نوحہ
א [آلف]
2 ہائے یہوواہ نے اپنے غصے کے بادل سے صِیّون کی بیٹی کو کیسے ڈھانک دیا ہے!
اُس نے اِسرائیل کی خوبصورتی کو آسمان سے زمین پر پھینک دیا ہے۔
اُس نے اپنے غضب کے دن اپنے پاؤں کی چوکی کو یاد نہیں رکھا ہے۔
ב [بیتھ]
2 یہوواہ نے بِنا ترس کھائے یعقوب کی ساری رہائشگاہوں کو نگل لیا ہے۔
اُس نے اپنے قہر کی وجہ سے یہوداہ کی بیٹی کی قلعہبند جگہوں کو ڈھا دیا ہے۔
اُس نے بادشاہت اور اُس کے حاکموں کو زمین پر گِرا دیا ہے اور بےعزت کِیا ہے۔
ג [گیمل]
3 اُس نے اپنے غصے کی آگ میں اِسرائیل کا ہر سینگ* کاٹ دیا ہے۔
جب دُشمن آیا تو اُس نے اپنا دایاں ہاتھ پیچھے کھینچ لیا
اور یعقوب کے خلاف اُس کا غصہ آگ کی طرح بھڑکتا رہا جس نے اِردگِرد کی ہر چیز کو بھسم کر دیا۔
ד [دالتھ]
4 اُس نے ایک دُشمن کی طرح اپنی کمان کَسی ہے؛ اُس نے ایک مخالف کی طرح اپنا دایاں ہاتھ اُٹھایا ہے۔
وہ اُن سب کو مار ڈالتا رہا جو ہماری نظروں میں دلکش ہیں۔
اُس نے صِیّون کی بیٹی کے خیمے میں اپنا غضب آگ کی طرح نازل کِیا ہے۔
ה [ہے]
5 یہوواہ ایک دُشمن کی طرح بن گیا ہے؛
اُس نے اِسرائیل کو نگل لیا ہے۔
اُس نے اُس کے سارے بُرج نگل لیے ہیں؛
اُس نے اُس کی ساری قلعہبند جگہیں تباہ کر دی ہیں۔
اُس نے یہوداہ کی بیٹی کا ماتم اور نوحہ بڑھا دیا ہے۔
ו [واو]
6 اُس نے اپنی جھونپڑی کو اِتنی بُری طرح ڈھا دیا ہے جیسے وہ باغ میں بنا کوئی چھپر* ہو۔
اُس نے اپنی عیدوں کو ختم* کر دیا ہے۔
یہوواہ نے صِیّون میں عید اور سبت کی یاد مٹا دی ہے؛
اُس نے اپنے شدید غضب کی وجہ سے بادشاہ اور کاہن کو رد کر دیا ہے۔
ז [زین]
7 یہوواہ نے اپنی قربانگاہ کو رد کر دیا ہے؛
اُس نے اپنے مُقدس مقام کو ٹھکرا دیا ہے۔
اُس نے اُس کے مضبوط بُرجوں کی دیواریں دُشمن کے حوالے کر دی ہیں۔
وہ یہوواہ کے گھر میں ایسے شور کر رہے ہیں جیسے عید کا دن ہو۔
ח [خیتھ]
8 یہوواہ نے صِیّون کی بیٹی کی دیوار ڈھانے کا پکا اِرادہ کر لیا ہے۔
اُس نے اُسے ناپنے کی ڈوری سے ناپا ہے۔
اُس نے تباہی لانے سے اپنا ہاتھ نہیں روکا ہے۔
اُس نے دیوار اور پُشتے* کو ماتم کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اُن دونوں کو کمزور کر دیا گیا ہے۔
ט [طیتھ]
9 اُس کے دروازے زمین میں غرق ہو گئے ہیں۔
اُس نے اُس کے کُنڈے توڑ دیے ہیں اور تباہ کر دیے ہیں۔
اُس کا بادشاہ اور اُس کے حاکم قوموں کے بیچ ہیں۔
کوئی شریعت* نہیں ہے، یہاں تک کہ اُس کے نبیوں کو بھی یہوواہ کی طرف سے کوئی رُویا نہیں ملتی۔
י [یود]
10 صِیّون کی بیٹی کے بزرگ خاموشی سے زمین پر بیٹھے ہیں۔
وہ اپنے سر پر خاک ڈال رہے ہیں اور اُنہوں نے ٹاٹ پہنے ہوئے ہیں۔
یروشلم کی کنواریوں نے اپنے سر زمین تک جھکائے ہوئے ہیں۔
כ [کاف]
11 میری آنکھیں آنسو بہا بہا کر دُھندلا گئی ہیں۔
میرے اندر* ہلچل مچی ہوئی ہے۔
میرا جگر زمین پر اُنڈیل دیا گیا ہے
کیونکہ میری قوم کی بیٹی* گِر گئی ہے
اور بچے اور دودھ پیتے بچے شہر کے چوکوں میں بےہوش ہو رہے ہیں۔
ל [لامد]
12 وہ اپنی ماؤں سے بار بار پوچھتے ہیں: ”اناج اور مے کہاں ہے؟“
کیونکہ وہ کسی زخمی شخص کی طرح شہر کے چوکوں میں بےہوش ہو رہے ہیں
اور اُن کی زندگی* اُن کی ماؤں کی بانہوں میں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔
מ [میم]
13 اَے یروشلم کی بیٹی! مَیں تجھے کون سی مثال دوں
یا تجھے کس سے تشبیہ دوں؟
اَے صِیّون کی کنواری بیٹی! مَیں تجھے تسلی دینے کے لیے کس سے تیرا موازنہ کروں
کیونکہ تیرا زخم سمندر جتنا بڑا ہے؟ کون تجھے ٹھیک کر سکتا ہے؟
נ [نون]
14 تیرے نبیوں نے تیرے لیے جو رُویات دیکھیں، وہ جھوٹی اور فضول تھیں؛
اُنہوں نے تیرے گُناہ کو بےنقاب نہیں کِیا تاکہ تُو قید میں جانے سے بچ جائے
بلکہ وہ تیرے لیے جھوٹی اور گمراہکُن رُویات دیکھتے رہے۔
ס [سامک]
15 راستے سے گزرنے والے سب لوگ تالیاں بجا کر تیرا مذاق اُڑاتے ہیں۔
وہ یروشلم کی بیٹی کو دیکھ کر حیرانی سے سیٹی بجاتے ہیں اور سر ہلاتے ہوئے کہتے ہیں:
”کیا یہ وہی شہر ہے جس کے بارے میں وہ کہتے تھے: ”اِس کا حسن کامل ہے؛ یہ ساری زمین کے لیے خوشی کا باعث ہے“؟“
פ [پے]
16 تیرے سب دُشمنوں نے تیرے خلاف اپنا مُنہ کھولا ہے۔
وہ سیٹی بجاتے ہیں اور دانت پیستے ہوئے کہتے ہیں: ”ہم نے اُسے نگل لیا ہے۔
ہمیں اِسی دن کا اِنتظار تھا! یہ دن آ گیا ہے اور ہم نے اِسے دیکھ لیا ہے!“
ע [عین]
17 یہوواہ نے جو ٹھانا تھا، وہ کِیا ہے؛ اُس نے اپنی بات پوری کی ہے،
وہ بات جس کا اُس نے بہت پہلے حکم دیا تھا۔
اُس نے بِنا ترس کھائے تجھے ڈھا دیا ہے۔
اُس نے تیرے دُشمن کو تیری ہار پر خوش ہونے دیا ہے؛ اُس نے تیرے مخالفوں کی طاقت بڑھائی ہے۔*
צ [صادے]
18 اَے صِیّون کی بیٹی کی دیوار! اُن کا دل یہوواہ کو پکارتا ہے۔
اپنے آنسوؤں کو دن رات ندی کی طرح بہنے دے۔
خود کو ایک پَل کے لیے بھی سکون نہ لینے دے؛ اپنی آنکھ* کو آرام نہ کرنے دے۔
ק [قوف]
19 اُٹھ! رات کو، ہاں، رات کے پہروں کے شروع میں فریاد کر۔
اپنا دل یہوواہ کے حضور پانی کی طرح اُنڈیل دے۔
اُس کے سامنے اپنے بچوں کی زندگی* کی خاطر دُعا میں اپنے ہاتھ اُٹھا
جو قحط کی وجہ سے ہر گلی کے سِرے پر بےہوش ہو رہے ہیں۔
ר [ریش]
20 اَے یہوواہ ! دیکھ اور اُس پر دھیان دے جس کے ساتھ تُو اِتنی سختی سے پیش آیا ہے۔
کیا عورتوں کو اپنی اولاد* کو، ہاں، اپنی کوکھ سے پیدا ہوئے صحتمند بچوں کو کھاتے رہنا چاہیے
یا کیا کاہنوں اور نبیوں کو یہوواہ کے مُقدس مقام میں قتل کِیا جانا چاہیے؟
ש [شین]
21 جوان لڑکے اور بوڑھے آدمی گلیوں میں زمین پر مُردہ پڑے ہیں۔
میری کنواریاں* اور میرے جوان آدمی تلوار سے مارے گئے ہیں۔
تُو نے اُنہیں اپنے غضب کے دن مار ڈالا ہے؛ تُو نے اُنہیں بِنا ترس کھائے قتل کر دیا ہے۔
ת [تاو]
22 تُو ہر سمت سے دہشت کو ایسے بُلاتا ہے جیسے عید کے دن لوگوں کو بُلایا جاتا ہے۔
یہوواہ کے غضب کے دن نہ تو کوئی بچا اور نہ زندہ رہا؛
مَیں نے جنہیں جنم دیا* اور پالا، اُنہیں میرے دُشمن نے مٹا دیا۔