سبق نمبر 67
یروشلم کی دیواریں
آئیے کچھ سال پیچھے چل کر دیکھتے ہیں کہ اَور کیا ہوا تھا۔ نحمیاہ بنیاِسرائیل سے تھے اور وہ بادشاہ ارتخششتا کے خادم تھے۔ وہ فارس کے شہر سُوسن میں رہتے تھے۔ نحمیاہ کا بھائی یہوداہ سے یہ بُری خبر لے کر آیا: ”یروشلم واپس آنے والے لوگ محفوظ نہیں ہیں۔ بابلیوں نے شہر کی جو دیواریں اور دروازے توڑے تھے، وہ اب تک نہیں بنے۔“ یہ سُن کر نحمیاہ بہت پریشان ہو گئے۔ وہ یروشلم جا کر لوگوں کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ اِس لیے اُنہوں نے یہوواہ سے دُعا کی کہ وہ کچھ ایسا کر دے کہ بادشاہ اُنہیں یروشلم جانے کی اِجازت دے دے۔
اِس کے بعد بادشاہ نے دیکھا کہ نحمیاہ بہت اُداس نظر آ رہے ہیں۔ بادشاہ نے کہا: ”مَیں نے تمہیں پہلے کبھی اِتنا اُداس نہیں دیکھا۔ کیا ہوا ہے؟“ نحمیاہ نے کہا: ”مَیں اُداس کیوں نہ ہوں؟ میرا شہر یروشلم کھنڈر بنا ہوا ہے۔“ بادشاہ نے پوچھا: ”مَیں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں؟“ نحمیاہ نے فوراً ہی دل میں یہوواہ سے دُعا کی اور پھر بادشاہ سے کہا: ”مہربانی سے مجھے یروشلم جانے دیں تاکہ مَیں شہر کی دیواریں دوبارہ بنا سکوں۔“ بادشاہ نے اُن سے کہا کہ وہ یروشلم جا سکتے ہیں اور اُس نے یہ اِنتظام بھی کِیا کہ نحمیاہ سفر کے دوران محفوظ رہیں۔ اُس نے نحمیاہ کو یہوداہ کا ناظم بنایا اور اُنہیں شہر کے دروازوں کے لیے لکڑی بھی دی۔
جب نحمیاہ یروشلم پہنچے تو اُنہوں نے شہر کی دیواروں کا جائزہ لیا۔ پھر اُنہوں نے کاہنوں اور حاکموں کو جمع کِیا اور اُن سے کہا: ”دیواروں کی حالت بہت خراب ہے۔ ہمیں کام پر لگ جانا چاہیے۔“ لوگ اُن کی بات مان گئے اور اُنہوں نے دیواریں بنانی شروع کر دیں۔
لیکن بنیاِسرائیل کے کچھ دُشمن اُن کا مذاق اُڑانے لگے اور کہنے لگے: ”تُم جو دیواریں بنا رہے ہو، وہ اِتنی کمزور ہیں کہ اگر اِن پر ایک لومڑی بھی چڑھ جائے تو یہ گِر جائیں گی۔“ کام کرنے والوں نے اُن کی باتوں پر دھیان نہیں دیا اور وہ کام میں لگے رہے۔ دیواریں اُونچی اور مضبوط بنتی گئیں۔
بنیاِسرائیل کے دُشمنوں نے سوچا کہ وہ الگ الگ طرف سے اچانک یروشلم پر حملہ کریں گے۔ جب یہودیوں کو اِس بارے میں پتہ چلا تو وہ بہت ڈر گئے۔ لیکن نحمیاہ نے اُن سے کہا: ”ڈریں نہیں۔ یہوواہ ہمارے ساتھ ہے۔“ نحمیاہ نے کام کرنے والوں کی حفاظت کے لیے پہرےدار کھڑے کیے۔ اِس لیے دُشمن اُن پر حملہ نہیں کر پائے۔
صرف 52 دنوں میں شہر کی دیواریں اور دروازے بن گئے۔ نحمیاہ یروشلم کی دیواروں کے اِفتتاح کے لیے سب لاویوں کو لائے۔ اُنہوں نے گیت گانے کے لیے اِن لاویوں کو دو گروہوں میں بانٹا۔ دونوں گروہ پانی دروازے کے پاس والی سیڑھیوں سے اُوپر دیوار تک گئے اور پھر ایک گروہ ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔ اُنہوں نے نرسنگے، جانجھ اور بربط بجا کر یہوواہ کے حضور گیت گائے۔ ایک گروہ کے ساتھ عزرا تھے اور دوسرے کے ساتھ نحمیاہ۔ دونوں گروہ ہیکل میں ملے۔ اِس کے بعد سب مردوں، عورتوں اور بچوں نے یہوواہ کے حضور قربانیاں چڑھائیں اور جشن منایا۔ اُن کی آوازیں دُور دُور تک سنائی دے رہی تھیں۔
”تیرے خلاف بنایا جانے والا کوئی بھی ہتھیار کامیاب نہیں ہوگا۔“—یسعیاہ 54:17