یرمیاہ
1 یہ یرمیاہ* کی باتیں ہیں جن کے والد کا نام خِلقیاہ تھا جو بِنیامین کے علاقے میں شہر عنتوت کے کاہنوں میں سے ایک تھے۔ 2 یہوداہ کے بادشاہ اور امون کے بیٹے یوسیاہ کی حکمرانی کے 13ویں سال میں یہوواہ کا کلام یرمیاہ تک پہنچا۔ 3 یہ کلام یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے یہویقیم کے زمانے میں بھی یرمیاہ تک پہنچا۔ اُن تک یہ کلام یہوداہ کے بادشاہ اور یوسیاہ کے بیٹے صِدقیاہ کی حکمرانی کے 11ویں سال تک پہنچتا رہا یعنی تب تک جب تک پانچویں مہینے میں یروشلم کے لوگوں کو قیدی بنا کر نہیں لے جایا گیا۔
4 یہوواہ کا یہ کلام مجھ تک پہنچا:
5 ”اِس سے پہلے کہ مَیں نے تمہیں تمہاری ماں کی کوکھ میں بنایا، مَیں تمہیں جانتا تھا۔*
مَیں نے تمہیں قوموں کے لیے نبی بنایا۔“
6 لیکن مَیں نے کہا: ”اَے حاکمِاعلیٰ یہوواہ!
افسوس کہ مجھے بولنا نہیں آتا کیونکہ مَیں تو ابھی بچہ* ہی ہوں!“
7 تب یہوواہ نے مجھ سے کہا:
”یہ نہ کہو کہ ”مَیں تو ابھی بچہ ہی ہوں“
کیونکہ تمہیں اُن سب کے پاس جانا ہوگا جن کے پاس مَیں تمہیں بھیجوں گا
اور وہ سب بتانا ہوگا جس کا مَیں تمہیں حکم دوں گا۔
8 تُم اُنہیں دیکھ کر ڈرنا نہیں
کیونکہ ”مَیں تمہیں بچانے کے لیے تمہارے ساتھ ہوں۔“ یہ بات یہوواہ نے فرمائی ہے۔“
9 پھر یہوواہ نے اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے مُنہ کو چُھوا۔ یہوواہ نے مجھ سے کہا: ”مَیں نے اپنی باتیں تمہارے مُنہ میں ڈالی ہیں۔ 10 دیکھو، آج مَیں نے تمہیں قوموں اور بادشاہتوں پر مقرر کِیا ہے تاکہ تُم اُکھاڑو اور گِراؤ؛ تباہ کرو اور ڈھاؤ؛ بناؤ اور لگاؤ۔“
11 یہوواہ کا کلام دوبارہ مجھ تک پہنچا اور اُس نے مجھ سے کہا: ”یرمیاہ! تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟“ مَیں نے جواب دیا: ”مجھے بادام کے درخت* کی ایک شاخ نظر آ رہی ہے۔“
12 یہوواہ نے مجھ سے کہا: ”تُم نے بالکل صحیح دیکھا ہے کیونکہ مَیں پوری طرح جاگ رہا ہوں تاکہ اپنے کلام کو پورا کروں۔“
13 یہوواہ کا کلام دوسری بار مجھ تک پہنچا اور اُس نے مجھ سے کہا: ”تمہیں کیا نظر آ رہا ہے؟“ مَیں نے جواب دیا: ”مجھے ایک دیگ نظر آ رہی ہے جس میں کچھ اُبل رہا ہے۔ اُس کا مُنہ شمال سے جنوب کی طرف جھکا ہوا ہے۔“ 14 پھر یہوواہ نے مجھ سے کہا:
”شمال کی طرف سے ملک کے سب باشندوں پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی
15 کیونکہ یہوواہ فرماتا ہے: ”مَیں شمال کی بادشاہتوں کے سب خاندانوں کو بُلا رہا ہوں۔
وہ آئیں گے اور ہر ایک یروشلم کے دروازوں پر،
اُس کی دیواروں کے گِرد
اور یہوداہ کے سب شہروں کے خلاف اپنا تخت لگائے گا۔
16 مَیں اُن کی ساری بُرائی کی وجہ سے اُن کے خلاف فیصلہ سناؤں گا
کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کر دیا ہے۔
وہ دوسرے خداؤں کے لیے قربانیاں پیش کرتے ہیں تاکہ اِن کا دُھواں اُٹھے
اور اپنے ہاتھوں کے کام کے سامنے جھکتے ہیں۔“
17 لیکن تُم اپنی کمر کَس لو۔
اُٹھو اور اُنہیں وہ سب بتاؤ جس کا مَیں نے تمہیں حکم دیا ہے۔
اُن سے خوفزدہ نہ ہو
تاکہ مَیں تمہیں اُن کے سامنے خوفزدہ نہ کروں
18 کیونکہ آج مَیں نے تمہیں قلعہبند شہر،
لوہے کا ستون اور تانبے کی دیواریں بنا دیا ہے
تاکہ تُم سارے ملک، ہاں، یہوداہ کے بادشاہوں، اُس کے حاکموں،
اُس کے کاہنوں اور ملک کے لوگوں کے سامنے کھڑے رہ سکو۔