یرمیاہ
39 یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے نویں سال کے دسویں مہینے میں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر* اور اُس کی ساری فوج یروشلم آئی اور اُسے گھیر لیا۔
2 صِدقیاہ کی حکمرانی کے 11ویں سال کے چوتھے مہینے کے نویں دن اُنہوں نے شہر کی دیوار میں شگاف ڈال دیا۔ 3 بابل کے بادشاہ کے سارے حاکم یعنی سَمگر* نِیرگَلسراضر، ربسارِس* نبوسرسکیم،* ربماگ* نِیرگَلسراضر اور بابل کے بادشاہ کے باقی سارے حاکم اندر چلے گئے اور درمیانی دروازے پر بیٹھ گئے۔
4 جب یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ اور سب سپاہیوں نے اُنہیں دیکھا تو وہ شہر سے بھاگ گئے۔ وہ راتوں رات بادشاہ کے باغ کے راستے دوہری دیوار کے دروازے سے نکل گئے اور اراباہ کے راستے آگے بڑھتے گئے۔ 5 لیکن کسدی فوج نے اُن کا پیچھا کِیا اور یریحو کے بنجر میدانوں میں صِدقیاہ تک پہنچ گئے۔ اُنہوں نے اُسے پکڑ لیا اور حمات کے علاقے رِبلہ میں بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* کے پاس لائے جہاں نبوکدنضر نے اُسے سزا سنائی۔ 6 بابل کے بادشاہ نے رِبلہ میں صِدقیاہ کی آنکھوں کے سامنے اُس کے بیٹوں کو قتل کرا دیا اور یہوداہ کے سب نوابوں کو بھی مروا دیا۔ 7 پھر اُس نے صِدقیاہ کو اندھا کر دیا اور اُسے تانبے کی بیڑیوں میں جکڑ کر بابل لے گیا۔
8 اِس کے بعد کسدیوں نے بادشاہ کا محل اور لوگوں کے گھر جلا دیے اور یروشلم کی دیواریں ڈھا دیں۔ 9 محافظوں کا سربراہ نبوزرادان شہر میں باقی بچے لوگوں، اُس کے ساتھ مل جانے والے لوگوں اور باقی لوگوں کو قیدی بنا کر بابل لے گیا۔
10 لیکن محافظوں کے سربراہ نبوزرادان نے کچھ غریبترین لوگوں کو یہوداہ میں چھوڑ دیا جن کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ اُس دن اُس نے اُنہیں انگور کے باغ اور کھیت بھی دیے تاکہ وہ اُن میں کام* کریں۔
11 بابل کے بادشاہ نبوکدنضر* نے محافظوں کے سربراہ نبوزرادان کو یرمیاہ کے حوالے سے یہ حکم دیا: 12 ”اُسے لے جاؤ اور اُس کا خیال رکھو؛ اُسے کوئی نقصان نہ پہنچانا اور وہ جو کچھ بھی مانگے، اُسے دینا۔“
13 اِس پر محافظوں کے سربراہ نبوزرادان، ربسارِس* نبوشزبان، ربماگ* نِیرگَلسراضر اور بابل کے بادشاہ کے سب اہم آدمیوں نے کچھ لوگوں کو بھیجا 14 جنہوں نے یرمیاہ کو محافظوں کے صحن سے نکالا اور اُنہیں سافن کے بیٹے اخیقام کے بیٹے جدلیاہ کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اُنہیں اپنے گھر لے جائے۔ اِس طرح یرمیاہ لوگوں کے بیچ رہنے لگے۔
15 جب یرمیاہ محافظوں کے صحن میں قید تھے تو یہوواہ کا یہ کلام اُن تک پہنچا: 16 ”جاؤ اور عبدمَلِک اِیتھیوپیائی کو بتاؤ: ”فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”مَیں اِس شہر کی بھلائی کے لیے نہیں بلکہ اِس پر آفت لانے کے لیے اپنی باتیں پوری کرنے والا ہوں اور اُس دن تُم ایسا ہوتے دیکھو گے۔““
17 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن اُس دن مَیں تمہیں بچا لوں گا اور تمہیں اُن آدمیوں کے حوالے نہیں کِیا جائے گا جن سے تُم ڈرتے ہو۔“
18 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں ضرور تمہاری حفاظت کروں گا اور تُم تلوار سے ہلاک نہیں ہو گے۔ تمہاری جان بچ جائے گی* کیونکہ تُم نے مجھ پر بھروسا کِیا ہے۔““