ایوب
24 لامحدود قدرت کے مالک نے ایک وقت کیوں نہیں مقرر کِیا؟
جو اُسے قریب سے جانتے ہیں، وہ اُس کا دن* کیوں نہیں دیکھ پاتے؟
2 لوگ زمینوں کی حدبندیوں کو سِرکا دیتے ہیں
اور دوسروں کے گلّوں کو اپنی چراگاہوں میں لے جاتے ہیں۔
3 وہ یتیم کا گدھا ہانک کر لے جاتے ہیں
اور قرضے کے بدلے بیوہ کا بیل زبردستی گِروی رکھ لیتے ہیں۔
4 وہ غریبوں کو زبردستی راستے سے ہٹاتے ہیں
اور بےبس لوگ اُن سے چھپتے پھرتے ہیں۔
5 غریب لوگ ویرانے میں جنگلی گدھے کی طرح کھانا ڈھونڈتے پھرتے ہیں؛
وہ اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے ریگستان میں خوراک تلاش کرتے ہیں۔
6 اُنہیں دوسروں کے کھیتوں میں کٹائی کرنی پڑتی ہے*
اور بُرے لوگوں کے انگور کے باغ سے پھل جمع کرنا پڑتا ہے۔
7 اُن کے پاس کپڑے نہیں ہوتے اور وہ ساری رات ننگے پڑے رہتے ہیں؛
سردیوں میں بھی اُن کے پاس اوڑھنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔
8 وہ پہاڑوں پر ہونے والی بارشوں میں بھیگ جاتے ہیں
اور پناہگاہ نہ ہونے کی وجہ سے چٹانوں سے لپٹ جاتے ہیں۔
9 یتیموں کو اُن کی ماؤں کی چھاتیوں سے الگ کر دیا جاتا ہے
اور قرضے کے بدلے غریبوں کے کپڑے تک گِروی رکھ لیے جاتے ہیں۔
10 وہ بغیر کپڑوں کے ننگے پھرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
اور اُنہیں اناج کے گٹھے اُٹھائے ہوئے بھی بھوکے رہنا پڑتا ہے۔
11 وہ تپتی دھوپ میں پہاڑیوں پر پتھر کی منڈیروں کے بیچ محنتمشقت کرتے ہیں؛*
وہ حوضوں میں انگور روندتے ہیں پھر بھی پیاسے رہتے ہیں۔
12 مرنے والے لوگ شہر میں کراہتے رہتے ہیں؛
شدید زخمی لوگ* مدد کے لیے پکارتے رہتے ہیں
لیکن خدا کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔*
13 ایسے لوگ بھی ہیں جو روشنی کے خلاف بغاوت کرتے ہیں؛
وہ اِس کی راہوں کو نہیں جانتے
اور اِس کے راستوں پر نہیں چلتے۔
14 قاتل صبح سویرے اُٹھتا ہے
اور بےبس اور غریب لوگوں کی جان لیتا ہے
جبکہ رات کو وہ چوری چکاری کرتا ہے۔
15 زِناکار کی آنکھیں دن ڈھلنے کا اِنتظار کرتی ہیں؛
وہ خود سے کہتا ہے: ”کوئی مجھے نہیں دیکھے گا“
اور اپنا چہرہ چھپا لیتا ہے۔
16 چور رات کے اندھیرے میں گھروں میں گُھس جاتے ہیں*
اور دن کے اُجالے میں چھپ جاتے ہیں؛
وہ روشنی سے کتراتے ہیں۔
17 اُن کے لیے صبح کی روشنی ویسی ہی ہے جیسی دوسروں کے لیے رات کی تاریکی؛
وہ گھپ اندھیرے کی دہشتوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
18 لیکن پانی اُنہیں تیزی سے بہا لے جاتا ہے؛*
اُن کے حصے کی زمین پر لعنت بھیجی جاتی ہے
اور وہ کبھی اپنے انگور کے باغ میں واپس نہیں آتے۔
19 جس طرح خشکسالی اور گرمی پگھلی ہوئی برف کو نگل لیتی ہے؛
اُس طرح قبر* گُناہگار کو ہڑپ لیتی ہے۔
20 اُس کی ماں* اُسے بھول جاتی ہے؛ کیڑے اُس کی دعوت اُڑاتے ہیں
اور کوئی اُسے یاد نہیں رکھتا۔
یوں بُرائی کو درخت کی طرح کاٹ ڈالا جاتا ہے۔
21 وہ بانجھ عورت کا شکار کرتا ہے
اور بیوہ کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔
22 خدا* اپنی قوت سے طاقتوروں کا نامونشان مٹا دیتا ہے؛
چاہے وہ جتنا بھی اُوپر اُٹھیں، اُنہیں اپنی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں ہوتا۔
24 اُنہیں کچھ وقت کے لیے سرفراز کِیا جاتا ہے اور پھر وہ ختم ہو جاتے ہیں؛
اُنہیں پست کِیا جاتا ہے اور وہ باقی سب کی طرح مر جاتے ہیں؛
اُنہیں اناج کی بالوں کی طرح کاٹ کر جمع کر لیا جاتا ہے۔
25 اب کون مجھے جھوٹا ثابت کر سکتا ہے
یا میری باتوں کو جھٹلا سکتا ہے؟“