دانیایل
7 بابل کے بادشاہ بیلشضر کی حکمرانی کے پہلے سال میں دانیایل نے اپنے بستر پر لیٹے ہوئے ایک خواب اور رُویات دیکھیں۔ پھر اُنہوں نے اپنا خواب لکھا۔ اُنہوں نے اِس حوالے سے ساری تفصیل لکھی۔ 2 دانیایل نے کہا:
”جب مَیں رات کو رُویات دیکھ رہا تھا تو دیکھو! آسمان کی چاروں ہوائیں بڑے سمندر میں ہلچل مچا رہی تھیں۔ 3 اور سمندر میں سے چار بڑے درندے نکلے؛ ہر درندہ دوسرے درندوں سے فرق تھا۔
4 پہلا درندہ شیر جیسا تھا اور اُس کے عقاب جیسے پَر تھے۔ میرے دیکھتے دیکھتے اُس کے پَر اُکھاڑ دیے گئے۔ اُسے زمین سے اُٹھا کر آدمی کی طرح دو پاؤں پر کھڑا کِیا گیا اور اُسے اِنسان کا دل دیا گیا۔
5 اور دیکھو! دوسرا درندہ ریچھ جیسا تھا۔ وہ ایک طرف سے اُوپر اُٹھا ہوا تھا اور اُس کے مُنہ میں دانتوں کے بیچ تین پسلیاں تھیں۔ اُس سے کہا گیا: ”اُٹھو، ڈھیر سارا گوشت کھاؤ۔“
6 مَیں دیکھتا رہا اور دیکھو! ایک اَور درندہ نظر آیا جو تیندوے جیسا تھا۔ لیکن اُس کی پیٹھ پر پرندے جیسے چار پَر تھے۔ اُس کے چار سر تھے اور اُسے حکمرانی کرنے کا اِختیار دیا گیا۔
7 اِس کے بعد مَیں دیکھتا رہا اور مَیں نے رات کو رُویات میں ایک چوتھا درندہ دیکھا جو بہت خوفناک اور بھیانک اور اِنتہائی طاقتور تھا اور اُس کے بڑے بڑے لوہے کے دانت تھے۔ وہ سب کچھ پھاڑ کھاتا تھا اور چکناچُور کر دیتا تھا اور جو کچھ بچ جاتا تھا، اُسے پیروں تلے روند دیتا تھا۔ وہ اُن سب درندوں سے فرق تھا جو اُس سے پہلے آئے تھے اور اُس کے دس سینگ تھے۔ 8 مَیں ابھی سینگوں پر غور کر ہی رہا تھا کہ دیکھو! اُن کے بیچ ایک اَور چھوٹا سینگ نکلا اور پہلے والے سینگوں میں سے تین سینگ اُس کے سامنے سے اُکھاڑ دیے گئے۔ اور دیکھو! اُس سینگ میں اِنسانوں کی آنکھوں جیسی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو گھمنڈ بھری باتیں کر رہا تھا۔
9 میرے دیکھتے دیکھتے تخت لگائے گئے اور قدیم دنوں سے موجود ہستی بیٹھ گئی۔ اُس کا لباس برف کی طرح سفید تھا اور اُس کے سر کے بال خالص اُون کی طرح تھے۔ اُس کا تخت آگ کے شعلوں کی طرح تھا جس کے پہیے جلتی آگ جیسے تھے 10 اور اُس کے سامنے سے آگ کی ندی نکل کر بہہ رہی تھی۔ دس لاکھ* اُس کی خدمت کرتے رہتے تھے اور دس کروڑ* اُس کے حضور کھڑے تھے۔ عدالت بیٹھ گئی اور کتابیں کھولی گئیں۔
11 تب مَیں دیکھتا رہا کیونکہ اُس سینگ کی گھمنڈ بھری باتوں کی آواز آ رہی تھی۔ میرے دیکھتے دیکھتے اُس درندے کو مار ڈالا گیا اور اُس کے جسم کو آگ میں جلا کر تباہ کر دیا گیا۔ 12 لیکن جہاں تک باقی درندوں کی بات ہے، اُن سے حکمرانی لے لی گئی اور ایک وقت اور ایک زمانے کے لیے اُن کی زندگی بڑھا دی گئی۔
13 مَیں رات کو رُویات دیکھتا رہا اور دیکھو! آسمان کے بادلوں کے ساتھ اِنسان کے بیٹے جیسا کوئی آ رہا تھا۔ اُسے قدیم دنوں سے موجود ہستی کے پاس آنے کی اِجازت دی گئی اور اُسے اُس ہستی کے حضور لایا گیا۔ 14 اُسے حکمرانی، عزت اور ایک بادشاہت دی گئی تاکہ قومیں، اُمتیں اور فرق فرق زبانیں بولنے والے لوگ اُس کی خدمت کریں۔ اُس کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہے گی اور کبھی ختم نہیں ہوگی اور اُس کی بادشاہت کبھی تباہ نہیں ہوگی۔
15 مَیں یعنی دانیایل* بہت پریشان ہو گیا کیونکہ اِن رُویات نے مجھے خوفزدہ کر دیا۔ 16 جو وہاں کھڑے تھے، مَیں اُن میں سے ایک کے پاس گیا تاکہ اُس سے اِس سب کا صحیح مطلب پوچھوں۔ اُس نے مجھے جواب دیا اور اِن سب باتوں کا مطلب بتایا۔
17 ”یہ چار بڑے درندے چار بادشاہ ہیں جو زمین سے اُٹھیں گے۔ 18 لیکن اعلیٰترین ہستی کے مُقدس خادموں کو بادشاہت ملے گی اور یہ بادشاہت ہمیشہ، ہاں، ہمیشہ ہمیشہ تک اُن کی ہوگی۔“
19 مَیں چوتھے درندے کے بارے میں اَور جاننا چاہتا تھا جو باقی سب درندوں سے فرق تھا۔ وہ اِنتہائی خوفناک تھا اور اُس کے لوہے کے دانت اور تانبے کے پنجے تھے۔ وہ سب کچھ پھاڑ کھاتا تھا اور چکناچُور کر دیتا تھا اور جو کچھ بچ جاتا تھا، اُسے پیروں تلے روند دیتا تھا۔ 20 مَیں اُس کے سر پر موجود دس سینگوں کے بارے میں بھی اَور جاننا چاہتا تھا اور اُس سینگ کے بارے میں بھی جس کے سامنے سے تین سینگ گِر گئے تھے۔ اُس سینگ کی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو گھمنڈ بھری باتیں کر رہا تھا۔ وہ سینگ دِکھنے میں باقی سینگوں سے بڑا تھا۔
21 میرے دیکھتے دیکھتے اُس سینگ نے مُقدس خادموں کے خلاف جنگ چھیڑ دی اور تب تک اُن پر غالب آتا رہا 22 جب تک کہ قدیم دنوں سے موجود ہستی نہیں آئی اور اعلیٰترین ہستی کے مُقدس خادموں کے حق میں فیصلہ نہیں سنایا گیا اور وہ مقررہ وقت نہیں آ گیا جب مُقدس خادموں کو بادشاہت ملے۔
23 اُس نے مجھ سے کہا: ”جہاں تک چوتھے درندے کی بات ہے تو وہ چوتھی بادشاہت ہے جو زمین پر آئے گی۔ وہ باقی سب بادشاہتوں سے فرق ہوگی۔ وہ پوری زمین کو پھاڑ کھائے گی اور روند دے گی اور چکناچُور کر دے گی۔ 24 جہاں تک دس سینگوں کی بات ہے تو وہ دس بادشاہ ہیں جو اُس بادشاہت سے نکلیں گے۔ اُن کے بعد ایک اَور بادشاہ آئے گا جو پہلے بادشاہوں سے فرق ہوگا اور وہ تین بادشاہوں کو بےعزت کرے گا۔ 25 وہ خدا تعالیٰ کے خلاف باتیں کرے گا اور اعلیٰترین ہستی کے مُقدس خادموں کو اذیت پہنچاتا رہے گا۔ وہ وقتوں اور قانون کو بدلنا چاہے گا اور اُن لوگوں کو ایک وقت، وقتوں اور آدھے وقت* کے لیے اُس کے حوالے کر دیا جائے گا۔ 26 لیکن عدالت بیٹھ گئی اور اُس سے حکمرانی لے لی گئی تاکہ اُسے مٹا دیا جائے اور مکمل طور پر تباہ کر دیا جائے۔
27 اور بادشاہت اور حکمرانی اور سارے آسمان کے نیچے بادشاہتوں کی شانوشوکت اعلیٰترین ہستی کے مُقدس خادموں کو دی گئی۔ اُن کی بادشاہت ہمیشہ تک قائم رہے گی اور ساری حکومتیں اُن کی خدمت اور فرمانبرداری کریں گی۔“
28 یہ ساری تفصیل یہاں ختم ہوتی ہے۔ مَیں دانیایل اِس سب کے بارے میں سوچ کر اِتنا پریشان ہو گیا کہ میرا رنگ پیلا پڑ گیا۔ لیکن مَیں نے یہ باتیں اپنے دل میں ہی رکھیں۔“