یرمیاہ
2 یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا: 2 ”جاؤ اور یروشلم کے کانوں میں اِعلان کرو کہ ”یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ تجھے* جوانی میں مجھ سے کتنی اٹوٹ محبت تھی،
جب مجھ سے تیری منگنی ہوئی تھی تو تُو مجھ سے کتنا پیار کرتی تھی
اور ویرانے میں کیسے میرے پیچھے پیچھے چلتی تھی
جہاں زمین میں کوئی بیج نہیں بویا گیا تھا۔
3 اِسرائیل یہوواہ کے لیے پاک تھا اور اُس کی پیداوار کا پہلا پھل تھا۔““
یہوواہ فرماتا ہے: ”جو کوئی بھی اُسے نگلنے کی کوشش کرتا،
وہ قصوروار ٹھہرتا اور اُس پر مصیبت آتی۔““
4 اَے یعقوب کے گھرانے اور اِسرائیل کے گھرانے کے سب خاندانو!
یہوواہ کا کلام سنو۔
5 یہوواہ یہ فرماتا ہے:
”تمہارے باپدادا نے مجھ میں ایسی کون سی خرابی دیکھی
کہ وہ مجھ سے اِتنے دُور ہو گئے
اور فضول بُتوں کو پوجنے لگے اور خود بھی فضول بن گئے؟
6 اُنہوں نے یہ نہیں پوچھا: ”یہوواہ کہاں ہے
جو ہمیں ملک مصر سے نکال کر لایا
اور جس نے ویرانے میں ہماری رہنمائی کی،
ہاں، ریگستانوں اور گڑھوں کی سرزمین میں؛
قحط اور گہری تاریکی کے ملک میں؛
ایسے علاقے میں جہاں نہ کوئی شخص سفر کرتا ہے
اور نہ ہی اِنسان بستے ہیں؟“
7 پھر مَیں تمہیں باغوں کے ملک میں لایا
تاکہ تُم اِس کا پھل اور اِس کی اچھی چیزیں کھاؤ۔
لیکن تُم نے آ کر میرے ملک کو ناپاک کر دیا۔
تُم نے میری وراثت کو گھناؤنا بنا دیا۔
8 کاہنوں نے یہ نہیں پوچھا کہ ”یہوواہ کہاں ہے؟“
شریعت کی تعلیم دینے والے مجھے نہیں جانتے تھے؛
چرواہوں نے میرے خلاف بغاوت کی؛
نبیوں نے بعل کے نام سے نبوّت کی
اور وہ اُن کے پیچھے لگ گئے جو اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے تھے۔
9 یہوواہ فرماتا ہے: ”اِس لیے مَیں پھر سے تُم سے لڑوں گا۔
مَیں تمہارے بیٹوں کے بیٹوں سے لڑوں گا۔“
10 ”لیکن اُس پار کِتّیم کے ساحلی علاقوں* میں جا کر دیکھو،
ہاں، کسی کو قیدار بھیجو اور دھیان سے سوچ بچار کرو؛
دیکھو کہ کیا اِس سے پہلے کبھی ایسا ہوا ہے یا نہیں۔
11 کیا کسی قوم نے کبھی اپنے خداؤں کو ایسے خداؤں سے بدلا ہے جو خدا نہیں ہیں؟
مگر میری اپنی قوم نے میری شان کو ایک فضول چیز سے بدل دیا ہے۔
12 اَے آسمان! حیرانی سے اِسے دیکھ؛
شدید خوف کے مارے کانپ!“ یہ بات یہوواہ فرما رہا ہے
13 ”کیونکہ میرے بندوں نے دو بُرے کام کیے ہیں:
اُنہوں نے مجھے، ہاں، زندگی کے پانی کے چشمے کو ترک کر دیا ہے
اور اپنے لیے حوض کھود لیے ہیں*
جو ٹوٹے ہوئے ہیں اور جن میں پانی نہیں ٹھہر سکتا۔“
14 ”کیا اِسرائیل ایک خادم یا کسی گھرانے میں پیدا ہونے والا کوئی غلام ہے؟
تو پھر اُسے لُوٹ کا مال کیوں بننے دیا گیا ہے؟
15 جوان شیر* اُس پر گرجتے ہیں؛
وہ اُونچی آواز میں دھاڑتے ہیں۔
اُنہوں نے اُس کے ملک کو دہشت کی علامت بنا دیا ہے۔
اُس کے شہروں کو آگ لگا دی گئی ہے اِس لیے وہاں کوئی نہیں بستا۔
16 نوف* اور تحفنیس کے لوگ تیرے سر کو کھا رہے ہیں۔
17 کیا تُو نے خود اپنا یہ حال نہیں کِیا
کیونکہ تُو نے خود اُس وقت اپنے خدا یہوواہ کو چھوڑ دیا
جب وہ راستے میں تیری پیشوائی کر رہا تھا؟
18 اب تُو سِیحور* کا پانی پینے کے لیے مصر کے راستے پر کیوں جانا چاہتی ہے؟
تُو بڑے دریا* کا پانی پینے کے لیے اسور کے راستے پر کیوں جانا چاہتی ہے؟
19 تیری بُرائی کو تیری درستی کرنی چاہیے
اور تیری اپنی بےوفائی کو تیری اِصلاح کرنی چاہیے۔
یہ جان لے اور سمجھ لے کہ اپنے خدا یہوواہ کو ترک کرنا
کتنا بُرا اور بھیانک ہے؛
تُو نے میرا ذرا بھی خوف نہیں رکھا۔“ یہ بات حاکمِاعلیٰ یعنی فوجوں کا خدا یہوواہ فرما رہا ہے۔
20 ”مُدتوں پہلے مَیں نے تیرا جُوا چکناچُور دیا
اور تیری بیڑیوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
لیکن تُو نے کہا: ”مَیں تیری خدمت نہیں کروں گی“
کیونکہ ہر اُونچی پہاڑی پر اور ہر گھنے درخت کے نیچے
تُو ٹانگیں اور بازو پھیلا کر لیٹ جاتی تھی اور جسمفروشی کرتی تھی۔
21 جب مَیں نے تجھے لگایا تھا تو تُو بہترین لال انگور کی بیل تھی جس کا بیج اصلی تھا؛
تو پھر تُو میرے سامنے انگور کی جنگلی* بیل کی گلیسڑی شاخوں میں کیسے بدل گئی؟“
22 حاکمِاعلیٰ یہوواہ فرماتا ہے: ”چاہے تُو خود کو سوڈے* سے دھوئے اور ڈھیر سارا صابن* اِستعمال کرے،
میری نظر میں تیرے گُناہ کا داغ نہیں مٹے گا۔“
23 تُو کیسے کہہ سکتی ہے: ”مَیں نے خود کو ناپاک نہیں کِیا؛
مَیں نے بعل دیوتاؤں کی پرستش نہیں کی“؟
وادی میں اپنی روِش کو دیکھ۔
غور کر کہ تُو نے کیا کِیا ہے۔
تُو ایک جوان تیزرفتار اُونٹنی کی طرح ہے
جو بِلامقصد اپنی مرضی سے اِدھر اُدھر بھاگتی رہتی ہے؛
24 تُو ایک جنگلی گدھی کی طرح ہے جو ویرانے میں رہنے کی عادی ہوتی ہے؛
جو شہوت کے جوش میں* ہوا کو سُونگھتی ہے۔
جب اُس میں جنسی ملاپ کی خواہش عروج پر ہوتی ہے تو کون اُسے روک سکتا ہے؟
اُسے ڈھونڈنے والوں کو خود کو تھکانا نہیں پڑتا۔
اُس کے موسم* میں وہ اُسے پا لیتے ہیں۔
25 اپنے پاؤں ننگے نہ ہونے دے
اور اپنا گلا سُوکھنے نہ دے۔
لیکن تُو نے کہا: ”اِس کا کوئی فائدہ نہیں ہے!
کیونکہ مجھے اجنبیوں* سے پیار ہو گیا ہے
اور مَیں اُن کے پیچھے جاؤں گی۔“
26 جس طرح چور پکڑے جانے پر شرمندہ ہوتا ہے
اُسی طرح اِسرائیل کے گھرانے کو شرمندہ کِیا گیا ہے،
ہاں، اُسے، اُس کے بادشاہوں، اُس کے حاکموں،
اُس کے کاہنوں اور اُس کے نبیوں کو۔
27 وہ درخت سے کہتے ہیں: ”تُو میرا باپ ہے“
اور پتھر سے کہتے ہیں: ”تُو نے مجھے پیدا کِیا ہے۔“
لیکن وہ میری طرف اپنا چہرہ کرنے کی بجائے اپنی پیٹھ کر لیتے ہیں۔
مگر مصیبت کے وقت میں وہ کہیں گے:
”اُٹھ اور ہمیں بچا!“
28 اب تیرے وہ خدا کہاں ہیں جو تُو نے اپنے لیے بنائے تھے؟
اگر وہ تیری مصیبت کے وقت تجھے بچا سکتے ہیں تو وہ اُٹھیں
کیونکہ اَے یہوداہ! تیرے خدا تیرے شہروں کی طرح بےشمار ہو گئے ہیں۔
29 یہوواہ فرماتا ہے: ”تُم میرے خلاف کیوں لڑ رہے ہو؟
تُم سب نے میرے خلاف بغاوت کیوں کی ہے؟“
30 مَیں نے فضول میں تمہارے بیٹوں کو مارا۔
اُنہوں نے کسی بھی طرح کی اِصلاح قبول نہیں کی؛
تمہاری اپنی تلوار ایک خونخوار شیر کی طرح
تمہارے نبیوں کو نگل گئی۔
31 اَے پُشت! یہوواہ کے کلام پر غور کر۔
کیا مَیں اِسرائیل کے لیے ایک ویرانے کی طرح
یا گہری تاریکی والے ملک کی طرح بن گیا ہوں؟
اِن لوگوں نے یعنی میرے بندوں نے یہ کیوں کہا: ”ہم آزادی سے گھومتے ہیں۔
اب ہم تیرے پاس نہیں آئیں گے“؟
32 کیا ایک کنواری اپنے زیور
اور ایک دُلہن اپنا سینہبند بھول سکتی ہے؟
مگر میری اپنی قوم نے مُدتوں سے مجھے بُھلا دیا ہے۔
33 اَے عورت! تُو محبت کی تلاش میں کتنی مہارت سے اپنا راستہ چُنتی ہے!
تُو نے بُرائی کی راہوں پر چلنے کے لیے اپنی تربیت کی ہے۔
34 تیرے کپڑے تک بےقصور غریبوں* کے خون سے رنگے ہوئے ہیں؛
حالانکہ مَیں نے اُنہیں تیرے گھر میں گُھستے نہیں دیکھا
تو بھی اُن کا خون تیرے سارے کپڑوں پر لگا ہوا ہے۔
35 لیکن تُو کہتی ہے: ”مَیں بےقصور ہوں۔
بےشک مجھ پر سے اُس کا غصہ ٹل گیا ہے۔“
اب مَیں تیرے خلاف سزا سناؤں گا
کیونکہ تُو کہتی ہے: ”مَیں نے گُناہ نہیں کِیا ہے۔“
36 تُو اپنی ڈانوانڈول روِش کو اِتنا معمولی کیوں سمجھتی ہے؟
جیسے تجھے اسور کی وجہ سے شرمندہ ہونا پڑا
ویسے ہی تجھے مصر کی وجہ سے بھی شرمندہ ہونا پڑے گا۔
37 تُو اِس لیے بھی اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر نکلے گی
کیونکہ یہوواہ نے اُنہیں ٹھکرا دیا ہے جن پر تجھے بھروسا تھا؛
وہ تجھے کامیابی نہیں دِلائیں گے۔“