یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • جاگو94 8/‏7 ص.‏ 4-‏8
  • بچوں کو بچانے کے لئے کوششیں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • بچوں کو بچانے کے لئے کوششیں
  • جاگو!‏—‏1994ء
  • ذیلی عنوان
  • ملتا جلتا مواد
  • ۵۰ ملین سے زائد ننھی جانیں غیریقینی کی حالت میں
  • تھوڑے فاصلے پر موجود صاف پانی
  • تعلیم میں نشیب‌وفراز
  • بچوں کی صحت کیلئے کام کرنے والے
  • غربت، جنگ اور ایڈز
  • بچے اثاثے یا بوجھ
    جاگو!‏—‏1993ء
  • بچوں کے لئے حقیقی امید؟‏
    جاگو!‏—‏1994ء
  • بیماری سے پاک دُنیا
    جاگو!‏—‏2004ء
  • انسانی تکلیف کا مسئلہ
    مینارِنگہبانی یہوواہ کی بادشاہت کا اعلان کر رہا ہے—‏2001ء
مزید
جاگو!‏—‏1994ء
جاگو94 8/‏7 ص.‏ 4-‏8

بچوں کو بچانے کے لئے کوششیں

‏”‏ہم سب سربراہوں کی عالمی کانفرنس برائے اطفال میں اسلئے جمع ہوئے ہیں تاکہ ایک مشترکہ ذمہ‌داری کو اپنے سر لیں اور ہر بچے کو ایک بہتر مستقبل دینے کیلئے—‏ایک فوری تعمیل‌طلب عالمگیر استدعا کریں۔“‏—‏یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس، ۱۹۹۰۔‏

۷۰ سے زائد ممالک کے صدر اور وزیرِاعظم ستمبر ۲۹ اور ۳۰، ۱۹۹۰ کو نیویارک شہر میں، دنیا کے بچوں کی بُری حالت پر گفتگو کرنے کیلئے جمع ہوئے۔‏

کانفرنس نے بین‌الاقوامی توجہ بچوں کی افسوسناک مشکلات، ایک ایسے عالمگیر المیے پر مرتکز کی جسے پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ ریاستہائے متحدہ کے نمائندے پیٹرؔ ٹیلی نے نشاندہی کی:‏ ”‏اگر ہر روز ۴۰،۰۰۰ چتکبرے اُلو مر رہے ہوتے، تو یہ انتہائی ظلم ہوتا۔ لیکن ۴۰،۰۰۰ بچے مر رہے ہیں اور اس پر بمشکل ہی کوئی توجہ دی جا رہی ہے۔“‏

سربراہانِ حکومت کے اجتماع نے اتفاق کیا کہ فوری طور پر—‏ضرور کچھ کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے ”‏بچوں کے حقوق، انکی بقا اور انکے تحفظ اور نشوونما پر اولین توجہ دینے کا سنجیدہ وعدہ“‏ کیا۔ انہوں نے کونسی خصوصی تجاویز پیش کیں؟‏

۵۰ ملین سے زائد ننھی جانیں غیریقینی کی حالت میں

بنیادی مقصد ان ۵۰ ملین سے زائد بچوں کو بچانا تھا جو غالباً ۱۹۹۰ کے دہے میں مر جائینگے۔ صحت سے متعلق مندرجہ‌ذیل محتاط اقدام پر عمل‌پیرا ہونے سے ان ننھی جانوں میں سے بہتیری بچائی جا سکتی ہیں۔‏

‏• اگر ترقی‌پذیر ممالک میں تمام ماؤں کو اپنے شیرخواروں کو چار سے چھ ماہ تک چھاتی سے دودھ پلانے کیلئے قائل کر لیا جائے تو ہر سال ایک ملین بچے بچائے جائینگے۔‏

‏• اورل ری‌ہائڈریشن تھراپی (‏اوآرٹی)‏ کا بکثرت استعمال اسہال کی وجہ سے شرحِ‌اموات کو نصف کر سکتا ہے، جو کہ ہر سال چار ملین بچوں کو ہلاک کرتا ہے۔‏a

‏• عام حفاظتی ٹیکہ‌جات اور سستی انٹی‌بائیوٹکس (‏جراثیم کش ادویات)‏ کا استعمال خسرے، تشنج اور نمونیہ جیسی بیماریوں سے واقع ہونے والی لاکھوں اموات کو روک سکتا ہے۔‏

کیا اس قسم کا ہیلتھ پروگرام قابلِ‌عمل ہے؟ اس دہے کے اختتام پر اس کی قیمت غالباً ۵.‏۲ بلین ڈالر سالانہ تک پہنچ جائیگی۔ عالمی پیمانے پر یہ خرچ بہت ہی کم ہوگا۔ تمباکو کی امریکن کمپنیاں ہر سال اتنی رقم—‏صرف سگریٹ کی اشتہاربازی پر خرچ کرتی ہیں۔ ہر روز اقوامِ‌عالم فراخدلی سے اتنی ہی رقم عسکری اخراجات پر خرچ کرتی ہیں۔ کیا ایسے مالی وسائل کو نسبتاً بہتر طور پر خطرے سے دوچار بچوں کی صحت پر خرچ کِیا جا سکتا ہے؟ بچوں کے حقوق کی بابت اقوام متحدہ کا منشور واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ”‏نوعِ‌انسانی بچے کو اس سب میں سے بہترین چیز دینے کی پابند ہے جو اُسے دینا چاہئے۔“‏

بلا‌شُبہ، ”‏ہر بچے کو بہترین مستقبل“‏ دینے میں انہیں قبل‌ازوقت موت سے بچانے سے زیادہ کچھ شامل ہے۔ بچپن میں غذا کی کمی کی روک‌تھام کے مرکز کی صدر، سینڈؔرا ہفمین ٹائم میگزین میں بیان کرتی ہے کہ ”‏اوآرٹی اسہال کی روک‌تھام نہیں کرتا، یہ صرف بچوں کو اس کے باعث مرنے سے بچاتا ہے۔ .‏ .‏ .‏ اب ہمیں جو کچھ کرنے کی ضرورت ہے،“‏ وہ اضافہ کرتی ہے۔ ”‏وہ اس چیز پر توجہ مرتکز کرنا ہے کہ ہم کیسے نہ صرف موت کی، بلکہ بیماری کی روک‌تھام کر سکتے ہیں۔“‏

لاکھوں بچوں کی زندگیاں بہتر بنانے—‏نیز بچانے—‏کے لئے مختلف جرأت‌مندانہ پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ (‏صفحہ ۶ کے بکس کو دیکھیں۔)‏ کسی کو بھی پورا کرنا آسان نہیں ہوگا۔‏

تھوڑے فاصلے پر موجود صاف پانی

فؔلیشیا اونو ہر روز پانچ گھنٹے اپنے خاندان کیلئے پانی بھر کر لانے میں صرف کرتی تھی۔ جو پانی وہ گھر لے کر آتی وہ اکثر آلودہ ہوتا تھا۔ (‏ایسا پانی ہر سال اپنے ساتھ گنی وارم بیماری کی وبا لے آتا ہے اور اسہال کے پھوٹ پڑنے کا سبب بنتا ہے۔)‏ لیکن ۱۹۸۴ میں، مشرقی نائجیریا میں اسکے گاؤں یوگولنگو میں، ایک کنواں کھودا گیا اور ایک ہینڈپمپ لگایا گیا۔‏

اب صاف پانی حاصل کرنے کیلئے اسے صرف چند سو گز چلنا پڑتا ہے۔ اسکے بچے صحتمند ہیں اور اسکی زندگی کافی سہل ہو گئی ہے۔ فؔلیشیا جیسے ایک بلین سے زائد لوگوں نے ۱۹۸۰ کے دہے میں صاف پانی تک رسائی حاصل کی۔ لیکن لاکھوں عورتیں اور بچے اب بھی ہر روز کئی گھنٹے مشقت طلب بالٹیاں اٹھائے گزار دیتے ہیں جن میں اس سے بھی کم مقدار میں پانی ہوتا ہے جو کہ ایک اوسط مغربی بیت‌الخلا میں یونہی بِلامقصد بہایا جاتا ہے۔‏

تعلیم میں نشیب‌وفراز

میکؔسیمینو ایک ۱۱ سالہ ذہین لڑکا ہے جو کہ کولمبیا کے ایک دُوردراز علاقے میں رہتا ہے۔ ہر روز اپنی فصلوں کی دیکھ بھال کرنے میں اپنے باپ کی مدد کرتے ہوئے کئی گھنٹے گزارنے کے باوجود، وہ سکول میں اچھا چل رہا ہے۔ وہ ایک ایسکیولا نیووا یا نئے سکول میں جاتا ہے، جس کے پاس ایسے بچوں کو کام پورا کرنے میں مدد دینے کیلئے ایک لچکدار پروگرام ترتیب دیا ہوا ہے جنہیں شاید چند دن سکول سے غیرحاضر رہنا پڑے—‏جو کہ بالخصوص کٹائی کے دنوں میں ایک عام معمول ہوتا ہے۔ میکؔسیمینو کے سکول میں اساتذہ بہت کم ہیں۔ نصابی کتابوں کی فراہمی ناکافی ہے۔ بچوں کی حوصلہ‌افزائی کی جاتی ہے کہ جو کچھ وہ سمجھ نہیں پاتے اس میں ایک دوسرے کی مدد کریں اور وہ خود ہی سکول کو چلانے میں شامل کام کے سلسلے میں زیادہ کچھ انجام دیتے ہیں۔ یہ نیا نظام—‏جسے خاص طور پر دیہی علاقے کے غریب عوام کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے تشکیل دیا گیا ہے—‏بہتیرے دیگر ممالک میں بھی آزمایا جا رہا ہے۔‏

کولمبیا سے ہزاروں میل دُور، ایشیا کے ایک بڑے شہر میں، ایک اور ۱۱ سالہ ذہین میلؔنڈا رہتی ہے۔ اس نے حال ہی میں شہر کے ایک بہت بڑے کوڑا خانے سے بچاکچا پلاسٹک اور لوہا جمع کرنے میں ہر روز ۱۲ گھنٹے صرف کرنے کیلئے سکول کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ ”‏میں اپنے باپ کی مدد کرنا چاہتی ہوں تاکہ ہم ہر روز کھانا کھا سکیں،“‏ میلؔنڈا کہتی ہے۔ ”‏اگر میں اس کی مدد نہ کروں تو شاید ہم بالکل ہی کھانا کھانے کے قابل نہ ہوں۔“‏ اچھی کمائی والے دن بھی وہ صرف ۳۵ سینٹ یو.‏ایس (‏۵۰.‏۱۲ روپے)‏ گھر لاتی ہے۔‏

بچوں کی صحت کیلئے کام کرنے والے

بھارت کے شہر بمبئی کے دُورافتادہ علاقے میں ملوانی نام کا ایک چھوٹا سا گاؤں ہے، جہاں بیماری علاقائی مرض کے طور پر کافی دیر سے چلی آ رہی تھی۔ آخرکار نیتوؔ اور عزؔیز جیسی باہمت ہیلتھ کارکنوں کی بدولت حالتیں بہتر ہو رہی ہیں۔ یہ دیکھنے کیلئے کہ آیا چھوٹے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں یا کہیں وہ اسہال، خارش، یا خون کی کمی کا شکار تو نہیں، وہ ہر خاندان کے پاس جاتی ہیں۔ نیتوؔ اور عزؔیز صرف ۱۱ سال کی ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے پروگرام کے تحت کام کرنے کیلئے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا جس میں بڑے بچوں کو پانچ سال سے کم عمر والے بچوں کی صحت کا خیال رکھنے کا کام تفویض کِیا جاتا ہے۔ نیتوؔ اور عزؔیز کی کوششوں—‏اور ان ہی کی طرح کے دیگر درجنوں بچوں کی کاوشوں کی وجہ سے—‏ملوانی کے تقریباً تمام چھوٹے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں، والدین کی اکثریت یہ جانتی ہے کہ کیسے اورل ری‌ہائیڈریشن تھراپی دی جانی چاہئے اور یوں صحت‌عامہ بہتر ہو گئی ہے۔‏

پوری دنیا میں، چھوٹے بچوں کو نہایت ہی عام بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے میں بڑی تیزی سے ترقی ہو رہی ہے۔ (‏صفحہ ۸ کے چارٹ کو دیکھیں۔)‏ بنگلادیش نے اب اپنے چھوٹے بچوں کی ۷۰ فیصد سے زیادہ آبادی کو حفاظتی ٹیکے لگا دئے ہیں اور چین نے ۹۵ فیصد سے زیادہ کو حفاظتی ٹیکے لگائے ہیں۔ اگر ہر ترقی‌پذیر ملک ۹۰ فیصد کے نشانے کو حاصل کر لیتا ہے، تو طبّی ماہرین یقین رکھتے ہیں کہ اجتماعی قوتِ‌مدافعت حاصل ہو جائیگی۔ جب ایک بھاری اکثریت کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں تو بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‏

غربت، جنگ اور ایڈز

تاہم، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ جبکہ طبّی نگہداشت اور تعلیمی میدان میں کافی ترقی ہو رہی ہے تو دیگر مسائل بدستور محاصرہ کئے ہوئے ہیں۔ ان میں سے غربت، جنگ اور ایڈز تینوں انتہائی طور پر قابو سے باہر ہیں۔‏

حالیہ برسوں میں دنیا کے غریب لوگ اور زیادہ غریب ہوتے جا رہے ہیں۔ افریقہ اور لاطینی امریکہ کے غریب علاقوں میں گزشتہ دہے میں اصل آمدنی میں ۱۰ فیصد یا اس سے بھی زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ ان ممالک میں والدین—‏جہاں خاندان کی کمائی کا ۷۵ فیصد خوراک پر خرچ ہوتا ہے—‏اپنے بچوں کو محض متوازن غذا فراہم کرنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔‏

‏’‏بچوں کو سبزیاں اور کیلے دیں،‘‏ گرؔیس کو اسکی مقامی ہیلتھ کلینک پر بتایا گیا۔ لیکن دس بچوں کی ماں گریسؔ کے پاس، جو مشرقی افریقہ میں رہتی ہے، خوراک کیلئے بھی پیسے نہیں اور اسکے پاس خاندان کی ایک چوتھائی ایکڑ قطعہ‌اراضی پر فصل اُگانے کیلئے وافر پانی بھی نہیں ہے۔ انکے پاس مکئی اور پھلی کے دانوں پر زندہ رہنے یا پھر بسااوقات بھوکے رہنے کے علاوہ اور کوئی انتخاب نہیں۔ اگر موجودہ رجحانات قائم رہتے ہیں تو پھر گرؔیس کے یا اس جیسے دیگر لاکھوں خاندانوں کیلئے بہتر امکانات ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔‏

گرؔیس کے بچے، غریب ہونے کے باوجود، جنوب مشرقی ایشیا کے، آٹھ سالہ کؔیمسنگ سے بہتر حالت میں ہیں، جسکا باپ ایک خاندانی جھگڑے میں مارا گیا تھا اور جس کی ماں بعدازاں فاقوں سے مر گئی۔ کؔیمسنگ کو بھی، جو کہ غذا کی کمی کے باعث قریب‌المرگ تھا، آخرکار ایک پناہ‌گزیں کیمپ میں پناہ مل گئی۔ پوری دنیا میں پناہ‌گزیں کیمپوں میں پژمردہ پڑے پانچ ملین بچوں میں سے بہتیروں نے اسی طرح کی مشکلات کو برداشت کیا ہے۔‏

اس صدی کے شروع میں، جنگی زخمیوں کی ۵ فیصد صرف شہری آبادی تھی۔ اب وہ تعداد ۸۰ فیصد کو پہنچ گئی ہے اور ان جنگی متاثرین کی اکثریت عورتیں یا بچے ہیں۔ وہ جو شاید جسمانی زخم سے بچ بھی جائیں پھر بھی جذباتی طور پر تکلیف اٹھاتے ہیں۔ ”‏جس طرح میری ماں کو قتل کیا گیا میں وہ کبھی نہیں بھول سکتی،“‏ جنوب وسطی افریقہ کے ایک ملک سے ایک پناہ‌گزیں بچی کہتی ہے۔ ”‏انہوں نے میری ماں کو زبردستی قابو کر لیا اور اسکے ساتھ بُرے فعل کئے۔ اسکے بعد انہوں نے اسے باندھ دیا اور اسے گھائل کر دیا۔ .‏ .‏ .‏ بعض‌اوقات مجھے اسکی بابت خواب بھی آتے ہیں۔“‏

جبکہ ایک کے بعد دوسرے ملک میں پُرتشدد لڑائیاں چھڑتی رہتی ہیں تو یہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے کہ معصوم بچے جنگ کی تباہ‌کاریوں سے متاثر ہوتے رہینگے۔ علاوہ‌ازیں، بین‌الاقومی کشیدگی اُن بچوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے جو کہ براہِ‌راست لڑائیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ فوج اس پیسے کو ہڑپ کر جاتی ہے جو کہ بہتر تعلیم، صفائی اور طبّی نگہداشت فراہم کرنے پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ صنعتی ممالک کے ذریعے عالمی عسکری اخراجات نوعِ‌انسان کی نصف غریب‌ترین آبادی کی مجموعی سالانہ آمدنی سے بھی زیادہ ہیں۔ دنیا کے ۴۶ غریب‌ترین ممالک بھی اپنے فوجی سازوسامان پر اتنا ہی خرچ کرتے ہیں جتنا کہ وہ مجموعی طور پر صحت اور تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔‏

غربت اور جنگ کے علاوہ، ایک اور قاتل بھی دنیا کے بچوں کو دبے پاؤں شکار کر رہا ہے۔ ۱۹۸۰ کے دہے میں، جبکہ خسرے، تشنج اور اسہال کے خلاف جدوجہد نمایاں کامیابی حاصل کر رہی تھی، صحت کے سلسلے میں ایک نیا دہشتناک وقوعہ ظہور میں آیا:‏ ایڈز۔ دی ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن حساب لگاتی ہے کہ ۲۰۰۰ کے سال تک، دس ملین بچے متاثر ہو جائینگے۔ ان میں سے بہتیرے اپنی دوسری سالگرہ تک کبھی نہیں پہنچ پائینگے اور بمشکل کوئی پانچ سالوں سے زیادہ زندہ رہے گا۔ ہیٹی کا ایک ماہرِامراضِ‌اطفال، ڈاکٹر رؔیجنلڈبولاس افسوس کیساتھ کہتا ہے، ”‏اگر جلد کچھ نہ کِیا گیا تو ایڈز اس تمام ترقی پر پانی پھیر دیگی جو ہم نے گزشتہ دس سالوں میں بچوں کے بچاؤ کے سلسلے میں کی ہے۔“‏

اس مختصر جائزے سے، یہ واضح ہے کہ بعض قابلِ‌تعریف کامرانیوں کے باوجود، ’‏ہر بچے کو بہتر مستقبل عطا کرنے‘‏ کا نصب‌العین ابھی تک بہت بڑا کام ہے۔ کیا اسکی کوئی اُمید ہے کہ ایک دن یہ خواب حقیقت بن جائیگا؟ (‏۴ ۵/۸ g۹۴)‏

‏[‏فٹ‌نوٹ]‏

a اوآرٹی بچوں کو اسہال میں پانی کی کمی ہو جانے سے واقع ہونے والے سخت مُضر اثرات کا دفعیہ کرنے کیلئے درکار پانی، نمکیات اور گلوکوز فراہم کرتا ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ۱۹۹۰ میں رپورٹ دی کہ اس تکنیک سے پہلے ہی ہر سال ایک ملین سے زیادہ جانیں بچائی جا رہی ہیں۔ مزید تفصیلات کیلئے، ستمبر ۲۲، ۱۹۸۵، کے جاگو!‏ (‏انگریزی)‏ کے شمارے کے صفحات ۲۳-‏۲۵ کو دیکھیں۔‏

‏[‏بکس]‏

۹۰ کے دہے کیلئے نشانے—‏بچوں کو بچانے کا چیلنج

بچوں کیلئے سربراہوں کی عالمی کانفرنس پر حاضر ہونے والی اقوام نے کئی ٹھوس وعدے کئے۔ یہ ہے جسے وہ ۲۰۰۰ کے سال تک حاصل کرنے کی توقع کرتے ہیں۔‏

حفاظتی ٹیکہ‌جات۔‏ موجودہ حفاظتی ٹیکہ‌جات کے پروگرام ہر سال تین ملین بچوں کی جان بچاتے ہیں۔ لیکن مزید دو ملین ابھی تک مر رہے ہیں۔ دنیا کے ۹۰ فیصد یا اس سے بھی زیادہ بچوں کو عام بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگا کر، ان اموات میں سے بیشتر سے بچایا جا سکتا ہے۔‏

تعلیم۔‏ ۱۹۸۰ کے دہے کے دوران، دنیا کے بہت سے غریب‌ترین ممالک میں فی‌الواقع سکول میں نام درج کرانے میں کمی واقع ہوئی۔ مقصد اس رجحان کو بدلنا اور یہ یقین کر لینا ہے کہ اس دہے کے آخر تک ہر بچے کو سکول جانے کا موقع ملے۔‏

غذائیت کی کمی۔‏ اقوامِ‌متحدہ کے بچوں کے فنڈ کے اہلکار یہ یقین رکھتے ہیں کہ ”‏درست پالیسیوں کیساتھ، .‏ .‏ .‏ دنیا اب ساری دنیا کے بچوں کو خوراک فراہم کرنے اور غذائیت کی کمی کی بدترین اقسام پر قابو پانے کے قابل ہے۔“‏ موجودہ دہے کے دوران غذائیت کی کمی کے شکار بچوں کے شمار کو نصف کرنے کی تجاویز پیش کی گئی تھیں۔ ایسا کارِہائے نمایاں ۱۰۰ ملین بچوں کو بھوک کی تکالیف سے بچا لے گا۔‏

صاف پانی اور سینی‌ٹیشن۔‏ ۱۹۸۷ میں برنٹلینٹ رپورٹ نے واضح کیا:‏ ”‏ترقی‌پذیر دنیا میں، قریب‌ترین پانی کے نلکوں کی تعداد ہسپتال میں بستروں کی تعداد کی نسبت علاقائی صحت کے متعلق بہتر اشارہ ہے۔“‏ اس وقت ایک بلین سے زیادہ لوگوں کو صاف پانی میسر نہیں، اور اس سے دُگنے لوگ سینٹری ویسٹ ڈسپوزل کے بغیر ہیں۔ مقصد پینے کے لئے صاف پانی اور انسانی گندگی کو تلف کرنے کے ذرائع کی فراہمی تک عالمگیر رسائی حاصل کرنا ہے۔‏

تحفظ۔‏ گزشتہ دہے میں، جنگیں پانچ ملین سے زائد بچوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کا سبب بنی ہیں۔ دیگر پانچ ملین بچے بے‌گھر کر دئے گئے ہیں۔ ان پناہ گزینوں اور اسکے علاوہ لاکھوں بے‌گھر بچوں اور مزدور بچوں کو، فوری طور پر تحفظ درکار ہے۔ بچوں کے حقوق پر ایک معاہدہ—‏جسے اب ایک سو سے زیادہ ممالک تسلیم کرتے ہیں—‏ان تمام بچوں کو تشدد اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی کوشش میں ہے۔‏

‏[‏چارٹ]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات

‏(‏پانچ سال سے کم عمر کے بچے)‏

ہر سال لاکھوں اموات (‏۱۹۹۰ کے تخمینہ‌جات)‏:‏

۵۱.‏۰ ملین کالی کھانسی

۷۹.‏۰ ملین نوزائیدہ کو تشنج

۰.‏۱ ملین ملیریا

۵۲.‏۱ ملین خسرہ

۲.‏۲ ملین دیگر تنفسی بیماریاں

۰.‏۴ ملین اسہال کی بیماری

۲.‏۴ ملین دیگر وجوہات

ماخذ:‏ ڈبلیوایچ‌او اور یونی‌سیف

‏[‏چارٹ]‏

‏(‏تصویر کے لئے چھپے ہوئے صفحے کو دیکھیں)‏

ترقی پذیر دنیا میں ۱۹۸۰-‏۱۹۸۸ کے دوران بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے میں ترقی

۱۲ ماہ سے کم عمر والے بچوں کی اوسط جنہیں حفاظتی ٹیکے لگائے گئے ہیں

سال

۱۹۸۰ ۱۹۸۸

ڈی‌پی‌ٹی۳*‏ ۲۴٪‏ ۶۶٪‏

پولیو ۲۰٪‏ ۶۶٪‏

تپِ‌دق ۲۹٪‏ ۷۲٪‏

خسرہ ۱۵٪‏ ۵۹٪‏

‏*‏ ڈی‌پی‌ٹی۳:‏ خناق، کالی کھانسی اور تشنج کیلئے مجموعی حفاظتی ٹیکہ‌جات۔‏

ماخذ:‏ ڈبلیوایچ‌او اور یونی‌سیف (‏۱۹۸۰ کے اعدادوشمار میں چین شامل نہیں)‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں