نوحہ
א [آلف]*
1 ہائے اُس شہر کو کیسے تنہا چھوڑ دیا گیا ہے جو لوگوں سے بھرا ہوا تھا!
ہائے قوموں کے بیچ گھنی آبادی والا شہر اب کیسے ایک بیوہ کی طرح ہو گیا ہے!
ہائے اُس شہر سے جو صوبوں* کے بیچ شہزادی کی طرح تھا، کیسے جبری مشقت کرائی جا رہی ہے!
ב [بیتھ]
2 وہ رات کو پھوٹ پھوٹ کر روتی ہے؛ اُس کے گال اُس کے آنسوؤں سے بھیگ جاتے ہیں۔
اُس کے عاشقوں میں سے کوئی بھی اُسے تسلی دینے کے لیے اُس کے ساتھ نہیں ہے۔
اُس کے اپنے ساتھیوں نے اُسے دھوکا دیا ہے؛ وہ سب اُس کے دُشمن بن گئے ہیں۔
ג [گیمل]
3 یہوداہ کو قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے اور اُسے مصیبت اور سخت غلامی نے جکڑا ہوا ہے۔
اُسے قوموں کے بیچ رہنا ہوگا؛ اُسے کوئی پُرسکون جگہ نہیں مل رہی۔
اُسے اذیت دینے والے سبھی اُس کی پریشانی میں اُس پر حاوی ہو گئے ہیں۔
ד [دالتھ]
4 صِیّون کی طرف جانے والے راستے ماتم منا رہے ہیں کیونکہ کوئی بھی عید منانے نہیں آ رہا۔
اُس کے سب دروازے ویران پڑے ہیں؛ اُس کے کاہن آہیں بھر رہے ہیں۔
اُس کی کنواریاں* سوگ منا رہی ہیں اور وہ شدید کرب میں ہے۔
ה [ہے]
5 اُس کے مخالف اب اُس کے مالک ہیں؛ اُس کے دُشمن بےفکر ہیں
کیونکہ یہوواہ اُس کے بہت سے گُناہوں کی وجہ سے اُس پر دُکھ لایا ہے۔
مخالف اُس کے بچوں کو قیدی بنا کر لے گیا ہے۔
ו [واو]
6 صِیّون کی بیٹی کی شانوشوکت چلی گئی ہے۔
اُس کے حاکم ایسے ہِرنوں کی طرح ہیں جنہیں چراگاہ نہیں ملی
اور وہ پیچھا کرنے والوں کے آگے نڈھال چل رہے ہیں۔
ז [زین]
7 یروشلم کو اپنی مصیبت اور بےگھری کے دنوں میں وہ ساری قیمتی چیزیں یاد آتی ہیں
جو ایک زمانے میں اُس کی ہوا کرتی تھیں۔
جب اُس کے مخالف نے اُس کے لوگوں کو پکڑ لیا اور اُس کا کوئی مددگار نہیں تھا
تو مخالف اُسے دیکھ کر اُس کی بربادی پر ہنسنے لگے۔
ח [خیتھ]
8 یروشلم کی بیٹی* نے بہت بڑا گُناہ کِیا ہے
اِس لیے وہ ایک گھناؤنی چیز بن گئی ہے۔
جو اُس کی عزت کِیا کرتے تھے، اب وہ اُسے گھٹیا سمجھتے ہیں کیونکہ اُنہوں نے اُس کا ننگاپن دیکھ لیا ہے۔
وہ کراہتی ہے اور شرم کے مارے مُنہ پھیر لیتی ہے۔
ט [طیتھ]
9 اُس کی ناپاکی اُس کے دامن پر ہے۔
اُس نے اپنے انجام پر کوئی دھیان نہیں دیا۔
اُس کی بربادی دیکھ کر سب حیرتزدہ ہو گئے؛ اُسے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔
اَے یہوواہ! میری مصیبت کو دیکھ کیونکہ دُشمن نے خود کو بڑا بنا لیا ہے۔
י [یود]
10 مخالف نے اُس کے سارے خزانے لُوٹ لیے ہیں۔
اُس نے قوموں کو مُقدس مقام میں داخل ہوتے دیکھا ہے،
ہاں، اُن کو جنہیں تُو نے اپنی جماعت میں آنے سے منع کِیا تھا۔
כ [کاف]
11 اُس کے سب لوگ آہیں بھر رہے ہیں؛ وہ روٹی ڈھونڈ رہے ہیں۔
اُنہوں نے اپنی قیمتی چیزیں دے دی ہیں تاکہ اُنہیں کھانے کو کچھ ملے اور وہ زندہ رہ سکیں۔*
اَے یہوواہ! دیکھ کہ مَیں ایک حقیر عورت* کی طرح بن گئی ہوں۔
ל [لامد]
12 راستے سے گزرنے والے سب لوگو! کیا تمہیں اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟
دیکھو اور دھیان دو!
کیا اُس تکلیف جیسی کوئی اَور تکلیف ہے جو مجھے سہنی پڑی،
ہاں، جس سے یہوواہ نے مجھے اپنے بھڑکتے ہوئے غصے کے دن گزرنے دیا؟
מ [میم]
13 اُس نے بلندی سے میری ہڈیوں میں آگ بھیجی ہے اور ہر ایک کو اپنے تابع کر لیا ہے۔
اُس نے میرے پاؤں کے لیے جال بچھایا ہے؛ اُس نے مجھے واپس مُڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اُس نے مجھے ایک اُجڑی ہوئی عورت بنا دیا ہے۔
مَیں سارا دن بیمار پڑی رہتی ہوں۔
נ [نون]
14 اُس نے اپنے ہاتھ سے میرے گُناہوں کو ایک جُوئے کی طرح باندھ دیا ہے۔
اُنہیں میری گردن پر رکھ دیا گیا ہے اور میری ہمت جواب دے گئی ہے۔
یہوواہ نے مجھے اُن کے حوالے کر دیا ہے جن کا مَیں مقابلہ نہیں کر سکتی۔
ס [سامک]
15 یہوواہ نے سب طاقتور آدمیوں کو مجھ سے دُور پھینک دیا ہے۔
اُس نے میرے جوان آدمیوں کو کچلنے کے لیے ایک مجمع بُلایا ہے۔
یہوواہ نے یہوداہ کی کنواری بیٹی کو انگور روندنے کے حوض میں روند دیا ہے۔
ע [عین]
16 مَیں اِن سب باتوں کی وجہ سے رو رہی ہوں؛ میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں
کیونکہ مجھے تسلی دینے والا اور مجھے* تازہدم کرنے والا مجھ سے بہت دُور ہے۔
میرے بیٹے اُجڑ گئے ہیں کیونکہ دُشمن غالب آ گیا ہے۔
פ [پے]
17 صِیّون نے اپنے ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں؛ اُسے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔
یہوواہ نے یعقوب کے آسپاس کے سب مخالفوں کو اُس کے خلاف ایک حکم دیا ہے۔
یروشلم اُن کے لیے ایک گھناؤنی چیز بن گیا ہے۔
צ [صادے]
18 یہوواہ نے جو کِیا ہے، وہ صحیح ہے* کیونکہ مَیں نے اُس کے حکموں کے خلاف بغاوت کی ہے۔
سب لوگو! سنو اور میری تکلیف دیکھو۔
میری کنواریاں* اور میرے جوان آدمی قید میں چلے گئے ہیں۔
ק [قوف]
19 مَیں نے اپنے عاشقوں کو پکارا ہے لیکن اُنہوں نے مجھے دھوکا دیا ہے۔
میرے کاہن اور میرے بزرگ زندہ رہنے کے لیے* کھانا ڈھونڈتے ڈھونڈتے شہر میں فنا ہو گئے ہیں۔
ר [ریش]
20 اَے یہوواہ! دیکھ کیونکہ مَیں شدید تکلیف میں ہوں۔
میرے اندر* ہلچل مچی ہوئی ہے۔
میرا دل اندر ہی اندر بہت بےچین ہے کیونکہ مَیں نے سخت بغاوت کی ہے۔
باہر تلوار بچوں سے محروم کر رہی ہے اور گھر کے اندر بھی موت چھائی ہے۔
ש [شین]
21 لوگوں نے میری آہیں سنی ہیں؛ مجھے تسلی دینے والا کوئی نہیں ہے۔
میرے سب دُشمنوں نے میری مصیبت کے بارے میں سنا ہے۔
وہ خوش ہیں کیونکہ تُو یہ مصیبت لایا ہے۔
لیکن تُو وہ دن لائے گا جس کا تُو نے اِعلان کِیا تھا، ہاں، وہ دن جب وہ بھی میری طرح ہو جائیں گے۔
ת [تاو]
22 اُن کی ساری بُرائی تیرے سامنے آئے اور تُو اُن کے ساتھ ویسے ہی سختی سے پیش آئے
جیسے تُو میرے سارے گُناہوں کی وجہ سے میرے ساتھ سختی سے پیش آیا ہے
کیونکہ میری آہیں بےشمار ہیں اور میرا دل بیمار ہے۔