نؔاروئے کا سپریم کورٹ مذہبی حقوق کو برقرار رکھتا ہے
کونسے حالات کسی ماں یا باپ کو بچے کی تربیت کرنے کے نااہل بنا سکتے ہیں؟ پوری دُنیا میں سپردگی کے مقدمات میں اس سوال پر سخت بحث ہوتی رہی ہے۔ ہر ماں یا باپ کی صحت، گزربسر کی حالتیں اور بچے کے ساتھ تعلقات سمیت بہت سے پہلو زیرِغور آتے ہیں۔
لیکن مذہب کی بابت کیا ہے؟ کیا والدین میں سے کسی ایک کو محض اُسکے ایمان کی وجہ سے ناموزوں قرار دِیا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ناؔروئے میں یہوؔواہ کے گواہوں میں سے ایک کے سلسلے میں سپردگی کی کشمکش کا مرکز بن گیا۔ دو سال سے زیادہ عرصہ گزر گیا اور ناؔروئے کے سپریم کورٹ میں مسئلہ نپٹانے سے پیشتر مقدمے کی صرف تین سماعتیں ہوئیں۔
یہ ۱۹۸۸ میں شروع ہوا۔ مارچ ۱۹۸۹ تک، والدین مکمل طور پر علیٰحدہ ہو گئے تھے اور ماں نے اپنی بیٹی کو اپنی سپردگی میں رکھا۔ باپ معاملہ عدالت میں لے گیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ لڑکی کیلئے اُسے مکمل پدرانہ ذمہداری سونپی جائے۔ اُس نے دعویٰ کِیا کہ ماں بچے کو نارمل اور صحتبخش پرورش فراہم کرنے کے قابل نہیں ہے اور اسلئے اُسے صرف ملاقات کرنے کے حقوق ہی دیئے جائیں۔ اُس کے اس دعویٰ کی وجہ؟ وہ یہوؔواہ کے گواہوں کیساتھ رفاقت رکھتی تھی۔
یہوؔواہ کے گواہوں کے مخالفین کے ”ماہرانہ“ تصدیقی بیان پر اصرار کرتے ہوئے، باپ نے عدالت کو اس بات کا یقین دِلانے کی کوشش کی کہ یہوؔواہ کے گواہوں کی تعلیمات اور طرزِزندگی والدین کی ذمہداری کیلئے درکار رجحانات اور اقدار کے برعکس ہیں۔ ایک ضلعی عدالت نے ۱ کے مقابلہ میں ۲ کے فیصلے نے باپ کو ملاقات کے حقوق دیتے ہوئے فیصلہ سنا دیا کہ بچی کو روزمرّہ کی دیکھبھال کیلئے اپنی ماں کیساتھ رہنا چاہئے۔ باپ نے مقدمے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ ایک بار پھر ۱ کے مقابلے میں ۲ کے فیصلے نے بچی کی روزمرّہ دیکھبھال کیلئے ماں کی حمایت کی۔ تاہم، اس مرتبہ باپ کو زیادہ ملاقاتیں کرنے کے حقوق دیئے گئے۔ تاہم، وہ جج جنہوں نے ماں کی حمایت میں فیصلہ سنایا وہ بھی بچی کے مستقبل کی بابت پریشان دکھائی دیتے تھے۔ اس ٹھوس وجہ کیساتھ باپ نے مقدمے کی اپیل ناؔروئے کے سپریم کورٹ میں دائر کر دی۔
ایک مرتبہ پھر، باپ نے یہوؔواہ کے گواہوں کے عقائد پر کیچڑ اُچھالنے کی کوشش کی۔ اُس نے دعویٰ کِیا کہ اُس کی بیٹی کیلئے ایسے ماحول کے تحت پرورش پانا تباہکُن ہوگا۔
تاہم، سپریم کورٹ نے معاملے پر مختلف طریقے سے غور کِیا۔ ۲۶ اگست، ۱۹۹۴ کو سنائے جانے والے فیصلے کی حمایت میں، کورٹ کے پہلے جج نے بیان کِیا: ”ماں کی یہوؔواہ کے گواہوں کی رُکنیت اُسے بچی کی مستقل نگہداشت کی اجازت دینے میں کوئی رُکاوٹ نہیں ہے۔“ اُس نے یہ بھی کہا: ”مَیں محسوس کرتا ہوں کہ بچی کی کارکردگی بالکل ٹھیک ہے اور وہ ایک خوش لڑکی ہے۔ وہ اُن مسائل کو خوشاسلوبی سے نپٹاتے ہوئے دکھائی دیتی ہے جنکا اُسکی ماں اور باپ کے زندگی کی بابت مختلف نظریات کی وجہ سے پیدا ہونا ضروری تھا۔ اُسکے فیصلے کی دیگر چار جج صاحبان کی طرف سے متفقہ طور پر حمایت کی گئی تھی۔
ناؔروئے میں سچائی سے محبت رکھنے والوں نے اس بات کی بڑی قدر کی کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان نے یہوؔواہ کے گواہوں پر عائدکردہ جھوٹے الزامات پر خوب سمجھداری سے غور کِیا ہے۔ اس فیصلے کیساتھ کورٹ نے ہر شخص کو خدا کی پرستش کرنے کی اور اپنے بچوں کی بائبل اصولوں کے مطابق پُرمحبت تربیت کرنے کی آزادی کی تصدیق کر دی۔a
[تصویر]
a اسی طرح کے مقدمات اپریل ۸، ۱۹۹۰، صفحہ ۳۱، اور اکتوبر ۸، ۱۹۹۳، صفحہ ۱۵ کے اویک! میں بیان کئے گئے ہیں۔