یسعیاہ
17 دمشق کے خلاف ایک پیغام:
”دیکھو! دمشق ایک شہر نہیں رہے گا؛
وہ کھنڈروں کا شہر بن جائے گا۔
2 عروعیر کے شہر ویران ہو جائیں گے؛
وہ گلّوں کے لیٹنے کی جگہ بن جائیں گے
اور کوئی اُنہیں نہیں ڈرائے گا۔
3 اِفرائیم کے قلعہبند شہر مٹ جائیں گے
اور دمشق کی بادشاہت بھی؛
سُوریہ کے بچ جانے والے لوگوں کا وہی حال ہوگا
جو بنیاِسرائیل کی شان کا ہوا تھا۔“ یہ بات فوجوں کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔
4 ”اُس دن یعقوب کی شان گھٹ جائے گی
اور اُس کا صحتمند جسم* دُبلا ہو جائے گا۔
5 یہ ایسے ہوگا جیسے کٹائی کرنے والا کھڑی فصل جمع کر رہا ہو
اور اپنے ہاتھ سے اناج کی بالیں کاٹ رہا ہو،
ہاں، جیسے کوئی وادیِرِفائیم میں بچی ہوئی بالیں جمع کر رہا ہو۔
6 صرف بچاکھچا حصہ باقی رہے گا
جیسے زیتون کے درخت کو جھاڑنے پر ہوتا ہے:
سب سے اُونچی شاخوں پر صرف دو یا تین پکے ہوئے زیتون بچتے ہیں
اور پھلدار شاخوں پر صرف چار یا پانچ۔“ یہ بات اِسرائیل کے خدا یہوواہ نے فرمائی ہے۔
7 اُس دن اِنسان کی نظر اپنے خالق پر لگی ہوگی اور اُس کی نگاہیں اِسرائیل کے پاک خدا پر ٹکی ہوں گی۔ 8 وہ قربانگاہوں کو نہیں دیکھے گا جو اُس کے ہاتھوں کا کام ہیں اور اُس کی نگاہیں مُقدس بَلّیوں* یا بخور کی قربانگاہوں پر نہیں ٹکی ہوں گی جنہیں اُس نے اپنی اُنگلیوں سے بنایا ہے۔
9 اُس دن اُس کے قلعہبند شہر جنگل میں ویران چھوڑی ہوئی جگہ
اور اُس شاخ کی طرح بن جائیں گے جسے اِسرائیلیوں کے سامنے چھوڑ دیا گیا تھا؛
وہاں ویرانی چھا جائے گی
10 کیونکہ تُو اُس خدا کو بھول گیا ہے جو تجھے نجات دِلاتا ہے؛
تُو نے اپنے قلعے کی چٹان کو یاد نہیں رکھا۔
اِس لیے تُو خوبصورت* پودے لگاتا ہے
اور اُن میں اجنبی* کی قلم لگاتا ہے۔
11 اُس دن تُو اپنے پودوں کے گِرد بڑی احتیاط سے باڑ لگائے گا؛
صبح میں تیرے بیج سے کونپلیں پھوٹیں گی
لیکن بیماری اور ناقابلِعلاج درد کے دن تیری فصل مٹ جائے گی۔
12 سنو! بہت سی قوموں کا شورشرابہ ہے
جو سمندر کی طرح بپھری ہوئی ہیں!
قوموں کی چیخوپکار ہے
جن کی آواز زوردار پانیوں کی دھاڑ جیسی ہے!
13 قومیں بہت سے پانیوں کی دھاڑ جیسی آواز نکالیں گی۔
خدا اُنہیں ڈانٹے گا اور وہ دُور بھاگ جائیں گی
جیسے پہاڑوں پر موجود بھوسا ہوا سے اُڑ جاتا ہے،
جیسے کانٹےدار جھاڑی طوفانی ہوا کے آگے یہاں وہاں لُڑھکتی ہے۔
14 شام میں وہاں دہشت چھا جاتی ہے۔
صبح ہونے سے پہلے وہ مٹ جاتے ہیں۔
ہمیں لُوٹنے والوں کے حصے میں یہی آتا ہے
اور ہمارا مال چھیننے والوں کو یہی ملتا ہے۔