سرِورق کا موضوع:
جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ کیا ہے؟
آپ اِس سوال کا کیا جواب دیں گے؟ بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ خدا جنگ کی حمایت کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ماضی میں خدا نے اپنے بندوں کو جنگیں کرنے کا حکم دیا تھا۔ اور اِس بات کی تصدیق خدا کے کلام سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن بعض لوگ اِس بات پر زور دیتے ہیں کہ خدا کے ایک عظیم نبی یسوع مسیح نے اپنے پیروکاروں کو سکھایا کہ وہ اپنے دُشمنوں سے بھی محبت کریں۔ (متی 5:43، 44) اِس بِنا پر وہ کہتے ہیں کہ ایک وقت آیا جب جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ بدل گیا اور آج وہ جنگ کی حمایت نہیں کرتا۔
اِس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا خدا جنگ کی حمایت کرتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو وہ آجکل ہونے والی جنگوں میں کس کا ساتھ دیتا ہے؟ اِن سوالوں کے جواب جنگ کے بارے میں آپ کے نظریے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کو پتہ چلے کہ خدا نہ صرف جنگ کی حمایت کرتا ہے بلکہ وہ کسی جنگ میں آپ کی قوم کا ساتھ دے رہا ہے تو آپ کو بہت خوشی ہوگی اور آپ کو پورا یقین ہوگا کہ جیت آپ کی ہی ہوگی۔ لیکن اگر آپ کو پتہ چلے کہ خدا آپ کے ساتھ نہیں بلکہ آپ کے مخالفین کے ساتھ ہے تو تب آپ کیسا محسوس کریں گے؟ شاید آپ سوچیں کہ جنگ نہیں ہونی چاہیے۔
جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ جاننے کی ایک اَور اہم وجہ یہ ہے کہ یہ خدا کے بارے میں آپ کے نظریے پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر آپ کا شمار بھی اُن لاکھوں لوگوں میں ہوتا ہے جو جنگ کی تباہکاریوں کا شکار ہوئے ہیں تو آپ یقیناً اِن سوالوں کے جواب جاننا چاہیں گے: کیا خدا واقعی جنگیں کرواتا ہے اور چاہتا ہے کہ اِنسان اِن کی وجہ سے مصیبتیں سہتے رہیں؟ کیا اُسے اُن لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں جو جنگ میں ظلموستم کا شکار ہوتے ہیں؟
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پاک کلام کے مطابق خدا نہ تو جنگوں کی حمایت کرتا ہے اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ لوگ اِن کی وجہ سے ظلموستم کا شکار ہوں۔ اِس کے علاوہ شروع سے لے کر آج تک جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ ایک ہی ہے۔ آئیں، خدا کے کلام سے دیکھیں کہ بنیاِسرائیل کے زمانے میں اور مسیحیت کے آغاز میں جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ کیا تھا۔ یوں ہم یہ اندازہ بھی لگا سکیں گے کہ خدا آج جنگوں کو کیسا خیال کرتا ہے اور کیا جنگیں کبھی ختم ہوں گی بھی یا نہیں۔