نوجوان لوگ پوچھتے ہیں . . .
میں اپنے والدین کی تنقید کیساتھ کیسے نباہ کر سکتا ہوں؟
”متعدد والدین سمجھتے ہیں کہ اپنے بچوں کو بہتر بننے میں مدد دینے کا بہترین طریقہ بچوں کی غلطی پر تنقید کرنا ہے۔“ کلیٹن باربو نے اپنی کتاب ہاؤ ٹو ریز پیرنٹس میں اس طرح سے لکھا۔
اگر آپ جوان شخص ہیں تو اسکی بابت کوئی شک نہیں، غالباً آپکے والدین کے ذریعے آپکی اصلاح تقریباً اسی باقاعدگی سے ہوتی ہے جس باقاعدگی سے آپ کو کھانا ملتا ہے۔ یہ بعض اوقات چونکہ دق کرنے والی ہو سکتی ہے، تاہم ایسی تنقید ضروری طور پر بری نہیں ہے۔a ہم سب کو وقتاً فوقتاً اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے، تعمیری تنقید خوشگوار، مفید ہو سکتی ہے۔
اسکے برعکس، بعض اوقات والدین غیرمعقول طور پر مایوس کر دینے کی حد تک بچوں کی جھاڑ جھپاڑ کرتے رہتے ہیں۔ (کلسیوں ۳:۲۱) یا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے جذبات کو اپنے اوپر حاوی ہونے دیتے ہوں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر اپنے بچوں کو شرمندہ کرتے اور ڈانٹتے ہوں۔ قطعنظر اس سے کہ کس طریقے سے تنقید کی گئی ہے، پھر بھی، اس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہے۔ بہرصورت، آپکے والدین غالباً دل میں آپکے بہترین مفادات کو رکھتے ہیں۔ جیسے کہ بائبل نے بہت پہلے کہا، ”جو زخم دوست کے ہاتھ سے لگیں پروفا ہیں۔“ (امثال ۲۷:۶) یہ سچ ہے، چونکہ آپکے والدین آپکے اتنے نزدیک ہیں کہ انکا نقص نکالنا گہرا دکھ پہنچا سکتا ہے۔ لیکن اگر آپ تنقید کیلئے دانشمندی سے اثرپذیر ہونا سیکھ لیتے ہیں تو آپ درد کو کم اور فائدے کو زیادہ کر سکتے ہیں۔
غلط طریقہ
نوجوان سٹیفنی کے تجربے پر غور کریں: ”جب میری ماں کام سے گھر آئی،“ سٹیفنی بیان کرتی ہے، ”تو اس نے اس حقیقت کی بابت ڈانٹنا شروع کر دیا کہ میں نے گھر صاف نہیں کیا اور ابھی تک کوڑا نہیں پھینکا۔ اس نے کہا، تم گھر کے اندر کوئی کام ٹھیک نہیں کر سکتی، لیکن جب گھر سے باہر جانے کی بات ہو، تو تم ٹھیک کام کرتی ہو۔“ میں نے کہا: ”جب ڈانٹنے کی باری آتی ہے تو آپ بھی ٹھیک کرتی ہیں۔“ اس نے مجھ پر چیخنا چلانا شروع کر دیا اور میں وہاں سے چلی گئی اور اپنے کمرے کا دروازہ بند کر لیا تاکہ اسکی آواز نہ پہنچے۔“ وہ چلا کر یہ کہتے ہوئے غصے کیساتھ زور سے بولی کہ مجھے سزا ملنے والی ہے— مائی پیرنٹس آر ڈرائیوننگ می کریزی، از ڈاکٹر جوئس ایل۔ ویڈرل۔
جانی پہچانی بات معلوم ہوتی ہے؟ پھر تو آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ بتایا جانا کتنا دکھ پہنچاتا ہے کہ ”آپ کوئی بھی کام ٹھیک نہیں کر سکتے۔“ تاہم، سٹیفنی نے اپنی ماں سے ناراض ہو کر کیا انجام دیا؟ رونا دھونا، چیخنا چلانا، یا بغاوت پر اتر آنا، باپ یا ماں میں منفی اوصاف پیدا کرنے کا سبب ہی بن سکتا ہے۔ غصہ نکالنے سے تھوڑی بہت تسلی جو آتی ہے اس سزا کے مقابلے میں اسکی کوئی وقعت نہیں جو یقینی طور پر ملیگی۔ علاوہ ازیں، ایک مسیحی نوجوان جو باپ یا ماں کیساتھ بدتمیزی سے کلام کرتا ہے کچھ روحانی نقصان اٹھاتا ہے—اور خدا کی ناراضگی کا خطرہ مول لیتا ہے۔—امثال ۳۰:۱۷، افسیوں ۶:۱، ۲۔
ہو سکتا ہے کہ سٹیفنی کی ماں نے معاملات کو بہترین طریقے سے حل نہ کیا ہو۔ لیکن کیا یہ اغلب نہیں کہ سٹیفنی کی بابت اسکی شکایات میں کافی صداقت تھی؟ پس تنقید کا مقابلہ کرنے سے سٹیفنی نے نہ صرف اپنے لئے زندگی کو زیادہ کٹھن بنا دیا بلکہ ضروری ترقیاں کرنے کا موقع بھی کھو دیا۔
سننے کی قدروقیمت
بائبل یہ نصیحت کرتی ہے: ”مشورت کو سن اور تربیتپذیر ہو تاکہ تو آخرکار دانا ہو جائے۔“ (امثال ۱۹:۲۰) جیہاں، اپنی توجیہ کرنے، رونے دھونے، یا اپنی طرف سے تنقید کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کی خواہش کو کچل دیں، اور جو کچھ کہا گیا ہے اس پر پوری طرح سے توجہ دیں۔ ٹین میگزین نے اسے اسطرح بیان کیا: ”تنقید کو اپنے جذبات کی بجائے دماغ سے سنیں۔“
ایسا کرنا جو کچھ آپکی ماں یا باپ کہتا ہے اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرنے یا مبالغہآرائی کرنے سے بچنے میں آپکی مدد کرتا ہے۔ کیا آپکی ماں یا باپ حقیقت میں آپکو فضول ناکارہ یا مکمل طور پر ناکام کہتے ہیں، یا وہ محض یہ کہتے ہیں کہ آپ نے گیراج کو پینٹ کرنے یا چولہے کو صاف کرنے میں چالو کام کیا ہے؟ اگر مؤخرالذکر والی بات درست ہے تو حد سے زیادہ ردعمل کیوں ظاہر کریں؟ ”زمین پر کوئی ایسا راستباز انسان نہیں کہ نیکی ہی کرے اور خطا نہ کرے،“ بائبل کہتی ہے۔ (واعظ ۷:۲۰) اور اگر آپ کسی خاص کام میں ناکام ہو بھی گئے ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ زندگی کے ہر پہلو میں ناکام ہو گئے ہیں۔ پس خود کو یاد دلائیں کہ آپ دوسری قوتیں اور خوبیاں رکھتے ہیں۔
دباؤ کے تحت پرسکون رہنا
”ہر مرتبہ جب وہ کوئی حماقت کرتا ہے،“ ایک والد نے اعتراف کیا، ”تو میں کہتا ہوں، تم احمق ہو۔“ اور اگر آپکی ماں یا باپ اسی طرح سے گالی دینے یا دیگر بدکلامی کی طرف رجوع ہوتے ہیں تو پھر کیا ہو؟ سب سے پہلے، اپنے جذبات پر قابو پائیں! ”صاحبعلم کمگو ہے اور صاحبفہم متین ہے۔“—امثال ۱۷:۲۷۔
کہی گئی غیرمنصفانہ باتوں پر توجہ نہ دیں، وہ آپکو مزید غصہ دلائینگی۔ اسکی بجائے، ان حلقوں پر توجہ دیں جن میں آپکو بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ خود کو یاد دلائیں کہ آپکے والدین آپ سے محبت رکھتے ہیں اور غالباً وہ کینہپرور نہیں ہیں۔ (جس والد کا اوپر حوالہ دیا گیا، اس نے تسلیم کیا: ”مجھے اسکو ہر وقت احمق نہیں کہنا چاہیے۔ جلد ہی وہ اسکا یقین کرنے لگے گا۔“) اگر وہ پریشانی یا کام کی زیادتی کی وجہ سے تھکے ہوئے دکھائی دیتے ہیں تو انکی نیت پر اعتماد رکھیں۔ ”آدمی کی تمیز اسکو قہر کرنے میں دھیما بناتی ہے۔ اور خطا سے درگذر کرنے میں اسکی شان ہے۔“—امثال ۱۹:۱۱۔b
جبکہ جوابی حملہ نامناسب ہوگا، ہو سکتا ہے کہ آپ زبانی حملے کے ذریعے کچھ غصہ نکالنے کے قابل ہوں۔ مثال کے طور پر، اپنے والدین کے الفاظ کو دوہرانے، انکی توجہ کو پھر سے مسئلے پر مرکوز کرانے کی کوشش کرنے سے۔ اگر آپکا والد آپکو احمق کہتا ہے کیونکہ جس طریقے سے آپ نے خاندان کی کار کو پالش کیا ہے وہ اسے پسند نہیں کرتا تو اسطرح سے جواب دینے کی کوشش کریں: ”آپ پریشان ہیں کیونکہ میں نے کار کو پالش کرنے کا کام اچھی طرح سے نہیں کیا۔“ یا آپ صرف تنقید سے اتفاق کر سکتے ہیں۔ (”ڈیڈ، آپ درست کہتے ہیں۔ مجھے بہتر کام کرنا چاہیے تھا۔“) یا بہتری پیدا کرنے کیلئے قطعی طریقوں کی خاطر پوچھنے کی کوشش کریں۔ امثال ۱۵:۱ کہتی ہے: ”نرم جواب قہر کو دور کر دیتا ہے پر کرخت باتیں غضبانگیز ہیں۔“
کیا آپکو قاضی جدعون کی بابت یاد ہے؟ بائبل بیان کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی قوم کیلئے مدیان کی دشمن قوم پر ڈرامائی فتح حاصل کرنے کا سبب بنا۔ اسکے بعد جدعون نے افرائیم کے ممتاز قبیلے کے پاس پیغامرساں بھیجے اور کہا کہ شکستخوردہ مدیانیوں کو بچ کر نکل جانے سے روکیں۔ افرائیمیوں نے مدیان کے دو شہزادوں کو گرفتار کرتے ہوئے جوابی عمل کیا۔ لیکن بعد میں قبیلے کے مغرور سرداروں نے جدعون کے ساتھ ”بڑا جھگڑا کیا!“ وہ ناراض ہو گئے تھے کہ انہیں لڑائی میں شرکت کرنے کیلئے دعوت شروع ہی سے کیوں نہیں دی گئی تھی۔—قضاہ ۸:۱۔
یہ زبانی حملہ واضح طور پر غیرمنصفانہ تھا۔ اور اگر جدعون اضطراری قسم کا شخص ہوتا، تو وہ شاید افرائیمیوں کو ایک غصہور ڈانٹ پلاتا—اور خانہجنگی کا باعث بن گیا ہوتا۔ اسکی بجائے، اس نے جواب دیا: ”میں نے تمہاری طرح بھلا کیا ہی کیا ہے؟ کیا افرائیم کے چھوڑے ہوئے انگور بھی ابیعزر کی فصل سے بہتر نہیں ہیں؟“ (قضاہ ۸:۲) جدعون کے جواب کا مطلب تھا کہ مدیانی شہزادوں کو گرفتار کرنے سے افرئیمیوں نے اس کام سے بھی زیادہ کام انجام دیا تھا جو خود جدعون نے کیا۔ جدعون کے نرم اور منکسر جواب نے ناروا تنقید کا رخ موڑ دیا اور صلح برقرار رکھی۔
سبق؟ جب آپکے والدین آپکی تنقید کرتے ہیں تو حد سے زیادہ ردعمل ظاہر کرنے سے گریز کریں۔ پرسکون رہنا آپکو کوئی ایسی بات کہنے یا ایسا کام کرنے سے روک سکتا ہے جس پر بعد میں آپ کو پشیمان ہونا پڑے۔—مقابلہ کریں واعظ ۱۰:۴۔
کارروائی کرنا
تاہم، مہربانہ الفاظ ہی کافی نہیں۔ کارروائی کریں! یاد رکھیں، ”جو حکمت اوپر سے آتی ہے ... تربیت پذیر ... ہوتی ہے۔“ (یعقوب ۳:۱۷) اس کمرے کو صاف کرنا، کار کو پالش کرنا، اپنے بال کاٹنا، کپڑوں کے اسٹائل بدلنا، یا وہ تبدیلیاں کرنا شروع کریں جو آپکے والدین آپ سے چاہتے ہیں۔ مزید نقص نکالنے کو روکنے کیلئے یہ بہترین طریقہ ہے۔
دوسری جانب، آپ دیانتداری کیساتھ تنقید سے نااتفاقی کر سکتے ہیں۔ حتیکہ بہترین والدین بھی، کسی حال میں، غلطی سے مبرا نہیں ہیں۔ شوروغل مچا کر معاملات کو نپٹانے کی کوشش کرنے کی بجائے، ”مناسب وقت، NW“ کا انتظار کریں، تب اپنے والدین سے باتچیت کریں۔ (امثال ۱۵:۲۳) ”مشورتپسند کیساتھ حکمت ہے،“ امثال ۱۳:۱۰ کہتی ہے۔ اپنے والدین کو قطعی وجوہات پیش کرتے ہوئے اپنی شکایات ایک پرسکون، بالغ طریقے سے پیش کریں کہ آپ کیوں اتفاق نہیں کرتے۔ شاید آپ انہیں معاملات کو اپنے طریقے سے دیکھنے کیلئے قائل کر سکتے ہیں۔ اگر نہیں، تو شاید آپکو محض اپنے والدین کے طور پر انکے اختیار کی اطاعت کرنی ہوگی۔—امثال ۶:۲۰۔
تاہم، انکی تادیب کو تسلیم کرنا، انجامکار آپکو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ حتیکہ کامل انسان یسوع نے بھی ”دکھ اٹھا اٹھا کر فرمانبرداری سیکھی۔“ (عبرانیوں ۵:۸) آپکو بھی بہت سے قابلقدر اسباق سیکھنے ہیں۔ آپکو پہلے ہی اساتذہ کی طرف سے تنقید کیساتھ نباہ کرنا پڑتا ہے۔ مستقبل میں، آپکو آجروں کیساتھ نباہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ابھی سے تنقید کو قبول کرنا سیکھیں۔
وقت آنے پر شاید آپ اپنے والدین کے نکتۂنظر کی قدر کرنے لگیں۔ ایک جوان آدمی جیمز اپنے والدین کی بابت کہتا ہے: ”وہ سکول، کلیسیا، اور گھریلو کامکاج کے حلقوں میں میرے ساتھ اپنی بات پر ڈٹے رہتے تھے۔ بعض اوقات تو میں آرام بھی نہیں کر سکتا تھا! لیکن جب میں بڑا ہوا، تو میں اس بات کی قدر کرنے لگا کہ فضیلت حاصل کرنے کیلئے سخت محنت کی ضروت ہے۔“ کیا وہ سیکھنے کے لائق سبق نہیں تھا؟ اور آپ بھی تنقید سے نپٹنا سیکھ کر اسی طرح کے قابلقدر سبق سیکھیں گے۔ (10 12/8 g92)
[فٹنوٹ]
a نومبر ۲۲، ۱۹۹۲ کے اویک! کے شمارے کے مضمون ”وائے از نتھنگ آئی ڈو ایور گڈ اینف؟“ کو دیکھیں۔
b ہم ان والدین کی طرف سے زبانی یا جسمانی بدسلوکی کا ذکر نہیں کر رہے جو واضح طور پر جذباتی مسائل میں مبتلا ہیں یا منشیات یا شرابنوشی کے ناجائز استعمال کے مسائل سے دوچار ہیں۔ ایسوں کو شاید پیشہوارانہ مدد کی ضرورت ہو۔
[تصویر]
چیخنا چلانا، رونا دھونا، یا اپنی توجیہ کرنا عام طور پر باپ یا ماں کے اندر منفی اوصاف پیدا کرتا ہے
[تصویر]
قطعی چیزوں کی بابت اپنے باپ یا ماں سے پوچھنا کہ آپ کیسے بہتری پیدا کر سکتے ہیں شاید نکتہچینی کے ڈنک کو نکال دے