہر نے دو خوبصورت بچوں کو گود لیا تھا اور اُنہوں نے ہماری زندگیوں کو خوشیوں سے بھر دیا ہے۔ ہم نے اُنہیں گود لینے کی بابت ہمیشہ اُنکے ساتھ کھلمکھلا باتچیت کی ہے۔ ہم نے اُن دونوں کی یہ سمجھنے میں مدد کی کہ اُنہیں جنم دینے والی ماؤں نے اُنہیں ’دھوکا‘ نہیں دیا ہے بلکہ اُنکی نگہداشت کا بندوبست کِیا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایک بچے کی پرورش کرنے کے قابل نہیں تھیں۔ لوگ اکثر ہمیں کہتے ہیں کہ آپ کے بچوں کیلئے یہ کتنی خوشی کی بات ہے کہ آپ نے اُنہیں گود لیا ہے۔ تاہم، سچ بات تو یہ ہے کہ ہمارے لئے یہ خوشی کی بات ہے۔
بی. ایم.، ریاستہائے متحدہ