یعقوب کا خط
1 خدا کے اور ہمارے مالک یسوع مسیح کے غلام یعقوب کی طرف سے اُن 12 قبیلوں کے نام جو اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے ہیں۔
سلام!
2 میرے بھائیو، جب آپ طرح طرح کی آزمائشوں کا سامنا کرتے ہیں تو خوش ہوں 3 کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ جب آپ کا ایمان پرکھا جاتا ہے تو آپ میں ثابتقدمی پیدا ہوتی ہے۔ 4 لیکن ثابتقدمی کو اپنا کام پورا کرنے دیں تاکہ آپ کامل ہوں اور ہر لحاظ سے بےعیب ہوں یعنی آپ میں کوئی کمی نہ ہو۔
5 لہٰذا اگر آپ میں سے کسی شخص میں دانشمندی کی کمی ہو تو وہ بار بار خدا سے مانگے اور یہ اُس کو دی جائے گی کیونکہ خدا بغیر ڈانٹے* بڑی فیاضی سے سب کو دیتا ہے۔ 6 لیکن وہ شخص ایمان رکھ کر مانگے اور بالکل شک نہ کرے کیونکہ جو شک کرتا ہے، وہ سمندر کی لہر کی طرح ہے جو ہوا کے زور سے اِدھر اُدھر اُچھلتی ہے۔ 7 دراصل ایسے شخص کو یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اُس کو یہوواہ* سے کچھ ملے گا 8 کیونکہ وہ دودِلا ہے اور اپنے ہر کام میں ڈانواںڈول ہے۔
9 جو بھائی غریب ہے، وہ خوش ہو* کہ اُس کا رُتبہ بلند ہو گیا ہے 10 اور جو بھائی امیر ہے، وہ خوش ہو کہ اُس کا رُتبہ کم ہو گیا ہے۔ کیونکہ امیر میدان کے پھول کی طرح مُرجھا جاتے ہیں۔ 11 جب سورج چڑھتا ہے تو پودا دھوپ کی شدت سے سُوکھ جاتا ہے اور اُس کے پھول مُرجھا جاتے ہیں اور اُس کی خوبصورتی ختم ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح امیر بھی اپنے کامکاج کرتے کرتے ختم ہو جاتے ہیں۔
12 جو شخص آزمائش کے وقت ثابتقدم رہتا ہے، وہ خوش ہے کیونکہ آزمائش میں کامیاب ہونے پر اُسے زندگی کا وہ تاج ملے گا جس کا وعدہ یہوواہ* نے اُن لوگوں سے کِیا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں۔ 13 جب کوئی شخص آزمائش کا سامنا کر رہا ہو تو یہ نہ کہے کہ ”خدا مجھے آزما رہا ہے۔“ کیونکہ خدا نہ تو بُرے کام کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ کسی کو بُرے کاموں سے آزماتا ہے 14 بلکہ ہر شخص اپنی ہی خواہشوں کی وجہ سے آزمایا اور اُکسایا* جاتا ہے۔ 15 جب یہ خواہشیں دل میں بڑھتے بڑھتے پک* جاتی ہیں تو گُناہ پیدا ہوتا ہے اور گُناہ کا انجام موت ہوتا ہے۔
16 میرے عزیز بھائیو، دھوکا نہ کھائیں۔ 17 ہر اچھی نعمت اور ہر کامل بخشش اُوپر سے آتی ہے یعنی آسمانی روشنیوں کے باپ سے۔ وہ سایے کی طرح نہیں ہے جس میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔ 18 اُس کی مرضی تھی کہ ہمیں سچائی کے کلام کے ذریعے پیدا کرے تاکہ ہم اُس کی مخلوقات میں سے ایک طرح کے پہلے پھل ہوں۔
19 میرے عزیز بھائیو، ہر ایک سننے میں جلدی کرے لیکن بولنے میں جلدی نہ کرے اور غصہ کرنے میں جلدبازی نہ کرے۔ 20 کیونکہ جو شخص غصے پر قابو نہیں رکھتا، وہ خدا کی نظروں میں نیک نہیں ٹھہرتا۔ 21 لہٰذا خود کو ساری گندگی اور چھوٹی سے چھوٹی بُرائی* سے بھی پاک کریں اور اُس کلام کو نرممزاجی سے قبول کریں جو آپ میں بویا جاتا ہے اور جو آپ* کو نجات دِلا سکتا ہے۔
22 لیکن کلام کو صرف سنیں نہیں بلکہ اِس پر عمل بھی کریں ورنہ آپ خود کو دھوکا دے رہے ہوں گے۔ 23 کیونکہ اگر کوئی شخص کلام کو سنتا ہے لیکن اِس پر عمل نہیں کرتا تو وہ ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو شیشے میں اپنا چہرہ دیکھتا ہے۔ 24 وہ اپنے آپ کو دیکھ کر چلا جاتا ہے اور فوراً بھول جاتا ہے کہ وہ کیسا ہے۔ 25 لیکن جو شخص اُس کامل شریعت کو دھیان سے دیکھتا ہے جو آزادی کی طرف لے جاتی ہے اور اِس پر چلتا رہتا ہے، وہ اِس کو سُن کر بھولتا نہیں بلکہ اِس پر عمل کرتا ہے اور اُسے اپنے کاموں سے خوشی ملتی ہے۔
26 اگر کسی کا خیال ہے کہ وہ خدا کی عبادت کرتا ہے* لیکن وہ اپنی زبان پر قابو نہیں رکھتا* تو وہ خود کو دھوکا دیتا ہے اور اُس کی عبادت فضول ہے۔ 27 ہمارے خدا اور باپ کے نزدیک پاک صاف عبادت* یہ ہے کہ ہم مصیبتزدہ یتیموں اور بیواؤں کی دیکھبھال کریں اور اپنے آپ کو دُنیا سے بےداغ رکھیں۔
2 میرے بھائیو، کیا یہ سچ ہے کہ ایک طرف تو آپ ہمارے شاندار مالک یسوع مسیح پر ایمان رکھتے ہیں اور دوسری طرف دوسروں سے اِمتیازی سلوک کرتے ہیں؟ 2 اگر آپ کے اِجلاس میں ایک آدمی سونے کی انگوٹھیاں اور شاندار لباس پہنے ہوئے آتا ہے اور ایک غریب آدمی میلے کُچیلے کپڑے پہنے ہوئے آتا ہے 3 تو کیا آپ اُس آدمی کی زیادہ عزت کرتے ہیں جس نے شاندار لباس پہنا ہے اور اُس سے کہتے ہیں: ”آپ یہاں اچھی جگہ پر بیٹھیں“ اور غریب آدمی سے کہتے ہیں: ”تُم کھڑے رہو“ یا ”تُم اِدھر میرے پاؤں کے پاس بیٹھو“؟ 4 اگر آپ ایسا کر رہے ہیں تو کیا آپ ایک دوسرے سے تعصب نہیں کر رہے اور کیا آپ ایسے منصف نہیں بن رہے جو بُرے فیصلے سناتے ہیں؟
5 میرے عزیز بھائیو، میری بات سنیں۔ کیا خدا نے اُن لوگوں کو نہیں چُنا جو دُنیا کی نظر میں غریب ہیں تاکہ وہ ایمان کے لحاظ سے امیر بن جائیں اور اُس بادشاہت کے وارث بن جائیں جس کا خدا نے اُن سے وعدہ کِیا ہے جو اُس سے محبت کرتے ہیں؟ 6 لیکن آپ تو غریبوں کی بےعزتی کرتے ہیں۔ ذرا سوچیں کہ وہ کون ہیں جو آپ پر ظلم ڈھاتے اور آپ کو گھسیٹ کر عدالتوں میں لے جاتے ہیں؟ کیا وہ امیر نہیں؟ 7 وہی تو اُس نام کے خلاف کفر بھی بکتے ہیں جس سے آپ کہلاتے ہیں۔ 8 اگر آپ اُس شاہی حکم پر عمل کرتے ہیں جو صحیفوں میں لکھا ہے یعنی ”اپنے پڑوسی سے اُسی طرح محبت کرو جس طرح تُم اپنے آپ سے کرتے ہو“ تو آپ اچھا کرتے ہیں۔ 9 لیکن اگر آپ دوسروں سے اِمتیازی سلوک کرتے رہتے ہیں تو آپ گُناہ کر رہے ہیں اور آپ شریعت کے مطابق قصوروار ہیں۔
10 کیونکہ اگر کوئی شخص پوری شریعت کو مانتا ہے لیکن اِس کے صرف ایک حکم کو توڑتا ہے تو وہ پوری شریعت کی خلافورزی کرتا ہے۔ 11 کیونکہ جس نے کہا: ”زِنا نہ کرو“ اُس نے یہ بھی کہا: ”قتل نہ کرو۔“ اب اگر آپ زِنا نہیں کرتے لیکن قتل کرتے ہیں تو دراصل آپ شریعت کی خلافورزی کرتے ہیں۔ 12 آپ کی باتیں اور چالچلن ایسے لوگوں کی طرح ہو جن کا اِنصاف آزادی کی شریعت کے مطابق کِیا جائے گا۔ 13 کیونکہ جو شخص رحم نہیں کرتا، اُس کا اِنصاف رحم کے بغیر کِیا جائے گا۔ رحم، اِنصاف پر غالب آتا ہے۔
14 میرے بھائیو، اگر کوئی شخص کہے کہ وہ ایمان رکھتا ہے لیکن اِس ایمان کے مطابق کام نہیں کرتا تو اِس کا کیا فائدہ؟ کیا ایسا ایمان اُسے نجات دِلا سکتا ہے؟ 15 اگر کسی بہن یا بھائی کے پاس کپڑے نہ ہوں* اور کھانے پینے کی کمی ہو 16 اور آپ اُس سے کہیں کہ ”سلامت رہیں۔ گرم کپڑے پہنیں اور پیٹ بھر کر کھانا کھائیں“ لیکن اُس کی ضرورت پوری نہ کریں تو کیا فائدہ؟ 17 اِسی طرح ایمان بغیر کاموں کے مُردہ ہوتا ہے۔
18 پھر بھی شاید کوئی کہے: ”آپ صرف ایمان رکھتے ہیں لیکن مَیں اپنے ایمان کے مطابق کام بھی کرتا ہوں۔ آپ اپنا ایمان بغیر کاموں کے دِکھائیں اور مَیں اپنا ایمان اپنے کاموں سے ظاہر کروں گا۔“ 19 کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ خدا ایک ہی ہے؟ یہ تو اچھی بات ہے۔ لیکن بُرے فرشتے بھی یہ مانتے ہیں اور خوف کے مارے کانپتے ہیں۔ 20 ارے ناسمجھ، کیا تمہیں ثبوت چاہیے کہ ایمان بغیر کاموں کے فضول ہے؟ 21 کیا ہمارے باپ ابراہام کو اُن کے کاموں کی وجہ سے نیک قرار نہیں دیا گیا کیونکہ اُنہوں نے اپنے بیٹے اِضحاق کو قربان کرنے کے لیے قربانگاہ پر لِٹا دیا؟ 22 اِس سے آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ابراہام کے کاموں سے ظاہر ہوا کہ اُن کا ایمان زندہ ہے اور اُن کے کاموں کی وجہ سے اُن کا ایمان کامل ہو گیا۔ 23 اور یوں یہ صحیفہ پورا ہوا: ”ابراہام نے یہوواہ* پر ایمان رکھا اِس لیے اُنہیں نیک قرار دیا گیا“ اور وہ یہوواہ* کے دوست کہلائے۔
24 آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک شخص صرف ایمان سے نہیں بلکہ کاموں سے نیک قرار دیا جاتا ہے۔ 25 کیا راحب نامی فاحشہ کو بھی اُن کے کاموں کی وجہ سے نیک قرار نہیں دیا گیا کیونکہ اُنہوں نے جاسوسوں* کا خیرمقدم کِیا اور اُنہیں دوسرے راستے سے بھیج دیا؟ 26 بےشک جس طرح جسم بغیر سانس* کے مُردہ ہے اُسی طرح ایمان بغیر کاموں کے مُردہ ہے۔
3 میرے بھائیو، آپ میں سے زیادہ لوگ اُستاد نہ بنیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ ہم اُستادوں کی عدالت زیادہ سخت ہوگی۔ 2 کیونکہ ہم سب بار بار غلطی کرتے ہیں۔ اگر کوئی بولتے وقت غلطی نہیں کرتا تو وہ کامل شخص ہے اور اپنے پورے جسم کو بھی قابو میں رکھ سکتا ہے۔ 3 جب ہم گھوڑوں کو قابو کرنے کے لیے اُن کے مُنہ میں لگام ڈالتے ہیں تو ہم اُن کے جسم کو جہاں چاہے، لے جا سکتے ہیں۔ 4 بحری جہازوں کو لے لیں: حالانکہ وہ بہت بڑے ہوتے ہیں اور تیز ہواؤں کے زور پر چلتے ہیں پھر بھی ملاح اپنی مرضی کے مطابق ایک چھوٹی سی پتوار کے ذریعے اُن کا رُخ بدل سکتا ہے۔
5 اِسی طرح زبان بھی جسم کا ایک چھوٹا سا عضو ہے لیکن وہ بڑے بڑے بول بولتی ہے۔ دیکھیں! تھوڑی سی آگ سے پورے جنگل میں آگ لگ جاتی ہے۔ 6 زبان بھی ایک آگ ہے۔ یہ جسم کا وہ عضو ہے جو بُرائی کی جڑ ہے کیونکہ یہ پورے جسم کو آلودہ کر دیتی ہے، اِسے ہنوم کی وادی* سے آگ لگتی ہے اور یہ پوری زندگی کو آگ لگا دیتی ہے۔ 7 ہر قسم کے جنگلی جانوروں، پرندوں، رینگنے والے جانوروں اور سمندری جانوروں پر قابو پایا جا سکتا ہے اور اِنسانوں نے اُن پر قابو پایا بھی ہے۔ 8 لیکن کوئی بھی شخص زبان پر قابو نہیں پا سکتا۔ دراصل یہ بےلگام اور نقصاندہ ہے اور جانلیوا زہر سے بھری ہوئی ہے۔ 9 اِس سے ہم اپنے آسمانی باپ یہوواہ* کی بڑائی کرتے ہیں لیکن اِس سے ہم لوگوں کو بددُعا بھی دیتے ہیں جنہیں ”خدا کی صورت“ پر بنایا گیا ہے۔ 10 ایک ہی مُنہ سے دُعا اور بد دُعا دونوں نکلتی ہیں۔
میرے بھائیو، ایسا کرنا صحیح نہیں ہے۔ 11 کیا ایک ہی چشمے سے میٹھا اور کھارا پانی نکل سکتا ہے؟ 12 میرے بھائیو، کیا اِنجیر کے درخت پر زیتون لگ سکتے ہیں یا کیا انگور کی بیل پر اِنجیر لگ سکتے ہیں؟ اِسی طرح نمکین پانی کے چشمے سے میٹھا پانی نہیں نکل سکتا۔
13 آپ میں سے کون دانشمند اور سمجھدار ہے؟ وہ اپنے اچھے چالچلن سے ظاہر کرے کہ اُس کے کام اُس نرممزاجی سے کیے گئے ہیں جو دانشمندی کا نتیجہ ہے۔ 14 لیکن اگر آپ کے دل میں شدید حسد ہے اور آپ لڑائی جھگڑے* کی طرف مائل ہیں تو شیخی نہ بگھاریں اور سچائی کے خلاف جھوٹ نہ بولیں۔ 15 ایسی دانشمندی اُوپر سے نہیں آتی بلکہ زمینی، نفسانی اور شیطانی ہے۔ 16 کیونکہ جہاں حسد اور لڑائی جھگڑا* ہوتا ہے وہاں بدنظمی اور ہر طرح کی بُرائی بھی ہوتی ہے۔
17 لیکن جو دانشمندی اُوپر سے آتی ہے، وہ پہلے تو پاک ہوتی ہے، پھر صلحپسند، سمجھدار،* فرمانبردار، رحم اور اچھائی* سے معمور، غیرجانبدار اور بےریا ہوتی ہے۔ 18 اور نیکی کے پھل کا بیج صلحپسند لوگوں کے لیے* خوشگوار ماحول میں بویا جاتا ہے۔
4 آپ کے درمیان جنگیں اور جھگڑے کس وجہ سے ہوتے ہیں؟ کیا اُن جسمانی خواہشوں کی وجہ سے نہیں جن کے باعث آپ* کے اندر ایک لڑائی جاری ہے؟ 2 آپ خواہش کرتے ہیں لیکن آپ کو کچھ ملتا نہیں۔ آپ قتل اور لالچ کرتے ہیں لیکن آپ کو کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ آپ لڑائی جھگڑا اور جنگ کرتے ہیں۔ آپ کے پاس کچھ نہیں ہے کیونکہ آپ مانگتے نہیں ہیں۔ 3 اور اگر آپ مانگتے بھی ہیں تو آپ کو کچھ ملتا نہیں کیونکہ آپ بُری نیت سے مانگتے ہیں تاکہ اپنی جسمانی خواہشوں کو پورا کر سکیں۔
4 زِناکارو،* کیا تمہیں پتہ نہیں کہ دُنیا کے ساتھ دوستی خدا کے ساتھ دُشمنی کے برابر ہے؟ اِس لیے جو شخص دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے، وہ اپنے آپ کو خدا کا دُشمن بناتا ہے۔ 5 یا کیا تمہیں لگتا ہے کہ صحیفوں میں یہ بات بِلاوجہ لکھی ہے کہ ”حسد کا جو رُجحان* ہمارے اندر پایا جاتا ہے، وہ ہمیں لالچ کرنے پر اُکساتا ہے“؟ 6 لیکن جو عظیم رحمت خدا ہمیں عطا کرتا ہے، وہ اِس رُجحان سے زیادہ طاقتور ہے۔ اِس لیے صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”خدا مغروروں کی مخالفت کرتا ہے لیکن خاکساروں کو عظیم رحمت عطا کرتا ہے۔“
7 لہٰذا خدا کی تابعداری کریں۔ لیکن اِبلیس کا مقابلہ کریں تو وہ آپ کے پاس سے بھاگ جائے گا۔ 8 خدا کے قریب جائیں تو وہ آپ کے قریب آئے گا۔ گُناہگارو، اپنے ہاتھوں کو صاف کرو۔ دودِلو، اپنے دلوں کو پاک کرو۔ 9 غمگین ہو، ماتم کرو اور روؤ۔ اپنی ہنسی کو ماتم میں اور اپنی خوشی کو مایوسی میں بدل لو۔ 10 یہوواہ* کے حضور خاکسار بنو تو وہ تمہیں سربلند کرے گا۔
11 بھائیو، ایک دوسرے کے خلاف بولنا بند کر دیں۔ جو کوئی اپنے بھائی کے خلاف بولتا ہے یا اپنے بھائی کو قصوروار ٹھہراتا ہے، وہ دراصل شریعت کے خلاف بولتا ہے اور شریعت کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔ اور اگر آپ شریعت کو قصوروار ٹھہراتے ہیں تو آپ شریعت پر عمل کرنے والے نہیں بلکہ منصف ہیں۔ 12 لیکن شریعت دینے والا اور منصف صرف ایک ہے یعنی وہ جو لوگوں کو نجات دِلا سکتا یا اُنہیں ہلاک کر سکتا ہے۔ تو پھر آپ کون ہیں جو اپنے پڑوسی کو قصوروار ٹھہراتے ہیں؟
13 آپ لوگ بھی میری بات سنیں جو یہ کہتے ہیں کہ ”آج یا کل ہم فلاں شہر جائیں گے اور ایک سال وہاں رہیں گے اور کاروبار کریں گے اور منافع کمائیں گے۔“ 14 لیکن آپ کو نہیں پتہ کہ کل آپ کے ساتھ کیا ہوگا کیونکہ آپ دُھند کی طرح ہیں جو تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے اور پھر غائب ہو جاتی ہے۔ 15 اِس لیے آپ کو یہ کہنا چاہیے کہ ”اگر یہوواہ* چاہتا ہے تو ہم زندہ رہیں گے اور یہ یا وہ کام کریں گے۔“ 16 لیکن آپ تو شیخی بگھارنے پر فخر کرتے ہیں۔ اور ایسا فخر بُرا ہے۔ 17 لہٰذا اگر کسی کو پتہ ہے کہ صحیح کیا ہے لیکن وہ اِس کے مطابق عمل نہیں کرتا تو وہ گُناہ کرتا ہے۔
5 امیرو، میری بات سنو۔ جو مصیبتیں تُم پر آنے والی ہیں، اُن کی وجہ سے دھاڑیں مار مار کر روؤ۔ 2 تمہاری دولت سڑ گئی ہے اور تمہارے کپڑوں کو کیڑا کھا گیا ہے۔ 3 تمہارے سونے اور چاندی کو زنگ کھا گیا ہے اور یہ زنگ تمہارے خلاف گواہی دے گا اور تمہارا گوشت کھائے گا۔ جو کچھ تُم نے جمع کِیا ہے، وہ آخری زمانے میں آگ کی طرح ہوگا۔ 4 دیکھو! جو مزدوری تُم نے اپنے کھیتوں میں کٹائی کرنے والوں کو نہیں دی، وہ پکار رہی ہے اور مزدوروں کی دُہائی فوجوں کے خدا یہوواہ* کے کانوں تک پہنچی ہے۔ 5 تُم نے دُنیا میں عیشوآرام کی زندگی گزاری اور نفسپرستی میں لگے رہے۔ تُم نے اپنے دلوں کو ذبح کے دن کے لیے موٹا تازہ کر لیا۔ 6 تُم نے نیک شخص کو قصوروار ٹھہرایا اور اُس کو قتل کِیا۔ کیا وہ تمہاری مخالفت نہیں کرتا؟
7 اِس لیے بھائیو، ہمارے مالک کی موجودگی تک صبر کریں۔ دیکھیں، ایک کسان زمین کے پھل کے لیے تب تک صبر سے اِنتظار کرتا ہے جب تک خزاں اور بہار کی بارشیں نہیں ہوتیں۔ 8 آپ بھی صبر کریں اور اپنے دلوں کو مضبوط کریں کیونکہ ہمارے مالک کی موجودگی کا وقت قریب آ گیا ہے۔
9 بھائیو، ایک دوسرے کے خلاف بڑبڑائیں نہیں* تاکہ آپ کو سزاوار نہ ٹھہرایا جائے۔ دیکھیں، منصف دروازے پر کھڑا ہے۔ 10 بھائیو، مشکلات جھیلنے اور صبر کرنے کے سلسلے میں اُن نبیوں سے سیکھیں جنہوں نے یہوواہ* کے نام سے پیغام سنایا۔ 11 دیکھیں، ہم اُن لوگوں کو بابرکت* سمجھتے ہیں جو ثابتقدم رہے ہیں۔ آپ نے ایوب کی ثابتقدمی کے بارے میں سنا ہے اور یہ بھی دیکھا ہے کہ یہوواہ* نے اُن کو اجر دیا۔ اِس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہوواہ* بہت ہی شفیق* اور رحیم ہے۔
12 اِس کے علاوہ میرے بھائیو، قسم کھانا چھوڑ دیں۔ نہ تو آسمان کی قسم کھائیں نہ زمین کی اور نہ ہی کسی اَور چیز کی۔ آپ کی ہاں کا مطلب ہاں ہو اور آپ کی نہیں کا مطلب نہیں تاکہ آپ سزا کے لائق نہ ٹھہریں۔
13 کیا آپ میں سے کوئی مشکلات جھیل رہا ہے؟ وہ دُعا کرتا رہے۔ کیا آپ میں سے کوئی خوشباش ہے؟ وہ زبور گائے۔ 14 کیا آپ میں سے کوئی بیمار ہے؟ وہ کلیسیا کے بزرگوں کو اپنے پاس بلائے اور بزرگ اُس کے لیے دُعا کریں اور یہوواہ* کے نام سے اُس پر تیل ملیں۔ 15 جو دُعا ایمان سے کی جائے گی، اُس کے ذریعے بیمار* شخص ٹھیک ہو جائے گا اور یہوواہ* اُس کو اپنے پیروں پر کھڑا کرے گا۔ اِس کے علاوہ اگر اُس نے گُناہ کیے ہوں تو اُسے معافی مل جائے گی۔
16 اِس لیے ایک دوسرے کے سامنے اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں اور ایک دوسرے کے لیے دُعا کریں تاکہ آپ کو شفا ملے۔ نیک شخص کی اِلتجا کا اثر بہت زبردست ہوتا ہے۔ 17 ایلیاہ نبی ہماری طرح اِنسان تھے اور ہمارے جیسے احساسات رکھتے تھے لیکن جب اُنہوں نے پوری لگن سے دُعا کی کہ بارش نہ ہو تو ساڑھے تین سال تک ملک میں بارش نہیں ہوئی۔ 18 اور جب اُنہوں نے دوبارہ دُعا کی تو آسمان سے بارش ہوئی اور فصلوں کی پیداوار ہونے لگی۔
19 میرے بھائیو، اگر آپ میں سے کوئی سچائی کی راہ سے گمراہ ہو جائے اور کوئی اَور شخص اُس کو واپس لائے 20 تو یہ جان لیں کہ جو شخص کسی گُناہگار کو غلط راہ سے واپس لاتا ہے، وہ اُس* کو موت سے بچاتا ہے اور اُس کے بےشمار گُناہوں پر پردہ ڈالتا ہے۔
یا ”بغیر نکتہچینی کیے“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”فخر کرے“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”پھنسایا“
یونانی میں: ”خواہشیں حاملہ ہو“
یا شاید ”بُرائی کی کثرت“
یونانی میں: ”آپ کی جانوں“
یا ”وہ مذہبی ہے“
یا ”زبان کو لگام نہیں دیتا“
یا ”مذہب“
یونانی میں: ”کوئی بہن یا بھائی ننگا ہو“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”پیامبروں“
یونانی میں: ”روح“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا شاید ”خودغرضی“
یا شاید ”خودغرضی“
یا ”لچکدار؛ معقول؛ لحاظ کرنے والی“
یونانی میں: ”اچھے پھلوں“
یا شاید ”کے ذریعے“
یونانی میں: ”آپ کے اعضا“
یا ”بےوفاؤ“
یونانی میں: ”روح“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”کی شکایتیں نہ کریں۔“ یونانی میں: ”آہیں نہ بھریں“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”خوش“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا ”ہمدرد“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یا شاید: ”تھکاماندہ“
”الفاظ کی وضاحت“ کو دیکھیں۔
یونانی میں: ”اُس کی جان“