یہوواہ کے گواہوں کی آن لائن لائبریری
یہوواہ کے گواہوں کی
آن لائن لائبریری
اُردو
  • بائبل
  • مطبوعات
  • اِجلاس
  • م‌ع16 نمبر 1 ص.‏ 4-‏5
  • جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ—‏بنی‌اِسرائیل کے زمانے میں

اِس حصے میں کوئی ویڈیو دستیاب نہیں ہے۔

ہم معذرت خواہ ہیں کہ ویڈیو لوڈ نہیں ہو سکی۔

  • جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ—‏بنی‌اِسرائیل کے زمانے میں
  • مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
  • ملتا جلتا مواد
  • جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ—‏مسیحیت کے آغاز میں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
  • جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ—‏ہمارے زمانے میں
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
  • بنی‌اِسرائیل نے جنگیں لڑیں—‏ہم ایسا کیوں نہیں کرتے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏مطالعے کا ایڈیشن)‏—‏2022ء
  • جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ کیا ہے؟‏
    مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
مزید
مینارِنگہبانی یہوواہ خدا کی بادشاہت کا اعلان کرتا ہے (‏عوامی ایڈیشن)‏—2016
م‌ع16 نمبر 1 ص.‏ 4-‏5

سرِورق کا موضوع:‏ جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ کیا ہے؟‏

جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ—‏بنی‌اِسرائیل کے زمانے میں

فرعون اور اُن کی فوج بحرِقلزم میں غرق ہو رہی ہے۔‏

بنی‌اِسرائیل پر بہت ظلم ڈھائے جا رہے تھے۔ مصریوں نے اُنہیں اپنا غلام بنا رکھا تھا اور اُن کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ (‏خروج 1:‏13، 14)‏ بنی‌اِسرائیل نے کئی بار خدا سے فریاد کی کہ وہ اُنہیں مصریوں کے ظلم سے چھڑائے۔ مگر کافی عرصے تک ایسا نہ ہوا۔ لیکن آخرکار خدا نے اُن کی سُن لی۔ (‏خروج 3:‏7-‏10)‏ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے خود مصریوں سے جنگ کی۔ وہ اُن پر طرح طرح کی آفتیں لایا اور پھر فرعون اور اُس کی فوج کو بحرِقلزم میں غرق کر دیا۔ (‏زبور 136:‏15‏)‏ اِس موقعے پر خدا اپنی قوم کے لیے ”‏صاحبِ‌جنگ“‏ یعنی ایک سورما ثابت ہوا۔—‏خروج 15:‏3، 4۔‏

اِس واقعے سے پتہ چلتا ہے کہ خدا ہر طرح کی جنگ کے خلاف نہیں ہے۔ کچھ موقعوں پر تو اُس نے خود بنی‌اِسرائیل کو جنگ کرنے کا حکم دیا۔ مثال کے طور پر اُس نے بنی‌اِسرائیل سے کہا کہ وہ کنعانی قوم سے جنگ کریں کیونکہ وہ اِنتہائی بُرے لوگ تھے۔ (‏اِستثنا 9:‏5؛ 20:‏17، 18)‏ اُس نے بنی‌اِسرائیل کے بادشاہ داؤد کو فلستی قوم سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور اُنہیں یہ بھی بتایا کہ وہ یہ جنگ کیسے لڑیں تاکہ فتح اُنہی کی ہو۔—‏2-‏سموئیل 5:‏17-‏25‏۔‏

اِن مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ موقعوں پر خدا نے بُرائی کو ختم کرنے، اپنے بندوں کو ظلم سے بچانے اور بُت‌پرستی کو ختم کرنے کے لیے جنگیں کرنے کی اِجازت دی۔ لیکن آئیں، اِن جنگوں کے سلسلے میں تین اہم باتوں پر غور کریں۔‏

  1. یہ فیصلہ صرف خدا کرتا ہے کہ کون جنگ کرے گا۔‏ ایک مرتبہ کچھ قومیں بنی‌اِسرائیل سے جنگ کرنے کے لیے اِکٹھی ہوئیں۔ مگر خدا نے بنی‌اِسرائیل سے کہا:‏ ”‏تُم کو .‏ .‏ .‏ لڑنا نہیں پڑے گا۔“‏ خدا نے ایسا کیوں کہا؟ کیونکہ اُس نے خود بنی‌اِسرائیل کی خاطر جنگ لڑی۔ (‏2-‏تواریخ 20:‏17؛‏ 32:‏7، 8‏)‏ اُس نے کئی بار ایسا کِیا اور اِس کی ایک مثال ہم اِس مضمون کے شروع میں دیکھ چکے ہیں۔ لیکن بہت بار اُس نے بنی‌اِسرائیل کو بھی جنگ کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اُس ملک کو حاصل کر سکیں جسے دینے کا وعدہ خدا نے کِیا تھا اور اِس کا دِفاع بھی کر سکیں۔—‏اِستثنا 7:‏1، 2؛ یشوع 10:‏40۔‏

  2. یہ فیصلہ صرف خدا کرتا ہے کہ کب جنگ ہوگی۔‏ خدا کے بندوں کو بُرائی اور ظلم کے خلاف جنگ کرنے کے لیے خدا کی اِجازت کا اِنتظار کرنا پڑتا تھا۔ اُس کی اِجازت کے بغیر وہ جنگ نہیں کرتے تھے۔ لیکن جب کبھی اُنہوں نے ایسا کِیا، وہ جنگ ہار گئے۔ پاک کلام میں بتایا گیا ہے کہ جب بھی بنی‌اِسرائیل نے خدا کی مرضی کے خلاف جنگ لڑی تو اُنہیں بہت نقصان اُٹھانا پڑا۔‏a

  3. راحب اور اُن کا خاندان صحیح سلامت بچ گیا ہے جبکہ شہر یریحو تباہ ہو چُکا ہے۔‏

    اگرچہ خدا نے کنعانی قوم کے خلاف جنگ کروائی لیکن اُس نے کچھ لوگوں کو زندہ چھوڑ دیا جیسے کہ راحب اور اُن کا خاندان۔‏

    خدا نہیں چاہتا کہ کوئی بھی اِنسان مارا جائے، چاہے وہ بُرا ہی کیوں نہ ہو۔‏ یہوواہ خدا زندگی کا سرچشمہ اور اِنسانوں کا خالق ہے۔ (‏زبور 36:‏9‏)‏ اِس لیے وہ نہیں چاہتا کہ اِنسان مریں۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ دوسروں پر ظلم ڈھانے، یہاں تک کہ اُنہیں جان سے مارنے کے منصوبے باندھتے ہیں۔ (‏زبور 37:‏12،‏ 14‏)‏ اِس طرح کے بُرے کاموں کو روکنے کے لیے ماضی میں اکثر خدا نے جنگ کرنے کا حکم دیا۔ جب یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو ایسی جنگیں لڑنے کو کہا تو اُس نے تب بھی بُرے لوگوں پر رحم کِیا۔ (‏زبور 86:‏15‏)‏ مثال کے طور پر یہوواہ خدا نے بنی‌اِسرائیل کو حکم دیا کہ جنگ لڑنے سے پہلے وہ دُشمنوں کو ”‏صلح کا پیغام“‏ بھیجیں تاکہ اُنہیں بُرے کاموں کو چھوڑنے کا موقع ملے اور جنگ نہ ہو۔ (‏اِستثنا 20:‏10-‏13)‏ اِس طرح خدا نے ظاہر کِیا کہ ”‏شریر کے مرنے میں [‏اُسے]‏ کچھ خوشی نہیں بلکہ اِس میں ہے کہ شریر اپنی راہ سے باز آئے اور زندہ رہے۔“‏—‏حِزقی‌ایل 33:‏11، 14-‏16۔‏b

اِن باتوں پر غور کرنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ بنی‌اِسرائیل کے زمانے میں خدا کی نظر میں جنگ ظلم‌وستم اور بُرائی کو ختم کرنے کا ذریعہ تھی۔ لیکن ہر بار اِس کا فیصلہ اِنسانوں نے نہیں بلکہ خدا نے کِیا کہ کب جنگ ہوگی اور کون جنگ کرے گا۔ کیا خدا نے جنگیں اِس لیے کروائیں کیونکہ اُسے خون‌ریزی پسند ہے؟ بالکل نہیں۔ اُسے تو ظلم‌وتشدد سے سخت نفرت ہے۔ (‏زبور 11:‏5‏)‏ لیکن کیا مسیحیت کے آغاز میں جنگ کے بارے میں خدا کا نظریہ بدل گیا؟‏

a مثال کے طور پر ایک بار بنی‌اِسرائیل عمالیقیوں اور کنعانیوں سے جنگ لڑنے کو گئے حالانکہ خدا نے اُنہیں ایسا کرنے سے منع کِیا تھا۔ اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُنہیں بُری طرح شکست ہوئی۔ (‏گنتی 14:‏41-‏45)‏ اِس واقعے کے کئی سال بعد بادشاہ یوسیاہ نے خدا کی مرضی کے خلاف جنگ لڑی اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔—‏2-‏تواریخ 35:‏20-‏24‏۔‏

b بنی‌اِسرائیل نے کنعانی قوم کے خلاف جنگ کرنے سے پہلے اُسے صلح کا پیغام نہیں بھیجا تھا۔ اِس کی کیا وجہ تھی؟ اِس کی وجہ یہ تھی کہ خدا نے پہلے ہی 400 سال تک اِس بات کا اِنتظار کِیا تھا کہ کنعانی قوم بُرے کاموں کو چھوڑ دے۔ جب بنی‌اِسرائیل نے کنعانی قوم پر حملہ کِیا تو اُس وقت زیادہ‌تر کنعانی بہت ہی بُرے کام کر رہے تھے۔ (‏پیدایش 15:‏13-‏16‏)‏ اِس لیے اُنہیں ہلاک کر دیا گیا۔ لیکن کچھ کنعانی بُرے کاموں سے باز آ گئے تھے اِس لیے اُنہیں چھوڑ دیا گیا۔—‏یشوع 6:‏25؛ 9:‏3-‏27۔‏

    اُردو زبان میں مطبوعات (‏2026-‏2000)‏
    لاگ آؤٹ
    لاگ اِن
    • اُردو
    • شیئر کریں
    • ترجیحات
    • Copyright © 2026 Watch Tower Bible and Tract Society of Pennsylvania
    • اِستعمال کی شرائط
    • رازداری کی پالیسی
    • رازداری کی سیٹنگز
    • JW.ORG
    • لاگ اِن
    شیئر کریں