اسقدر اشتیاق سے نئی دنیا کی آرزو کیوں؟
اس دنیا کے خاتمے کا کیا مطلب ہے؟ آگ کیساتھ زمین کی تباہی؟ جیسے کہ بعض مذاہب تعلیم دیتے ہیں، نہیں، یہ کیسے ممکن ہے جبکہ زبور ۱۰۴:۵ (NW) بیان کرتی ہے: ”اسکو کبھی جنبش نہیں آنے دی جائیگی۔“
جب ہم اس سے کئی صدیوں پہلے کی دنیا پر غور کرتے ہیں تو اسکا جواب ہم پر آشکارا ہو جاتا ہے۔ وہ خراب ہو گئی تھی اور اس نے خدا کے خلاف بغاوت کی تھی، یوں ”اس زمانہ کی دنیا ڈوب کر ہلاک ہوئی۔“ لیکن جب آسمان اور زمین پر مشتمل وہ دنیا، نوح کے دنوں کے سیلاب سے تباہ ہو گئی تو حقیقی آسمان اور کرہزمین ختم نہیں ہوئے تھے۔ اور نہ اس دنیا کے خاتمے کا مطلب تاروں بھرے آسمان اور کرہزمین کی آتشی بربادی ہے۔—۲-پطرس ۳:۵، ۶، پیدایش ۶:۱-۸۔
بعض اوقات بائبل علامتی طور پر ”آسمان“ اور ”زمین“ کی اصطلاحیں استعمال کرتی ہے۔ ”آسمان“ اس جہان کے خدا شیطان کیلئے، اس کے اختیار میں چلنے والے دنیاوی حکمرانوں کیلئے، اور آسمانی مقاموں کی شریر روحانی فوجوں کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے—وہ تمام کے تمام جو نوعانسان پر شیطانی اثرورسوخ کو استعمال کر رہے ہیں۔ (۲-کرنتھیوں ۴:۴، افسیوں ۶:۱۲) ”زمین“ اکثر زمین پر رہنے والے لوگوں کا حوالہ دینے کیلئے استعمال ہوئی ہے۔ (پیدایش ۱۱:۱، ۱-سلاطین ۲:۱، ۲، ۱-تواریخ ۱۶:۳۱، زبور ۹۶:۱) اس موجودہ بدکار دنیا کے یہ علامتی آسمان اور زمین ہی ہیں جن کی بابت ۲-پطرس ۳:۷ کہتی ہے کہ وہ ”آگ“ کے ذریعے تباہ کیے جائینگے۔—گلتیوں ۱:۴۔
اس کے بعد پطرس یہ مسرورکن خوشخبری دیتا ہے کہ اس پرانی دنیا کی جگہ ایک نئی دنیا لے لیگی: ”لیکن اسکے وعدہ کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہیگی۔“—۲-پطرس ۳:۱۳۔
موت اور آنسوؤں سے آزاد ایک نئی دنیا
پطرس کا یہ اعلان کہ اس نئی دنیا میں راستبازی بسی رہیگی ایک خوشکن خبر ہے، لیکن اسکی بابت جس بات کا اضافہ یوحنا کرتا ہے وہ کسی شخص کو حد درجہ خوشی بخشتی ہے! اسکی بابت وہ مکاشفہ ۲۱:۳، ۴ میں کہتا ہے: ”پھر میں نے تخت میں سے کسی کو بلند آواز سے یہ کہتے سنا کہ دیکھ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے اور وہ انکے ساتھ سکونت کریگا اور وہ اسکے لوگ ہونگے اور خدا آپ انکے ساتھ رہیگا اور انکا خدا ہوگا۔ اور وہ انکی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دیگا۔ اسکے بعد نہ موت رہیگی اور نہ ماتم رہیگا۔ نہ آہونالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔“
زمین کو آگ سے تباہ کرنے کی بجائے، یہوواہ کا یہ مقصد ہے کہ وہ ہمیشہ تک آباد رہے: ”کیونکہ خداوند جس نے آسمان پیدا کئے وہی خدا ہے۔ اسی نے زمین بنائی اور تیار کی۔ اسی نے اسے قائم کیا۔ اس نے اسے عبث پیدا نہیں کیا بلکہ اس کو آبادی کے لئے آراستہ کیا۔“—یسعیاہ ۴۵:۱۸۔
وہاں پر راستبازی بسے گی کیونکہ وہاں کوئی ناراست شخص نہیں ہوگا: ”کیونکہ راستباز ملک میں بسینگے اور کامل اس میں آباد رہینگے۔ لیکن شریر زمین پر سے کاٹ ڈالے جائینگے اور دغاباز اس سے اکھاڑ پھینکے جائینگے۔“—امثال ۲:۲۱، ۲۲۔
زیرالہام زبورنویس داؤد بھی اس کی شہادت دیتا ہے: ”کیونکہ تھوڑی دیر میں شریر نابود ہو جائیگا۔ تو اسکی جگہ کو غور سے دیکھے گا پر وہ نہ ہوگا۔ لیکن حلیم ملک کے وارث ہونگے اور سلامتی کی فراوانی سے شادمان رہینگے۔“—زبور ۳۷:۱۰، ۱۱۔
خود یسوع اپنے پہاڑی واعظ میں یہ کہتے ہوئے اس کی تصدیق کرتا ہے: ”مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہونگے۔“ اپنی حکومت کے طور پر، یہ حلیم لوگ راست نئے آسمان کی بخشش سے نوازے جائینگے جسکے لیے وہ دعا کرتے ہیں: ”تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔“—متی ۵:۵، ۶:۱۰۔
باافراط امن جس سے اس نئی دنیا کے باشندے لطفاندوز ہوتے ہیں وہ حیوانی مخلوق کو بھی عنایت ہوگا: ”پس بھیڑیا برہ کیساتھ رہیگا اور چیتا بکری کے بچے کیساتھ بیٹھیگا اور بچھڑا اور شیربچہ اور پلا ہوا بیل مل جل کر رہینگے اور ننھا بچہ انکی پیشروی کریگا۔ ... وہ میرے تمام کوہمقدس پر نہ ضرر پہنچائینگے نہ ہلاک کرینگے کیونکہ جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہے اسی طرح زمین خداوند کے عرفان سے معمور ہوگی۔“—یسعیاہ ۱۱:۶-۹۔
کتنی قریب؟
اگر آپ اس سب کو ایک ایسا سہانا خواب سمجھنے کی طرف مائل ہیں جو کہ شاید کبھی پورا نہ ہو تو ٹھہریں اور ایک بار پھر سے غور کریں۔ مسیح یسوع کی طرف سے دیئے گئے مرکب نشان کے مختلف پہلوؤں کے علاوہ، بائبل تواریخ نے بھی ۱۹۱۴ کے سال کو اسکی موجودگی کے شروع کے طور پر پیش کیا۔ یہوواہ کے گواہوں نے ۱۹۱۴ کی تاریخ کو زمین پر حکمرانی کے سلسلے میں یہوواہ کی بادشاہتی کامرانیوں کیلئے بطور ایک امتیازی سال کے شائع کیا، اور یہ انہوں نے جولائی ۱۸۷۹ کے واچٹاور رسالے میں لکھا۔ دنیاوی امور کے بہتیرے تاریخدانوں اور مشاہدین نے یہ مشاہدہ کیا کہ ۱۹۱۴ کے سال نے انسانی تاریخ کے باب کو بالکل مختلف اور انتہائی نمایاں دور میں داخل کر دیا ہے، جیسے کہ ساتھ دیا گیا بکس ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور واقع جس کا ذکر یسوع نے کیا وہ متی ۲۴:۲۱، ۲۲ میں ملتا ہے: ”کیونکہ اس وقت ایسی بڑی مصیبت ہوگی کہ دنیا کے شروع سے نہ اب تک ہوئی نہ کبھی ہوگی۔ اور اگر وہ دن گھٹائے نہ جاتے تو کوئی بشر نہ بچتا۔ مگر برگزیدوں کی خاطر وہ دن گھٹائے جائینگے۔“
یسوع نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ مرکب نشان اسی نسل کی زندگی کے دوران پورا ہو جائیگا جس نے ۱۹۱۴ میں اسکا آغاز دیکھا تھا۔ متی ۲۴:۳۲-۳۴ میں اس نے کہا: ”اب انجیر کے درخت سے ایک تمثیل سیکھو۔ جونہی اسکی ڈالیاں نرم ہوتی اور پتے نکلتے ہیں تم جان لیتے ہو کہ گرمی نزدیک ہے۔ اسی طرح جب تم ان سب باتوں کو دیکھو تو جان لو کہ وہ نزدیک بلکہ دروازہ پر ہے۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہوگی۔“
اس پرانی دنیا کو—اسکی تمام جنگوں، کالوں، بیماریوں، اور موت کیساتھ—ختم ہوتے دیکھنا خوشی کا مقام ہوگا۔ اس کی جگہ یہوواہ خدا کی راست نئی دنیا کو—ماتم، آنسوؤں، بیماری اور موت کا خاتمہ کرتے دیکھنا—کبھی نہ ختم ہونے والی خوشی اور خرمی اور عظیم خالق اور عالمگیر حکمران یہوواہ خدا کی ہمیشہ کیلئے حمد کرنے کا باعث ہوگا۔
مستقبل میں اس امکان کیساتھ بلاشبہ بہتیروں نے بڑے اشتیاق سے یہوواہ کی نئی دنیا کی راہ دیکھی ہے کہ وہ جلد آئے اور دکھ درد، جرم، بیماری اور موت والی اس پرانی دنیا کی جگہ لے! بلاشبہ انکا اشتیاق اس حد تک ہے کہ وہ اسکی آمد کی بابت پیشگی تاریخیں مقرر کرنے کی طرف مائل ہیں! تاہم، اب، اس نشان کے کوئی ایسے تنہا حصے نہیں جو کہ ہمارے جھوٹی آگاہیاں دینے کا باعث ہوں۔ اب ہم مکمل مرکب نشان کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں جو کہ ہمارے اس بدکار دنیا کے خاتمہ کی پراشتیاق توقعات کرنے اور یہوواہ کی نئی دنیا کو اسکی جگہ لیتے دیکھنے کیلئے ٹھوس بنیاد مہیا کرتے ہیں۔ (9.G93 3/22 P)
[بکس]
۱۹۱۴—تاریخ میں ایک نقطۂانقلاب
دوسری عالمی جنگ کے بعد بھی بہتیرے ۱۹۱۴ کا حوالہ جدید تاریخ میں ایک عظیم نقطۂانقلاب کے طور پر دیتے ہیں:
”ہیروشیما کی بجائے بیشک یہ ۱۹۱۴ کا سال ہی ہے جو ہمارے زمانے میں ایک نقطۂانقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔“—رینے البریخت، کاریے دی سائنٹیفک منتھلی، جولائی ۱۹۵۱۔
”۱۹۱۴ سے لے کر ہر وہ شخص جو دنیا کے بدلتے ہوئے حالات سے باخبر ہے وہ اس چیز سے بہت زیادہ پریشان ہوا ہے جو کہیں زیادہ بڑی تباہی کی جانب ایک مقررشدہ اور تقدیر میں لکھے ہوئے سلسلے کی طرح نظر آیا ہے۔ بہتیرے سنجیدہ لوگ یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ بربادی کے اس طوفان کو کوئی چیز نہیں روک سکتی۔“—برٹرینڈ رسل، دی نیو یارک ٹائمز میگزین، ستمبر ۲۷، ۱۹۵۳۔
”جدید دور ... ۱۹۱۴ میں شروع ہوا اور کوئی نہیں جانتا کہ یہ کب اور کیسے ختم ہوگا۔ ... یہ بڑی بربادی پر بھی منتج ہو سکتا ہے۔“ دی سیٹل ٹائمز، جنوری ۱، ۱۹۵۹۔
”پہلی عالمی جنگ کے قریب پوری دنیا درحقیقت مصیبت میں گرفتار تھی اور ہم ابھی تک نہیں جانتے کہ کیوں۔ ... ایک خیالی دنیا بالکل سامنے تھی۔ ہر طرف امن اور خوشحالی تھی۔ پھر سب کچھ بھک سے اڑ گیا۔ اس وقت سے لے کر ہم عارضی آرام کی حالت میں رہ رہے ہیں۔“—ڈاکٹر واکر پرسی، امریکن میڈیکل نیوز، نومبر ۲۱، ۱۹۷۷۔
”۱۹۱۴ میں دنیا نے ربط کھو دیا جسے وہ آج تک بحال کرنے کے قابل نہیں۔ ... یہ قومی سرحدوں کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر غیرمعمولی بدنظمی او تشدد کا دور رہا ہے۔“ —دی اکانومسٹ، لندن، اگست ۴، ۱۹۷۹۔
”سب کچھ بہتر سے بہتر ہوتا جا رہا تھا۔ یہی وہ دنیا تھی میں جس میں پیدا ہوا تھا۔ ... اچانک، غیرمتوقع طور پر، ۱۹۱۴ کی ایک صبح سب کچھ ختم ہو گیا۔“—برطانوی مدبر ہیرلڈ میکملن، دی نیویارک ٹائمز، نومبر ۲۳، ۱۹۸۰۔
[تصویر]
موعودہ نئی دنیا میں سب رہنے والوں کے لیے باافراط امن