یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • دانی‌ایل 9
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

دانی‌ایل کے ابواب کا خاکہ

      • دانی‌ایل دُعا میں اپنی قوم کے گُناہوں کا اِقرار کرتے ہیں ‏(‏1-‏19‏)‏

        • یروشلم کی تباہ‌حالی کے 70 سال ‏(‏2‏)‏

      • جبرائیل دانی‌ایل کے پاس آتے ہیں ‏(‏20-‏23‏)‏

      • ستر ہفتوں والی پیش‌گوئی ‏(‏24-‏27‏)‏

        • مسیح 69 ہفتوں بعد ظاہر ہوگا ‏(‏25‏)‏

        • مسیح کو مار ڈالا جائے گا ‏(‏26‏)‏

        • شہر اور مُقدس جگہ کو تباہ کر دیا جائے گا ‏(‏26‏)‏

دانی‌ایل 9:‏1

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 181

دانی‌ایل 9:‏2

فٹ‌نوٹس

  • *

    یعنی مُقدس کتابوں

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی ‏(‏مطالعے کا ایڈیشن)‏،‏

    10/‏2016، ص.‏ 14

    مینارِنگہبانی‏،‏

    1/‏6/‏2007، ص.‏ 23

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 181،‏ 309

دانی‌ایل 9:‏3

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 182

دانی‌ایل 9:‏4

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏کا خوف رکھا“‏

دانی‌ایل 9:‏11

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 182-‏183

دانی‌ایل 9:‏12

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏ہمارا اِنصاف کرنے والے قاضیوں“‏

دانی‌ایل 9:‏13

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏وفاداری“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 183

دانی‌ایل 9:‏14

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏نیک“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 183

دانی‌ایل 9:‏15

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 183-‏184

دانی‌ایل 9:‏16

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 183-‏184

دانی‌ایل 9:‏18

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 184-‏185

دانی‌ایل 9:‏19

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    1/‏9/‏2007، ص.‏ 27

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 184-‏185

دانی‌ایل 9:‏21

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    1/‏9/‏2007، ص.‏ 27

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 185-‏186

دانی‌ایل 9:‏23

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏آپ کو بہت پسند کِیا جاتا ہے؛ آپ کی بہت عزت کی جاتی ہے۔“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    1/‏9/‏2007، ص.‏ 27

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 7،‏ 185-‏186

دانی‌ایل 9:‏24

فٹ‌نوٹس

  • *

    یہاں ایک ہفتہ سات سال کے برابر ہے۔‏

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏نبی“‏

  • *

    ‏”‏الفاظ کی وضاحت‏“‏ کو دیکھیں۔‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    15/‏5/‏2001، ص.‏ 27

    1/‏8/‏1996، ص.‏ 23

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 186-‏187،‏ 192،‏ 194-‏195

    علم،‏ ص.‏ 36

دانی‌ایل 9:‏25

فٹ‌نوٹس

  • *

    یا ”‏مسح‌شُدہ شخص،“‏

  • *

    شہر یا قلعے وغیرہ کے چاروں طرف حفاظت کے لیے کی گئی گہری کھدائی

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    پاک کلام سے متعلق سوال و جواب،‏

    پاک صحائف کی تعلیم،‏ ص.‏ 198-‏199

    مینارِنگہبانی،‏

    15/‏3/‏2002، ص.‏ 5

    1/‏10/‏1998، ص.‏ 11-‏12

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 186-‏192

    علم،‏ ص.‏ 36

    زمین پر فردوس،‏ ص.‏ 138

دانی‌ایل 9:‏26

فٹ‌نوٹس

  • *

    لفظی ترجمہ:‏ ”‏کاٹ“‏

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 192-‏194،‏ 195-‏196

دانی‌ایل 9:‏27

حوالے

  • مطالعے کے حوالے

    مینارِنگہبانی،‏

    1/‏9/‏2007، ص.‏ 27

    15/‏5/‏2003، ص.‏ 31

    1/‏5/‏1999، ص.‏ 14

    دانی‌ایل کی نبوّت،‏ ص.‏ 192-‏194،‏ 195-‏196

دوسرے ترجموں میں

اِس واقعے کو کسی اَور کتاب میں کھولنے کے لیے آیت کے نمبر پر کلک کریں۔
  • کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5
  • 6
  • 7
  • 8
  • 9
  • 10
  • 11
  • 12
  • 13
  • 14
  • 15
  • 16
  • 17
  • 18
  • 19
  • 20
  • 21
  • 22
  • 23
  • 24
  • 25
  • 26
  • 27
کتابِ‌مُقدس—‏ترجمہ نئی دُنیا
دانی‌ایل 9:‏1-‏27

دانی‌ایل

9 یہ اخسویرس کے بیٹے دارا کی حکمرانی کے پہلے سال کی بات ہے جو مادیوں کی نسل سے تھا اور جسے کسدیوں کی بادشاہت کا بادشاہ بنایا گیا تھا۔ 2 اُس کی حکمرانی کے پہلے سال میں مَیں یعنی دانی‌ایل کتابوں*‏ کے ذریعے سمجھ گیا کہ یروشلم نے کتنے سال تک تباہ رہنا تھا۔ یہ 70 سال کا عرصہ تھا جیسے کہ یہوواہ نے یرمیاہ نبی سے کہا تھا۔ 3 تب مَیں نے سچے خدا یہوواہ کی طرف رُخ کِیا اور روزہ رکھ کر، ٹاٹ اوڑھ کر اور خود پر راکھ ڈال کر دُعا میں اِلتجا کرنے لگا۔ 4 مَیں نے اپنے خدا یہوواہ سے دُعا کی اور اپنی قوم کے گُناہوں کا اِقرار کِیا۔ مَیں نے کہا:‏

‏”‏اَے سچے خدا یہوواہ!‏ تُو عظیم ہے۔ تُو وہ ہستی ہے جس کا گہرا احترام کِیا*‏ جانا چاہیے۔ تُو ہمیشہ اپنے عہد پر قائم رہتا ہے اور اُن لوگوں کے لیے اٹوٹ محبت ظاہر کرتا ہے جو تجھ سے محبت کرتے ہیں اور تیرے حکموں پر عمل کرتے ہیں۔ 5 ہم نے گُناہ کِیا، غلط کام کیے، بُرائی اور بغاوت کی اور تیرے حکموں اور قوانین کو ماننا چھوڑ دیا۔ 6 ہم نے تیرے خادموں یعنی نبیوں کی بات نہیں سنی جنہوں نے تیرے نام سے ہمارے بادشاہوں، ہمارے حاکموں، ہمارے باپ‌دادا اور ملک کے سب لوگوں سے بات کی۔ 7 اَے یہوواہ!‏ تُو نیک ہے۔ لیکن ہمارے چہروں پر ہمیشہ کی طرح آج بھی شرمندگی چھائی ہے۔ یہوداہ کے لوگوں، یروشلم کے باشندوں اور سارے اِسرائیل کے لوگوں کا دُور اور نزدیک کے سب ملکوں میں یہی حال ہے جہاں تُو نے اُنہیں تتربتر کر دیا تھا کیونکہ اُنہوں نے تیرے ساتھ بے‌وفائی کی تھی۔‏

8 اَے یہوواہ!‏ ہم، ہمارے بادشاہ، ہمارے حاکم اور ہمارے باپ‌دادا اِسی لائق ہیں کہ ہمارے چہروں پر شرمندگی چھائی رہے کیونکہ ہم نے تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔ 9 ہمارا خدا یہوواہ رحیم اور معاف کرنے والا ہے۔ ہم نے اُس کے خلاف بغاوت کی ہے۔ 10 ہم نے اپنے خدا یہوواہ کی بات نہیں مانی اور اُس کے حکموں پر عمل نہیں کِیا جو اُس نے ہمیں اپنے بندوں یعنی نبیوں کے ذریعے دیے۔ 11 سارے اِسرائیل نے تیری شریعت کی خلاف‌ورزی کی ہے اور تیری بات نہ مان کر تجھ سے مُنہ موڑ لیا ہے۔ اِس لیے تُو نے ہم پر وہ لعنت نازل کی جس کی تُو نے قسم کھائی تھی اور جس کے بارے میں سچے خدا کے بندے موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے کیونکہ ہم نے تیرے خلاف گُناہ کِیا ہے۔ 12 اُس نے ہم پر بڑی آفت لا کر اپنی وہ بات پوری کی جو اُس نے ہمارے خلاف اور ہم پر حکمرانی کرنے والے حکمرانوں*‏ کے خلاف کہی تھی۔ جیسا یروشلم میں ہوا ویسا پورے آسمان کے نیچے کبھی کہیں نہیں ہوا۔ 13 جیسے موسیٰ کی شریعت میں لکھا ہے، ہم پر یہ ساری آفت آئی ہے۔ لیکن ہم نے اپنے خدا یہوواہ سے رحم کی بھیک نہیں مانگی کیونکہ ہم نے گُناہ کرنے نہیں چھوڑے اور یہ ظاہر نہیں کِیا کہ ہم تیری سچائی*‏ کی گہری سمجھ رکھتے ہیں۔‏

14 اِس لیے یہوواہ ہمارے کاموں کو دیکھتا رہا اور ہم پر آفت لایا کیونکہ ہمارے خدا یہوواہ نے جو کچھ بھی کِیا ہے، اُس میں وہ صحیح*‏ ہے۔ پھر بھی ہم نے اُس کی بات نہیں مانی ہے۔‏

15 اَے یہوواہ ہمارے خدا!‏ تُو طاقت‌ور ہاتھ سے اپنے بندوں کو ملک مصر سے نکال لایا اور تُو نے اپنا نام ایسا مشہور کِیا کہ اِس کی شہرت آج تک قائم ہے۔ ہم نے گُناہ کِیا ہے اور بُرے کام کیے ہیں۔ 16 اَے یہوواہ!‏ مہربانی سے اپنے سب نیک کاموں کی بِنا پر اپنے شہر یروشلم، ہاں، اپنے مُقدس پہاڑ سے اپنا غصہ اور غضب دُور کر دے کیونکہ ہمارے گُناہوں اور ہمارے باپ‌دادا کی غلطیوں کی وجہ سے یروشلم اور تیرے بندے اپنے اِردگِرد کے سب لوگوں کے لیے رُسوائی کی علامت ہیں۔ 17 اب اَے ہمارے خدا!‏ اپنے بندے کی دُعا اور اِلتجائیں سُن۔ اور اَے یہوواہ!‏ اپنے نام کی خاطر اپنے مُقدس مقام پر جو ویران پڑا ہے، اپنے چہرے کا نور چمکا۔ 18 اَے میرے خدا!‏ میری اِلتجا پر توجہ فرما اور میری سُن۔ اپنی آنکھیں کھول اور ہماری بدحالی اور اُس شہر کو دیکھ جو تیرے نام سے کہلاتا ہے کیونکہ ہم اپنے نیک کاموں کی بِنا پر نہیں بلکہ تیرے عظیم رحم کی بِنا پر تجھ سے اِلتجائیں کر رہے ہیں۔ 19 اَے یہوواہ!‏ ہماری سُن لے۔ اَے یہوواہ!‏ ہمیں معاف کر دے۔ اَے یہوواہ!‏ توجہ فرما اور کارروائی کر۔ اَے میرے خدا!‏ اپنے نام کی خاطر دیر نہ کر کیونکہ تیرا شہر اور تیرے بندے تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔“‏

20 جب مَیں بول رہا تھا اور دُعا کر رہا تھا اور اپنے گُناہ اور اپنی قوم اِسرائیل کے گُناہ کا اِقرار کر رہا تھا اور اپنے خدا یہوواہ کے حضور اپنے خدا کے مُقدس پہاڑ کے بارے میں مہربانی کی درخواست کر رہا تھا، 21 ہاں، جب مَیں دُعا میں بات کر ہی رہا تھا تو جبرائیل یعنی وہ آدمی جنہیں مَیں نے پہلے رُویا میں دیکھا تھا، میرے پاس آئے۔ یہ تقریباً شام کے نذرانے کا وقت تھا اور اُس وقت مَیں اِنتہائی نڈھال تھا۔ 22 اُنہوں نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا:‏

‏”‏دانی‌ایل!‏ مَیں آپ کو گہری باتوں کی سمجھ دینے آیا ہوں۔ 23 جب آپ نے اِلتجا کرنی شروع کی تو مجھے ایک پیغام ملا اور مَیں آپ کو وہ پیغام سنانے آیا ہوں کیونکہ آپ بہت انمول ہیں۔‏*‏ اِس لیے اِس معاملے پر غور کریں اور اِس رُویا کو سمجھیں۔‏

24 آپ کی قوم اور آپ کے مُقدس شہر کے لیے 70 ہفتے*‏ مقرر کیے گئے ہیں تاکہ بُرے کاموں کو مٹایا جائے، گُناہ کو ختم کِیا جائے، خطا کا کفارہ ادا کِیا جائے، ابدی نیکی قائم کی جائے، رُویا اور پیش‌گوئی*‏ پر مُہر لگائی جائے اور مُقدس‌ترین جگہ کو مسح*‏ کِیا جائے۔ 25 اور جان لیں اور سمجھ لیں کہ یروشلم کی بحالی اور دوبارہ تعمیر کا حکم جاری ہونے سے مسیح،‏*‏ ہاں، رہنما تک7 ہفتے اور 62 ہفتے گزریں گے۔ یروشلم کو ایک چوک اور خندق*‏ سمیت بحال کِیا جائے گا اور دوبارہ تعمیر کِیا جائے گا لیکن مصیبت کے وقت میں۔‏

26 اور 62 ہفتوں کے بعد مسیح کو مار*‏ ڈالا جائے گا اور اُس کے پاس کچھ نہیں بچے گا۔‏

ایک رہنما آ رہا ہے جس کے لوگ شہر اور مُقدس جگہ کو تباہ کر دیں گے۔ اُس کا خاتمہ سیلاب سے ہوگا اور آخر تک جنگ چلتی رہے گی۔ تباہی کا فیصلہ ہو چُکا ہے۔‏

27 اور وہ بہت سے لوگوں کے لیے ایک ہفتے تک عہد قائم رکھے گا اور آدھے ہفتے کے بعد قربانی اور نذرانے بند کر دے گا۔‏

اور گھناؤنی چیزوں کے پَر کے اُوپر تباہ کرنے والا سوار ہوگا۔ اور جو تباہ‌حال پڑا ہے، اُس پر وہ سب نازل ہوتا رہے گا جس کا فیصلہ کِیا گیا ہے جب تک کہ خاتمہ نہیں ہو جاتا۔“‏

اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
لاگ آؤٹ
لاگ اِن
  • اُردو
  • شیئر کریں
  • ترجیحات
  • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
  • اِستعمال کی شرائط
  • رازداری کی پالیسی
  • رازداری کی سیٹنگز
  • JW.ORG
  • لاگ اِن
شیئر کریں