یرمیاہ
31 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُس وقت مَیں اِسرائیل کے سارے گھرانوں کا خدا بنوں گا اور وہ میرے بندے بنیں گے۔“
2 یہوواہ فرماتا ہے: ”جب اِسرائیل اپنی آرامگاہ کی طرف جا رہا تھا
تو تلوار سے بچ جانے والے لوگوں کو ویرانے میں میری خوشنودی حاصل ہوئی۔“
3 یہوواہ دُور سے مجھ پر ظاہر ہوا اور کہا:
”مَیں نے تجھ سے محبت کی ہے، ایسی محبت جو ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
اِسی لیے مَیں نے اٹوٹ محبت سے تجھے اپنے پاس کھینچ لیا ہے۔*
4 اَے اِسرائیل کی کنواری! مَیں تجھے پھر سے بحال کروں گا اور تُو بحال ہو جائے گی۔
تُو دوبارہ سے اپنے دف لے گی اور خوشی سے ناچتی ہوئی جائے گی۔*
5 تُو پھر سے سامریہ کے پہاڑوں پر انگور کے باغ لگائے گی؛
باغ لگانے والے باغ لگائیں گے اور اُن کے پھل کا مزہ لیں گے
6 کیونکہ وہ دن آئے گا جب اِفرائیم کے پہاڑوں پر پہرےدار یہ آواز لگائیں گے:
”اُٹھو، صِیّون پر اپنے خدا یہوواہ کے پاس چلیں““
7 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:
”یعقوب کے لیے خوشی سے گاؤ۔
خوشی سے للکارو کیونکہ تُم قوموں کے رہنما ہو۔
اِس کا اِعلان کرو؛ خدا کی بڑائی کرو اور کہو:
”اَے یہوواہ! اپنے بندوں کو، ہاں، اِسرائیل کے بچے ہوئے حصے کو بچا۔“
8 مَیں اُنہیں شمال کے ملک سے واپس لاؤں گا۔
مَیں اُنہیں زمین کے دُوردراز علاقوں سے اِکٹھا کروں گا۔
اُن میں اندھے، لنگڑے، حاملہ عورتیں
اور وہ عورتیں شامل ہوں گی جنہیں بچے کی پیدائش کی دردیں لگی ہوں گی۔
وہ ایک بڑی جماعت کے طور پر یہاں لوٹیں گے۔
9 وہ روتے ہوئے آئیں گے۔
جب وہ مہربانی کی بھیک مانگیں گے تو مَیں اُن کی پیشوائی کروں گا۔
مَیں اُنہیں پانی کی ندیوں* کے پاس اور ایک ایسے ہموار راستے پر لے جاؤں گا
جس پر اُنہیں ٹھوکر نہیں لگے گی
کیونکہ مَیں اِسرائیل کا باپ ہوں اور اِفرائیم میرا پہلوٹھا ہے۔“
10 اَے قومو! یہوواہ کا کلام سنو
اور دُوردراز کے جزیروں میں اِس کا اِعلان کرتے ہوئے کہو:
”جس نے اِسرائیل کو تتربتر کِیا تھا، وہی اُسے اِکٹھا کرے گا۔
وہ اُس کا ویسے ہی خیال رکھے گا جیسے ایک چرواہا اپنے گلّے کا رکھتا ہے
11 کیونکہ یہوواہ یعقوب کو چھڑائے گا
اور اُسے اُس کے ہاتھ سے بچائے گا جو اُس سے طاقتور ہے۔
12 وہ آئیں گے اور صِیّون کی چوٹی پر خوشی سے للکاریں گے؛
یہوواہ کی اچھائی* کی وجہ سے یعنی اناج، نئی مے، تیل
اور گلّوں اور ریوڑوں کے بچوں کی وجہ سے اُن کے چہرے چمکیں گے۔
وہ* ایسے باغ کی طرح بن جائیں گے جسے خوب پانی مل رہا ہو
اور وہ پھر کبھی نہیں مُرجھائیں گے۔“
13 ”اُس وقت کنواری خوشی سے ناچے گی
اور جوان آدمی اور بوڑھے آدمی بھی مل کر ناچیں گے۔
مَیں اُن کے ماتم کو جشن میں بدل دوں گا۔
مَیں اُنہیں تسلی دوں گا اور اُن کے غم کو دُور کر کے اُنہیں خوشی بخشوں گا۔
14 مَیں کاہنوں* کو عمدہ چیزوں* سے سیر کروں گا
اور میرے بندے میری اچھائی سے سیر ہوں گے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
15 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”رامہ میں ماتم کرنے اور زارزار رونے کی آواز سنائی دے رہی ہے؛
راخل اپنے بیٹوں* کے لیے رو رہی ہے۔
وہ اپنے بیٹوں کے حوالے سے تسلی قبول کرنے کو تیار نہیں ہے
کیونکہ وہ اب نہیں رہے۔““
16 یہوواہ فرماتا ہے:
””رونا دھونا بند کر دو؛ اَور آنسو نہ بہاؤ
کیونکہ تمہیں تمہارے کام کا اجر ملے گا۔
وہ دُشمن کے ملک سے لوٹیں گے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
17 یہوواہ فرماتا ہے: ”تمہارے مستقبل کے لیے ایک اُمید ہے۔
تمہارے بیٹے اپنے علاقے میں لوٹیں گے۔““
18 ”بےشک مَیں نے اِفرائیم کا یہ کراہنا سنا ہے:
”مَیں ایک ایسے بچھڑے کی طرح تھا جسے سدھایا نہ گیا ہو۔
تُو نے میری اِصلاح کی اور مَیں نے اِصلاح کو قبول کِیا۔
مجھے واپس لا اور مَیں فوراً واپس مُڑ جاؤں گا
کیونکہ تُو میرا خدا یہوواہ ہے۔
19 جب مَیں لوٹا تو مجھے پشیمانی محسوس ہوئی؛
جب مجھے سمجھایا گیا تو مَیں نے غم کے مارے اپنی ران پر ہاتھ مارا۔
مَیں نے اپنی جوانی میں جو کچھ کِیا،
اُس کی وجہ سے مجھے شرمندگی اور ذِلت محسوس ہوتی تھی۔““
20 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا اِفرائیم میرا انمول اور پیارا بیٹا نہیں ہے؟
کیونکہ مَیں جب بھی اُس کے خلاف بولتا ہوں، مَیں اُسے یاد بھی کرتا ہوں۔
اِس لیے اُس کے لیے میرے جذبات* جوش مار رہے ہیں
اور مَیں ضرور اُس پر ترس کھاؤں گا۔“
21 ”اپنے لیے راستے میں نشانیاں لگا اور ستون کھڑے کر۔
شاہراہ پر دھیان دے، ہاں، اُس راستے پر جس پر تجھے جانا ہے۔
اَے اِسرائیل کی کنواری! لوٹ آ؛ اپنے اِن شہروں میں لوٹ آ۔
22 اَے بےوفا بیٹی! تُو کب تک بھٹکتی پھرے گی؟
کیونکہ یہوواہ نے زمین پر کچھ نیا کِیا* ہے؛
ایک عورت بےتابی سے ایک آدمی کے پیچھے جائے گی۔“
23 فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”جب مَیں اُن لوگوں کو واپس لاؤں گا جنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے تو وہ یہوداہ کے ملک اور اُس کے شہروں میں پھر سے یہ کہیں گے: ”اَے نیک رہائشگاہ! اَے مُقدس پہاڑ! یہوواہ تجھے برکت دے۔“ 24 یہوداہ اور اُس کے سب شہر یہاں آباد ہوں گے۔ کسان اور گلّوں کی پیشوائی کرنے والے سب ساتھ رہیں گے۔ 25 مَیں تھکے ہارے شخص* کو تازہدم کروں گا اور ہر کمزور شخص* کو سیر کروں گا۔“
26 اِس پر مَیں جاگ گیا اور اپنی آنکھیں کھولیں۔ میری نیند بہت میٹھی تھی۔
27 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے میں اِنسان کا بیج* اور مویشیوں کا بیج بوؤں گا۔“
28 یہوواہ فرماتا ہے: ”جیسے مَیں نے اُن پر نظر رکھی تاکہ اُنہیں جڑ سے اُکھاڑوں، گِراؤں، ڈھاؤں، تباہ کروں اور نقصان پہنچاؤں ویسے ہی مَیں اُن پر نظر رکھوں گا تاکہ اُنہیں بناؤں اور لگاؤں۔ 29 اُن دنوں میں لوگ پھر یہ نہیں کہیں گے: ”باپدادا نے کھٹے انگور کھائے لیکن دانت بیٹوں کے کھٹے ہوئے“ 30 بلکہ تب ہر شخص اپنی ہی غلطی کی وجہ سے مرے گا۔ جو شخص کھٹے انگور کھائے گا اُسی کے دانت کھٹے ہوں گے۔“
31 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اِسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے سے ایک نیا عہد باندھوں گا۔ 32 یہ اُس عہد کی طرح نہیں ہوگا جو مَیں نے اُن کے باپدادا سے اُس دن باندھا جس دن مَیں نے اُن کا ہاتھ تھاما تاکہ اُنہیں ملک مصر سے نکال لاؤں۔ یہوواہ فرماتا ہے: ”حالانکہ مَیں اُن کا اصلی مالک* تھا لیکن اُنہوں نے میرا عہد توڑ دیا۔““
33 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیونکہ اُن دنوں کے بعد مَیں اِسرائیل کے گھرانے سے یہ عہد باندھوں گا: مَیں اپنی شریعت اُن کے اندر ڈالوں گا اور اِسے اُن کے دل پر لکھوں گا۔ مَیں اُن کا خدا بنوں گا اور وہ میری قوم بنیں گے۔“
34 یہوواہ فرماتا ہے: ”پھر اُن میں سے کوئی بھی کبھی اپنے پڑوسی اور اپنے بھائی کو یہ تعلیم نہیں دے گا: ”یہوواہ کو جانو!“ کیونکہ وہ سب مجھے جانیں گے، ہاں، چھوٹے سے لے کر بڑے تک سب کیونکہ مَیں اُن کی غلطی معاف کر دوں گا اور اُن کے گُناہ کو پھر کبھی یاد نہیں کروں گا۔“
35 یہوواہ جس نے دن میں روشنی کے لیے سورج بنایا
اور رات میں روشنی کے لیے چاند اور ستاروں کے قوانین بنائے؛
جو سمندر میں ہلچل مچاتا ہے اور اُس کی لہروں کو اُچھالتا ہے
اور جس کا نام فوجوں کا خدا یہوواہ ہے، فرماتا ہے:
36 ””اگر یہ قوانین کبھی مٹ سکتے ہیں
تو پھر ہی اِسرائیل کی نسل ایک قوم کے طور پر میرے سامنے سے مٹ سکتی ہے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“
37 یہوواہ فرماتا ہے: ””اگر آسمان کو ناپا جا سکتا ہے اور زمین کی بنیادوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے تو پھر ہی مَیں اِسرائیل کی ساری اولاد کو اُس کے کاموں کی وجہ سے رد کر سکتا ہوں۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“
38 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب حننایل کے بُرج سے کونے کے دروازے تک یہ شہر یہوواہ کے لیے بنایا جائے گا۔ 39 وہاں سے ناپنے کی ڈوری سیدھی جریب کی پہاڑی تک جائے گی اور وہاں سے جوعہ کی طرف مُڑ جائے گی۔ 40 لاشوں اور راکھ* کی ساری وادی، وادیِقِدرون تک کی ساری ڈھلانیں اور مشرق کی طرف گھوڑا دروازے کے کونے تک کا سارا علاقہ یہوواہ کے لیے پاک ہوگا۔ اُسے پھر کبھی اُکھاڑا یا ڈھایا نہیں جائے گا۔“