چبانا اُنہیں سخت تکلیف میں مبتلا کرتا ہے
انڈیا میں جاگو! کے مراسلہنگار سے
ریڈیو پر بھڑکتے ہوئے جِنگلز اسے استعمال کرنے کیلئے لوگوں کی حوصلہافزائی کرتے ہیں۔ فلم سٹارز ٹیوی، میگزینز اور اخبارات میں اسکی تائید دلچسپ، باوقار طرزِزندگی کا باعث بننے والی چیز کے طور پر کرتے ہیں۔ لیکن چھوٹی چھپائی والی تحریر آگاہ کرتی ہے کہ اس چیز کا استعمال آپکی صحت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ کیا ہے؟ ایک نشہآور اور مُضر شے جو پان کے نام سے مشہور ہے۔
پان ایشیا میں—نہایت وسیع پیمانے پر انڈیا میں استعمال ہوتا ہے۔ اپنی روایتی شکل میں، یہ چھالیہ، تمباکو اور دیگر ذائقے کو دوبالا کرنے والے مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے۔ تمباکو اور چھالیہ پان کو نشہآور بناتے ہیں۔ انہیں معدنی چونے اور کتھے کا آمیزہ لگے ہوئے پان کے پتے پر رکھا جاتا ہے۔ اس میں جوکچھ بھرا گیا ہے اُسے بند کرنے کیلئے پتے کو لپیٹا جاتا ہے اور اسکے بعد سارے کا سارا مُنہ میں ڈال لیا جاتا ہے۔ اسکی ایک مقبول قسم پان مصالحہ کہلاتی ہے، ان ہی اجزاء کے مرکب کو خشک حالت میں چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں بند کر دیا جاتا ہے جنہیں آسانی سے ساتھ رکھا جا سکتا اور کسی بھی وقت استعمال کِیا جا سکتا ہے۔
چبانے میں کافی وقت لگتا ہے اور یہ کافی مقدار میں لعاب پیدا کرتا ہے، جسے وقفے وقفے سے تھوکنا پڑتا ہے۔ زیادہتر گھر جہاں پان بہت مقبول ہے اُن میں اُگالدان ہوتے ہیں مگر گھر سے باہر فٹپاتھ یا دیوار اُگالدان کا کام دیتے ہیں۔ انڈیا میں بہت سی عمارتوں کی سیڑھیوں اور برآمدوں میں دکھائی دینے والے بھورے رنگ کے داغدھبوں کا سبب یہی ہے۔
ٹاٹا انسٹیٹیوٹ آف فنڈامینٹل ریسرچ سٹڈی کے مطابق، انڈیا میں ہر سال کینسر کے نئے مریضوں کا ۱۰ فیصد مُنہ کے کینسر والوں کا ہوتا ہے—دُنیا کی اوسط کا تقریباً دو گُنا۔ مُنہ اور میکسیلوفیشل (چہرے اور فکیوجہی) کے سرجن، ڈاکٹر آر. گوناسیلان، بڑی حد تک پان کھانے پر الزام لگانے کیلئے انڈیا کے تمام سرجنوں سے متفق ہے۔ وہ انڈین ایکسپریس میں بیان کرتا ہے: ”تمام قسم کے پان مُنہ کیلئے مُضر ہیں۔“ اُس نے لکھا کہ پان ”یقینی طور پر مُنہ کے کینسر کا باعث بن سکتا ہے“ اور یہ کہ ”اسے چبانا مُنہ کی بدصورتی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔“ لہٰذا، پان کھانے کا مطلب کسی کا خود کو سخت تکلیف میں مبتلا کر لینا ہو سکتا ہے۔
[صفحہ 31 پر تصویر]
انڈیا میں کینسر کے نئے مریضوں کے دس فیصد کو مُنہ کے کینسر کا مرض لاحق ہے