یرمیاہ
27 یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کی حکمرانی کے شروع میں یہوواہ کا یہ کلام یرمیاہ تک پہنچا: 2 ”یہوواہ نے مجھ سے کہا ہے: ”اپنے لیے جُوا اور پٹیاں بناؤ اور اُنہیں اپنی گردن پر ڈالو۔ 3 پھر اُنہیں اُن قاصدوں کے ہاتھ جو یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ کے پاس یروشلم آئے ہیں، ادوم کے بادشاہ، موآب کے بادشاہ، عمونیوں کے بادشاہ، صُور کے بادشاہ اور صیدا کے بادشاہ کے پاس بھیجو۔ 4 اُنہیں اُن کے مالکوں کے لیے یہ حکم دے کر بھیجو:
”فوجوں کا خدا یہوواہ جو اِسرائیل کا خدا ہے، فرماتا ہے کہ تُم اپنے مالکوں سے یہ کہنا: 5 ”مَیں ہی ہوں جس نے اپنی عظیم طاقت اور اپنے زورآور بازو* سے زمین، اِنسان اور زمین کی سطح پر موجود جانور بنائے ہیں اور مَیں اِسے جسے چاہتا ہوں، دیتا ہوں۔ 6 اب مَیں نے یہ سارے ملک اپنے خادم بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کے حوالے کر دیے ہیں، یہاں تک کہ میدان کے جنگلی جانور بھی اُسے دے دیے ہیں تاکہ وہ اُس کی خدمت کریں۔ 7 سب قومیں اُس کی، اُس کے بیٹے کی اور اُس کے پوتے کی خدمت کریں گی جب تک کہ اُس کے اپنے ملک کی باری نہیں آ جاتی۔ تب بہت سی قومیں اور بڑے بڑے بادشاہ اُسے اپنا غلام بنا لیں گے۔“
8 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اگر کوئی قوم یا بادشاہت بابل کے بادشاہ نبوکدنضر کی خدمت کرنے اور بابل کے بادشاہ کا جُوا اپنی گردن پر رکھنے سے اِنکار کرے گی تو مَیں اُس قوم کو تلوار، قحط اور وبا* سے تب تک سزا دوں گا جب تک مَیں اُسے اُس کے ہاتھ سے ختم نہیں کروا دیتا۔“
9 ”اِس لیے اپنے نبیوں، غیبدانوں، خواب دیکھنے والوں، جادوگروں اور عاملوں کی بات نہ سنو جو تُم سے کہہ رہے ہیں: ”آپ بابل کے بادشاہ کی خدمت نہیں کریں گے۔“ 10 وہ تمہارے سامنے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔ اِس لیے تمہیں تمہارے ملک سے دُور لے جایا جائے گا اور مَیں تمہیں تتربتر کر دوں گا اور تُم فنا ہو جاؤ گے۔
11 لیکن جو قوم بابل کے بادشاہ کا جُوا اپنی گردن پر رکھے گی اور اُس کی خدمت کرے گی، مَیں اُسے اُس کے ملک میں رہنے* دوں گا تاکہ وہ اُس میں بسے اور کھیتیباڑی کرے۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“““
12 مَیں نے یہوداہ کے بادشاہ صِدقیاہ سے بھی یہی کہا کہ ”بابل کے بادشاہ کا جُوا اپنی گردن پر رکھ لو اور اُس کی اور اُس کی قوم کی خدمت کرو پھر تُم زندہ رہو گے۔ 13 تُم اور تمہاری قوم تلوار، قحط اور وبا سے کیوں مرے کیونکہ یہوواہ نے اُس قوم کے بارے میں یہی فرمایا ہے جو بابل کے بادشاہ کی خدمت نہیں کرے گی؟ 14 اُن نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تُم سے کہہ رہے ہیں: ”آپ بابل کے بادشاہ کی خدمت نہیں کریں گے“ کیونکہ وہ تمہارے سامنے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔
15 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا لیکن وہ میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں اور اِس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ مَیں تمہیں تتربتر کر دوں گا اور تُم فنا ہو جاؤ گے، تُم بھی اور وہ نبی بھی جو تمہارے سامنے نبوّت کر رہے ہیں۔““
16 کاہنوں اور اِن سب لوگوں سے مَیں نے کہا: ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اپنے نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تمہارے سامنے نبوّت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں: ”دیکھو! یہوواہ کے گھر کی چیزیں بہت جلد بابل سے واپس لائی جائیں گی“ کیونکہ وہ تمہارے سامنے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں۔ 17 اُن کی بات نہ سنو۔ بابل کے بادشاہ کی خدمت کرو اور تُم زندہ رہو گے ورنہ یہ شہر کھنڈر بن جائے گا۔ 18 لیکن اگر وہ واقعی نبی ہیں اور یہوواہ کا کلام سنا رہے ہیں تو وہ فوجوں کے خدا یہوواہ سے مِنت کریں کہ یہوواہ کے گھر، یہوداہ کے بادشاہ کے محل اور یروشلم میں موجود باقی چیزیں بابل نہ لے جائی جائیں۔“
19 فوجوں کے خدا یہوواہ نے ستونوں، بڑے حوض،* ہتھگاڑیوں اور اِس شہر میں بچی اُن باقی چیزوں کے بارے میں ایک پیغام دیا ہے 20 جنہیں بابل کا بادشاہ نبوکدنضر اُس وقت نہیں لے کر گیا تھا جب وہ یہوداہ کے بادشاہ اور یہویقیم کے بیٹے یکونیاہ کو یہوداہ اور یروشلم کے سارے نوابوں کے ساتھ قیدی بنا کر یروشلم سے بابل لے گیا تھا، 21 ہاں، فوجوں کے خدا یہوواہ نے جو اِسرائیل کا خدا ہے، یہوواہ کے گھر، یہوداہ کے بادشاہ کے محل اور یروشلم میں باقی بچی ہوئی چیزوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے: 22 ”یہوواہ فرماتا ہے: ”اُنہیں بابل لے جایا جائے گا اور وہ تب تک وہاں رہیں گی جب تک مَیں اُن پر توجہ نہیں فرماتا۔ پھر مَیں اُنہیں واپس لاؤں گا اور اُنہیں اِس جگہ پر بحال کروں گا۔“““