یرمیاہ
23 یہوواہ فرماتا ہے: ”اُن چرواہوں پر افسوس جو میری چراگاہ کی بھیڑوں کو تباہ کر رہے ہیں اور بکھیر رہے ہیں!“
2 اِس لیے اِسرائیل کا خدا یہوواہ میری قوم کی گلّہبانی کرنے والے چرواہوں کے خلاف فرماتا ہے: ”تُم نے میری بھیڑوں کو بکھیر دیا ہے؛ تُم اُنہیں تتربتر کرتے رہے ہو اور تُم نے اُن پر کوئی دھیان نہیں دیا ہے۔“
”اِس لیے مَیں تمہارے بُرے کاموں کی وجہ سے تمہیں سزا دوں گا۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
3 ”پھر مَیں اپنی بھیڑوں کے بچے ہوئے حصے کو اُن سب ملکوں سے جمع کروں گا جہاں مَیں نے اُنہیں تتربتر کِیا ہے اور مَیں اُنہیں اُن کی چراگاہ میں واپس لاؤں گا اور وہ پھلیں پھولیں گی اور تعداد میں خوب بڑھ جائیں گی 4 اور مَیں اُن پر ایسے چرواہے مقرر کروں گا جو صحیح معنوں میں اُن کی گلّہبانی کریں گے۔ وہ ڈریں گی نہیں اور خوفزدہ نہیں ہوں گی اور نہ ہی اُن میں سے کوئی گُم ہوگی۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
5 یہوواہ فرماتا ہے: ”دیکھو! وہ دن آ رہے ہیں جب مَیں داؤد کی نسل سے ایک نیک کونپل اُگاؤں گا۔* ایک بادشاہ حکمرانی کرے گا اور گہری سمجھ سے کام لے گا اور ملک میں اِنصاف اور نیکی کو قائم کرے گا۔ 6 اُس کے زمانے میں یہوداہ کو بچایا جائے گا اور اِسرائیل سلامتی سے بسے گا۔ اور اُسے اِس نام سے پکارا جائے گا: یہوواہ ہماری نیکی ہے۔“
7 یہوواہ فرماتا ہے: ”لیکن وہ دن آ رہے ہیں جب وہ یہ کہنے کی بجائے کہ ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو بنیاِسرائیل کو ملک مصر سے نکال کر لایا،“ 8 یہ کہیں گے: ”زندہ خدا یہوواہ کی قسم جو اِسرائیل کے گھرانے کی اولاد کو شمال کے ملک سے اور اُن سب ملکوں سے نکال کر واپس لایا جہاں اُس نے* اُنہیں تتربتر کر دیا تھا“ اور وہ اپنے ملک میں بسیں گے۔“
9 نبیوں کے لیے پیغام:
میرا دل اندر سے ٹوٹ چُکا ہے۔
میری ساری ہڈیاں کانپ رہی ہیں۔
مَیں یہوواہ اور اُس کی پاک باتوں کی وجہ سے
اُس آدمی کی طرح ہوں جو نشے میں دُھت ہو،
ہاں، اُس آدمی کی طرح جسے مے کا نشہ چڑھا ہو
10 کیونکہ ملک زِناکاروں سے بھرا ہے؛
لعنت کی وجہ سے ملک سوگ میں ڈوبا ہے
اور ویرانے کی چراگاہیں سُوکھ گئی ہیں۔
اُن کی روِش بُری ہے اور وہ اپنے اِختیار کا غلط اِستعمال کرتے ہیں۔
11 یہوواہ فرماتا ہے: ”نبی اور کاہن دونوں آلودہ* ہیں۔
مَیں نے دیکھا ہے کہ وہ میرے گھر میں بھی بُرائی کرتے ہیں۔“
12 یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس لیے اُن کا راستہ پھسلنا اور تاریک ہو جائے گا؛
اُنہیں دھکا دیا جائے گا اور وہ گِر جائیں گے
کیونکہ مَیں حساب کتاب کے سال میں اُن پر مصیبت لاؤں گا۔“
13 ”مَیں نے سامریہ کے نبیوں میں گھناؤنی چیزیں دیکھی ہیں۔
وہ بعل کے نام سے پیشگوئیاں کرتے ہیں
اور میری قوم اِسرائیل کو گمراہ کرتے ہیں۔
14 مَیں نے یروشلم کے نبیوں کو بھیانک کام کرتے دیکھا ہے۔
وہ زِناکاری کرتے ہیں اور جھوٹ کی راہ پر چلتے ہیں؛
وہ بُرے کام کرنے والوں کی ہمت بڑھاتے ہیں*
اور اپنی بُرائی سے باز نہیں آتے۔
وہ سب میری نظر میں سدوم کی طرح ہیں
اور اُس کے باشندے عمورہ کی طرح۔“
15 اِس لیے فوجوں کا خدا یہوواہ نبیوں کے خلاف یہ فرماتا ہے:
”دیکھو! مَیں اُنہیں ناگدون* کھلاؤں گا
اور زہریلا پانی پلاؤں گا
کیونکہ یروشلم کے نبیوں کی وجہ سے پورے ملک میں برگشتگی پھیل گئی ہے۔“
16 فوجوں کا خدا یہوواہ فرماتا ہے:
”اُن نبیوں کی باتیں نہ سنو جو تمہارے سامنے نبوّت کر رہے ہیں۔
وہ تمہیں دھوکا دے رہے ہیں۔*
جس رُویا کی وہ بات کرتے ہیں، وہ یہوواہ کی طرف سے نہیں ہے
بلکہ اُن کے اپنے دل کی ایجاد ہے۔
17 وہ میری توہین کرنے والوں سے بار بار کہتے ہیں:
”یہوواہ نے کہا ہے: ”تمہیں امن حاصل ہوگا۔““
اور وہ ہر اُس شخص سے جو اپنے ڈھیٹھ دل کی سنتا ہے، کہتے ہیں:
”تُم پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی۔“
18 کون یہوواہ کے قریبی دوستوں کی جماعت میں کھڑا ہوا ہے
تاکہ اُس کا کلام سنے اور سمجھے؟
کس نے اُس کے کلام پر دھیان دیا ہے اور اِسے سنا ہے؟
19 دیکھو! یہوواہ کے غضب کی آندھی چلے گی؛
یہ طوفانی بگولے کی طرح بُرے لوگوں کے سر پر منڈلائے گی۔
20 یہوواہ کا غصہ تب تک نہیں ٹلے گا
جب تک وہ اپنے دل کا اِرادہ پورا نہ کر لے اور اِسے انجام تک نہ پہنچا لے۔
تُم آخری دنوں میں* اِس بات کو اچھی طرح سمجھ جاؤ گے۔
21 مَیں نے نبیوں کو نہیں بھیجا پھر بھی وہ بھاگ کر گئے۔
مَیں نے اُن سے بات نہیں کی پھر بھی اُنہوں نے نبوّت کی۔
22 لیکن اگر وہ میرے قریبی دوستوں کی جماعت میں کھڑے ہوتے
تو اُنہوں نے میری قوم کو میری باتیں سنائی ہوتیں
اور اُنہیں اُن کی بُری راہ اور اُن کے بُرے کاموں سے روک دیا ہوتا۔“
23 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا مَیں صرف نزدیک ہی خدا ہوں؟ کیا مَیں دُور خدا نہیں ہوں؟“
24 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا کوئی شخص کسی ایسی پوشیدہ جگہ میں چھپ سکتا ہے جہاں مَیں اُسے نہ دیکھ سکوں؟“
یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا آسمان اور زمین میں کوئی چیز مجھ سے چھپی ہے؟“
25 ”جو نبی میرے نام سے جھوٹی نبوّت کر رہے ہیں، اُنہیں مَیں نے یہ کہتے سنا ہے: ”مَیں نے ایک خواب دیکھا تھا! مَیں نے ایک خواب دیکھا تھا!“ 26 اُن نبیوں کے دل میں یہ کب تک چلتا رہے گا کہ وہ جھوٹی نبوّت کریں؟ وہ ایسے نبی ہیں جن کی باتیں اُن کے فریبی دل کی ایجاد ہیں۔ 27 وہ اِس اِرادے سے ایک دوسرے کو اپنے خواب سناتے ہیں کہ میرے بندے میرا نام بھول جائیں جیسے اُن کے باپدادا بعل کی وجہ سے میرا نام بھول گئے تھے۔ 28 جس نبی نے خواب دیکھا ہے، وہ اپنا خواب سنائے لیکن جس کے پاس میرا کلام ہے، وہ سچائی سے میرا کلام سنائے۔“
”کیا بھوسے اور اناج کا کوئی میل ہے؟“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔
29 یہوواہ فرماتا ہے: ”کیا میرا کلام آگ کی طرح نہیں ہے؟ کیا یہ اُس ہتھوڑے کی طرح نہیں ہے جس سے چٹان کو چُور چُور کِیا جاتا ہے؟“
30 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو ایک دوسرے سے میری باتیں چُراتے ہیں۔“
31 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو اپنی زبان سے یہ کہتے ہیں: ”خدا فرماتا ہے!““
32 یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں اُن نبیوں کے خلاف ہوں جو جھوٹے خواب سناتے ہیں اور جھوٹی باتیں کر کے اور شیخی مار کے میرے بندوں کو گمراہ کرتے ہیں۔“
”لیکن مَیں نے اُنہیں نہیں بھیجا اور نہ ہی اُنہیں حکم دیا۔ اِس لیے وہ اِس قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے۔
33 ”جب یہ لوگ یا کوئی نبی یا کوئی کاہن تُم سے پوچھے: ”یہوواہ کا بوجھ* کیا ہے؟“ تو تُم اُنہیں یہ جواب دینا: ”یہوواہ فرماتا ہے: ”تُم لوگ بوجھ ہو! اور مَیں تمہیں اُتار کر پھینک دوں گا۔““ 34 اگر کوئی نبی یا کاہن یا کوئی شخص یہ کہے: ”یہ یہوواہ کا بوجھ* ہے!“ تو مَیں اُس شخص اور اُس کے گھرانے کو سزا دوں گا۔ 35 تُم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی اور اپنے بھائی سے کہہ رہا ہے: ”یہوواہ نے کیا جواب دیا ہے؟ یہوواہ نے کیا کہا ہے؟“ 36 لیکن تُم آئندہ یہوواہ کے بوجھ* کا ذکر نہ کرنا کیونکہ ہر شخص کی اپنی بات بوجھ* ہے۔ تُم نے ہمارے زندہ خدا، ہاں، فوجوں کے خدا یہوواہ کے کلام کو بدل دیا ہے۔
37 تُم نبی سے کہنا: ”یہوواہ نے تمہیں کیا جواب دیا ہے؟ یہوواہ نے کیا فرمایا ہے؟ 38 اگر تُم یہ کہتے رہو گے: ”یہوواہ کا بوجھ!“* تو یہوواہ فرماتا ہے: ”تُم یہ کہتے رہتے ہو: ”یہ کلام یہوواہ کا بوجھ* ہے“ حالانکہ مَیں نے تُم سے کہا ہے کہ ”تُم یہ نہ کہو: ”یہوواہ کا بوجھ!““* 39 اِس لیے دیکھو! مَیں تمہیں، ہاں، تمہیں اور اِس شہر کو اُٹھا کر اپنی حضوری سے دُور پھینک دوں گا جو مَیں نے تمہیں اور تمہارے باپدادا کو دیا تھا۔ 40 مَیں تُم پر ہمیشہ کے لیے رُسوائی اور شرمندگی لاؤں گا جسے کبھی بُھلایا نہیں جائے گا۔“““