یرمیاہ
44 ملک مصر میں مِجدال، تحفنیس، نوف* اور فتروس کے علاقے میں رہنے والے سب یہودیوں کے لیے یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا: 2 ”فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”تُم نے وہ ساری آفتیں دیکھی ہیں جو مَیں یروشلم اور یہوداہ کے سب شہروں پر لایا۔ آج وہ کھنڈر بن چُکے ہیں اور اُن میں کوئی نہیں رہتا۔ 3 ایسا اُن کے بُرے کاموں کی وجہ سے ہوا جن کے ذریعے اُنہوں نے مجھے غصہ دِلایا۔ اُنہوں نے جا کر دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کیں اور اُن کی خدمت کی جنہیں وہ نہیں جانتے تھے، ہاں، جنہیں نہ تو تُم جانتے ہو اور نہ تمہارے باپدادا جانتے تھے۔ 4 مَیں اپنے بندوں یعنی نبیوں کو باربار* تمہارے پاس بھیجتا رہا اور کہتا رہا: ”مہربانی سے یہ گھناؤنا کام نہ کرو جس سے مَیں نفرت کرتا ہوں۔“ 5 لیکن اُنہوں نے میری بات نہیں سنی اور اُس پر دھیان نہیں دیا۔ وہ اپنی بُرائی سے باز نہیں آئے اور دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کرنی نہیں چھوڑیں۔ 6 اِس لیے میرا غضب اور غصہ نازل ہوا اور یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں بھڑکا اور وہ کھنڈر بن گئے اور ویران ہو گئے اور آج تک ایسے ہی ہیں۔“
7 اب فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”تُم اپنے اُوپر* اِتنی بڑی آفت کیوں لانا چاہتے ہو کہ یہوداہ سے ہر مرد اور عورت اور بچہ اور دودھ پیتا بچہ مٹ جائے اور تُم میں کوئی بھی باقی نہ بچے؟ 8 تُم ملک مصر میں جہاں تُم بسنے کے لیے گئے ہو، دوسرے خداؤں کے سامنے قربانیاں پیش کر کے مجھے اپنے ہاتھوں کے کام سے غصہ کیوں دِلا رہے ہو؟ تُم مٹ جاؤ گے اور زمین کی سب قوموں کے بیچ لعنت اور رُسوائی کی علامت بن جاؤ گے۔ 9 کیا تُم اُن بُرے کاموں کو بھول گئے ہو جو تمہارے باپدادا، یہوداہ کے بادشاہوں اور اُن کی بیویوں اور تُم نے اور تمہاری بیویوں نے ملک یہوداہ اور یروشلم کی گلیوں میں کیے تھے؟ 10 آج تک اُنہوں نے خود کو خاکسار نہیں بنایا،* نہ ہی میرا خوف رکھا اور نہ ہی میری شریعت اور قوانین پر چلے جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپدادا کو دیے۔“
11 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”مَیں نے تُم پر مصیبت لانے کا پکا اِرادہ کر لیا ہے تاکہ سارے یہوداہ کو تباہ کر دوں۔ 12 مَیں یہوداہ کے بچے ہوئے حصے کو جس نے ملک مصر جا کر وہاں بسنے کی ٹھانی ہوئی ہے، پکڑ لوں گا اور وہ سب لوگ ملک مصر میں فنا ہو جائیں گے۔ وہ تلوار کا نوالہ بن جائیں گے اور قحط سے مٹ جائیں گے۔ چھوٹے سے لے کر بڑے تک وہ سب تلوار اور قحط سے مارے جائیں گے۔ وہ لعنتاور بددُعا اور دہشت اور رُسوائی کی علامت بن جائیں گے۔ 13 مَیں مصر میں رہنے والوں کو سزا دوں گا جیسے مَیں نے یروشلم کو تلوار، قحط اور وبا* سے سزا دی۔ 14 یہوداہ کا بچا ہوا حصہ جو ملک مصر میں بسنے کے لیے گیا ہے، ملک یہوداہ لوٹنے کے لیے نہیں بچے گا اور زندہ نہیں رہے گا۔ وہ لوگ وہاں لوٹنے اور بسنے کے لیے ترسیں گے لیکن لوٹ نہیں پائیں گے، سوائے کچھ لوگوں کے جو بچ جائیں گے۔““
15 اُن سب آدمیوں نے جو جانتے تھے کہ اُن کی بیویاں دوسرے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرتی ہیں اور وہاں کھڑی سب بیویوں نے یعنی ایک بڑے گروہ نے اور اُن سب لوگوں نے جو ملک مصر کے علاقے فتروس میں رہ رہے تھے، یرمیاہ سے کہا: 16 ”تُم نے یہوواہ کے نام سے ہم سے جو کچھ کہا ہے، ہم وہ نہیں کریں گے۔ 17 اِس کی بجائے ہم وہ سب ضرور کریں گے جو ہم نے کہا ہے۔ ہم آسمان کی ملکہ* کے لیے قربانیاں پیش کریں گے اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلیں گے جیسے ہم، ہمارے باپدادا، ہمارے بادشاہ اور ہمارے حاکم یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں کرتے تھے۔ اُس وقت ہم پیٹ بھر کر روٹی کھاتے تھے اور خوشحال تھے اور ہمیں کسی آفت کا مُنہ نہیں دیکھنا پڑتا تھا۔ 18 جب سے ہم نے آسمان کی ملکہ* کے لیے قربانیاں پیش کرنا اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلنا چھوڑا ہے تب سے ہمیں ہر چیز کی کمی رہی ہے اور ہم تلوار اور قحط سے فنا ہو رہے ہیں۔“
19 پھر عورتوں نے کہا: ”جب ہم آسمان کی ملکہ* کے لیے قربانیاں پیش کرتی تھیں اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلتی تھیں تو کیا ہم اپنے شوہروں کی مرضی کے بغیر ہی اُس کی صورت والی ٹکیاں بنا کر اُس کے سامنے پیش کرتی تھیں اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلتی تھیں؟“
20 اِس کے بعد یرمیاہ نے سب لوگوں یعنی مردوں، اُن کی بیویوں اور اُن سب لوگوں سے جو اُن سے بات کر رہے تھے، کہا: 21 ”آپ نے، آپ کے باپدادا نے، آپ کے بادشاہوں نے، آپ کے حاکموں نے اور ملک کے لوگوں نے یہوداہ کے شہروں اور یروشلم کی گلیوں میں جو قربانیاں پیش کیں، یہوواہ نے اُنہیں یاد کِیا اور وہ اُس کے ذہن* میں آئیں۔ 22 آخر یہوواہ آپ کے بُرے کاموں اور گھناؤنی حرکتوں کو اَور برداشت نہیں کر پایا اور آپ کا ملک ویران اور غیرآباد ہو گیا اور دہشت اور لعنت کی علامت بن گیا اور آج تک ایسا ہی ہے۔ 23 ایسا اِس لیے ہوا کیونکہ آپ نے یہ قربانیاں پیش کیں اور یہوواہ کی بات نہ مان کر اور اُس کے حکموں، قوانین اور یاددہانیوں پر عمل نہ کر کے یہوواہ کے خلاف گُناہ کِیا۔ اِسی لیے آپ پر یہ آفت آئی اور آج تک ہے۔“
24 یرمیاہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے سب لوگوں اور سب عورتوں سے کہا: ”یہوداہ کے سب لوگو جو ملک مصر میں ہو، یہوواہ کا کلام سنو۔ 25 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”تُم نے اور تمہاری بیویوں نے اپنے مُنہ سے جو باتیں کہیں، اُنہیں اپنے ہاتھوں سے پورا بھی کِیا کیونکہ تُم نے کہا: ”ہم ضرور اپنی منتیں پوری کرتے ہوئے آسمان کی ملکہ* کے لیے قربانیاں پیش کریں گے اور اُس کے سامنے مے کے نذرانے اُنڈیلیں گے۔“ تُم عورتیں ضرور اپنی منتیں پوری کرو گی اور اُنہیں ادا کرو گی۔“
26 اِس لیے یہوداہ کے سب لوگو جو ملک مصر میں رہ رہے ہو، یہوواہ کا کلام سنو: ”یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اپنے عظیم نام کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ملک مصر میں رہنے والا یہوداہ کا کوئی بھی آدمی آئندہ میرا نام لے کر قسم نہیں کھائے گا اور یہ نہیں کہے گا: ”زندہ خدا اور حاکمِاعلیٰ یہوواہ کی قسم!“ 27 اب میری نظریں اُن کے ساتھ بھلائی کرنے کے لیے نہیں بلکہ اُن پر آفت لانے کے لیے اُن پر ہیں۔ ملک مصر میں رہنے والے یہوداہ کے سب آدمی تلوار اور قحط سے ہلاک ہوتے جائیں گے جب تک کہ وہ مٹ نہیں جاتے۔ 28 صرف چند لوگ تلوار سے بچیں گے اور مصر سے یہوداہ لوٹیں گے۔ پھر یہوداہ کا سارا بچا ہوا حصہ جو مصر میں بسنے کے لیے آیا تھا، جان جائے گا کہ کس کی بات سچی ثابت ہوئی ہے، میری یا اُن کی!“““
29 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں تمہیں اِس بات کی نشانی دیتا ہوں کہ مَیں تمہیں اِس جگہ سزا دوں گا تاکہ تُم جان جاؤ کہ مَیں نے تُم پر مصیبت لانے کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے، وہ ضرور پورا ہوگا۔ 30 یہوواہ یہ فرماتا ہے: ”مَیں مصر کے بادشاہ فِرعون حفرع کو اُس کے دُشمنوں اور اُن لوگوں کے حوالے کر دوں گا جو اُس کی جان لینے پر تُلے ہیں جیسے مَیں نے یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کو بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* کے حوالے کر دیا تھا جو اُس کا دُشمن تھا اور اُس کی جان لینے پر تُلا تھا۔“““