یرمیاہ
30 یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا: 2 ”اِسرائیل کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”وہ سب باتیں ایک کتاب میں لکھو جو مَیں تُم سے کہہ رہا ہوں 3 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں اپنے بندوں یعنی اِسرائیل اور یہوداہ کو اِکٹھا کروں گا جنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے اور اُنہیں اُس ملک میں واپس لاؤں گا جو مَیں نے اُن کے باپدادا کو دیا تھا اور وہ ایک بار پھر اُس کے مالک ہوں گے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔““
4 یہ وہ باتیں ہیں جو یہوواہ نے اِسرائیل اور یہوداہ سے کہیں۔
5 یہوواہ فرماتا ہے:
”ہم نے خوف سے کانپتے لوگوں کی آوازیں سنی ہیں؛
دہشت چھائی ہے اور کوئی امن نہیں ہے۔
6 مہربانی سے پوچھو کہ کیا کوئی آدمی بچے کو جنم دے سکتا ہے؟
تو پھر مجھے ہر طاقتور آدمی اپنے پیٹ* پر ایسے ہاتھ رکھے کیوں نظر آ رہا ہے
جیسے بچے کو جنم دینے والی عورت رکھتی ہے؟
ہر ایک چہرہ پیلا کیوں پڑ گیا ہے؟
7 افسوس کیونکہ وہ دن بہت بھیانک* ہے!
ویسا دن کوئی اَور نہیں ہے؛
وہ یعقوب کے لیے پریشانی کا وقت ہے۔
لیکن اُسے بچا لیا جائے گا۔“
8 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے: ”اُس دن مَیں تمہاری گردن کا جُوا توڑ دوں گا اور تمہاری پٹیوں* کے دو ٹکڑے کر دوں گا اور پھر کبھی اجنبی* اُسے* اپنا غلام نہیں بنائیں گے۔ 9 وہ اپنے خدا یہوواہ اور اپنے بادشاہ داؤد کی خدمت کریں گے جسے مَیں اُن کے لیے مقرر کروں گا۔“
10 یہوواہ فرماتا ہے: ”میرے بندے یعقوب! نہ ڈر؛
اَے اِسرائیل! خوفزدہ نہ ہو
کیونکہ مَیں تجھے دُوردراز ملک سے اور تیری نسل کو اُس ملک سے بچا لاؤں گا
جہاں اُسے قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے۔
یعقوب لوٹے گا اور امنوسکون سے رہے گا
اور کوئی اُسے نہیں ڈرائے گا۔“
11 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیونکہ مَیں تجھے بچانے کے لیے تیرے ساتھ ہوں۔
لیکن مَیں اُن سب قوموں کا نامونشان مٹا دوں گا جن میں مَیں نے تجھے تتربتر کِیا ہے؛
مگر مَیں تجھے نہیں مٹاؤں گا۔
مَیں مناسب حد تک تیری اِصلاح* کروں گا
اور تجھے سزا دیے بغیر ہرگز نہیں چھوڑوں گا“
12 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے:
”تیرے زخم کا کوئی علاج نہیں ہے۔
تیرا گھاؤ لاعلاج ہے۔
13 تیرا مُقدمہ لڑنے والا کوئی نہیں ہے؛
تیرا ناسور کسی بھی طرح ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
تیرے لیے کوئی علاج نہیں ہے۔
14 تجھے شدت سے چاہنے والے سب تجھے بھول گئے ہیں۔
اب وہ تجھے نہیں ڈھونڈتے
کیونکہ تیری سنگین غلطی اور تیرے بہت سے گُناہوں کی وجہ سے
مَیں نے ایک دُشمن کی طرح تجھے مارا ہے
اور ایک ظالم کی طرح تجھے سزا دی ہے۔
15 تُو اپنے زخم کی وجہ سے کیوں چلّا رہی ہے؟
تیرا درد لاعلاج ہے!
تیری سنگین غلطی اور تیرے بہت سے گُناہوں کی وجہ سے
مَیں نے تیرے ساتھ ایسا کِیا ہے۔
16 اِس لیے تجھے نگلنے والے سب لوگوں کو نگل لیا جائے گا؛
تیرے سب دُشمنوں کو بھی قیدی بنا کر لے جایا جائے گا۔
تجھے لُوٹنے والوں کو لُوٹا جائے گا
اور تیرا مال چھیننے والے سب لوگوں سے اُن کا مال چھینا جائے گا۔“
17 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن مَیں تیری صحت بحال کروں گا اور تیرے زخم بھروں گا
حالانکہ اُنہوں نے تجھے ٹھکرایا اور کہا:
”یہ صِیّون ہے جسے کوئی نہیں ڈھونڈتا۔““
18 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھ! مَیں یعقوب کے خیمے کے قیدیوں کو جمع کر رہا ہوں
اور مَیں اُس کے خیموں پر ترس کھاؤں گا۔
شہر کو دوبارہ اُس کے ٹیلے پر بنایا جائے گا
اور مضبوط بُرج کو اُس کی جگہ پر کھڑا کِیا جائے گا۔
19 وہاں سے شکرگزاری اور خوشی کی آوازیں سنائی دیں گی۔
مَیں اُن کی تعداد بہت بڑھاؤں گا اور وہ کم نہیں ہوں گے؛
مَیں اُنہیں بہت بڑھاؤں گا*
اور وہ معمولی نہیں ہوں گے۔
20 اُس کے بیٹے پہلے کی طرح ہو جائیں گے
اور اُس کی جماعت میرے حضور مضبوطی سے قائم کی جائے گی۔
مَیں اُس پر ظلم ڈھانے والے سب لوگوں سے نمٹوں گا۔
21 اُس کا عظیم شخص اُسی میں سے نکلے گا
اور اُس کا حاکم اُس کے بیچ میں سے آئے گا۔
مَیں اُسے اپنے قریب آنے دوں گا اور وہ میرے پاس آئے گا“
”ورنہ کون میرے پاس آنے کی جُرأت کر سکتا ہے؟“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
22 ”تُم میری قوم بنو گے اور مَیں تمہارا خدا ہوں گا۔“
23 دیکھو! یہوواہ کے غضب کی آندھی چلے گی؛
یہ طوفانی بگولے کی طرح بُرے لوگوں کے سر پر منڈلائے گی۔
24 یہوواہ کا بھڑکتا ہوا غصہ تب تک نہیں ٹلے گا
جب تک وہ اپنے دل کا اِرادہ پورا نہ کر لے اور اِسے انجام تک نہ پہنچا لے۔
تُم آخری دنوں میں* اِس بات کو سمجھو گے۔