سموئیل کی پہلی کتاب
28 اُنہی دنوں میں فِلِستیوں نے اِسرائیل کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے اپنی فوجیں اِکٹھی کیں۔ تب اَکیس نے داؤد سے کہا: ”میرا خیال ہے کہ آپ کو اندازہ ہے کہ آپ اور آپ کے آدمی میرے ساتھ جنگ میں چلو گے۔“ 2 اِس پر داؤد نے اَکیس سے کہا: ”آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آپ کا خادم کیا کرے گا۔“ اَکیس نے داؤد سے کہا: ”اِسی لیے مَیں آپ کو مستقل طور پر اپنا محافظ* مقرر کروں گا۔“
3 اُس وقت سموئیل فوت ہو چُکے تھے۔ سارے اِسرائیل نے اُن کے لیے ماتم کِیا تھا اور اُنہیں اُن کے شہر رامہ میں دفنایا تھا۔ اور ساؤل نے مُردوں سے رابطہ کرنے کا دعویٰ کرنے والوں اور مستقبل کا حال بتانے والوں کو ملک سے نکال دیا ہوا تھا۔
4 فِلِستی اِکٹھے ہوئے اور جا کر شُونیم میں پڑاؤ ڈالا۔ اِس لیے ساؤل نے بھی پورے اِسرائیل کو جمع کِیا اور کوہِجِلبوعہ پر پڑاؤ ڈالا۔ 5 جب ساؤل نے فِلِستیوں کی خیمہگاہ دیکھی تو وہ ڈر گئے اور اُن کا دل شدت سے کانپنے لگا۔ 6 ساؤل نے یہوواہ سے رہنمائی مانگی لیکن یہوواہ نے نہ تو خوابوں، نہ اُوریم اور نہ نبیوں کے ذریعے اُنہیں کوئی جواب دیا۔ 7 آخرکار ساؤل نے اپنے خادموں سے کہا: ”مُردوں سے رابطہ کرنے والی کوئی عورت ڈھونڈو۔ مَیں جا کر اُس سے معلومات لوں گا۔“ اُن کے خادموں نے جواب دیا: ”عیندور میں ایک عورت ہے جو مُردوں سے رابطہ کرتی ہے۔“
8 پھر ساؤل نے بھیس بدلا اور دوسرے کپڑے پہن کر رات میں اپنے دو آدمیوں کے ساتھ اُس عورت کے پاس گئے۔ ساؤل نے اُس سے کہا: ”مہربانی سے غیب کے علم کے ذریعے اُس شخص کو میرے لیے مُردوں میں سے بُلا دیں جس کا نام مَیں آپ کو بتاؤں گا۔“ 9 لیکن اُس عورت نے اُن سے کہا: ”آپ کو ضرور پتہ ہوگا کہ ساؤل نے کیا کِیا تھا۔ اُنہوں نے مُردوں سے رابطہ کرنے والوں اور مستقبل کا حال بتانے والوں کو ملک سے نکال دیا تھا۔ پھر آپ مجھے* کیوں پھنسانا چاہتے ہیں کہ مَیں ماری جاؤں؟“ 10 ساؤل نے یہوواہ کی قسم کھاتے ہوئے اُس سے کہا: ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم، آپ کو اِس معاملے میں بالکل قصوروار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔“ 11 اِس پر اُس عورت نے پوچھا: ”مَیں آپ کے لیے کس کو بُلاؤں؟“ ساؤل نے جواب دیا: ”میرے لیے سموئیل کو بُلا دیں۔“ 12 جب اُس عورت نے ”سموئیل“ کو* دیکھا تو وہ زور زور سے چلّانے لگی۔ اُس نے ساؤل سے کہا: ”آپ نے مجھے دھوکا کیوں دیا؟ آپ تو ساؤل ہیں!“ 13 بادشاہ نے اُس سے کہا: ”ڈرو مت۔ یہ بتاؤ کہ آپ کو کیا نظر آ رہا ہے؟“ اُس نے جواب دیا: ”مجھے دیوتا جیسا کوئی دِکھائی دے رہا ہے جو زمین سے نکل کر اُوپر آ رہا ہے۔“ 14 ساؤل نے فوراً اُس سے پوچھا: ”وہ دِکھنے میں کیسا ہے؟“ اُس نے جواب دیا: ”ایک بوڑھا آدمی ہے جس نے بغیر بازوؤں والا چوغہ پہنا ہوا ہے۔“ ساؤل سمجھ گئے کہ یہ ”سموئیل“ ہیں۔ وہ اُس کے سامنے جھکے اور مُنہ کے بل زمین پر لیٹ گئے۔
15 ”سموئیل“ نے ساؤل سے کہا: ”آپ نے مجھے اُوپر بُلا کر پریشان کیوں کِیا ہے؟“ ساؤل نے جواب دیا: ”مَیں بہت بڑی مصیبت میں ہوں۔ فِلِستی میرے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں اور خدا نے مجھے چھوڑ دیا ہے۔ وہ نہ تو نبیوں کے ذریعے مجھے جواب دے رہا ہے اور نہ خوابوں کے ذریعے۔ اِسی لیے مَیں نے آپ کو بُلایا ہے کہ آپ مجھے بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔“
16 ”سموئیل“ نے کہا: ”اگر یہوواہ نے آپ کو چھوڑ دیا ہے اور وہ آپ کا مخالف بن گیا ہے تو آپ مجھ سے رہنمائی کیوں مانگ رہے ہیں؟ 17 یہوواہ وہی کرے گا جس کی پیشگوئی اُس نے میرے ذریعے کی تھی۔ یہوواہ آپ کی بادشاہت آپ کے ہاتھ سے چھین کر آپ کے ایک ساتھی یعنی داؤد کو دے دے گا۔ 18 آپ نے یہوواہ کی بات نہیں مانی تھی اور عمالیقیوں کو ہلاک نہیں کِیا تھا جنہوں نے اُس کا غصہ بھڑکایا تھا۔ اِسی لیے آج یہوواہ آپ کے ساتھ ایسا کر رہا ہے۔ 19 یہوواہ آپ کو اور اِسرائیل کو فِلِستیوں کے حوالے کر دے گا اور کل آپ اور آپ کے بیٹے میرے ساتھ ہوں گے۔ یہوواہ اِسرائیل کی فوج کو بھی فِلِستیوں کے حوالے کر دے گا۔“
20 یہ سنتے ہی ساؤل زمین پر گِر گئے اور ”سموئیل“ کی باتوں کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہو گئے۔ اُن میں بالکل طاقت نہیں رہی کیونکہ اُنہوں نے سارا دن اور ساری رات کچھ نہیں کھایا تھا۔ 21 جب وہ عورت ساؤل کے پاس آئی اور دیکھا کہ ساؤل کتنے پریشان ہیں تو اُس نے اُن سے کہا: ”آپ کی خادمہ نے آپ کی بات مانی اور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ کِیا جو آپ نے کہا۔ 22 اب مہربانی سے اپنی خادمہ کی بات مانیں۔ مَیں آپ کے لیے تھوڑی روٹی لاتی ہوں تاکہ اِسے کھا کر آپ کو کچھ طاقت ملے اور آپ واپس جا سکیں۔“ 23 لیکن ساؤل نے اِنکار کر دیا اور کہا: ”مَیں کچھ نہیں کھاؤں گا۔“ مگر اُن کے خادم اور وہ عورت اِصرار کرتے رہے۔ آخرکار ساؤل نے اُن کی بات مان لی اور زمین سے اُٹھ کر پلنگ پر بیٹھ گئے۔ 24 اُس عورت کے گھر میں ایک موٹاتازہ بچھڑا تھا۔ اُس نے فٹافٹ اُسے ذبح* کِیا، آٹا گُوندھا اور بےخمیری روٹیاں بنائیں۔ 25 پھر اُس نے ساؤل اور اُن کے خادموں کو کھانا پیش کِیا اور اُنہوں نے کھایا۔ اِس کے بعد وہ اُٹھے اور رات کے دوران وہاں سے نکل گئے۔