یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • ت‌ن‌د 1-‏کُرنتھیوں 1:‏1-‏16:‏24
  • 1-‏کُرنتھیوں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • 1-‏کُرنتھیوں
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
1-‏کُرنتھیوں

کُرنتھیوں کے نام پہلا خط

1 پولُس کی طرف سے جسے خدا کی مرضی سے مسیح یسوع کا رسول مقرر کِیا گیا اور ہمارے بھائی سوستھینس کی طرف سے 2 کُرنتھس میں خدا کی کلیسیا*‏ کے نام یعنی آپ کے نام جن کو مسیح یسوع کے پیروکاروں کے طور پر مخصوص کِیا گیا اور مُقدسوں کے طور پر بلا‌یا گیا اور اُن سب کے نام بھی جو ہمارے مالک یسوع مسیح کا نام لیتے ہیں:‏

3 ہمارا باپ خدا اور ہمارے مالک یسوع مسیح آپ کو عظیم رحمت اور سلامتی عطا کریں۔‏

4 مَیں ہمیشہ اپنے خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اُس نے آپ کو مسیح یسوع کے ذریعے اپنی عظیم رحمت عطا کی۔ 5 اُس نے مسیح کے ذریعے آپ کو ہر لحاظ سے دولت‌مند بنایا یعنی آپ کو کلام سنانے کے قابل بنایا اور بھرپور علم دیا 6 کیونکہ آپ مسیح کے بارے میں گواہی سُن کر مضبوط ہو گئے۔ 7 لہٰذا جس دوران آپ اِس بات کا اِنتظار کر رہے ہیں کہ ہمارے مالک یسوع مسیح ظاہر ہوں، آپ میں کسی چیز کی کمی نہیں ہے۔ 8 خدا آپ کو آخر تک مضبوط رہنے کی طاقت عطا کرے گا تاکہ ہمارے مالک یسوع مسیح کے دن کے دوران کوئی آپ پر اِلزام نہ لگا سکے۔ 9 خدا وعدے کا پکا*‏ ہے اور اُس نے آپ کو بلا‌یا ہے تاکہ آپ اُس کے بیٹے یعنی ہمارے مالک یسوع مسیح کے ساتھی*‏ بنیں۔‏

10 بھائیو، مَیں ہمارے مالک یسوع مسیح کے نام سے آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپ سب ہم‌خیال ہوں اور آپ میں کوئی اِختلاف نہ پایا جائے بلکہ آپ متحد ہوں اور آپ کی سوچ اور رائے ایک جیسی ہو۔ 11 کیونکہ خلوئے کے کچھ گھر والوں سے مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ میں اِختلافات ہیں۔ 12 آپ میں سے ایک کہتا ہے:‏ ”‏مَیں پولُس کا شاگرد ہوں،“‏ دوسرا کہتا ہے:‏ ”‏لیکن مَیں اپلّوس کا شاگرد ہوں،“‏ تیسرا کہتا ہے:‏ ”‏لیکن مَیں کیفا*‏ کا شاگرد ہوں،“‏ چوتھا کہتا ہے:‏ ”‏لیکن مَیں مسیح کا شاگرد ہوں۔“‏ 13 کیا مسیح بٹ گیا ہے؟ کیا پولُس کو آپ کے لیے سُولی*‏ پر چڑھایا گیا تھا؟ یا کیا آپ نے پولُس کے نام سے بپتسمہ لیا تھا؟ 14 مَیں خدا کا شکر کرتا ہوں کہ مَیں نے آپ میں سے کسی کو بپتسمہ نہیں دیا سوائے کرِسپُس اور گِیُس کے 15 تاکہ آپ میں سے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ آپ نے میرے نام سے بپتسمہ لیا تھا۔ 16 اور ہاں، مَیں نے ستفناس کے گھر والوں کو بھی بپتسمہ دیا تھا۔ لیکن جہاں تک باقیوں کا تعلق ہے تو مجھے یاد نہیں کہ مَیں نے کسی اَور کو بپتسمہ دیا تھا یا نہیں۔ 17 کیونکہ مسیح نے مجھے اِس لیے نہیں بھیجا کہ لوگوں کو بپتسمہ دوں بلکہ اِس لیے کہ خوش‌خبری سناؤں اور مَیں نے عالموں کی دانش‌مندی اِستعمال کر کے*‏ ایسا نہیں کِیا تاکہ مسیح کی سُولی بے‌فائدہ نہ ہو جائے۔‏

18 دراصل سُولی کے بارے  میں  پیغام اُن  لوگوں کی نظر میں بے‌وقوفی ہے جو تباہ ہوں گے لیکن ہمارے لیے یعنی اُن لوگوں کے لیے جو نجات پائیں گے، یہ پیغام خدا کی قدرت ہے۔ 19 کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏مَیں دانش‌مندوں کی دانش‌مندی کو ختم کر دوں گا اور عقل‌مندوں کی عقل‌مندی کو رد کر دوں گا۔“‏ 20 تو پھر اِس زمانے کے دانش‌مند اور شریعت کے عالم اور بحث مباحثہ کرنے والے کہاں ہیں؟ کیا خدا نے یہ ثابت نہیں کر دیا کہ دُنیا کی دانش‌مندی اصل میں بے‌وقوفی ہے؟ 21 کیونکہ خدا کی دانش‌مندی اِس طرح ظاہر ہوئی کہ اُس نے ایمان لانے والوں کو اُس پیغام کے ذریعے نجات دینا مناسب سمجھا جو ہم سناتے ہیں اور جسے دُنیا بے‌وقوفی سمجھتی ہے جبکہ دُنیا اپنی دانش‌مندی سے خدا کو نہیں جان پائی۔‏

22 یہودی لوگ نشانیاں مانگتے ہیں اور یونانی لوگ دانش‌مندی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ 23 لیکن ہم اِس بات کا اِعلان کرتے ہیں کہ مسیح کو سُولی دی گئی اور یہ بات یہودیوں کے لیے رُکاوٹ ہے جبکہ غیریہودیوں کے لیے بے‌وقوفی ہے۔ 24 مگر جن لوگوں کو بلا‌یا گیا ہے، چاہے وہ یہودی ہوں یا یونانی، اُن کے لیے مسیح، خدا کی قدرت اور خدا کی دانش‌مندی ہے۔ 25 کیونکہ خدا کی جس چیز کو بے‌وقوفی سمجھا جاتا ہے، وہ اِنسانوں سے زیادہ دانش‌مند ہے اور خدا کی جس چیز کو کمزوری سمجھا جاتا ہے، وہ اِنسانوں سے زیادہ طاقت‌ور ہے۔‏

26 بھائیو، جب خدا نے آپ کو بلا‌یا تو آپ نے دیکھا کہ آپ میں سے زیادہ‌تر لوگ اِنسانی لحاظ سے دانش‌مند نہیں تھے، طاقت‌ور نہیں تھے اور نواب*‏ نہیں تھے۔ 27 لیکن خدا نے دُنیا کی بے‌وقوف چیزوں کو چُنا تاکہ دانش‌مندوں کو شرمندہ کرے اور خدا نے دُنیا کی کمزور چیزوں کو چُنا تاکہ طاقت‌ور چیزوں کو شرمندہ کرے 28 اور خدا نے دُنیا کی معمولی چیزوں کو چُنا اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں حقیر سمجھا جاتا ہے یعنی جنہیں اہم نہیں سمجھا جاتا تاکہ اُن چیزوں کو مٹا دے جنہیں اہم سمجھا جاتا ہے۔ 29 اُس نے یہ سب کچھ اِس لیے کِیا تاکہ کوئی اِنسان اُس کے سامنے شیخی نہ مار سکے۔ 30 آپ خدا کی وجہ سے مسیح یسوع کے ساتھ متحد ہیں جن کے ذریعے ہم پر خدا کی دانش‌مندی اور نیکی ظاہر ہوئی، ہمیں مخصوص*‏ کِیا گیا اور ہماری رِہائی کے لیے فدیہ دیا گیا 31 تاکہ وہ بات پوری ہو جو لکھی ہے کہ ”‏جو شخص فخر کرتا ہے، یہوواہ*‏ پر فخر کرے۔“‏

2 بھائیو، جب مَیں آپ کے پاس آیا تو مَیں نے بڑے بڑے لفظ یا اپنی دانش‌مندی اِستعمال کر کے خدا کا مُقدس راز نہیں بتایا۔ 2 کیونکہ مَیں نے طے کِیا تھا کہ مَیں آپ سے یسوع مسیح کے بارے میں بات کروں گا اور اِس بارے میں بھی کہ اُن کو سُولی*‏ دی گئی مگر اِس کے علاوہ کسی اَور موضوع پر بات نہیں کروں گا۔ 3 جب مَیں آپ کے پاس آیا تو مَیں کمزور تھا اور خوف کے مارے کانپ رہا تھا 4 اور مَیں نے آپ کو جو کچھ بتایا اور سکھایا، وہ اِنسانی دانش‌مندی کی دلکش باتوں کے ذریعے نہیں تھا بلکہ خدا کی روح اور طاقت سے تھا 5 تاکہ آپ اِنسانی دانش‌مندی پر ایمان نہ لائیں بلکہ خدا کی طاقت پر۔‏

6 ہم اُن لوگوں سے دانش‌مندی کے بارے میں بات کرتے ہیں جو روحانی طور پر پُختہ ہیں۔ لیکن ہم اِس زمانے اور اِس زمانے کے حاکموں کی دانش‌مندی کے بارے میں بات نہیں کرتے جو تباہ ہو جائیں گے۔ 7 اِس کی بجائے ہم اُس مُقدس راز کے بارے میں بات کرتے ہیں جو خدا کی پوشیدہ دانش‌مندی ہے۔ خدا نے زمانوں سے پہلے طے کِیا کہ وہ اِس دانش‌مندی کے مطابق کارروائی کرے گا تاکہ ہماری عزت‌افزائی ہو۔ 8 اِس دانش‌مندی کو اِس زمانے کے حاکموں میں سے کوئی بھی نہیں سمجھ سکا کیونکہ اگر وہ اِس کو سمجھ لیتے تو وہ ہمارے عظیم مالک کو سُولی پر نہ چڑھاتے۔ 9 جیسے کہ لکھا ہے:‏ ”‏آنکھوں نے نہیں دیکھا اور کانوں نے نہیں سنا اور اِنسانوں نے اُن باتوں کا تصور نہیں کِیا جن کا خدا نے اُن لوگوں کے لیے اِنتظام کِیا جو اُس سے محبت کرتے ہیں۔“‏ 10 لیکن خدا نے یہ باتیں اپنی روح کے ذریعے ہم پر ظاہر کیں کیونکہ خدا کی روح سب باتوں کو پرکھتی ہے یہاں تک کہ خدا کی گہری باتوں کو بھی۔‏

11 کیونکہ کوئی اِنسان یہ نہیں جان  سکتا کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے بلکہ ہر اِنسان خود ہی جانتا ہے کہ اُس کے دل*‏ میں کیا ہے۔ اِسی طرح کوئی اِنسان خدا کی سوچ کو نہیں جان سکتا بلکہ صرف خدا کی روح ہی اِسے جانتی ہے۔ 12 اب ہمیں دُنیا کی روح نہیں دی گئی بلکہ خدا کی روح دی گئی تاکہ ہم اُن باتوں کو سمجھ سکیں جو خدا نے ہمیں عطا کی ہیں 13 اور یہ باتیں ہم دوسروں کو بتاتے بھی ہیں۔ لیکن ہم ایسے الفاظ اِستعمال نہیں کرتے جو اِنسانی دانش‌مندی کے مطابق ہیں بلکہ ہم ایسے الفاظ اِستعمال کرتے ہیں جو خدا کی روح نے ہمیں سکھائے ہیں یعنی ہم روحانی الفاظ اِستعمال کر کے روحانی معاملوں کی وضاحت کرتے ہیں۔‏

14 جو شخص اِنسانی سوچ رکھتا ہے، وہ اُن  باتوں کو قبول نہیں کرتا جو خدا کی روح سے ہیں کیونکہ یہ باتیں اُس کی نظر میں بے‌وقوفی ہیں۔ ایسا شخص اِن باتوں کو سمجھ ہی نہیں سکتا کیونکہ اِن کو پرکھنے کے لیے خدا کی روح کی ضرورت ہے۔ 15 مگر جو شخص روحانی سوچ رکھتا ہے، وہ سب باتوں کو پرکھتا ہے لیکن اُسے کوئی اِنسان نہیں پرکھ سکتا۔ 16 لکھا ہے کہ ”‏کس نے یہوواہ*‏ کی سوچ کو سمجھا ہے تاکہ وہ اُسے تعلیم دے؟“‏ لیکن ہم مسیح کی سوچ ضرور رکھتے ہیں۔‏

3 بھائیو، پہلے آپ روحانی سوچ نہیں رکھتے تھے۔ اِس لیے مَیں نے آپ سے اِس طرح بات کی جس طرح مَیں دُنیاوی سوچ رکھنے والوں سے  کرتا ہوں۔ آپ مسیح کے لحاظ سے بچے تھے۔ 2 لہٰذا مَیں نے آپ کو ٹھوس غذا کھلانے کی بجائے دودھ دیا کیونکہ آپ ٹھوس غذا ہضم نہیں کر سکتے تھے بلکہ آپ تو ابھی بھی اِسے ہضم کرنے کے قابل نہیں ہیں 3 کیونکہ آپ ابھی بھی دُنیاوی سوچ رکھتے ہیں۔ اگر آپ ایک دوسرے سے حسد اور جھگڑے کرتے ہیں تو کیا آپ دُنیاوی سوچ نہیں رکھتے اور دُنیا کے لوگوں کی طرح نہیں چلتے؟ 4 کیونکہ اگر آپ میں سے ایک کہتا ہے کہ ”‏مَیں پولُس کا شاگرد ہوں“‏ اور دوسرا کہتا ہے کہ ”‏مَیں اپلّوس کا شاگرد ہوں“‏ تو کیا آپ دُنیاوی لوگوں کی طرح نہیں ہیں؟‏

5 اپلّوس کیا چیز ہے؟ اور پولُس کیا  چیز ہے؟ ہم تو بس خادم ہیں جو مالک کا دیا ہوا کام کر رہے ہیں اور جن کے ذریعے آپ ایمان لائے ہیں۔ 6 مَیں نے پودا لگایا، اپلّوس نے اِسے پانی دیا لیکن خدا نے اِسے بڑھایا۔ 7 لہٰذا نہ تو پودا لگانے والا اہم ہے اور نہ ہی پانی دینے والا۔ اہم تو خدا ہے جو اِسے بڑھاتا ہے۔ 8 پودا لگانے والا اور پودے کو پانی دینے والا مل کر کام کرتے ہیں*‏ اور اُن کو اپنی اپنی محنت کے مطابق اجر ملے گا۔ 9 ہم خدا کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ لیکن آپ خدا کا کھیت ہیں جس پر محنت کی جا رہی ہے اور آپ خدا کی عمارت ہیں۔‏

10 جو عظیم رحمت خدا نے مجھے عطا کی، اُس کے مطابق مَیں نے ماہر کاریگر کے طور پر ایک بنیاد ڈالی لیکن کوئی اَور شخص اِس پر عمارت تعمیر کر رہا ہے۔ ہر شخص دھیان رکھے کہ وہ اِس بنیاد پر کس طرح کی عمارت تعمیر کر رہا ہے 11 کیونکہ جو بنیاد ڈالی گئی ہے، وہ یسوع مسیح ہیں اور اُن کی جگہ کوئی اَور بنیاد نہیں ڈالی جا سکتی۔ 12 اب کچھ لوگ اِس بنیاد پر سونے اور چاندی اور قیمتی پتھروں سے عمارت تعمیر کرتے ہیں جبکہ دوسرے لکڑی، گھاس‌پھوس اور تنکوں سے۔ 13 لیکن جب اِمتحان کی گھڑی*‏ آئے گی تو ظاہر ہو جائے گا کہ کس نے کیسی عمارت تعمیر کی ہے کیونکہ یہ آگ کے ذریعے ظاہر ہوگا۔ 14 جس شخص کی عمارت بنیاد پر قائم رہے گی، اُسے اجر ملے گا۔ 15 لیکن جس شخص کی عمارت جل جائے گی، وہ نقصان اُٹھائے گا مگر خود بچ جائے گا لیکن آگ سے گزر کر۔‏

16 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ آپ خدا کی ہیکل*‏ ہیں اور خدا کی روح آپ میں بسی ہے؟ 17 اگر کوئی شخص خدا کی ہیکل کو تباہ کرے گا تو خدا اُسے تباہ کر دے گا کیونکہ خدا کی ہیکل مُقدس ہے اور وہ ہیکل آپ ہیں۔‏

18 کوئی اپنے آپ کو دھوکا نہ دے۔ اگر آپ میں سے کسی کو لگتا ہے کہ وہ اِس دُنیا*‏ کی نظر میں دانش‌مند ہے تو وہ بے‌وقوف بن جائے تاکہ وہ صحیح معنوں میں دانش‌مند بن سکے۔ 19 دراصل اِس دُنیا کی دانش‌مندی خدا کی نظر میں بے‌وقوفی ہے کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏وہ دانش‌مندوں کو اُن کی اپنی چالاکی میں پھنسا دیتا ہے۔“‏ 20 اور یہ بھی لکھا ہے کہ ”‏یہوواہ*‏ جانتا ہے کہ دانش‌مندوں کے خیالات فضول ہیں۔“‏ 21 لہٰذا کوئی شخص اِنسانوں کی وجہ سے شیخی نہ مارے کیونکہ سب کچھ آپ کا ہے، 22 چاہے وہ پولُس ہو یا اپلّوس یا کیفا*‏ یا دُنیا یا زندگی یا موت یا موجودہ چیزیں یا آنے والی چیزیں۔ سب کچھ آپ ہی کا ہے 23 اور جہاں تک آپ کا تعلق ہے، آپ مسیح کے ہیں اور مسیح، خدا کا ہے۔‏

4 ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں مسیح کے خادم اور خدا کے مُقدس رازوں کے مختار سمجھیں۔ 2 اور مختاروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ قابلِ‌بھروسا*‏ ہوں۔ 3 مجھے اِس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ آپ یا کوئی اِنسانی عدالت میری جانچ‌پڑتال کر رہی ہے۔ مَیں تو خود بھی اپنی جانچ نہیں کرتا 4 کیونکہ میرا ضمیر صاف ہے۔ لیکن اِس وجہ سے مَیں نیک ثابت نہیں ہوتا کیونکہ یہوواہ*‏ مجھے جانچتا ہے۔ 5 لہٰذا مقررہ وقت سے پہلے یعنی مالک کے آنے تک کسی کی عدالت نہ کریں۔ وہ آ کر تاریکی کی پوشیدہ باتوں کو روشنی میں لائے گا اور اِنسانوں کی نیت کو ظاہر کرے گا۔ اُس وقت ہر ایک کو اپنے کاموں کے مطابق خدا سے شاباش ملے گی۔‏

6 بھائیو، مَیں نے یہ باتیں کہتے وقت آپ کی بھلائی کے لیے اپنا اور اپلّوس کا ذکر کِیا تاکہ آپ ہمارے ذریعے اِس اصول کو سیکھ سکیں کہ ”‏لکھی ہوئی باتوں سے آگے نہ بڑھیں“‏ تاکہ آپ مغرور نہ ہو جائیں اور کسی کو دوسرے سے بہتر نہ سمجھیں۔ 7 آپ خود کو دوسروں سے بہتر کیوں سمجھتے ہیں؟ کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز ہے جو آپ کو خدا سے نہ ملی ہو؟ اور اگر ساری چیزیں آپ کو خدا سے ملی ہیں تو پھر آپ شیخی کیوں مارتے ہیں گویا آپ نے اِن کو اپنی طاقت سے حاصل کِیا ہو؟‏

8 کیا آپ واقعی سیر ہو چکے ہیں؟ کیا آپ واقعی دولت‌مند بن چکے ہیں؟ کیا آپ نے واقعی ہمارے بغیر بادشاہوں کے طور پر حکمرانی شروع کر لی ہے؟ کاش کہ آپ بادشاہ بن چکے ہوتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ بادشاہوں کے طور پر حکمرانی کر سکتے۔ 9 مجھے لگتا ہے کہ خدا نے میرے اور باقی رسولوں کے بارے میں فیصلہ کِیا ہے کہ ہمیں سزائے‌موت کے مُجرموں کی طرح سب سے آخر میں تماشاگاہ میں لایا جائے کیونکہ ہم دُنیا اور فرشتوں اور اِنسانوں کے لیے تماشا بن گئے ہیں۔ 10 ہمیں مسیح کی وجہ سے بے‌وقوف سمجھا جاتا ہے جبکہ آپ مسیح کے حوالے سے خود کو بڑا عقل‌مند سمجھتے ہیں؛ ہمیں کمزور سمجھا جاتا ہے جبکہ آپ تو بڑے طاقت‌ور ہیں؛ آپ کی عزت کی جاتی ہے جبکہ ہماری بے‌عزتی کی جاتی ہے۔ 11 ہم اب تک بھوکے، پیاسے اور ننگے ہیں، ہمیں ماراپیٹا جاتا ہے، ہم بے‌گھر ہیں 12 اور اپنے ہاتھوں سے محنت‌مشقت کرتے ہیں۔ جب ہماری بے‌عزتی کی جاتی ہے تو ہم دُعا دیتے ہیں، جب ہمیں اذیت پہنچائی جاتی ہے تو ہم صبر سے برداشت کرتے ہیں 13 اور جب ہمیں بدنام کِیا جاتا ہے تو ہم نرمی سے جواب دیتے ہیں۔ ہاں، ہمیں اب تک اِس دُنیا کا کوڑا کرکٹ سمجھا جاتا ہے۔‏

14 مَیں آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے یہ باتیں نہیں لکھ رہا بلکہ آپ کو اپنے عزیز بچے سمجھ کر نصیحت کر رہا ہوں۔ 15 چاہے مسیح کے پیروکاروں میں آپ کے 10 ہزار سرپرست ہوں لیکن آپ کے باپ زیادہ نہیں ہیں کیونکہ مسیح یسوع کے حوالے سے مَیں آپ کا باپ بن گیا ہوں کیونکہ مَیں نے آپ کو خوش‌خبری سنائی ہے۔ 16 اِس لیے مَیں آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ میری مثال پر عمل کریں۔ 17 اور اِسی وجہ سے مَیں تیمُتھیُس کو آپ کے پاس بھیج رہا ہوں جو مالک کے حوالے سے میرے عزیز اور وفادار بیٹے ہیں۔ وہ آپ کو میرے وہ اصول*‏ یاد دِلائیں گے جن پر مَیں مسیح یسوع کے خادم کے طور پر عمل کر رہا ہوں اور جنہیں مَیں ہر جگہ اور ہر کلیسیا*‏ میں سکھا رہا ہوں۔‏

18 کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مَیں  نہیں آؤں گا اِس لیے وہ بڑا غرور کر رہے ہیں۔ 19 لیکن اگر یہوواہ*‏ نے چاہا تو مَیں جلد آپ کے پاس آؤں گا۔ پھر مَیں اِن مغروروں کی باتوں پر دھیان نہیں  دوں گا بلکہ یہ دیکھوں گا کہ اِن کے پاس خدا کی طاقت ہے یا نہیں 20 کیونکہ خدا کی بادشاہت باتوں سے ظاہر نہیں ہوتی بلکہ خدا کی طاقت سے ظاہر ہوتی ہے۔ 21 آپ کیا چاہتے ہیں؟ مَیں آپ کے پاس چھڑی کے ساتھ آؤں یا محبت اور نرمی کے ساتھ؟‏

5 مَیں نے سنا ہے کہ آپ میں ایک آدمی ہے جو اپنے باپ کی بیوی کے ساتھ حرام‌کاری*‏ کرتا ہے۔ اِس طرح کی حرام‌کاری*‏ تو غیرایمان والے بھی نہیں کرتے۔ 2 اور آپ نے کیا کِیا؟ اِس کی بجائے کہ آپ کو افسوس ہوتا اور آپ اُس آدمی کو کلیسیا*‏ سے خارج کرتے، آپ نے فخر کِیا۔ 3 مَیں جسمانی لحاظ سے آپ کے پاس نہیں ہوں لیکن دل*‏ میں ضرور آپ کے پاس ہوں اور اُس آدمی کو قصوروار ٹھہرا چُکا ہوں جیسے مَیں اُس وقت کرتا جب مَیں آپ کے پاس ہوتا۔ 4 لہٰذا جب آپ ہمارے مالک یسوع کے نام سے جمع ہوں گے تو یہ جان کر کہ مَیں دل*‏ میں آپ کے ساتھ ہوں اور مالک یسوع کی طاقت بھی آپ کے ساتھ ہے، 5 اِس آدمی کو شیطان کے حوالے کر دیں تاکہ اِس کا بُرا اثر ختم ہو جائے اور کلیسیا کی روح ہمارے مالک کے دن کے دوران محفوظ رہے۔‏

6 آپ جس بات پر فخر کر رہے ہیں، وہ اچھی نہیں۔ کیا آپ کو پتہ نہیں کہ تھوڑا سا خمیر پورے آٹے کو خمیر کر دیتا ہے؟ 7 لہٰذا اُس پُرانے آٹے کو دُور کر دیں جو خمیر ہو گیا ہے تاکہ آپ نیا آٹا بن سکیں اور خمیر سے بالکل پاک ہوں جیسے آپ ہیں بھی۔ مسیح جو عیدِفسح کا میمنا*‏ ہے، قربان ہو گیا ہے۔ 8 اِس لیے آئیں، ہم عید کو پُرانے خمیرے آٹے یا بُرائی اور بدی کے خمیر کے ساتھ نہ منائیں بلکہ خلوص اور سچائی کی بے‌خمیری روٹیوں کے ساتھ منائیں۔‏

9 مَیں نے اپنے خط میں آپ کو لکھا تھا کہ حرام‌کاروں*‏ کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا چھوڑ دیں۔ 10 میرا مطلب یہ نہیں تھا کہ اِس دُنیا کے حرام‌کاروں*‏ یا لالچیوں یا لُٹیروں یا بُت‌پرستوں کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا بالکل ہی چھوڑ دیں ورنہ تو آپ کو دُنیا کے ساتھ تمام تعلقات توڑنے پڑتے۔ 11 لیکن اب مَیں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ اگر ایک بھائی حرام‌کار*‏ یا لالچی یا بُت‌پرست یا شرابی یا لُٹیرا ہے یا دوسروں کو ذلیل کرتا*‏ ہے تو اُس کے ساتھ اُٹھنا بیٹھنا بالکل چھوڑ دیں اور اُس کے ساتھ کھانا تک نہ کھائیں۔ 12 بھلا مجھے دُنیا کے لوگوں کی عدالت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ مگر آپ کو اُن کی عدالت کرنی چاہیے جو کلیسیا کے رُکن ہیں 13 جبکہ خدا دُنیا کے لوگوں کی عدالت کرتا ہے۔ جیسے لکھا ہے کہ ”‏بُرے شخص کو اپنے بیچ سے دُور کرو۔“‏

6 آپ میں اِتنی جُرأت کیسے پیدا ہوئی کہ آپ آپس کے جھگڑوں کو مُقدسوں کے پاس لے جانے کی بجائے اِنہیں غیرایمان والوں کی عدالت میں لے جائیں؟ 2 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ مُقدس لوگ دُنیا کی عدالت کریں گے؟ اور اگر آپ کو دُنیا کی عدالت کرنی ہے تو کیا آپ چھوٹے موٹے مسئلوں کو سلجھانے کے قابل نہیں ہیں؟ 3 کیا آپ جانتے نہیں کہ ہم فرشتوں کی عدالت کریں گے؟ تو پھر ہم اِس زندگی کے مسئلے کیوں نہیں نپٹا سکتے؟ 4 لہٰذا اگر اِس زندگی میں کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے تو آپ ایسے لوگوں کو اپنا منصف کیوں بناتے ہیں جنہیں کلیسیا*‏ اچھا خیال نہیں کرتی؟ 5 مَیں یہ باتیں آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ کیا آپ میں ایک بھی دانش‌مند شخص نہیں جو آپ کے آپسی جھگڑوں کو حل کر سکے؟ 6 آپ لوگوں میں تو بھائی، بھائی پر مُقدمہ چلا رہا ہے اور وہ بھی غیرایمان والوں کی عدالت میں!‏

7 دراصل جب آپ ایک دوسرے پر مُقدمے چلاتے ہیں تو آپ کی ہار ہو چکی ہوتی ہے۔ کیا اِس سے بہتر یہ نہیں کہ جب کوئی آپ کو نقصان پہنچائے یا آپ کو دھوکا دے تو آپ اِسے برداشت کر لیں؟ 8 لیکن اِس کی بجائے آپ نقصان پہنچاتے اور دھوکا دیتے ہیں اور وہ بھی اپنے بھائیوں کو!‏

9 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ بُرے لوگ خدا کی بادشاہت کے وارث نہیں ہوں گے؟ غلط‌فہمی کا شکار نہ ہوں۔ نہ تو حرام‌کار،‏*‏ نہ بُت‌پرست، نہ زِناکار، نہ جسم‌فروش مرد،‏*‏ نہ ہم‌جنس‌پرست مرد، 10 نہ چور، نہ لالچی، نہ شرابی، نہ وہ لوگ جو دوسروں کو ذلیل کرتے*‏ ہیں اور نہ ہی لُٹیرے خدا کی بادشاہت کے وارث ہوں گے۔ 11 لیکن آپ میں سے کچھ لوگ ایک زمانے میں ایسے تھے۔ مگر خدا نے آپ کو مالک یسوع مسیح کے نام سے اور اپنی پاک روح سے پاک صاف اور مخصوص کِیا ہے اور نیک قرار دیا ہے۔‏

12 یوں تو میرے لیے سب چیزیں جائز ہیں لیکن سب چیزیں فائدہ‌مند نہیں ہیں۔ ہاں، میرے لیے سب چیزیں جائز ہیں لیکن مَیں کسی چیز کا غلام نہیں بنوں گا۔ 13 خوراک پیٹ کے لیے ہے اور پیٹ، خوراک کے لیے لیکن خدا دونوں کو ختم کر دے گا۔ مگر جسم حرام‌کاری*‏ کے لیے نہیں ہے بلکہ مالک کے لیے ہے اور مالک، جسم کے لیے۔ 14 اور خدا نے اپنی طاقت سے ہمارے مالک کو زندہ کِیا اور وہ ہمیں بھی مُردوں میں سے زندہ کرے گا۔‏

15 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ آپ  کے جسم  مسیح کے اعضا ہیں؟ تو پھر کیا مَیں مسیح کے اعضا کو لے کر کسی فاحشہ سے جوڑ دوں؟ ہرگز نہیں!‏ 16 کیا آپ نہیں جانتے کہ جو شخص کسی فاحشہ سے جُڑا ہو، وہ اُس کے ساتھ ایک*‏ بن جاتا ہے؟ کیونکہ خدا نے کہا کہ ”‏وہ دونوں ایک بن جائیں گے۔“‏ 17 لیکن جو شخص مالک سے جُڑا ہے، وہ اُس کے ساتھ ایک*‏ بن جاتا ہے یعنی اُس جیسی سوچ رکھتا ہے۔ 18 حرام‌کاری*‏ سے بھاگیں!‏ اِنسان چاہے جو بھی گُناہ کرے، وہ جسم پر اثر نہیں کرتا لیکن جو شخص حرام‌کاری*‏ کرتا ہے، وہ اپنے ہی جسم کے خلاف گُناہ کرتا ہے۔ 19 کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ کا جسم اُس پاک روح کی ہیکل*‏ ہے جو آپ کو خدا سے ملی ہے؟ آپ کسی اَور کی ملکیت ہیں 20 کیونکہ آپ کو قیمت ادا کر کے خرید لیا گیا ہے۔ اِس لیے اپنے جسم کے ذریعے خدا کی بڑائی کریں۔‏

7 اب مَیں اُن سوالوں کے جواب دیتا ہوں جو آپ نے پوچھے تھے۔ بہتر ہے کہ  آدمی عورت کو نہ چُھوئے۔‏*‏ 2 مگر چونکہ حرام‌کاری*‏ اِتنی عام ہے اِس لیے ہر مرد کی اپنی اپنی بیوی ہو اور ہر عورت کا اپنا اپنا شوہر ہو۔ 3 شوہر اپنی بیوی کا ازدواجی حق*‏ ادا کرے اور بیوی اپنے شوہر کا۔ 4 بیوی کو اپنے جسم پر حق نہیں بلکہ اُس کے شوہر کو ہے اور اِسی طرح شوہر کو اپنے جسم پر حق نہیں بلکہ اُس کی بیوی کو ہے۔ 5 ایک دوسرے کو ازدواجی حق سے محروم نہ رکھیں سوائے اُس وقت کے جب آپ دُعا کرنے کے لیے ایک دوسرے کی رضامندی سے کچھ دیر جُدا ہوں اور اِس کے بعد پھر سے اِکٹھے ہو جائیں تاکہ شیطان آپ کے ضبطِ‌نفس کی کمی کا فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ 6 لیکن میری یہ بات کوئی حکم نہیں بلکہ مشورہ ہے۔ 7 مَیں تو چاہتا ہوں کہ سب لوگ میری طرح ہوں۔ بہرحال ہر ایک کو خدا کی طرف سے اپنی اپنی نعمت ملی ہے، ایک کو یہ نعمت تو دوسرے کو وہ۔‏

8 مَیں غیرشادی‌شُدہ لوگوں اور بیواؤں سے کہتا ہوں کہ بہتر ہے کہ وہ میری طرح غیرشادی‌شُدہ رہیں۔ 9 لیکن اگر اُن میں ضبطِ‌نفس نہیں ہے تو وہ شادی کر لیں کیونکہ شادی کرنا ہوس کی آگ میں جلنے سے بہتر ہے۔‏

10 شادی‌شُدہ لوگوں کو مَیں بلکہ اصل میں ہمارا مالک یہ ہدایت دیتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو چھوڑ کر چلی نہ جائے۔ 11 اور اگر وہ اپنے شوہر سے علیٰحدگی اِختیار کر بھی لے تو دوسری شادی نہ کرے یا اپنے شوہر سے صلح کر لے۔ اِسی طرح شوہر بھی اپنی بیوی کو چھوڑ کر چلا نہ جائے۔‏

12 لیکن باقی لوگوں سے مَیں کہتا ہوں، ہاں، مالک نہیں بلکہ مَیں کہتا ہوں کہ اگر ایک بھائی کی بیوی اُس کی ہم‌ایمان نہیں ہے لیکن اُس کے ساتھ رہنے پر راضی ہے تو وہ بھائی اُسے نہ چھوڑے۔ 13 اِسی طرح اگر ایک بہن کا شوہر اُس کا ہم‌ایمان نہیں ہے لیکن اُس کے ساتھ رہنے پر راضی ہے تو وہ بہن اُسے نہ چھوڑے۔ 14 کیونکہ غیرایمان شوہر اپنی بیوی کی وجہ سے پاک سمجھا جاتا ہے۔ اِسی طرح غیرایمان بیوی اپنے شوہر کی وجہ سے پاک سمجھی جاتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو آپ کے بچے ناپاک ہوتے مگر اب وہ پاک ہیں۔ 15 لیکن اگر آپ کا غیرایمان جیون ساتھی آپ سے علیٰحدہ ہونا چاہتا ہے تو اُسے جانے دیں۔ ایسی صورت میں ایک بھائی یا بہن اُس کے ساتھ رہنے کا پابند نہیں ہے۔ خدا چاہتا ہے کہ آپ صلح‌پسند ہوں۔‏*‏ 16 کیونکہ بیویو، شاید آپ کا شوہر آپ کی وجہ سے نجات پا لے اور شوہرو، شاید آپ کی بیوی آپ کی وجہ سے نجات پا لے۔‏

17 بہرحال یہوواہ*‏ نے ہر شخص کو جیسی بھی زندگی دی ہے، وہ اُس پر راضی رہے یعنی اُسی حالت میں رہے جس میں وہ اُس وقت تھا جب خدا نے اُسے بلا‌یا تھا۔ دراصل مَیں یہ حکم تمام کلیسیاؤں*‏ کو دے رہا ہوں۔ 18 کیا ایک آدمی کو اُس وقت بلا‌یا گیا تھا جب اُس کا ختنہ ہو چُکا تھا؟ تو وہ پھر سے غیرمختون نہ بنے۔ کیا ایک آدمی کو اُس وقت بلا‌یا گیا تھا جب وہ غیرمختون تھا؟ تو وہ اپنا ختنہ نہ کرائے۔ 19 اِس بات کی کوئی اہمیت نہیں کہ آیا ایک شخص کا ختنہ ہوا ہے یا نہیں۔ اہمیت تو اِس بات کی ہے کہ خدا کے حکموں پر عمل کِیا جائے۔ 20 ایک شخص کو جس حالت میں بھی بلا‌یا گیا ہو، وہ اُسی حالت میں رہے۔ 21 کیا آپ کو اُس وقت بلا‌یا گیا تھا جب آپ کسی کے غلام تھے؟ تو پریشان نہ ہوں۔ لیکن اگر آپ آزادی حاصل کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔ 22 کیونکہ جو شخص غلامی کی حالت میں ہمارے مالک کا شاگرد بنا تھا، دراصل وہ مالک کا آزاد بندہ ہے۔ اِسی طرح جو شخص آزادی کی حالت میں بلا‌یا گیا تھا، دراصل وہ مسیح کا غلام ہے۔ 23 آپ کو قیمت ادا کر کے خرید لیا گیا ہے اِس لیے اِنسانوں کی غلامی کرنا چھوڑ دیں۔ 24 بھائیو، ایک شخص کو جس حالت میں بھی بلا‌یا گیا ہو، وہ خدا کے حضور اُسی حالت میں رہے۔‏

25 جہاں تک کنواروں اور کنواریوں کا تعلق ہے، مجھے مالک کی طرف سے کوئی ہدایت نہیں ملی لیکن مَیں آپ کو اپنی رائے دیتا ہوں اور آپ میری بات پر بھروسا کر سکتے ہیں کیونکہ ہمارے مالک نے مجھ پر رحم کِیا۔ 26 میرے خیال میں اِس مشکل دَور کی وجہ سے بندے کو ویسا ہی رہنا چاہیے جیسا وہ ہے۔ 27 کیا آپ کی بیوی ہے؟ تو پھر اُسے چھوڑنے کی کوشش نہ کریں۔ کیا آپ کی بیوی نہیں ہے؟ تو پھر بیوی کی تلاش میں نہ رہیں۔ 28 لیکن اگر آپ شادی کر بھی لیں تو آپ گُناہ نہیں کرتے۔ اور اگر ایک کنواری یا کنوارا شادی کر بھی لیتا ہے تو وہ گُناہ نہیں کرتا۔ مگر جو لوگ شادی کرتے ہیں، اُنہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور مَیں آپ کو اِن سے بچانا چاہتا ہوں۔‏

29 بھائیو، مَیں آپ کو یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اب وقت کم رہ گیا ہے۔ اِس لیے جن کی بیوی ہے، وہ اُن کی طرح ہوں جن کی بیوی نہیں 30 اور جو رو رہے ہیں، وہ اُن کی طرح ہوں جو رو نہیں رہے اور جو خوشی مناتے ہیں، وہ اُن کی طرح ہوں جو خوشی نہیں مناتے اور جو خرید رہے ہیں، وہ اُن کی طرح ہوں جن کے پاس کچھ نہیں 31 اور جو دُنیا کا فائدہ اُٹھاتے ہیں، وہ اُن کی طرح ہوں جو اِس کا بھرپور فائدہ نہیں اُٹھاتے کیونکہ دُنیا کا منظر بدل رہا ہے۔ 32 مَیں چاہتا ہوں کہ آپ بے‌فکر رہیں۔ غیرشادی‌شُدہ آدمی کو ہمارے مالک کے معاملوں کی فکر رہتی ہے یعنی یہ کہ وہ ہمارے مالک کو کیسے خوش کرے۔ 33 لیکن شادی‌شُدہ آدمی کو اِس دُنیا کے معاملوں کی فکر رہتی ہے یعنی یہ کہ وہ اپنی بیوی کو کیسے خوش کرے 34 اور وہ بٹا ہوتا ہے۔ اِسی طرح غیرشادی‌شُدہ عورت اور کنواری عورت کو ہمارے مالک کی فکر رہتی ہے یعنی وہ جسمانی اور ذہنی*‏ طور پر پاک رہنا چاہتی ہے۔ لیکن شادی‌شُدہ عورت کو اِس دُنیا کے معاملوں کی فکر رہتی ہے یعنی یہ کہ وہ اپنے شوہر کو کیسے خوش کرے۔ 35 مَیں یہ باتیں آپ کے فائدے کے لیے کہہ رہا ہوں۔ مَیں آپ پر پابندیاں نہیں لگانا چاہتا بلکہ آپ کو اُن باتوں کی ترغیب دینا چاہتا ہوں جو مناسب ہیں اور جن کے ذریعے آپ کی توجہ دل سے مالک کی خدمت کرنے پر لگی رہے۔‏

36 لیکن اگر کسی کو لگتا ہے کہ اُس کے لیے غیرشادی‌شُدہ*‏ رہنا ٹھیک نہیں ہے اور وہ اُس عمر سے بھی گزر چُکا ہے جب جوانی کی خواہشیں زوروں پر ہوتی ہیں تو وہ شادی کر لے۔ اِس میں کوئی گُناہ نہیں، وہ جیسا چاہتا ہے ویسا کرے۔ 37 لیکن اگر کسی نے دل میں عزم کر لیا ہے کہ وہ شادی نہیں کرے گا اور اپنے فیصلے پر قائم ہے کیونکہ اُسے شادی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور وہ اپنے نفس پر قابو رکھ سکتا ہے تو وہ غیرشادی‌شُدہ رہے۔ اِس میں اُسی کا فائدہ ہے۔ 38 جو شخص شادی کرتا ہے، اُس کو بھی فائدہ ہوتا ہے مگر جو شخص شادی نہیں کرتا، اُسے زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔‏

39 جب تک بیوی کا شوہر زندہ ہے، بیوی کسی اَور سے شادی نہ کرے۔ لیکن اگر اُس کا شوہر موت کی نیند سو جائے تو وہ جس سے چاہے، شادی کر سکتی ہے مگر صرف مالک کے پیروکاروں میں۔ 40 لیکن میرے خیال میں اگر وہ شادی نہ کرے تو وہ زیادہ خوش رہے گی اور مجھے یقین ہے کہ مجھ پر بھی خدا کی روح ہے۔‏

8 اب مَیں بُتوں کے آگے چڑھائے گئے کھانوں کے بارے میں بات کرتا ہوں۔ ہم  سب اِس معاملے کے بارے میں تھوڑا بہت علم رکھتے ہیں۔ علم غرور پیدا کرتا ہے جبکہ محبت مضبوطی پیدا کرتی ہے۔ 2 اگر کسی کو لگتا ہے کہ وہ بڑا علم رکھتا ہے تو اصل میں وہ سب کچھ نہیں جانتا۔ 3 لیکن اگر کوئی خدا سے محبت کرتا ہے تو خدا اُسے جانتا ہے۔‏

4 جہاں تک بُتوں کے آگے چڑھائی گئی چیزوں کو کھانے کا تعلق ہے، ہم جانتے ہیں کہ بُت کچھ بھی نہیں ہیں بلکہ صرف ایک ہی سچا خدا ہے۔ 5 یہ درست ہے کہ بہت سی چیزوں کو خدا سمجھا جاتا ہے، چاہے وہ آسمان پر ہوں یا زمین پر۔ اور واقعی بہت سے خدا اور مالک ہیں بھی 6 لیکن ہمارے نزدیک صرف ایک ہی سچا خدا ہے یعنی ہمارا آسمانی باپ جس نے سب کچھ بنایا ہے اور جس کے لیے ہم جیتے ہیں اور ایک ہی مالک ہے یعنی یسوع مسیح جن کے ذریعے ساری چیزیں وجود میں آئیں اور جن کے ذریعے ہم جیتے ہیں۔‏

7 مگر سب لوگ یہ بات نہیں جانتے۔ جب ایسے لوگ جو پہلے بُت‌پرست تھے، کوئی ایسی چیز کھاتے ہیں جو بُتوں کے آگے چڑھائی گئی تھی تو شاید اُن کے دل میں اُن بُتوں کے لیے احترام اُبھرنے لگے۔ یوں اُن کا ضمیر ناپاک ہو جاتا ہے کیونکہ یہ کمزور ہے۔ 8 لیکن کھانے کی چیزیں ہمیں خدا کے زیادہ قریب نہیں لے جائیں گی۔ اِن سے پرہیز کرنے سے ہمیں نقصان نہیں ہوگا اور اِنہیں کھانے سے ہمیں فائدہ نہیں ہوگا۔ 9 آپ اِنتخاب کا حق تو رکھتے ہیں لیکن خبردار رہیں کہ آپ کے اِنتخاب کی وجہ سے وہ لوگ گمراہ نہ ہو جائیں جن کا ضمیر کمزور ہے۔ 10 آپ تو اِس معاملے کے بارے میں علم رکھتے ہیں لیکن اگر کوئی آپ کو ایک مندر میں کھانا کھاتے دیکھ لے اور اُس کا ضمیر کمزور ہو تو کیا اُسے بُتوں کے آگے چڑھائی گئی چیزیں کھانے کی شہ نہیں ملے گی؟ 11 اِس صورت میں آپ کے علم کی وجہ سے وہ آدمی نقصان اُٹھائے گا جس کا ضمیر کمزور ہے، ہاں، وہ بھائی جس کے لیے مسیح نے جان دی۔ 12 جب آپ اِس طرح سے اپنے بھائیوں کے خلاف گُناہ کرتے ہیں اور اُن کے کمزور ضمیر کو ٹھیس پہنچاتے ہیں تو اصل میں آپ مسیح کے خلاف گُناہ کرتے ہیں۔ 13 لہٰذا اگر میرا بھائی کھانے کی چیز کی وجہ سے گمراہ ہو سکتا ہے تو مَیں آئندہ گوشت نہیں کھاؤں گا تاکہ مَیں اپنے بھائی کو گمراہ نہ کروں۔‏

9 کیا مَیں آزاد نہیں ہوں؟ کیا مَیں ایک رسول نہیں ہوں؟ کیا مَیں نے ہمارے مالک یسوع کو نہیں دیکھا؟ کیا آپ اُس محنت کا پھل نہیں ہیں جو مَیں نے مالک کے لیے کی ہے؟ 2 بے‌شک مَیں سب کا رسول نہ سہی لیکن آپ کا رسول ضرور ہوں۔ آپ ایک مُہر کی طرح ہیں کیونکہ آپ کے ذریعے ثابت ہوتا ہے کہ مَیں مالک کی خدمت میں رسول ہوں۔‏

3 جو لوگ مجھ پر نکتہ‌چینی کرتے ہیں، اُن سے مَیں پوچھتا ہوں کہ 4 کیا ہمیں کھانے پینے کا حق نہیں؟ 5 کیا ہمیں یہ حق نہیں کہ ہم کسی ہم‌ایمان عورت سے شادی کر کے اِسے اپنے سفروں پر ساتھ لے جائیں جیسے کہ باقی رسول، مالک کے بھائی اور کیفا*‏ کرتے ہیں؟ 6 کیا صرف برنباس کو اور مجھے یہ حق نہیں کہ ملازمت کیے بغیر گزارہ کریں؟ 7 بھلا کوئی ایسا فوجی ہے جو اپنے خرچے پر فوجی خدمت انجام دیتا ہے؟ یا کوئی ایسا شخص ہے جو انگوروں کا باغ تو لگاتا ہے لیکن اِس کا پھل نہیں کھاتا؟ یا کوئی ایسا چرواہا ہے جو بھیڑ بکریوں کی دیکھ‌بھال تو کرتا ہے لیکن اُن کا دودھ نہیں پیتا؟‏

8 کیا مَیں یہ باتیں صرف اپنی طرف سے کہہ رہا ہوں؟ نہیں۔ یہ تو شریعت میں بھی لکھی ہیں۔ 9 کیونکہ موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے:‏ ”‏جب بیل اناج کو گاہتا*‏ ہے تو اُس کا مُنہ نہ باندھا جائے۔“‏ کیا خدا نے یہ اِس لیے کہا کیونکہ اُس کو بیلوں کی فکر ہے؟ 10 یا پھر کیا اُس نے یہ بات ہماری خاطر کہی؟ اصل میں تو یہ بات ہماری خاطر لکھی گئی کیونکہ جو آدمی ہل چلاتا ہے اور جو آدمی گاہتا ہے، اُس کا حق ہے کہ اُسے فصل میں سے حصہ ملے۔‏

11 اگر ہم نے آپ میں روحانی چیزیں بوئی ہیں تو کیا ہم آپ سے ضرورت کی چیزوں کی فصل حاصل نہیں کر سکتے؟ 12 اور اگر دوسرے آدمیوں کو آپ سے کچھ حاصل کرنے کا حق ہے تو کیا ہمارا اُن سے زیادہ حق نہیں بنتا؟ لیکن ہم نے اِس حق کو اِستعمال نہیں کِیا بلکہ ہم ہر صورتحال کو برداشت کرتے ہیں تاکہ مسیح کی خوش‌خبری کی راہ میں رُکاوٹ نہ بنیں۔ 13 کیا آپ کو پتہ نہیں کہ جو آدمی ہیکل*‏ میں مُقدس خدمت انجام دیتے ہیں، وہ ہیکل کی چیزوں میں سے کھاتے بھی ہیں؟ اور جو آدمی باقاعدگی سے قربان‌گاہ پر خدمت کرتے ہیں، اُنہیں قربانی میں سے حصہ ملتا ہے؟ 14 اِسی طرح مالک نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ جو لوگ خوش‌خبری سناتے ہیں، وہ اِس سے گزارہ بھی کریں۔‏

15 لیکن مَیں نے یہ حق اِستعمال نہیں کِیا۔ اور مَیں یہ باتیں اِس لیے نہیں لکھ رہا کہ آپ میری ضروریات پوری کریں۔ اِس سے بہتر ہے کہ مَیں مر جاؤں!‏ مَیں نہیں چاہتا کہ جس بات پر مَیں فخر کرتا ہوں، وہ مجھ سے چھین لی جائے۔ 16 مَیں خوش‌خبری سناتا ہوں لیکن اِس میں فخر کرنے والی کوئی بات نہیں کیونکہ یہ تو میرا فرض ہے۔ بلکہ مجھ پر افسوس اگر مَیں خوش‌خبری نہ سناؤں!‏ 17 اگر مَیں یہ کام اپنی مرضی سے کروں تو مجھے اِنعام ملے گا۔ اور اگر مَیں یہ کام اپنی مرضی کے خلاف کروں تو بھی مجھے خوش‌خبری سنانے کی ذمے‌داری دی گئی ہے۔ 18 تو پھر میرا اِنعام کیا ہے؟ میرا اِنعام یہ ہے کہ مَیں خوش‌خبری مُفت سناؤں اور اُس حق کا ناجائز فائدہ نہ اُٹھاؤں جو مجھے خوش‌خبری سنانے کے سلسلے میں ملا ہے۔‏

19 یوں تو مَیں کسی اِنسان کا غلام  نہیں ہوں لیکن مَیں نے اپنے آپ کو سب کا غلام بنا لیا ہے تاکہ مَیں زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قائل کر سکوں۔ 20 یہودیوں کی خاطر مَیں یہودی بنا تاکہ یہودیوں کو قائل کر سکوں۔ جو لوگ موسیٰ کی شریعت کے تحت ہیں، اُن کی خاطر مَیں نے اِس شریعت پر عمل کِیا حالانکہ مَیں اِس شریعت کا پابند نہیں ہوں تاکہ اُن کو قائل کر سکوں جو اِس شریعت کے تحت ہیں۔ 21 جن لوگوں کے پاس موسیٰ کی شریعت نہیں ہے، اُن کی خاطر مَیں نے اِس شریعت پر عمل نہیں کِیا حالانکہ مَیں خدا کی شریعت سے آزاد نہیں ہوں اور مسیح کی شریعت کا پابند ہوں تاکہ اُن کو قائل کر سکوں جن کے پاس شریعت نہیں ہے۔ 22 کمزوروں کی خاطر مَیں کمزور بنا تاکہ کمزوروں کو قائل کر سکوں۔ مَیں ہر طرح کے لوگوں کی خاطر سب کچھ بنا تاکہ کسی نہ کسی طرح کچھ لوگوں کو بچا لوں۔ 23 ہاں، مَیں دوسروں کو خوش‌خبری سنانے کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔‏

24 کیا آپ کو نہیں پتہ کہ جو کھلاڑی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں، وہ سب دوڑتے ہیں لیکن اُن میں سے صرف ایک کو اِنعام ملتا ہے؟ لہٰذا اِس طرح دوڑیں کہ آپ اِنعام جیت لیں۔ 25 جو کھلاڑی مقابلے میں حصہ لیتے ہیں، وہ ہر بات میں ضبطِ‌نفس سے کام لیتے ہیں۔ وہ تو یہ سب کچھ ایک ایسا تاج حاصل کرنے کے لیے کرتے ہیں جو خراب ہو جاتا ہے جبکہ ہم ایک ایسا تاج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو خراب نہیں ہوتا۔ 26 اِس لیے مَیں اندھادُھند نہیں دوڑتا بلکہ منزل کی طرف دوڑتا ہوں، مَیں ہوا میں مکے نہیں مارتا بلکہ عین نشانے پر مارتا ہوں، 27 مَیں اپنے جسم کو دبا کر رکھتا ہوں اور اِسے غلام بناتا ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ مَیں دوسروں کو خوش‌خبری سناؤں لیکن پھر خود نااہل قرار دیا جاؤں۔‏

10 بھائیو، مَیں چاہتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ ہمارے باپ‌دادا سب کے سب بادل کے نیچے تھے اور سمندر کے بیچ سے گزرے 2 اور سب نے موسیٰ کی پیروی کرتے ہوئے بادل اور سمندر کے ذریعے بپتسمہ پایا۔ 3 اور اُن سب نے وہ کھانا کھایا 4 اور وہ پانی پیا جو خدا نے فراہم کِیا کیونکہ وہ اُس چٹان سے پانی پیتے تھے جو اُن کے پیچھے پیچھے آ رہی تھی اور جسے خدا نے مہیا کِیا تھا اور یہ چٹان مسیح تھی۔ 5 لیکن خدا اُن میں سے زیادہ‌تر لوگوں سے خوش نہیں تھا اِس لیے وہ ویرانے میں ہلاک ہو گئے۔‏

6 اِن باتوں سے ہم نصیحت حاصل کر سکتے ہیں تاکہ ہم بُری چیزوں کی خواہش نہ کریں جیسے اُنہوں نے کی۔ 7 اُن کی طرح بُت‌پرستی بھی نہ کریں کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏لوگ کھانے پینے بیٹھے اور اُٹھ کر موج مستی کرنے لگے۔“‏ 8 اُن کی طرح حرام‌کاری*‏ بھی نہ کریں کیونکہ اُن کی حرام‌کاری*‏ کی وجہ سے اُن میں سے 23 (‏تیئیس)‏ ہزار لوگ ایک ہی دن میں ہلاک ہو گئے۔ 9 اُن کی طرح یہوواہ*‏ کا اِمتحان بھی نہ لیں کیونکہ جب اُنہوں نے ایسا کِیا تو اُن کو سانپوں نے ڈسا اور وہ مر گئے۔ 10 اُن کی طرح بڑبڑائیں بھی نہیں جیسے وہ بڑبڑائے اور ہلاک کرنے والے کے ہاتھوں مار ڈالے گئے۔ 11 اِن واقعات کی وجہ سے وہ عبرت کی مثال بن گئے اور یہ باتیں ہماری نصیحت کے لیے لکھی گئیں کیونکہ ہم آخری زمانے میں رہ رہے ہیں۔‏

12 اِس لیے جس شخص کو لگتا ہے کہ وہ مضبوطی سے کھڑا ہے، وہ خبردار رہے کہ گِر نہ جائے۔ 13 آپ نے جن جن آزمائشوں کا سامنا کِیا ہے، وہ انوکھی نہیں ہیں بلکہ دوسروں پر بھی آتی ہیں۔ لیکن خدا وعدے کا پکا*‏ ہے اور وہ آپ کو کسی ایسی آزمائش میں نہیں پڑنے دے گا جو آپ کی برداشت سے باہر ہو بلکہ وہ ہر آزمائش کے ساتھ کوئی نہ کوئی راستہ بھی نکالے گا تاکہ آپ ثابت‌قدم رہ سکیں۔‏

14 لہٰذا عزیزو، بُت‌پرستی سے بھاگیں۔ 15 آپ تو سمجھ‌دار ہیں اِس لیے خود فیصلہ کریں کہ مَیں جو کچھ کہہ رہا ہوں، وہ صحیح ہے یا نہیں۔ 16 جب ہم برکت کے پیالے پر دُعا کر کے اِس سے پیتے ہیں تو کیا ہم مسیح کے خون میں شریک نہیں ہوتے؟ اور جب ہم روٹی توڑ کر اِس سے کھاتے ہیں تو کیا ہم مسیح کے جسم میں شریک نہیں ہوتے؟ 17 روٹی ایک ہی ہے اور ہم بہت ہیں لیکن پھر بھی ہم ایک جسم ہیں کیونکہ ہم سب اُس سے کھاتے ہیں۔‏

18 ذرا اِسرائیلیوں کی مثال لیں:‏ جو اِسرائیلی قربانیوں میں سے کھاتے ہیں، کیا وہ قربان‌گاہ میں شریک نہیں ہوتے؟ 19 کیا مَیں کہہ رہا ہوں کہ بُتوں کے لیے چڑھائی جانے والی قربانیوں کی کوئی اہمیت ہے یا پھر بُتوں کی کوئی اہمیت ہے؟ 20 نہیں، بلکہ مَیں یہ کہہ رہا ہوں کہ جو قربانیاں بُت‌پرست چڑھاتے ہیں، وہ بُرے فرشتوں کے لیے ہوتی ہیں، خدا کے لیے نہیں۔ اور مَیں نہیں چاہتا کہ آپ بُرے فرشتوں کے ساتھ شریک ہوں۔ 21 آپ یہوواہ*‏ کے پیالے میں سے پینے کے ساتھ ساتھ بُرے فرشتوں کے پیالے میں سے نہیں پی سکتے۔ آپ ”‏یہوواہ*‏ کی میز“‏ پر کھانے کے ساتھ ساتھ بُرے فرشتوں کی میز پر کھانا نہیں کھا سکتے۔ 22 ورنہ تو ہم ”‏یہوواہ*‏ کو غصہ دِلا“‏ رہے ہوتے۔ لیکن ہم میں اِتنی طاقت کہاں کہ اُس کا مقابلہ کر سکیں؟‏

23 سب چیزیں جائز ہیں لیکن سب چیزیں فائدہ‌مند نہیں ہیں۔ سب چیزیں جائز ہیں لیکن سب چیزیں حوصلہ‌افزائی کا باعث نہیں ہیں۔ 24 ہر شخص اپنے فائدے کا نہیں بلکہ دوسروں کے فائدے کا سوچے۔‏

25 بازار میں جو بھی گوشت بکتا ہے،  آپ اُس کو کھا سکتے ہیں۔ آپ کو اپنے ضمیر کی خاطر اِس کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں 26 کیونکہ ”‏زمین اور جو کچھ اِس پر ہے، یہوواہ*‏ کا ہے۔“‏ 27 اور اگر کوئی غیرایمان والا آپ کو دعوت  پر بلا‌ئے اور آپ اُس کے ہاں جانے کا فیصلہ کریں تو جو بھی کھانا آپ کے سامنے رکھا جائے، اُسے کھائیں اور اپنے ضمیر کی خاطر نہ پوچھیں۔ 28 لیکن اگر کوئی آپ سے کہے کہ ”‏یہ قربانی کا گوشت ہے“‏ تو اُس کی خاطر جس نے آپ کو یہ بتایا اور ضمیر کی خاطر اِسے نہ کھائیں۔ 29 مَیں آپ کے ضمیر کی بات نہیں کر رہا بلکہ دوسرے شخص کے ضمیر کی بات کر رہا ہوں۔ مَیں نہیں چاہتا کہ میرے فیصلے کی وجہ سے کسی اَور کا ضمیر مجھے قصوروار ٹھہرائے۔ 30 اگر مَیں خدا کا شکر کر کے کھا رہا ہوں تو اُس چیز کی وجہ سے مجھے طعنے کیوں دیے جائیں جو مَیں کھا رہا ہوں؟‏

31 اِس لیے چاہے آپ کھائیں یا پئیں یا کچھ بھی کریں، سب کچھ خدا کی بڑائی کے لیے کریں 32 اور یہودیوں، یونانیوں اور خدا کی کلیسیا*‏ کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ 33 مَیں بھی ہر بات میں سب لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور اپنے فائدے کا نہیں بلکہ دوسروں کے فائدے کا سوچتا ہوں تاکہ وہ نجات پائیں۔‏

11 میری مثال پر عمل کریں جیسے مَیں مسیح کی مثال پر عمل کرتا ہوں۔‏

2 شاباش، کیونکہ آپ سب باتوں میں میری مثال کو یاد رکھتے ہیں اور اُن باتوں*‏ پر عمل کرتے ہیں جو مَیں نے آپ کو بتائی تھیں۔ 3 لیکن مَیں چاہتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ ہر مرد کا سربراہ مسیح ہے، ہر عورت کا سربراہ مرد ہے اور مسیح کا سربراہ خدا ہے۔ 4 جو مرد دُعا یا نبوّت کرتے وقت اپنا سر ڈھانپتا ہے، وہ اپنے سربراہ*‏ کو شرمندہ کرتا ہے۔ 5 اور جو عورت دُعا یا نبوّت کرتے وقت اپنا سر نہیں ڈھانپتی، وہ اپنے سربراہ*‏ کو شرمندہ کرتی ہے کیونکہ وہ اُس عورت کی طرح ہوتی ہے جس کا سر منڈوایا گیا ہو۔ 6 اگر ایک عورت اپنا سر نہیں ڈھانپتی تو اُسے اپنے بال بھی کٹوانے چاہئیں۔ لیکن اگر بال کٹوانا یا سر منڈوانا عورت کے لیے شرم کی بات ہے تو اُسے اپنا سر بھی ڈھانپنا چاہیے۔‏

7 مرد کو اپنا سر نہیں ڈھانپنا چاہیے کیونکہ خدا نے  اُسے اپنے جیسا اور اپنی بڑائی کے لیے بنایا ہے جبکہ عورت مرد کی بڑائی کے لیے بنائی گئی ہے۔ 8 کیونکہ مرد عورت سے نہیں بنایا گیا بلکہ عورت مرد سے بنائی گئی ہے۔ 9 اور خدا نے مرد کو عورت کی خاطر نہیں بلکہ عورت کو مرد کی خاطر بنایا ہے۔ 10 اِسی لیے عورت اپنی تابع‌داری ظاہر کرنے کے لیے اپنا سر ڈھانپے اور فرشتوں کی خاطر بھی ایسا کرے۔‏

11 دراصل مالک کی کلیسیا*‏ میں عورت کو مرد کی ضرورت ہے اور مرد کو عورت کی 12 کیونکہ عورت مرد سے بنی ہے اور مرد عورت کے ذریعے پیدا ہوتا ہے لیکن خدا سب کا خالق ہے۔ 13 آپ ہی فیصلہ کریں:‏ کیا عورت کے لیے سر ڈھانپے بغیر دُعا کرنا مناسب ہے؟ 14 کیا آپ فطری طور پر نہیں جانتے کہ جب مرد لمبے بال رکھتا ہے تو یہ اُس کی بے‌عزتی ہے 15 جبکہ عورت کے لمبے بال اُس کی زینت ہیں؟ کیونکہ عورت کو بال پردے کے طور پر دیے گئے ہیں۔ 16 اور اگر کوئی شخص اِس بات پر اِعتراض کرنا چاہے تو مَیں اُس سے کہتا ہوں کہ ہمارا بلکہ خدا کی کلیسیاؤں کا یہی رواج ہے۔‏

17 لیکن یہ ہدایتیں دیتے وقت مَیں آپ کو شاباش نہیں دے سکتا کیونکہ جب آپ جمع ہوتے ہیں تو آپ کو فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوتا ہے۔ 18 مَیں نے سنا ہے کہ جب آپ کلیسیا کے طور پر جمع ہوتے ہیں تو آپ میں اِختلافات ہوتے ہیں اور مجھے اِس خبر پر کسی حد تک یقین بھی ہے۔ 19 بے‌شک آپ میں فرقے پیدا ہوں گے تاکہ ظاہر ہو جائے کہ آپ میں سے کس کس کو خدا کی خوشنودی حاصل ہے۔‏

20 جب آپ مالک کی یادگاری تقریب کا کھانا کھانے*‏ کے لیے جمع ہوتے ہیں تو اصل میں آپ اِسے کھانے کے لائق نہیں ہوتے۔ 21 کیونکہ اِسے کھانے سے پہلے ہی آپ کچھ کھا لیتے ہیں اور آپ میں سے کچھ بھوکے ہوتے ہیں جبکہ کچھ متوالے ہوتے ہیں۔ 22 کیا آپ کے اپنے گھر نہیں جہاں آپ کھا پی سکیں؟ کیا آپ خدا کی کلیسیا کو حقیر جانتے ہیں اور اُن لوگوں کو شرمندہ کرنا چاہتے ہیں جو غریب ہیں؟ مَیں آپ سے کیا کہوں؟ کیا مَیں آپ کی تعریف کروں؟ اِس معاملے میں مَیں آپ کی تعریف نہیں کر سکتا۔‏

23 مَیں نے آپ کو وہ ہدایتیں دیں جو مالک نے مجھے دی تھیں کہ جس رات ہمارے مالک یسوع کو پکڑوایا گیا، اُس رات اُنہوں نے روٹی لی، 24 اِس پر دُعا کی، اِسے توڑا اور کہا:‏ ”‏یہ میرے جسم کی طرف اِشارہ کرتی ہے جسے آپ کی خاطر قربان کِیا جائے گا۔ میری یاد میں ایسا کِیا کریں۔“‏ 25 اور جب مالک نے کھانا کھا لیا تو اُنہوں نے اِسی طرح پیالہ لے کر کہا:‏ ”‏یہ پیالہ نئے عہد کی طرف اِشارہ کرتا ہے جسے میرے خون کے ذریعے قائم کِیا جائے گا۔ میری یاد میں اِس پیالے سے پیا کریں، ہاں، ایسا ہی کِیا کریں۔“‏ 26 اِس لیے جب بھی آپ یہ روٹی کھاتے ہیں اور اِس پیالے سے پیتے ہیں، آپ مالک کی موت کا اِعلان کرتے ہیں جب تک کہ وہ آ نہ جائیں۔‏

27 لہٰذا جو شخص ہمارے مالک کے پیالے سے پیتا ہے اور اُن کی روٹی سے کھاتا ہے مگر اِس کے لائق نہیں ہوتا، وہ مالک کے جسم اور خون کے لحاظ سے قصوروار ہوتا ہے۔ 28 ایک شخص کو پہلے اِس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ اِس لائق ہے یا نہیں اور ایسا کرنے کے بعد ہی اُسے روٹی سے کھانا اور پیالے سے پینا چاہیے۔ 29 کیونکہ جو شخص ہمارے مالک کے جسم کی اہمیت کو نہیں سمجھتا، وہ روٹی اور پیالے سے کھا پی کر قصوروار ٹھہرتا ہے۔ 30 اِسی وجہ سے تو آپ میں سے بہت لوگ بیمار اور کمزور ہیں اور کچھ تو موت*‏ کی نیند سو رہے ہیں۔ 31 لیکن اگر ہم اپنا جائزہ لیتے تو ہم قصوروار نہ ٹھہرتے۔ 32 مگر جب ہمیں قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے تو یہوواہ*‏ ہماری اِصلاح کرتا ہے تاکہ ہم دُنیا کے ساتھ سزا نہ پائیں۔ 33 اِسی لیے میرے بھائیو، جب آپ یہ کھانا کھانے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو ایک دوسرے کا اِنتظار کریں 34 اور اگر آپ میں سے کسی کو بھوک لگی ہو تو وہ گھر سے کھا کر آئے تاکہ آپ کو اُس وقت قصوروار نہ ٹھہرایا جائے جب آپ جمع ہوتے ہیں۔ جہاں تک باقی معاملوں کا تعلق ہے تو مَیں آ کر اُن کو نپٹاؤں گا۔‏

12 بھائیو، مَیں نہیں چاہتا کہ آپ روحانی نعمتوں کے سلسلے میں بے‌خبر ہوں۔ 2 آپ جانتے ہیں کہ جب آپ ایمان نہیں لائے تھے تو آپ دوسروں کے اثر اور بہکاوے میں آ کر گونگے بُتوں کی پوجا کرتے تھے۔ 3 لیکن مَیں چاہتا ہوں کہ آپ جان لیں کہ کوئی شخص خدا کی پاک روح کے اثر میں آ کر یہ نہیں کہہ سکتا کہ ”‏یسوع لعنتی ہے!‏“‏ اِسی طرح کوئی شخص پاک روح کے بغیر یہ نہیں کہہ سکتا کہ ”‏یسوع مالک ہیں!‏“‏

4 نعمتیں تو طرح طرح کی ہیں لیکن پاک روح ایک ہی ہے 5 اور خدمات تو طرح طرح کی ہیں لیکن مالک ایک ہی ہے 6 اور کام تو طرح طرح کے ہیں لیکن خدا ایک ہی ہے جس کی مدد سے لوگ یہ کام انجام دیتے ہیں۔ 7 پاک روح لوگوں کے ذریعے اِس لیے ظاہر ہوتی ہے تاکہ دوسروں کو فائدہ ہو۔ 8 اِسی روح کے ذریعے ایک شخص کو دانش‌مندی کی باتیں کرنے کی نعمت ملتی ہے، اِسی روح کے ذریعے دوسرے کو علم کی نعمت ملتی ہے، 9 اِسی روح کے ذریعے کسی کو ایمان ملتا ہے، اِسی روح کے ذریعے کسی کو شفا دینے کی نعمت ملتی ہے، 10 کسی کو معجزے کرنے کی، کسی کو نبوّت کرنے کی، کسی کو اِلہامی پیغاموں کی شناخت کرنے کی، کسی کو فرق فرق زبانیں بولنے کی اور کسی کو اِن زبانوں کا ترجمہ کرنے کی نعمت ملتی ہے۔ 11 لیکن یہ سب کام اِسی ایک روح کی مدد سے کیے جاتے ہیں اور یہ روح اپنی مرضی کے مطابق ہر شخص کو نعمتیں عطا کرتی ہے۔‏

12 جس طرح جسم ایک ہے لیکن اُس کے اعضا بہت سے ہیں اور اُس کے سارے اعضا حالانکہ وہ بہت سے ہیں، ایک ہی جسم کو ترتیب دیتے ہیں اِسی طرح مسیح کا جسم بھی ہے۔ 13 ہم سب ایک ہی روح کے ذریعے بپتسمہ لے کر ایک جسم بن گئے، چاہے ہم یہودی ہوں یا یونانی، چاہے ہم غلام ہوں یا آزاد۔ ہم سب نے ایک ہی روح پائی۔‏

14 دراصل جسم ایک عضو سے نہیں بلکہ بہت سے اعضا سے بنا ہے۔ 15 اگر پاؤں کہے:‏ ”‏چونکہ مَیں ہاتھ نہیں ہوں اِس لیے مَیں جسم کا حصہ نہیں ہوں“‏ تو کیا وہ واقعی جسم کا حصہ نہیں ہے؟ 16 اور اگر کان کہے:‏ ”‏چونکہ مَیں آنکھ نہیں ہوں اِس لیے مَیں جسم کا حصہ نہیں ہوں“‏ تو کیا وہ واقعی جسم کا حصہ نہیں ہے؟ 17 اگر پورا جسم آنکھ ہوتا تو سننے کی صلاحیت کہاں ہوتی؟ اور اگر پورا جسم کان ہوتا تو سُونگھنے کی صلاحیت کہاں ہوتی؟ 18 لیکن خدا نے اپنی مرضی کے مطابق ہر عضو کو جسم میں ترتیب سے لگایا۔‏

19 اگر سب اعضا ایک ہی عضو ہوتے تو جسم کہاں ہوتا؟ 20 لیکن وہ بہت سے اعضا ہونے کے باوجود ایک ہی جسم ہیں۔ 21 آنکھ ہاتھ سے نہیں کہہ سکتی کہ ”‏مجھے تمہاری ضرورت نہیں“‏ اور سر پاؤں سے نہیں کہہ سکتا کہ ”‏مجھے  تمہاری ضرورت نہیں۔“‏ 22 دراصل جسم کے جن اعضا کو کمزور سمجھا جاتا ہے، وہ اہم ہوتے ہیں 23 اور جن اعضا کو ہم بدصورت سمجھتے ہیں، اُن کو ہم زیادہ عزت دیتے ہیں۔ لہٰذا ہم اپنے بدصورت اعضا پر زیادہ توجہ دیتے ہیں 24 جبکہ ہمارے خوب‌صورت اعضا کو اِس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بہرحال خدا نے جسم کو یوں ترتیب دیا کہ اُن اعضا کو زیادہ عزت ملے جن میں کمی ہے 25 تاکہ جسم میں کوئی اِختلاف نہ ہو بلکہ اِس کے سارے اعضا ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ 26 اگر ایک عضو تکلیف اُٹھاتا ہے تو باقی سارے اعضا اُس کی تکلیف میں شریک ہوتے ہیں اور اگر ایک عضو کی بڑائی ہوتی ہے تو باقی سارے اعضا اُس کی خوشی میں شریک ہوتے ہیں۔‏

27 آپ مسیح کا جسم ہیں اور آپ میں سے ہر ایک اُس کا ایک عضو ہے۔ 28 خدا نے کلیسیا*‏ میں اِن لوگوں کو اپنے اپنے مرتبے پر مقرر کِیا:‏ پہلے مرتبے پر رسولوں کو، دوسرے مرتبے پر نبیوں کو اور تیسرے مرتبے پر اُستادوں کو۔ پھر اُس نے کچھ لوگوں کو معجزے کرنے کی نعمت دی، کچھ کو شفا دینے کی نعمت دی، کچھ کو مدد فراہم کرنے کی نعمت دی، کچھ کو رہنمائی کرنے کی نعمت دی اور کچھ کو فرق فرق زبانوں میں بات کرنے کی نعمت دی۔ 29 ذرا سوچیں:‏ کیا سب لوگ رسول ہیں؟ کیا سب لوگ نبی ہیں؟ کیا سب لوگ اُستاد ہیں؟ کیا سب معجزے کرتے ہیں؟ 30 کیا سب کو شفا دینے کی نعمت ملی ہے؟ کیا سب فرق فرق زبانوں میں بات کرتے ہیں؟ کیا سب ترجمہ کرتے ہیں؟ نہیں تو!‏ 31 اِس لیے اُن نعمتوں کو حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں جو زیادہ اہم ہیں۔ لیکن اب مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ اِن سے بھی زیادہ اہم کیا ہے۔‏

13 اگر مَیں اِنسانوں اور فرشتوں کی زبانیں بولوں لیکن مجھ میں محبت کی خوبی نہیں ہے تو مَیں ٹن ٹن کرتی گھنٹی اور ٹھنٹھناتی ہوئی جھانجھ کی طرح ہوں۔ 2 اور اگر مَیں نبوّت کرنے کی صلاحیت رکھوں اور تمام مُقدس رازوں کی سمجھ رکھوں اور پورا علم بھی رکھوں اور میرا ایمان اِتنا مضبوط ہو کہ مَیں پہاڑوں کو کھسکا دوں لیکن مجھ میں محبت کی خوبی نہیں ہے تو مَیں کچھ بھی نہیں ہوں۔ 3 اور اگر مَیں اپنا سارا مال بیچ کر غریبوں کو کھانا کھلاؤں اور اپنی جان تک قربان کر دوں تاکہ مَیں اِس پر فخر کر سکوں لیکن مجھ میں محبت کی خوبی نہیں ہے تو مجھے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‏

4 محبت صبر*‏ کرتی ہے اور مہربان ہے۔ محبت حسد نہیں کرتی، شیخی نہیں مارتی، غرور نہیں کرتی، 5 بدتمیزی نہیں کرتی، مطلبی نہیں ہوتی، غصے میں بھڑک نہیں اُٹھتی اور غلطیوں کا حساب نہیں رکھتی۔ 6 محبت بُرائی سے خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی سے خوش ہوتی ہے۔ 7 محبت سب کچھ برداشت کرتی ہے، سب باتوں پر یقین کرتی ہے، سب چیزوں کی اُمید رکھتی ہے اور ہر حال میں ثابت‌قدم رہتی ہے۔‏

8 محبت کبھی ختم*‏ نہیں ہوگی۔ لیکن نبوّت کرنے کی نعمت، فرق فرق زبانیں بولنے کی نعمت اور علم کی نعمت ختم ہو جائے گی۔ 9 ابھی تو ہمارا علم نامکمل ہے اور ہم جو نبوّت کرتے ہیں، وہ محدود ہے۔ 10 لیکن جب مکمل چیز آئے گی تو نامکمل چیز کو ختم کر دیا جائے گا۔ 11 جب مَیں بچہ تھا تو بچوں کی طرح بولتا تھا اور میری سوچ اور سمجھ بچوں جیسی تھی۔ لیکن اب مَیں بڑا ہو گیا ہوں اور مَیں نے بچوں کے طورطریقوں کو چھوڑ دیا ہے۔ 12 اِس وقت ہم دُھندلی تصویر دیکھ رہے ہیں گویا ہم دھات کے آئینے میں دیکھ رہے ہوں لیکن تب ہم سب کچھ صاف صاف دیکھ سکیں گے گویا ہم روبرو کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہوں۔ ابھی تو خدا کے بارے میں میرا علم نامکمل ہے لیکن تب مَیں اُسے اچھی*‏ طرح جان جاؤں گا، بالکل ویسے ہی جیسے وہ مجھے اچھی طرح جانتا ہے۔ 13 بہرحال یہ تین ہمیشہ تک قائم رہیں گے:‏ ایمان، اُمید اور محبت۔ لیکن محبت اِن میں سے سب سے اہم ہے۔‏

14 لہٰذا محبت سے کام لینے کی پوری کوشش کریں اور اِس کے ساتھ ساتھ روحانی نعمتوں کو حاصل کرنے کی جستجو بھی کریں، خاص طور پر نبوّت کرنے کی نعمت کو۔ 2 دراصل جو شخص غیرزبان بولتا ہے، وہ خدا کے لیے بولتا ہے اِنسانوں کے لیے نہیں کیونکہ وہ پاک روح کی مدد سے مُقدس رازوں کا ذکر کرتا ہے مگر اُس کی بات کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ 3 لیکن جو شخص نبوّت کرتا ہے، اُس کی باتوں سے دوسروں کی مدد اور حوصلہ‌افزائی ہوتی ہے اور اُنہیں تسلی ملتی ہے۔ 4 جو شخص غیرزبان بولتا  ہے، وہ اپنے ایمان کو مضبوط کرتا ہے لیکن جو شخص نبوّت کرتا ہے، وہ کلیسیا*‏ کے ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔ 5 مَیں تو چاہتا ہوں کہ آپ سب کو فرق فرق زبانوں میں بولنے کی نعمت ملے لیکن میرے خیال میں بہتر یہ ہے کہ آپ نبوّت کریں۔ جو شخص نبوّت کرتا ہے، اُس کا مرتبہ اُس شخص سے بڑا ہے جو غیرزبان بولتا ہے۔ بے‌شک غیرزبان بولنے والے شخص کا مرتبہ بھی بڑا ہے بشرطیکہ وہ اپنی باتوں کا ترجمہ بھی کرے تاکہ کلیسیا کی حوصلہ‌افزائی ہو۔ 6 بھائیو، اگر مَیں آپ کے پاس آ کر غیرزبان بولوں تو آپ کو کیا فائدہ ہوگا؟ کیا بہتر نہیں ہوگا کہ مَیں آپ کو کسی وحی کے بارے میں بتاؤں جو مجھ پر نازل ہوئی یا علم کی باتیں کروں یا نبوّت کروں یا آپ کو تعلیم دوں؟‏

7 ذرا بانسری یا بربط جیسے سازوں کی مثال لیں۔ اگر سُروں میں اُتارچڑھاؤ واضح نہ ہو تو کیسے پتہ چلے گا کہ اِن پر کون سی دُھن بجائی جا رہی ہے؟ 8 اور اگر نرسنگے*‏ کی آواز صاف صاف سنائی نہ دے تو جنگ کے لیے کون تیار ہوگا؟ 9 اِسی طرح اگر آپ ایسی زبان بولیں گے جو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتی تو لوگوں کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ دراصل آپ فضول میں بات کر رہے ہوں گے۔ 10 بے‌شک دُنیا میں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں اور سب کی سب سمجھی بھی جاتی ہیں۔ 11 لیکن اگر کوئی بات کر رہا ہے اور مَیں اُس کی بات نہیں سمجھتا تو مَیں بولنے والے کے لیے پردیسی ہوں گا اور وہ میرے لیے پردیسی ہوگا۔ 12 آپ پاک روح کی نعمتیں حاصل کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ لہٰذا اِن باتوں کو مدِنظر رکھ کر ایسی نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش کریں جن سے کلیسیا کا ایمان مضبوط ہو۔‏

13 اِس لیے جو شخص غیرزبان بولتا ہے، وہ دُعا کرے کہ اُس کو اپنی بات کا ترجمہ کرنے کی توفیق بھی ملے۔ 14 کیونکہ جب مَیں کسی غیرزبان میں دُعا کرتا ہوں تو مَیں پاک روح کی نعمت کے ذریعے دُعا کرتا ہوں لیکن مَیں اپنی دُعا کو نہیں سمجھتا۔ 15 تو پھر کیا کِیا جائے؟ مَیں پاک روح کی نعمت کے ذریعے دُعا کروں گا اور ایسی دُعا بھی کروں گا جو سمجھ میں آئے۔ مَیں پاک روح کی نعمت کے ذریعے خدا کی حمد کے گیت گاؤں گا اور خدا کی حمد میں ایسے گیت بھی گاؤں گا جو سمجھ میں آئیں۔ 16 اگر آپ خدا کی پاک روح کی نعمت کے ذریعے شکرگزاری کی دُعا کر رہے ہیں اور کوئی عام آدمی سُن رہا ہے تو وہ آمین کیسے کہے گا؟ اُسے تو آپ کی بات سمجھ میں ہی نہیں آئی۔ 17 یہ سچ ہے کہ آپ اچھی طرح سے شکرگزاری کی دُعا کر رہے ہیں لیکن دوسرے آدمی کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا۔ 18 خدا کا شکر ہے کہ مَیں آپ  لوگوں سے بھی زیادہ زبانیں بول سکتا ہوں۔ 19 لیکن کلیسیا سے بات کرتے وقت مَیں کسی غیرزبان میں 10 ہزار لفظ بولنے کی بجائے 5 ایسے لفظ بولنے کو ترجیح دیتا ہوں جو دوسروں کو سمجھ آئیں تاکہ اُن کو فائدہ ہو۔‏

20 بھائیو، سمجھ کے لحاظ سے بچے نہ بنیں بلکہ بُرائی کے لحاظ سے بچے بنیں مگر سمجھ کے لحاظ سے بالغ بنیں۔ 21 شریعت میں لکھا ہے کہ ”‏یہوواہ*‏ کہتا ہے:‏ ”‏مَیں اِن لوگوں سے پردیسیوں کی زبان اور اجنبیوں کے الفاظ میں بات کروں گا لیکن پھر بھی وہ میری بات سننے سے اِنکار کریں گے۔“‏ “‏ 22 لہٰذا غیرزبان بولنے کی نعمت غیرایمان والوں کے لیے ایک نشانی ہے، ایمان والوں کے لیے نہیں۔ مگر نبوّت کی نعمت ایمان والوں کے لیے ہے، غیرایمان والوں کے لیے نہیں۔ 23 ذرا سوچیں کہ جب کلیسیا جمع ہوتی ہے اور سارے بہن بھائی غیرزبانیں بولنے لگتے ہیں اور ایک عام آدمی یا غیرایمان والا وہاں آتا ہے تو کیا وہ یہ نہیں کہے گا کہ آپ پاگل ہو گئے ہیں؟ 24 لیکن اگر آپ سب نبوّت کر رہے ہیں اور ایک عام آدمی یا غیرایمان والا وہاں آتا ہے تو آپ کی باتوں سے اُس کی اِصلاح ہوگی اور وہ اپنا جائزہ لے گا 25 اور سمجھ جائے گا کہ اُس کے دل میں کیا ہے۔ پھر وہ مُنہ کے بل گِر کر خدا کی عبادت کرے گا اور کہے گا:‏ ”‏خدا واقعی آپ کے درمیان ہے!‏“‏

26 تو پھر کیا کِیا جائے، بھائیو؟ جب  آپ جمع ہوتے ہیں تو کوئی شخص خدا کی حمد کے گیت گاتا ہے، کوئی شخص تعلیم دیتا ہے، کوئی کسی وحی کا ذکر کرتا ہے، کوئی غیرزبان بولتا ہے اور کوئی اِس کا ترجمہ کرتا ہے۔ آپ جو کچھ کریں، ایک دوسرے کے ایمان کو مضبوط کرنے کے لیے کریں۔ 27 اگر آپ میں سے کچھ لوگ غیرزبان بولنا چاہتے ہیں تو صرف دو یا تین لوگ ایسا کریں اور وہ باری باری ایسا کریں اور کوئی شخص اُن کی باتوں کا ترجمہ بھی کرے۔ 28 لیکن اگر کلیسیا میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو اُن کی باتوں کا ترجمہ کر سکے تو وہ لوگ چپ رہیں اور دل ہی دل میں خدا سے بات کریں۔ 29 اِس کے علاوہ دو یا تین نبیوں کو بات کرنے دیں اور باقی لوگ اُن کی باتوں کو سنیں اور سمجھیں۔ 30 لیکن اگر اِس دوران کسی پر وحی نازل ہو تو جو شخص پہلے سے بول رہا ہے، وہ چپ ہو جائے۔ 31 آپ سب باری باری نبوّت کریں تاکہ سب لوگ کچھ سیکھیں اور سب کی حوصلہ‌افزائی ہو۔ 32 نبی پاک روح کی وہ نعمتیں طریقے سے اِستعمال کریں جو اُنہیں ملی ہیں۔ 33 یاد رکھیں کہ خدا بدنظمی کو پسند نہیں کرتا ہے بلکہ وہ امن کو پسند کرتا ہے۔‏

جیسا کہ مُقدسوں کی تمام کلیسیاؤں میں ہوتا ہے، 34 عورتیں کلیسیاؤں میں خاموش رہیں کیونکہ اُنہیں بولنے کی اِجازت نہیں۔ اِس کی بجائے وہ تابع‌دار ہوں جیسا کہ شریعت میں بھی لکھا ہے۔ 35 اگر اُن کو کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تو وہ گھر پر اپنے شوہر سے اِس کے بارے میں پوچھیں کیونکہ کلیسیا میں بات کرنا عورت کے لیے شرم کی بات ہے۔‏

36 کیا آپ کا خیال ہے کہ خدا کا کلام آپ ہی سے نکلا ہے یا آپ ہی تک پہنچا ہے؟‏

37 اگر کسی کو لگتا ہے کہ وہ نبی ہے یا اُسے پاک روح کی نعمت حاصل ہے تو وہ تسلیم کرے کہ اِس خط میں جو کچھ لکھا ہے، وہ مالک کی طرف سے ہے۔ 38 لیکن اگر ایک شخص اِس بات کو تسلیم نہیں کرتا تو اُسے رد کر دیا جائے گا۔‏*‏ 39 لہٰذا میرے بھائیو، نبوّت کرنے کی نعمت کو پانے کی پوری کوشش کریں مگر کسی کو فرق فرق زبانیں بولنے سے بھی منع نہ کریں۔ 40 لیکن سب باتیں مناسب طریقے سے اور منظم انداز میں*‏ کی جائیں۔‏

15 بھائیو!‏ اب مَیں آپ کی توجہ اُس خوش‌خبری کی طرف دِلانا چاہتا ہوں جو مَیں نے آپ کو سنائی تھی اور جسے آپ نے قبول کِیا تھا اور جس کی آپ نے حمایت کی تھی۔ 2 اِس خوش‌خبری کے ذریعے جو مَیں نے آپ کو سنائی، آپ نجات پائیں گے بشرطیکہ آپ اِس کو تھامے رکھیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو آپ فضول میں ایمان لائے ہیں۔‏

3 سب سے اہم بات جو مجھے بتائی گئی،  وہ مَیں نے آپ کو بھی بتائی یعنی یہ کہ مسیح نے صحیفوں کے عین مطابق ہمارے گُناہوں کے لیے جان دے دی 4 اور اُسے دفن کِیا گیا اور تیسرے دن زندہ کِیا گیا جیسا کہ صحیفوں میں لکھا بھی ہے 5 اور پھر وہ کیفا*‏ کو دِکھائی دیا اور پھر 12 رسولوں کو 6 اور اِس کے بعد وہ ایک ہی موقعے پر 500 سے زیادہ بھائیوں کو دِکھائی دیا جن میں سے زیادہ‌تر ابھی زندہ ہیں لیکن کچھ موت کی نیند سو گئے ہیں۔ 7 پھر وہ یعقوب کو اور پھر تمام رسولوں کو دِکھائی دیا۔ 8 لیکن سب سے آخر میں وہ مجھے دِکھائی دیا اور یوں مَیں ایک ایسے بچے کی طرح بن گیا جو وقت سے پہلے پیدا ہوا ہو۔‏

9 ویسے تو میرا مرتبہ تمام رسولوں میں سب سے چھوٹا ہے اور مَیں اِس لائق نہیں کہ مجھے رسول کہا جائے کیونکہ مَیں خدا کی کلیسیا*‏ کو اذیت پہنچاتا تھا۔ 10 لیکن خدا کی عظیم رحمت کی بِنا پر مجھے رسول کا مرتبہ ملا۔ اور یہ رحمت رنگ لائی کیونکہ مَیں نے اُن سب سے زیادہ محنت‌مشقت کی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ مَیں نے جو کچھ کِیا، اپنی طاقت کی بِنا پر نہیں کِیا بلکہ خدا کی عظیم رحمت کی بِنا پر کِیا جو مجھے حاصل ہے۔ 11 لیکن چاہے مَیں نے آپ کو خوش‌خبری سنائی ہو یا دوسرے رسولوں نے، ہمارا پیغام ایک ہی تھا اور آپ نے اِس پیغام کو قبول کِیا۔‏

12 اب اگر ہم یہ خوش‌خبری سنا رہے ہیں کہ مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا ہے تو پھر آپ میں سے کچھ لوگ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ”‏مُردے زندہ نہیں ہوں گے“‏؟ 13 اگر مُردے زندہ نہیں ہوں گے تو مسیح بھی زندہ نہیں ہوا۔ 14 لیکن اگر مسیح کو زندہ نہیں کِیا گیا تو ہم فضول میں خوش‌خبری سنا رہے ہیں اور آپ کا ایمان بھی فضول ہے۔ 15 اور صرف یہی نہیں بلکہ ہم خدا کے بارے میں جھوٹی گواہی دیتے ہیں کیونکہ ہم یہ گواہی دیتے ہیں کہ اُس نے مسیح کو مُردوں میں سے زندہ کِیا جبکہ اگر مُردے زندہ نہیں ہوں گے تو خدا نے مسیح کو بھی زندہ نہیں کِیا۔ 16 کیونکہ اگر مُردوں کو زندہ نہیں کِیا جائے گا تو مسیح کو بھی زندہ نہیں کِیا گیا۔ 17 اور اگر مسیح کو زندہ نہیں کِیا گیا تو آپ کا ایمان فضول ہے اور آپ کے گُناہ معاف نہیں ہوئے۔ 18 اور اِس صورت میں اُن تمام مسیحیوں کا نام‌ونشان ہمیشہ کے لیے مٹ گیا ہے جو مر چکے ہیں۔ 19 اور اگر ہم نے صرف اِسی زندگی کے لیے مسیح پر اُمید لگائی ہے تو ہماری حالت سب لوگوں سے زیادہ خراب ہے۔‏

20 لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ مسیح  کو  مُردوں میں سے زندہ کِیا گیا ہے۔ دراصل مسیح اُن لوگوں میں سے پہلا پھل ہے جو موت کی نیند سو رہے ہیں۔ 21 کیونکہ جس طرح ایک آدمی کے ذریعے لوگ مرتے ہیں اُسی طرح ایک آدمی کے ذریعے مُردے زندہ ہوں گے۔ 22 جیسے آدم کی وجہ سے تمام اِنسان مرتے ہیں، بالکل ویسے ہی مسیح کی وجہ سے تمام مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا۔ 23 لیکن مُردوں کو ترتیب سے زندہ کِیا جائے گا:‏ پہلا پھل مسیح ہے، پھر مسیح کی موجودگی کے دوران اُن مُردوں کو زندہ کِیا جائے گا جو اُس کے ہیں۔ 24 آخر میں جب مسیح نے ہر طرح کی حکومت اور ہر طرح کے اِختیار اور طاقت کو ختم کر دیا ہوگا تو وہ بادشاہت کو اپنے خدا اور باپ کے حوالے کر دے گا۔ 25 کیونکہ وہ بادشاہ کے طور پر اُس وقت تک حکمرانی کرے گا جب تک خدا تمام دُشمنوں کو اُس کے پاؤں تلے نہ کر دے 26 اور آخری دُشمن یعنی موت کو بھی ختم کر دیا جائے گا۔ 27 ہاں، خدا نے ”‏ساری چیزیں اُس کے پاؤں تلے کر دیں۔“‏ لیکن اگر صحیفوں میں لکھا ہے کہ ”‏ساری چیزیں اُس کے پاؤں تلے کر دی گئیں“‏ تو ظاہر ہے کہ اِن میں وہ شامل نہیں ہے جس نے ساری چیزیں مسیح کے تابع کی ہیں یعنی خدا۔ 28 اور جب ساری چیزیں بیٹے کے تابع ہو جائیں گی تو پھر بیٹا خود کو بھی اُس کے تابع کر دے گا جس نے ساری چیزیں اُس کے تابع کیں تاکہ خدا سب کا حاکم ہو۔‏

29 اگر مُردے زندہ نہیں ہوں گے تو اُن کا کیا بنے گا جو مرنے کے لیے بپتسمہ لیتے ہیں؟ وہ مرنے کے لیے بپتسمہ لیتے ہی کیوں ہیں؟ 30 اور ہم کس مقصد کے لیے ہر وقت خطرے کا سامنا کرتے ہیں؟ 31 دراصل مَیں ہر روز موت کا سامنا کرتا ہوں۔ بھائیو، یہ بات اُتنی ہی سچ ہے جتنی کہ یہ بات کہ آپ مالک مسیح یسوع کے حوالے سے میری خوشی کا باعث ہیں۔ 32 اگر مَیں نے دوسرے آدمیوں کی طرح*‏ اِفسس میں وحشی درندوں سے لڑائی کی تو اِس سے مجھے کیا فائدہ ہوا؟ اگر مُردے زندہ نہیں ہوں گے تو ”‏آؤ،  کھائیں پئیں کیونکہ کل تو ہم مر جائیں گے۔“‏ 33 دھوکا نہ کھائیں۔ بُرے ساتھی اچھی عادتوں کو بگا‌ڑ دیتے ہیں۔ 34 ہوش میں آئیں، نیکی کریں اور گُناہ نہ کریں۔ جان لیں کہ آپ میں سے کچھ لوگ خدا کا علم بالکل نہیں رکھتے۔ مَیں یہ باتیں آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے کہہ رہا ہوں۔‏

35 لیکن شاید کوئی شخص کہے:‏ ”‏مُردے کیسے زندہ ہوں گے؟ اُنہیں کیسا جسم دیا جائے گا؟“‏ 36 ارے ناسمجھو!‏ آپ جو بیج بوتے ہیں، اُسے پہلے مرنا پڑتا ہے تاکہ وہ زندہ ہو سکے۔ 37 کیونکہ جب آپ بیج بوتے ہیں، چاہے وہ گندم کا ہو یا کسی اَور چیز کا تو اُس کی شکل اُس چیز سے فرق ہوتی ہے جو اُس سے اُگے گی۔ 38 خدا اُسے اپنی مرضی کے مطابق شکل دیتا ہے اور ہر طرح کے بیج سے فرق فرق پودا اُگاتا ہے۔ 39 اِسی طرح جسم بھی فرق فرق ہوتے ہیں، مثلاً اِنسانوں، مویشیوں، پرندوں، مچھلیوں وغیرہ کے جسم ایک دوسرے سے فرق ہوتے ہیں۔ 40 اور آسمانی چیزوں کے جسم زمینی چیزوں کے جسموں سے فرق ہوتے ہیں کیونکہ آسمانی جسموں کی شان ایک طرح کی ہوتی ہے جبکہ زمینی جسموں کی شان ایک اَور طرح کی ہوتی ہے۔ 41 سورج کی شان، چاند کی شان اور ستاروں کی شان میں فرق ہوتا ہے یہاں تک کہ ایک ستارے کی شان بھی دوسرے ستارے سے فرق ہوتی ہے۔‏

42 یہی بات مُردوں کے زندہ ہونے  کے سلسلے میں بھی سچ ہے۔ فانی جسم بویا جاتا ہے پھر غیرفانی جسم جی اُٹھتا ہے؛ 43 حقیر جسم بویا جاتا ہے پھر شان‌دار جسم جی اُٹھتا ہے؛ کمزور جسم بویا جاتا ہے پھر طاقت‌ور جسم جی اُٹھتا ہے۔ 44 گوشت پوست کا جسم بویا جاتا ہے پھر روحانی جسم جی اُٹھتا ہے۔ اگر گوشت پوست کا جسم ہوتا ہے تو پھر روحانی جسم بھی ہوتا ہے 45 کیونکہ لکھا ہے کہ ”‏پہلا آدمی یعنی آدم جیتا جاگتا اِنسان*‏ بنا۔“‏ لیکن آخری آدم زندگی بخشنے والی روح بنا۔ 46 مگر روحانی جسم پہلے نہیں ہوتا کیونکہ پہلے تو گوشت پوست کا جسم ہوتا ہے پھر روحانی جسم ہوتا ہے۔ 47 پہلا آدمی زمین سے تھا اور مٹی سے بنا تھا جبکہ دوسرا آدمی آسمان سے ہے۔ 48 جو لوگ مٹی سے بنے ہیں، وہ اُسی کی طرح ہیں جسے مٹی سے بنایا گیا تھا اور جو لوگ آسمانی ہیں، وہ اُسی کی طرح ہیں جو آسمان سے ہے۔ 49 اور جیسے ہم اُس کی طرح ہیں جسے مٹی سے بنایا گیا تھا، بالکل ویسے ہی ہم اُس کی طرح ہوں گے جو آسمان سے ہے۔‏

50 بھائیو، مَیں آپ کو ایک حقیقت بتاتا ہوں:‏ گوشت پوست کا جسم خدا کی بادشاہت کا وارث نہیں ہو سکتا اور فانی جسم، غیرفانی چیزوں کا وارث نہیں ہو سکتا۔ 51 دیکھیں، مَیں آپ کو ایک مُقدس راز بتاتا ہوں۔ ہم سب موت کی نیند نہیں سوئیں گے بلکہ ہم سب بدل جائیں گے۔ 52 ہاں، جب آخری نرسنگا*‏ بجے گا تو ہم ایک ہی لمحے میں پلک جھپکتے ہی بدل جائیں گے کیونکہ جس وقت آخری نرسنگا بجے گا اُس وقت مُردے غیرفانی جسم کے ساتھ زندہ ہوں گے اور ہم بدل جائیں گے۔ 53 کیونکہ فانی جسم کو غیرفانی بننا پڑے گا اور جو چیز مر سکتی ہے، اُسے بدلنا پڑے گا تاکہ وہ کبھی نہ مرے۔ 54 جب فانی جسم، غیرفانی بن جائے گا اور جو چیز مر سکتی ہے، وہ کبھی نہیں مرے گی تو وہ بات بھی پوری ہوگی جو صحیفوں میں لکھی ہے کہ ”‏موت ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔“‏ 55 ‏”‏موت، تیری فتح کہاں رہی؟ موت، تیرا ڈنک کہاں رہا؟“‏ 56 دراصل وہ ڈنک جس سے موت آتی ہے، گُناہ ہے جبکہ گُناہ کی طاقت شریعت کی وجہ سے ہے۔ 57 خدا کا شکر ہے کہ وہ ہمیں مالک یسوع مسیح کے ذریعے موت پر فتح بخشتا ہے!‏

58 لہٰذا عزیز بھائیو، ثابت‌قدم اور ڈٹے رہیں اور مالک کی خدمت میں مصروف رہیں کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ آپ مالک کے لیے جو خدمت کر رہے ہیں، وہ فضول نہیں ہے۔‏

16 جہاں تک مُقدسوں کے لیے عطیات جمع کرنے کا تعلق ہے تو اُن ہدایتوں پر عمل کریں جو مَیں نے گلتیہ کی کلیسیاؤں*‏ کو دی تھیں۔ 2 ہر ہفتے کے پہلے دن آپ میں سے ہر ایک اپنی اپنی کمائی کے مطابق تھوڑے سے پیسے ایک طرف کر لے تاکہ اُس وقت عطیات جمع کرنے کی ضرورت نہ پڑے جب مَیں آپ کے پاس آؤں۔ 3 پھر جب مَیں آپ کے ہاں آؤں گا تو مَیں اُن آدمیوں کو جن کے بارے میں آپ لکھیں گے کہ وہ قابلِ‌بھروسا ہیں، یروشلیم بھیجوں گا تاکہ وہ اُن عطیات کو وہاں لے جائیں جو آپ نے دل کھول کر دیے ہوں گے۔ 4 لیکن اگر میرے لیے بھی یروشلیم جانا ضروری ہوگا تو وہ میرے ساتھ جا سکیں گے۔‏

5 مَیں مقدونیہ سے گزرنے کا اِرادہ رکھتا ہوں اور وہاں سے ہو کر آپ کے پاس بھی آؤں گا 6 اور شاید آپ کے پاس تھوڑا عرصہ رُکوں گا یا پھر سردیاں گزاروں گا تاکہ جب مَیں آپ کے ہاں سے روانہ ہوں تو آپ تھوڑا راستہ میرے ساتھ جا سکیں۔ 7 مَیں نہیں چاہتا کہ آپ سے بس کھڑے کھڑے ملاقات ہو بلکہ اگر یہوواہ*‏ نے چاہا تو مَیں آپ کے ساتھ کچھ وقت گزاروں گا۔ 8 لیکن عیدِپنتِکُست تک مَیں اِفسس میں رہوں گا 9 کیونکہ یہاں خدا نے میرے لیے خدمت کرنے کا وسیع دروازہ کھولا ہے مگر میرے مخالف بھی بہت ہیں۔‏

10 اگر تیمُتھیُس آپ کے ہاں آئیں  تو اُنہیں کسی طرح کی پریشانی نہ ہونے دیں کیونکہ وہ بھی میری طرح یہوواہ*‏ کی خدمت کر رہے ہیں۔ 11 اِس لیے کوئی شخص اُن کو حقیر نہ جانے اور اُنہیں خیریت سے میرے پاس بھیج دیں کیونکہ مَیں دوسرے بھائیوں کے ساتھ اُن کا اِنتظار کر رہا ہوں۔‏

12 جہاں تک ہمارے بھائی اپلّوس کا تعلق ہے تو مَیں نے بڑا اِصرار کِیا کہ وہ دوسرے بھائیوں کے ساتھ آپ کے پاس جائیں مگر وہ ابھی آپ کے پاس آنے کا اِرادہ نہیں رکھتے۔ بہرحال وقت آنے پر وہ آپ کے پاس آئیں گے۔‏

13 چوکس رہیں، ایمان کی راہ پر قائم رہیں، دلیر اور مضبوط بنیں۔ 14 ہر کام محبت کی بِنا پر کریں۔‏

15 بھائیو، آپ جانتے ہیں کہ ستفناس کے گھر والے اخیہ کا پہلا پھل ہیں اور اُنہوں نے مُقدسوں کی خدمت کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی ہے۔ اِس لیے مَیں آپ سے اِلتجا کرتا ہوں کہ 16 ایسے لوگوں کے تابع رہیں اور ایسے لوگوں کے بھی جو ہمارے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور سخت محنت کرتے ہیں۔ 17 مَیں خوش ہوں کہ ستفناس، فرتوناتُس اور اخیکُس میرے پاس ہیں کیونکہ اُنہوں نے یہاں آ کر آپ کی کمی کو پورا کر دیا ہے 18 اور مجھے اور آپ کو*‏ تازہ‌دم کر دیا ہے۔ ایسے آدمیوں کی قدر کِیا کریں۔‏

19 آسیہ کی کلیسیائیں آپ کو سلام بھیجتی ہیں۔ اکوِلہ اور پرِسکہ اُس کلیسیا سمیت جو اُن کے گھر میں جمع ہوتی ہے، آپ کو مسیح کے پیروکاروں کے طور پر دلی سلام کہتے ہیں۔ 20 تمام بھائی آپ کو سلام کہتے ہیں۔ گلے مل کر*‏ ایک دوسرے کا خیرمقدم کریں۔‏

21 مَیں پولُس، اپنے ہاتھ سے آپ کو سلام لکھ رہا ہوں۔‏

22 وہ شخص لعنتی ہے جو مالک سے پیار نہیں کرتا۔ آئیں، مالک یسوع!‏ 23 مالک یسوع کی عظیم رحمت آپ پر رہے 24 اور میری محبت کا سایہ بھی آپ پر رہے، ہاں، آپ پر جو مسیح یسوع کے ساتھ متحد ہیں۔‏

یا ”‏جماعت“‏

یا ”‏وفادار“‏

یا ”‏حصے‌دار“‏

یعنی پطرس

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏مَیں نے چالاک باتوں سے“‏

یا ”‏اُونچے خاندان سے“‏

یا ”‏پاک“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ایک ہیں“‏

یونانی میں:‏ ”‏دن“‏

یعنی خدا کا گھر

یا ”‏زمانے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی پطرس

یا ”‏وفادار“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏طریقۂ‌کار“‏

یا ”‏جماعت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جماعت“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یونانی میں:‏ ”‏روح“‏

یا ”‏برّہ“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏گالیاں دیتا“‏

یا ”‏جماعت“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ میں ”‏حرام‌کاری“‏ کو دیکھیں۔‏

جس یونانی لفظ کا ترجمہ ”‏جسم‌فروش مرد“‏ کِیا گیا ہے، وہ غالباً ایسے ہم‌جنس‌پرست مردوں کی طرف اِشارہ کرتا ہے جو جنسی حرکتیں کرتے وقت عورت کا کردار ادا کرتے ہیں۔‏

یا ”‏گالیاں دیتے“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏ایک جسم“‏

یونانی میں:‏ ”‏ایک روح“‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی خدا کا گھر

یعنی عورت کے ساتھ جنسی تعلقات قائم نہ کرے۔‏

یونانی لفظ:‏ ”‏پورنیا۔“‏ ”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یعنی جنسی ضروریات

یا ”‏آپ کو اِطمینان حاصل ہو۔“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جماعتوں“‏

یا ”‏روحانی“‏

یا ”‏کنوارا“‏

یعنی پطرس

یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں اناج کو بھوسے سے الگ کِیا جاتا ہے۔‏

یعنی خدا کا گھر

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏وفادار“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جماعت“‏

یا ”‏روایتوں“‏

یونانی میں:‏ ”‏سر“‏

یونانی میں:‏ ”‏سر“‏

یا ”‏جماعت“‏

یا ”‏جب آپ عشائے‌ربانی“‏

غالباً روحانی موت

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا ”‏جماعت“‏

یا ”‏تحمل“‏

یا ”‏ناکام“‏

یا ”‏پوری“‏

یا ”‏جماعت“‏

یا ”‏باجے“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یا شاید ”‏اگر ایک شخص ناسمجھ رہنا چاہتا ہے تو وہ ناسمجھ رہے گا۔“‏

یا ”‏ترتیب سے“‏

یعنی پطرس

یا ”‏جماعت“‏

یا شاید ”‏اگر مَیں نے جیسے کہ دوسروں کا خیال ہے،“‏

یونانی میں:‏ ”‏جان“‏

یا ”‏باجا“‏

یا ”‏جماعتوں“‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

یونانی میں:‏ ”‏میری اور آپ کی روح کو“‏

یونانی میں:‏ ”‏پاک بوسے سے“‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں