آپبیتی
”یہ جنگ یہوواہ کی ہے“
مَیں 28 جنوری 2010ء کو فرانس کے خوبصورت شہر ستراسبورگ گیا۔ مَیں وہاں گھومنے پھرنے کے اِرادے سے نہیں گیا تھا۔ دراصل مَیں اُس قانونی ٹیم کا حصہ تھا جسے اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت میں یہوواہ کے گواہوں کے حقوق کا دِفاع کرنے کے لیے مقرر کِیا گیا تھا۔ فرانس کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہوواہ کے گواہوں کو اُنہیں تقریباً 64 ملین یورو[تقریباً 18 ارب 54 کروڑ روپے]ٹیکس بھرنا ہوگا۔ تو ہم وہاں یہ ثابت کرنے گئے تھے کہ حکومت کا یہ دعویٰ غلط ہے۔ لیکن بات صرف ڈھیر سارا پیسہ بھرنے کی نہیں تھی۔ ہمارے لیے اِس مُقدمے کو جیتنا اِس لیے زیادہ ضروری تھا کیونکہ یہوواہ اور اُس کے بندوں کی نیکنامی داؤ پر لگی تھی اور یہ بات بھی کہ گواہوں کو فرانس میں آزادی سے یہوواہ کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ اِس مُقدمے کے دوران جو کچھ ہوا، اُس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ’وہ جنگ یہوواہ کی تھی۔‘ (1-سمو 17:47) آئیے مَیں آپ کو بتاتا ہوں کہ اُس وقت کیا ہوا تھا۔
مسئلہ 1999ء میں کھڑا ہوا تھا۔ فرانس کی حکومت نے دعویٰ کِیا تھا کہ فرانس میں موجود ہماری برانچ کو اُن عطیات پر ٹیکس ادا کرنا ہوگا جو برانچ کو 1993ء اور 1996ء کے بیچ ملے تھے۔ ہم اِس مُقدمے کو لڑنے کے لیے فرانس کی کئی عدالتوں میں گئے لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ ہم نے پھر سے حکومت کے دعوے کے خلاف اپیل کی لیکن ہمیں پھر سے وہی فیصلہ سنایا گیا۔ اِس کے بعد حکومت نے ہماری برانچ کے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً ساڑھے چار ملین یورو[تقریباً 1 ارب 30 کروڑ روپے]ضبط کر لیے۔ اب ہمارے پاس حکومت سے اپنے پیسے واپس پانے کے لیے بس ایک ہی چارہ بچا تھا اور وہ یہ تھا کہ ہم اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ لیکن ہمارے مُقدمے کی سنوائی سے پہلے یورپی عدالت چاہتی تھی کہ ہم فرانسیسی حکومت کے وکیلوں اور یورپی عدالت کے نمائندوں سے ملاقات کریں تاکہ ہم مُقدمہ لڑنے سے پہلے اُن کے ساتھ معاہدہ کر لیں۔
ہمیں اندازہ تھا کہ یورپی عدالت کی نمائندگی کرنے والی خاتون ہم سے کہے گی کہ ہم فرانس کی حکومت کو تھوڑا بہت پیسہ دے کر بات رفعدفع کریں۔ لیکن ہم اچھی طرح سے سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے حکومت کو ایک پیسہ بھی دیا تو ہم بائبل کے اصول توڑ رہے ہوں گے۔ ہمارے بہن بھائیوں نے عطیات بادشاہت کے کام کی حمایت کرنے کے لیے دیے تھے تو اِس پیسے پر حکومت کا کوئی حق نہیں تھا۔ (متی 22:21) خیر ہم یورپی عدالت کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے اُن کے نمائندوں اور فرانسیسی حکومت کے وکیلوں سے ملاقات کرنے کے لیے چلے گئے۔
سن 2010ء میں ہماری قانونی ٹیم اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت کے سامنے
ہم عدالت کے ایک بڑے ہی خوبصورت کانفرنس کے کمرے میں جمع ہوئے۔ یورپی عدالت کی نمائندگی کرنے والی خاتون نے باتچیت کے شروع میں ہی یہ کہہ دیا کہ یہوواہ کے گواہوں کو فرانس کی حکومت کو اُن کے کہنے کے مطابق کچھ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ یہوواہ کی پاک روح کی مدد سے ہم نے فوراً اُس سے کہا: ”کیا آپ جانتی ہیں کہ حکومت نے پہلے سے ہی ہمارے بینک اکاؤنٹ سے تقریباً ساڑھے چار ملین یورو[تقریباً 1 ارب 30 کروڑ روپے]ضبط کر لیے ہیں؟“
ہماری بات سُن کر وہ ہکا بکا رہ گئی۔ اُس کے چہرے کو دیکھ کر صاف نظر آ رہا تھا کہ اُسے اِس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا اور وہ حکومت کے ایسا کرنے پر بہت غصہ تھی۔ اور جب حکومت کے وکیلوں نے اِس بات کی تصدیق کی تو ہمارے مُقدمے کو لے کر اُس خاتون کا رویہ بالکل بدل گیا۔ اُس نے حکومت کے وکیلوں کو ایسا کرنے پر ڈانٹا اور فوراً ہی باتچیت ختم کر دی۔ ہمیں تو توقع بھی نہیں تھی کہ یہوواہ صورتحال کا پانسا اِس طرح سے پلٹے گا اور اِتنے شاندار طریقے سے ہمیں جیت دِلائے گا۔ ہم بڑی خوشی خوشی وہاں سے نکلے اور جو کچھ ہوا تھا، ہمیں تو اُس پر یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔
پھر 30 جون 2011ء کو اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ہمارے حق میں یہ فیصلہ سنایا کہ ہم پر لگا ٹیکس غیرقانونی ہے۔ عدالت نے حکومت کو یہ حکم بھی دیا کہ وہ ضبط کِیا ہوا سارا پیسہ سُود سمیت ہمیں لوٹائے! اِس اہم قانونی فیصلے کی وجہ سے فرانس میں آج بھی ہماری عبادت کے حقوق محفوظ ہیں۔ ہمارا کِیا بس ایک سوال جس کے بارے میں ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم اِسے پوچھیں گے، ایک طرح سے اُس پتھر کی طرح ثابت ہوا جو سیدھا جولیت کے سر میں لگا تھا۔ اُس سوال نے ہمارے پورے مُقدمے کو ہی بدل دیا۔ ہم وہ مُقدمہ کیوں جیتے؟ اِس کا جواب وہی ہے جو داؤد نے جولیت کو دیا: ”یہ جنگ یہوواہ کی ہے۔“—1-سمو 17:45-47۔
لیکن یہ پہلی بار نہیں تھا جب ہم کوئی مُقدمہ جیتے تھے۔ حالانکہ کئی مذاہب اور طاقتور حکومتیں ہمارے خلاف کھڑی ہوئیں لیکن ہم نے 70 ملکوں کی اعلیٰ عدالتوں اور کئی بینالاقوامی عدالتوں میں 1225 مُقدمے جیتے۔ اِن کامیابیوں کی وجہ سے ہم اپنے بنیادی حقوق کی حفاظت کر پائے ہیں جیسے کہ ہمارا مذہب قانونی طور پر رجسٹر ہے جس سے ہمیں عبادت کرنے، عوامی جگہوں پر گواہی دینے، قومی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے اور خون نہ لگوانے کا حق حاصل ہے۔
لیکن مَیں تو امریکہ میں یہوواہ کے گواہوں کے مرکزی دفتر میں کام کر رہا تھا تو پھر مَیں یورپ میں گواہوں پر چلنے والے مُقدموں کا حصہ کیسے بنا؟
میرے والدین کی مثال جن میں مشنریوں کا جذبہ تھا
میرے ابو کا نام جارج اور امی کا نام لُوسیو تھا۔ وہ گلئیڈ سکول کی 12ویں کلاس کا حصہ تھے اور گریجویشن کے بعد ایتھوپیا میں خدمت کر رہے تھے۔ مَیں وہیں 1956ء میں پیدا ہوا۔ امی ابو نے پہلی صدی عیسوی کے خدا کے بندے فِلپّس کے نام پر میرا نام رکھا۔ (اعما 21:8) میری بڑی بہن جوڈی اور میرا چھوٹا بھائی لیزلی بھی ایتھوپیا میں ہی پیدا ہوئے تھے۔ 1957ء میں حکومت نے ہمارے کام پر پابندی لگا دی۔ حالانکہ مَیں اُس وقت بہت چھوٹا تھا لیکن مجھے آج بھی اچھی طرح سے یاد ہے کہ میرے گھر والے چھپ کر یہوواہ کی عبادت کرتے تھے۔ بچپن میں مجھے ایسا کر کے بہت مزہ آتا تھا! افسوس کہ سرکاری افسروں نے 1960ء میں ہمیں ملک سے نکال دیا۔
دُور بائیں طرف بھائی ناتھن نار بیٹھے ہیں جو 1959ء میں ایتھوپیا کے شہر ادیس ابابا میں ہم سے ملنے آئے تھے۔
پھر ہم لوگ شہر ویچیتا شفٹ ہو گئے جو امریکہ کی ریاست کنساس میں ہے۔ میرے امی ابو مشنری تو نہیں رہے لیکن مُنادی کے لیے اُن کا جذبہ ہمیشہ مشنریوں والا ہی رہا۔ وہ سچائی کی راہ پر چلتے رہے اور اُنہوں نے مجھے اور میری بہن اور بھائی کو بھی یہوواہ سے محبت کرنا سکھایا۔ جب مَیں 13 سال کا ہوا تو مَیں نے بپتسمہ لے لیا۔ اور پھر اِس کے تین سال بعد ہم سب پیرو کے شہر اریکیپا شفٹ ہو گئے جہاں مبشروں کی زیادہ ضرورت تھی۔
اِس کے بعد 1974ء میں جب مَیں 18 سال کا تھا تو پیرو برانچ نے مجھے اور چار اَور بھائیوں کو خصوصی پہلکار کے طور پر خدمت کرنے کو کہا۔ ہم کوہِانڈیز کے علاقوں میں مُنادی کرتے تھے جہاں پہلے کبھی مُنادی نہیں ہوئی تھی۔ اِن علاقوں میں ہم اُن لوگوں کو بھی گواہی دیتے تھے جو کویچوا اور ایمارا زبانیں بولتے تھے۔ ہم ایک ایسی گاڑی میں سفر کرتے تھے جس میں گھر جیسی سہولتیں تھیں۔ ہم پیار سے اپنی گاڑی کو ”نوح کی کشتی“ کہتے تھے کیونکہ یہ دِکھنے میں ڈبے جیسی لگتی تھی۔ مجھے آج بھی اُس وقت کو یاد کر کے بہت خوشی ہوتی ہے جب مَیں اُن علاقوں کے لوگوں کو بائبل سے دِکھاتا تھا کہ یہوواہ غریبی، بیماری اور موت کو ختم کر دے گا۔ (مُکا 21:3، 4) بہت سے لوگ یہوواہ کے گواہ بن گئے تھے۔
سن 1974ء میں اپنی گاڑی میں جسے ہم پیار سے ”نوح کی کشتی“ کہتے تھے
مرکزی دفتر میں خدمت
جب 1977ء میں گورننگ باڈی کے بھائی البرٹ شروڈر پیرو آئے تو اُنہوں نے میرا حوصلہ بڑھایا کہ مَیں ہمارے مرکزی دفتر کے بیتایل میں خدمت کرنے کی درخواست ڈالوں۔ مَیں نے ایسا ہی کِیا۔ اور پھر 17 جون 1977ء میں مَیں بروکلن بیتایل میں خدمت کرنے لگا۔ اِس کے اگلے چار سالوں تک مَیں نے عمارت کی صفائی اور دیکھبھال کرنے والے شعبوں میں کام کِیا۔
سن 1979ء میں ہماری شادی کی تصویر
جون 1978ء میں ریاست لوویزیانا کے شہر نیواورلینز میں ہمارا بینالاقوامی اِجتماع ہوا جہاں میری ملاقات الیزبتھ ایولون نام کی بہن سے ہوئی۔ الیزبتھ کے امی ابو بھی میرے امی ابو کی طرح دلوجان سے یہوواہ کی خدمت کرتے تھے۔ جب مَیں الیزبتھ سے ملا تھا تو اُس وقت وہ چار سال سے پہلکار کے طور پر خدمت کر رہی تھیں اور آگے بھی اپنی ساری زندگی کُلوقتی طور پر خدمت کرنا چاہتی تھیں۔ ہم ایک دوسرے کو اَور اچھی طرح سے جاننے لگے اور جلد ہی ہمیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی۔ ہم نے 20 اکتوبر 1979ء میں شادی کر لی اور میاں بیوی کے طور پر بیتایل میں خدمت کرنا شروع کی۔
ہماری پہلی کلیسیا بروکلن سپینش کلیسیا تھی جہاں کے بہن بھائیوں نے ہمیں ڈھیر سارا پیار دیا۔ ہم تین اَور کلیسیاؤں کا بھی حصہ بنے اور اُنہوں نے بھی ہمیں بہت محبت دی اور کُلوقتی طور پر خدمت جاری رکھنے میں ہمارا بہت ساتھ دیا۔ ہم اُن کی مدد کے اور اپنے دوسرے دوستوں اور گھر والوں کی مدد کے بہت شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمارے والدین کی اُن کے بڑھاپے میں دیکھبھال کرنے کے لیے ہمارا بہت ساتھ دیا۔
سن 1986ء میں بروکلن سپینش کلیسیا سے تعلق رکھنے والے وہ بہن بھائی جو بیتایل میں خدمت کرتے تھے
قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے شعبے میں خدمت
جب جنوری 1982ء میں مجھے قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے شعبے میں خدمت کرنے کو کہا گیا تو مجھے بہت حیرت ہوئی۔ اِس کے تین سال بعد مجھے قانون کی پڑھائی کرنے کے لیے یونیورسٹی جانے کو کہا گیا تاکہ مَیں وکیل بن سکوں۔ پڑھائی کے دوران مجھے پتہ چلا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں میں لوگوں کو جو بنیادی حقوق حاصل ہیں، اُن میں سے کئی حقوق یہوواہ کے گواہوں کے جیتے ہوئے مُقدموں کی وجہ سے قائم ہو پائے۔ یہ جان کر مجھے بہت زیادہ حیرانی اور خوشی ہوئی۔ یہوواہ کے گواہوں کے کچھ اہم مُقدموں پر بڑی تفصیل سے ہماری کلاس میں بات کی جاتی تھی۔
جب 1986ء میں مَیں 30 سال کا تھا تو مجھے قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے شعبے کا نگہبان مقرر کِیا گیا۔ حالانکہ مَیں اُس وقت جوان تھا اور اِس کام کے لیے اِتنا تجربہ نہیں رکھتا تھا لیکن مَیں اِس بات سے بہت خوش تھا کہ بیتایل کے بھائی مجھ پر اِتنا بھروسا کرتے ہیں۔ مَیں خوش تو تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ تھوڑا گھبرایا ہوا بھی تھا کیونکہ مجھے بہت سی باتوں کا پتہ نہیں تھا۔ مَیں جانتا تھا کہ یہ ذمےداری نبھانا آسان نہیں ہوگا۔
پھر 1988ء میں مجھے وکالت کی ڈگری مل گئی۔ لیکن مجھے اِس بات کا بالکل احساس نہیں تھا کہ اِس پڑھائی کا میری سوچ اور یہوواہ کے ساتھ میری دوستی پر کتنا بُرا اثر پڑا ہے۔ اعلیٰ تعلیم واقعی ایک شخص کے دل میں نام اور شہرت کمانے کی خواہش پیدا کر سکتی ہے اور اُس کے دل میں یہ خیال ڈال سکتی ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ بہتر ہے۔ میرے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ الیزبتھ نے مجھے اِس بات کا احساس دِلایا۔ اُنہوں نے ایسے کام کرنے میں میری مدد کی جن سے مَیں یہوواہ کے ساتھ ویسی ہی دوستی کر سکوں جیسی یونیورسٹی جانے سے پہلے تھی۔ ایسا کرنے میں تھوڑا وقت تو لگا لیکن آہستہ آہستہ مَیں پھر سے یہوواہ کے قریب ہو گیا۔ مَیں اپنے تجربے سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے دماغ کو علم سے بھرنا زندگی میں اہم بات نہیں ہوتی۔ جو بات زندگی میں سب سے اہم ہوتی ہے، وہ یہوواہ کے ساتھ ہماری دوستی ہے اور اُس سے اور اُس کے بندوں سے گہری محبت کرنا ہے۔
خوشخبری کا دِفاع کرنا اور اِسے قانونی حیثیت دینا
قانون کی پڑھائی ختم کرنے کے بعد مَیں اپنا پورا دھیان بیتایل میں اپنی خدمت پر اور خوشخبری سنانے کے ہمارے حق کا دِفاع کرنے پر رکھنے لگا۔ مَیں جو کام کر رہا تھا، وہ بڑا ہی دلچسپ تھا لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت مشکل بھی تھا کیونکہ ہماری تنظیم میں بڑی تیزی سے تبدیلیاں ہو رہی تھیں۔ مثال کے طور پر پہلے ہم لوگوں کو ہماری کتابیں اور رسالے دیتے وقت اُن سے عطیہ لیتے تھے۔ لیکن 1990ءکے شروع میں قانونی شعبے سے کہا گیا کہ وہ تنظیم میں پیشوائی کرنے والے بھائیوں کو کچھ ایسی معلومات اور مشورے دیں جن کی مدد سے آئندہ لوگوں کو مُفت میں ہماری کتابیں اور رسالے دیے جا سکیں۔ اِس طرح مُنادی اور بیتایل میں ہمارے کام کو آسان کِیا گیا اور ہم نہ صرف اُس وقت بلکہ آج بھی ایسے مسئلوں سے بچ گئے ہیں جو ٹیکس کے حوالے سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔ کچھ کو لگا کہ اِس تبدیلی کی وجہ سے اب ہمارے پاس زیادہ پیسے نہیں ہوں گے اور اِس وجہ سے ہمارے پاس اِتنی کتابیں اور رسالے بھی نہیں ہوں گے کہ ہم دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو اِنہیں دے سکیں۔ اور اِس سب کی وجہ سے اب کم ہی لوگ یہوواہ کے بارے میں سیکھ پائیں گے۔ لیکن جو کچھ سوچا جا رہا تھا، اُس کے بالکل اُلٹ ہوا۔ 1990ء سے یہوواہ کی خدمت کرنے والوں کی تعداد دُگنی ہوئی ہے۔ اب ہر کوئی بِنا پیسے دیے زندگیبخش روحانی کھانا حاصل کر سکتا ہے۔ مَیں اِس بات کا گواہ ہوں کہ یہ تبدیلی اور تنظیم میں ہونے والی کئی اَور تبدیلیاں صرف اِسی وجہ سے کامیاب ہو پائی ہیں کیونکہ یہوواہ ہمارے ساتھ ہے اور وہ وفادار اور سمجھدار غلام کے ذریعے ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔—خر 15:2؛ متی 24:45۔
ہم نے عدالتوں میں مُقدمے صرف اِس وجہ سے نہیں جیتے کیونکہ ہمارے وکیل بہت قابل ہیں۔ اکثر جج اور حکومت کے افسر اِس لیے ہمارا ساتھ دیتے ہیں کیونکہ وہ گواہوں کے چالچلن سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔ اِس بات کا ایک ثبوت مَیں نے 1998ء میں اُس وقت دیکھا جب گورننگ باڈی کے تین بھائی اور اُن کی بیویاں کیوبا میں ہونے والے اِجتماعوں پر گئے تھے۔ اُن کے نرم رویے اور احترام کو دیکھ کر افسروں کی وہ ساری غلطفہمیاں دُور ہو گئیں جو وہ یہوواہ کے گواہوں کے بارے میں رکھتے تھے۔ جتنا گہرا اثر اُن کے رویے کا افسروں پر ہوا اُتنا گہرا اثر تو شاید ہماری باتوں کا بھی اُن پر نہ ہوتا جو ہم اُن سے ملاقات کر کے کرتے۔
لیکن کبھی کبھار ہمارے پاس نااِنصافی سے لڑنے کا واحد حل یہی ہوتا ہے کہ ہم ”خوشخبری کا دِفاع کرنے اور اِسے قانونی حیثیت دینے“ کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ (فِل 1:7) مثال کے طور پر کئی سالوں سے یورپ اور جنوبی کوریا کے سرکاری افسر ہمارے اِس حق کو تسلیم نہیں کر رہے تھے کہ ہم اپنے عقیدوں کی وجہ سے فوج میں بھرتی ہونے سے اِنکار کر سکتے ہیں۔ اِس وجہ سے یورپ میں ہمارے تقریباً 18 ہزار بھائیوں اور جنوبی کوریا میں 19 ہزار سے زیادہ ئیوں کو جیل میں سزا کاٹنی پڑی۔
آخرکار 7 جولائی 2011ء کو اِنسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ہمارے حق میں ایسا فیصلہ سنایا جو ہماری تاریخ میں یادگار بن گیا ہے۔ اِس فیصلے کے مطابق یورپ کے تمام ملکوں میں اِس بات کی اِجازت دی گئی ہے کہ وہ لوگ جو اپنے مذہبی عقیدوں کی وجہ سے فوج میں بھرتی نہیں ہونا چاہتے، وہ اِس کی جگہ معاشی خدمات انجام دیں۔ ایسا ہی فیصلہ جنوبی کوریا کے ہائیکورٹ میں 28 جون 2018ء کو سنایا گیا۔ اگر ہمارے جوان بھائیوں میں سے کچھ بھائیوں نے بھی اپنے ایمان پر سمجھوتا کر لیا ہوتا تو ہمیں یہ کامیابی کبھی نہ ملتی۔
مرکزی دفتر میں اور دُنیا بھر میں ہماری تمام برانچوں میں قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے شعبے یہوواہ کی عبادت کرنے اور خوشخبری سنانے کے ہمارے حق کا دِفاع کرنے کے لیے اَنتھک کوشش کرتے ہیں۔ ہم اِسے بڑے اعزاز کی بات سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے اُن بہن بھائیوں کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں حکومت کی طرف سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاہے ہم کوئی مُقدمہ جیتیں یا ہاریں، ہمیں حاکموں، بادشاہوں اور قوموں کے سامنے گواہی دینے کا موقع ملتا ہے۔ (متی 10:18) ججوں، حکومت کے نمائندوں، میڈیا اور عوام کو اُن آیتوں پر سوچ بچار کرنی پڑتی ہے جو ہم اپنی تحریری دستاویزوں میں لکھتے ہیں اور اپنی صفائی دیتے ہوئے عدالت میں بتاتے ہیں۔ اِس طرح وہ لوگ جو دل سے پاک کلام میں دلچسپی رکھتے ہیں، یہوواہ کے گواہوں اور اُن کے عقیدوں کے بارے میں سیکھ پاتے ہیں۔ اِن میں سے کچھ تو اب ہمارے ہمایمان بن گئے ہیں۔
شکریہ یہوواہ!
اب مجھے قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے شعبے میں کام کرتے ہوئے 40 سال ہو گئے ہیں۔ یہ میرے لیے بڑے اعزاز کی بات ہے کہ مَیں دُنیا بھر میں ہماری برانچوں کے ساتھ مل کر قانونی معاملوں پر کام کر رہا ہوں اور مَیں کئی عدالتوں میں ہمارے مُقدموں کے لیے جاتا رہتا ہوں اور بہت سے سرکاری افسروں سے بھی باتچیت کرتا رہتا ہوں۔ مَیں اپنے اُن ہمایمانوں کی دل سے قدر کرتا ہوں جو مرکزی دفتر میں اور پوری دُنیا میں ہماری برانچوں میں قانونی معاملات کی نگرانی کرنے والے شعبے میں کام کرتے ہیں۔ میری زندگی خوشیوں اور برکتوں سے مالامال ہے۔
الیزبتھ پچھلے 45 سالوں سے بڑی وفاداری سے میرے اچھے اور بُرے وقت میں میرا ساتھ نبھا رہی ہیں۔ مَیں اِس کے لیے دل سے اُن کی عزت اور قدر کرتا ہوں۔ حالانکہ وہ ایک ایسی بیماری سے لڑ رہی ہیں جس کی وجہ سے اُن میں کسی کام کو کرنے کے لیے بہت کم طاقت ہوتی ہے لیکن وہ پھر بھی میرا پورا ساتھ دیتی ہیں۔
مَیں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ہمیں ہمت، طاقت اور جیت اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف یہوواہ کی وجہ سے ملتی ہے۔ داؤد نے بالکل ٹھیک کہا تھا: ”یہوواہ اپنے بندوں کی طاقت ہے۔“ (زبور 28:8) بےشک ”جنگ یہوواہ کی ہے۔“