یرمیاہ
28 اُسی سال میں یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کی حکمرانی کے شروع میں یعنی چوتھے سال کے پانچویں مہینے میں جِبعون سے تعلق رکھنے والے عزّور کے بیٹے حنانیاہ نبی نے یہوواہ کے گھر میں کاہنوں اور سب لوگوں کی موجودگی میں مجھ سے کہا: 2 ”فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”مَیں بابل کے بادشاہ کا جُوا توڑ دوں گا۔ 3 دو سال کے اندر اندر مَیں یہوواہ کے گھر کی وہ سب چیزیں اِس جگہ واپس لاؤں گا جو بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اِس جگہ سے بابل لے گیا تھا۔““ 4 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں یہوداہ کے بادشاہ اور یہویقیم کے بیٹے یکونیاہ کو اور یہوداہ کے اُن سب لوگوں کو اِس جگہ واپس لاؤں گا جنہیں قیدی بنا کر بابل لے جایا گیا ہے کیونکہ مَیں بابل کے بادشاہ کا جُوا توڑ دوں گا۔““
5 پھر یرمیاہ نبی نے یہوواہ کے گھر میں کھڑے کاہنوں اور سب لوگوں کے سامنے حنانیاہ نبی سے بات کی۔ 6 یرمیاہ نبی نے کہا: ”آمین!* یہوواہ ایسا ہی کرے! یہوواہ آپ کی اُن باتوں کے مطابق جن کی آپ نے پیشگوئی کی ہے، یہوواہ کے گھر کی چیزوں اور اُن سب لوگوں کو بابل سے اِس جگہ واپس لائے جنہیں قیدی بنا کر لے جایا گیا ہے! 7 لیکن مہربانی سے میرا یہ پیغام سنیں جو مَیں آپ کو اور اِن سب لوگوں کو سنا رہا ہوں۔ 8 مجھ سے اور آپ سے پہلے کے نبی کافی عرصہ پہلے بہت سے ملکوں اور عظیم بادشاہتوں کے بارے میں یہ پیشگوئی کرتے تھے کہ اُنہیں جنگ، آفت اور وبا* کا سامنا ہوگا۔ 9 اگر ایک نبی امن کے بارے میں پیشگوئی کرے اور اُس نبی کی بات سچی ثابت ہو جائے تو یہ پتہ چل جائے گا کہ اُس نبی کو واقعی یہوواہ نے بھیجا ہے۔“
10 اِس پر حنانیاہ نبی نے یرمیاہ نبی کی گردن سے جُوا اُتارا اور اُسے توڑ دیا۔ 11 پھر حنانیاہ نے سب لوگو ں کی موجودگی میں کہا: ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اِسی طرح مَیں دو سال کے اندر اندر بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کا جُوا سب قوموں کی گردن سے اُتار کر توڑ دوں گا۔““ تب یرمیاہ نبی وہاں سے چلے گئے۔
12 جب حنانیاہ نبی نے یرمیاہ نبی کی گردن سے جُوا اُتار کر توڑا تو اُس کے بعد یرمیاہ تک یہوواہ کا یہ پیغام پہنچا: 13 ”جاؤ اور حنانیاہ سے کہو: ”یہوواہ فرماتا ہے: ”تُم نے لکڑی کا جُوا توڑا ہے مگر اِس کی جگہ تُم لوہے کا جُوا بناؤ گے“ 14 کیونکہ فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے: ”مَیں اِن سب قوموں کی گردن پر لوہے کا جُوا رکھوں گا تاکہ وہ بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کی خدمت کریں اور اُنہیں اُس کی خدمت کرنی پڑے گی۔ مَیں میدان کے جنگلی جانور تک اُسے دے دوں گا۔“““
15 پھر یرمیاہ نبی نے حنانیاہ نبی سے کہا: ”حنانیاہ! مہربانی سے میری بات سنیں۔ یہوواہ نے آپ کو نہیں بھیجا ہے بلکہ آپ نے اِن لوگوں کو ایک جھوٹ پر یقین دِلایا ہے۔ 16 اِس لیے یہوواہ یہ فرماتا ہے: ”دیکھو! مَیں تمہیں زمین سے مٹا دوں گا۔ اِس سال تُم مر جاؤ گے کیونکہ تُم نے یہوواہ کے خلاف بغاوت کو ہوا دی ہے۔““
17 لہٰذا حنانیاہ نبی اُس سال ساتویں مہینے میں مر گیا۔